الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
شکریہ عمیر بھائی!مقصد آپ کی بات کو جھٹلانا نہیں تھا۔بات دراصل یہ ہے کہ آپ کے پاس اس وقت جو بھی لسٹ ہے اس کو بھیج دیں میں دیکھتا ہوں اور تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ان شاء اللہ
میرا ای میل ایڈریس یہ ہے
hafi.kitabosunnat@gmail.com
اور میں الحمد للہ 150ایم بی کی فائل کو 4ایم بی تک لا چکا ہوں۔اس لیے اس پر غور سے کام کریں حل نکل آئے گا اور جہاں کوئی ضرورت محسوس ہو بتا دیجئے گا حل کر لیں گے۔ان شاء اللہ
شاکر بھائی !عمیر زبیر صاحب کی باتوں میں کچھ مبالغہ آرائی بھی ہے اگر ان کے بقول اکثر کے بات کو لیا جائے تو سائٹ پر موجود کتابیں بے کار ثابت ہوتی ہیں اور یہ شکوہ بہت سارے یوزر سے ہونا چاہیے تھا لیکن ہم خود بھی ان چیزوں کو غور سے دیکھتے ہیں اور بہت سارے ہمارے ماہرین کی نظریں بھی اس پر کام کرتی...
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ سے چند ایک گزارشات ہیں ان پر غور فرمائیں اور وضاحت کریں:
یہ کیا ہے ؟اور آپ کا اشارہ کس طرف ہے؟
اپنی کلام کے اس حصے کی مزید وضاحت فرما دیں تاکہ بات کی جا سکے۔
اور سب سے آخر میں گزارش یہ ہے کہ اگر آپ کسی مخصوص فرد کی طرف اشارہ کر رہے ہیں تو اس حوالے سے جواب...
محترم آپ نے جو دو سوال پیدا کیے ہیں وہ مریض ذہن کی اختراع ہے ورنہ اس حدیث سے نہ تو یہ سوال پیدا ہو رہے ہیں اور نا ہی ایک حدیث میں کبھی تمام مسائل بیان ہوئے ہیں اس لیے یہاں پر جو مقصود ہے وہ آپ کو بھی سمجھ آ رہا ہے لیکن بات پھر وہی بنے گی یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا
ماشاء اللہ موضوع بالکل نکھر کر سامنے آیا ہے اور اس نکھار کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس ذمہ داری کو سرانجام دینے والے وہ افراد ہیں جو اس سے متاثر ہیں۔اس لیے موقف بہت اعتدال سے پیش کیے گئے ہیں اور اگر ان شرعی حدود قیود کو مدنظر رکھا جائے تو زیب و زینت بھی عبادت کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔
شیخ صاحب آپ کے سوالات میں ایک خاص قسم کی بو محسوس کی جا رہی ہے جو دین و دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔اس لیے گزارش یہ کروں گا کہ سوالات افہام و تفہیم پر مبنی ہوں تو بات میں نکھار بھی آتا ہے اور بات سمجھ بھی آتی ہے ورنہ معاملہ یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا والا بن جاتا ہے۔
شریعت کا اصول...
بیٹا کچھ چیزیں بطور حکایت بیان کی جاتی ہیں۔اس میں مقصد بات سمجھانا ہوتا ہے تو یہ بطور حکایت ہے جس کو مزاح کے انداز میں پیش کیا گیا ہے کیونکہ حکایت سنجیدہ بھی ہوتی ہے اور پرمزاح بھی اس لیے پریشانی لینے کی ضرورت نہیں۔شکریہ!
دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ٹوپیاں بیچنے والا جنگل میں ایک درخت کے سائےمیں آرام کی غرض سے لیٹ گیا اور جب اٹھا تو اس نے دیکھا کہ اس کی ٹوپیاں بندر اٹھا کر لے گئے ہیں اور سر پر پہن کر اچھل کود کر رہے ہیں۔اس کو خیال آیا کہ اس کے دادا نے اسے بتایا تھا کہ
تو اس نے اس قول پر عمل کرتے ہوئے اپنے سرسے...
ارسلان بھائی آپ کا یہ سلسلہ ماشاء اللہ بہت اچھا ہے لیکن اس کو خوب سے خوب تر کرنے کے لیے مشورہ ہے کہ پہلے سوال پوسٹ کر دیا کریں اور احباب سے جواب لیں اور بعد میں جو درست جواب آپ کے پاس موجود ہے اصطلاحی طور پر اس کو پیسٹ کر دیں۔اس سے قارئین کو بھی شرکت کرنے کا زیادہ سے زیادہ موقع ملے گا۔ان شاء اللہ