الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ ﴿٢٥﴾
اور لپکے ہوئے صبح صبح گئے۔ (سمجھ رہے تھے) کہ ہم قابو پا گئے۔ (١)
٢٥۔١ حَرْدٍ کے ایک معنی تو قوت و شدت، کیے گئے ہیں، جس کو مترجم مرحوم نے ”لپکے ہوئے“ سے تعبیر کیا ہے۔ بعض نے غصہ اور حسد کیے ہیں، یعنی مساکین پر غیظ وغضب کا اظہار یا حسد کرتے ہوئے...
أَن لَّا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُم مِّسْكِينٌ ﴿٢٤﴾
کہ آج کے دن کوئی مسکین تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ (١)
٢٤۔١ یعنی وہ ایک دوسرے کو کہتے رہے کہ آج کوئی باغ میں آکر ہم سے کچھ نہ مانگے جس طرح ہمارے باپ کے زمانے میں آیا کرتے تھے اور وہ اپنا حصہ لے جاتے تھے۔
فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ ﴿٢١﴾
اب صبح ہوتے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو آوازیں دیں۔
أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِن كُنتُمْ صَارِمِينَ ﴿٢٢﴾
کہ اگر تمہیں پھل اتارنے ہیں تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی سویرے چل پڑو۔
فَانطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ ﴿٢٣﴾
پھر یہ سب چپکے چپکے یہ باتیں کرتے ہوئے چلے۔...
فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ ﴿٢٠﴾
پس وہ باغ ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔ (١)
٢٠۔١ یعنی جس طرح کھیتی کٹنے کے بعد خشک ہو جاتی ہے، اس طرح سارا باغ اجڑ گیا، بعض نے ترجمہ کیا ہے، سیاہ رات کی طرح ہو گیا، یعنی جل کر۔
فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِّن رَّبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ ﴿١٩﴾
پس اس پر تیرے رب کی جانب سے ایک بلا چاروں طرف گھوم گئی اور یہ سو رہے تھے۔ (١)
١٩۔١ بعض کہتے ہیں، راتوں رات اسے آگ لگ گئی، بعض کہتے ہیں، جبرائیل عليہ السلام نے آکر اسے تہس نہس کر دیا۔
إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ ﴿١٧﴾
بیشک ہم نے انہیں اسی طرح آزما لیا (۱) جس طرح ہم نے باغ والوں کو (۲) آزمایا تھا جبکہ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ صبح ہوتے ہی اس باغ کے پھل اتار لیں گے۔ (٣)
۱۷۔۱ مراد اہل مکہ ہیں۔ یعنی ہم نے...
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ﴿١٥﴾
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے قصے ہیں۔
سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ ﴿١٦﴾
ہم بھی اس کی سونڈ (ناک) پر داغ دیں گے۔ (١)
١٦۔١ بعض کے نزدیک اس کا تعلق دنیا سے ہے، مثلًا کہا جاتا ہے کہ...
أَن كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ﴿١٤﴾
اس کی سرکشی صرف اس لیے ہے کہ وہ مال والا اور بیٹوں والا ہے۔ (١)
١٤۔١ یعنی مذکورہ اخلاقی قباحتوں کا ارتکاب اس لیے کرتا ہے کہ اللہ نے اسے مال اور اولاد کی نعمتوں سے نوازا ہے یعنی وہ شکر کی بجائے کفران نعمت کرتا ہے۔ بعض نے اسے وَلَا تُطِع کے متعلق قرار دیا ہے۔...
وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ ﴿١٠﴾
اور تو کسی ایسے شخص کا بھی کہنا نہ ماننا جو زیادہ قسمیں کھانے والا۔
هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ﴿١١﴾
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور۔
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾
بھلائی سے روکنے والا حد سے بڑھ جانے والا گنہگار۔
عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ...
وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ﴿٩﴾
وہ تو چاہتے ہیں کہ تو ذرا ڈھیلا ہو تو یہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔ (١)
٩۔١ یعنی وہ تو چاہتے ہیں کہ تو ان کے معبودوں کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرے تو وہ بھی تیرے بارے میں نرم رویہ اختیار کریں باطل پرست اپنی باطل پرستی کو چھوڑنے میں ڈھیلے ہو جائیں گے۔ اس لیے حق...
بِأَييِّكُمُ الْمَفْتُونُ ﴿٦﴾
کہ تم میں سے کون فتنہ میں پڑا ہوا ہے۔
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ﴿٧﴾
بیشک تیرا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور وہ راہ یافتہ لوگوں کو بھی بخوبی جانتا ہے۔
فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ ﴿٨﴾...
فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ ﴿٥﴾
پس اب تو بھی دیکھ لے گا اور یہ بھی دیکھ لیں گے۔ (۱)
۵۔۱ یعنی جب حق واضح ہو جائے گا اور سارے پردے اٹھ جائیں گے۔ اور یہ قیامت کے دن ہو گا۔ بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق قرار دیا ہے۔
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴿٤﴾
اور بیشک تو بہت بڑے (عمدہ) اخلاق پر ہے۔ (۱)
٤۔۱ خُلُقٍ عَظِيمٍ سے مراد اسلام، دین یا قرآن ہے مطلب ہے کہ تو اس خلق پر ہے جس کا حکم اللہ نے تجھے قرآن میں یا دین اسلام میں دیا ہے۔ یا اس سے مراد وہ تہذیب و شائستگی، نرمی اور شفقت، امانت و صداقت، حلم و کرم اور...
وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ ﴿٣﴾
اور بے شک تیرے لیے بے انتہاء اجر ہے۔ (١)
٣۔١ فریضہء نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی باتیں سنی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ مَن کے معنی قطع کرنے کے ہیں۔
مَا أَنتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ﴿٢﴾
تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے۔ (١)
٢۔١ یہ جواب قسم ہے، جس میں کفار کے قول کا رد ہے، وہ آپ کو مجنون (دیوانہ) کہتے تھے۔ (يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ) (الحجر٦)
سورة القلم
(سورہ قلم مکی ہے اور اس میں باون آیتیں اور دو رکوع ہیں)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
ن ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ ﴿١﴾
ن، (١) قسم ہے قلم کی اور (٢) اس کی جو کچھ وہ (فرشتے) لکھتے ہیں۔ (٣)
١۔١ ن،...
که کوئی الو بنانے میں کامیاب هو گیا هو.
اگر کسی پر حد سے زیادہ اعتماد هو جائے اور وه کوئی دھوکہ فراڈ یا کسی قسم کی بے وفائی کر گزرے تو غصہ بھی شدید آئے گا اور اپنے الو بننے پر ندامت و پشیمانی و حیرانی بھی هو گی.
اس لئے کہتے هیں
اسباب اختیار تو کرو لیکن توکل اللہ پر رکھو.