نعوذباللہ من ذالک!
اللہ اس شدید گمراہی سے تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ شاتم رسول کے سر پر سینگ تو نہیں ہوتے یہی لوگ ہیں اور ایسے ہی جملے ہیں جن کے ذریعے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سب و شتم کیا جاتا ہے۔ عابد الرحمنٰ صاحب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مقلد کہنے سے پہلے اپنے علماء ہی کے اقوال پڑھ لیتے کہ ایک مقلد کو وہ کیا سمجھتے ہیں۔ لیجئے پڑھ لیجئے: شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
دیوبندیوں کے نزدیک انکے امام ابوحنیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہیں کیونکہ یہ اپنے امام کو مقلد نہیں کہتے لیکن شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقلد کہہ دیتے ہیں۔
السلام علیکم
میں آئینہ ہوں دکھاتا ہوں داغ چہرے کے
جسے برا لگے سامنے سے ہٹ جائے
ابھی تک تو میری بات کسی کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی اب کیسے آگئی پہلے تو یہ فیصلہ کرلیاجئے کہ کون بات سمجھتا ہے اور کون نہیں اور یہ فیصلہ آپ خود آپس میں کرلیں کہ کون سمجھ دار ہے۔ چلئے یہ تو آپ کا اندرونی معاملہ ہمیں اس سے کیا لینا دینا،ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ اچھی بات سمجھ میں نہیں آتی،بس اتنا اور کہد و’انک لمجنون‘‘بس بات ختم ،ارے بھائی میری عادت اختصار سے بات کرنے کی ہے اگر ہرہر بات کی وضاحت کروں تو ایک کتاب مرتب ہوجائے ،میں یہ سمجھتا تھا کہ میرے مخاطب اہل علم ہیں اس لئےبات کو سمجھ لیں گے،لیجئے، دوسرے طریقہ سے بات کرتا ہوں،بس کہنے کا اور سمجھنے کا فرق ہے،
اس تھریڈ کا موضوع ہے ’’احناف عقائد میں تقلید کیوں نہیں کرتے‘‘ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ میں موضوع کے برعکس بول رہا ہوں جبکہ ایسا نہیں ہے
ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اچھا بھی برا بھی،معنیٰ حقیقی بھی مراد ہو تے ہیں اور معنوی یا نسبتی بھی، کبھی کل بول کر جزو مراد لیا جاتا ہے اور کبھی جزو بول کر کل مراد لیا جاتا ہے
آپ حضرات بولتے ہیں حنفی ایسا کرتے ہیں تو گویا اس میں استاذ شاگرد سبھی شامل ہوگئے،جس کا مطلب یہ ہوا کہ مام ابو حنیفہ بھی ایسا ہی کرتے ہوں گے ،اب ظاہر ہے امام ابو حنیفہ بھی وہی کرتے ہوں گے جو صحابہ کرام کرتے ہوں گے ،اب صحابہ کرام کیا کرتے ہوں گے یہ وہی کرتے ہوں گے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے یا فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس کے تابع تھے وہ کہاں سے کرتے تھے ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمان الٰہی کے مطابق کرتے تھے اور فرمان الٰہی کیا ہے وہ وحی یا جس کو ہم قرآن پاک کہتے ہیں ،یوں بھی کہہ سکتے ہیں وحی متلو اوروحی غیر متلو ،نتیجہ کلام یہ نکلا کہ احناف حقیقۃًقولاوفعلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں اور معنوی طور پر امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ۔اب کیونکہ امام ابوحنیفہ کے ذریعہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاقول و عمل ہم تک پہنچااس لئے وہ ہمارے متبع ہوئے، اور ایسا ہی آپ کے یہاں بھی ہے ،جیساکہ آپ لوگ فرماتے ہیں رواہ البخاری ،یا ابن تیمیہ نے ایسا کہا یا ابن قیم وغیرہ وغیرہ نے،جس کا نام ہے تقلید اتباع ،آپ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں بیچ کے سب واسطوں کو نکالو اور سیدھا یہ کہو قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،
عقائد ہوں یا اصول فقہ۔اتباع کرنا چونکہ اوپر سے چلا آرہا ہے جس کی مثال میں اپنے سابقہ مراسلہ میں پیش کر چکاہوں مزید اضافہ کے ساتھ دوبارہ ملاحظہ فرمالیں۔
تقلیدشخصی یا اتباع شخصی کی مثال
(۱)اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْم صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْہِمْ ہمیں سیدھی راہ دکھا ان لوگوں کی جن پر تونے انعام کیا
یہاں مرد واضح ہے یعنی نیک اشخاص،یہاں متعین نہیں ہے ،اگر متعین ہوتے تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ’’صِرَاطَ اللہ ِ‘‘یا’’ صِرَاطَ الرسولِ‘‘
(۲)وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ۰ۭ كُلًّا ہَدَيْنَا۰ۚ وَنُوْحًا ہَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَہٰرُوْنَ۰ۭ الیٰ آیۃ ’’ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ ہَدَى اللہُ فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہْ۰ۭ‘‘ (پ ۷ سورہ انعام آیت ۸۰ تا ۹۰) ’’یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی تو آپ بھی ان ہی کے طریق پر چلئے‘‘،
مذکورہ آیت شریفہ میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے ہدایت یافتہ حضرات کا ذکر فرماکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت فرمائی کہ آپ بھی ان ہی کے طریقہ پر چلئے،(سمجھے شاہد نذیر صاحب) باقی میں اس سے پہلے مراسلہ میں عرض کر چکا ہوں ’’ والوالامر منکم‘‘ کے ذیل میں،اب سنئے جماعت کی اہمیت کہ تفریق یا آزاد روش کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا،
(۱) یداللہ علی الجماعۃ
(۲) من شَذ شُذفی النار(یعنی جو جماعت الگ ہوا وہ جہنم میں بھی تنہا ہوگا)
(۳) اتبعو سَواد الاعظم (امت کی بڑی جماعت کی اتباع کرو)اور بڑی جماعت کون سی ہے وہ احناف کی ہے۔
اتنی وضاحت کے بعد بات سمجھ میں آجانی چاہئے ،سنئےعلم دو طرح کا ہے ایک کا تعلق مسئلہ مسائل یا فقہ سے ہے اور دوسرے کا تعلق عقائد سے یا ایمانیات سے ہے ،اب یہ ایمان کیا ہے یہ ایمان وہی ہے جس کا آدم علیہ السلام سے لیکر تمام انبیاء نے اقرار کیا اور یہ ایمان سب کا ایک ہی تھا ،شریعت میں البتہ فرق تھا ، جس میں حالات کے اعتبار سے تبدیلی ہوتی رہی ، ایمان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ، وضا حت ضرور فرمائی گئی جیسا کہ حدیث جبریل(بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ الله ص ذَاتَ يَوْمٍ، إذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، لا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلا يَعْرِفُهُ مِنَّا أحَدٌ، حَتَّى جَلَسَ إلَى النَّبِيِّ ص، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أخْبِرْنِي عَنْ الإسْلاَمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ص: الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلهَ إِلاَ اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللهِ، وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيتَ إِن اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً. قَالَ: صَدَقْتَ، فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِيْمَانِ، قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلاَئِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ. قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ. قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ، قَالَ: مَا الْمَسْؤُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا، قَالَ: أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ. ثُمَّ انْطَلَقَ فَلَبِثْتُ مَلِيًّا ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ جِبْرِيْلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِيْنَكُمْ )(رَوَاهُ مُسْلِمٌ) سے ثابت ہے،اورایمان یا عقائد جیسا کہ اس حدیث مبارکہ میں وضاحت ہے یہ ایمان کی بنیاد ہےجس میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی ،جن طرق سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے اس راوی کی طرف نسبت کا نام اگر تقلید ہے تو یہ آپ بھی کرتے ہیں۔
تو حقیقی طور پر عقا ئد ہوں یا فقہ ہم اتباع کرتے ہیں قرآن پاک کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی،رہی مسائل کی بات تو موقعہ محل اور ضرورت کے اعتبار سے ا صول فقہ کی روشنی میں کل بھی حل ہوتے تھے اور آج بھی ،اوراصول فقہ کیا ہیں وہ قرآن و احادیث صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار الصحابہ کی رہنمائی میں مقرر کردہ قوانین ہیں ، جن کی وجہ سے گمراہ ہونے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔
فرشتہ خود کو بتانے سے کچھ نہیں ہوتا
ندی میں روز نہانے سے کچھ نہیں ہوتا
یہ مشورہ ہے کہ سورج کی مان لو ورنہ
چراغ دن میں جلانے سے کچھ نہیں ہوتا