فتنے بڑھ رہے ہیں. دین کے خلاف شکوک و شبہات میں اضافہ ہو رہا ہے. الحادی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں، لا دینیت کا سیلاب اسلامی ملکوں میں امڈا چلا آ رہا ہے. مغربیت کا طوفان انتہائی خوفناک صورت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے. اور اسلام دشمن استعماری طاقتوں کی دسیسہ کاریاں اور ریشہ دوانیاں بڑھتی جا رہی ہیں. لیکن ان تمام محاذوں پر کام کرنے کے لئے جتنے اور جس طرح کے افراد کی ضرورت ہے، مذکورہ رجحانات کی وجہ سے ایسے افراد کی تیاری کا سلسلہ ہی قریب قریب بند ہو گیا ہے. نتیجتاً ارتداد کا فتنہ موجود ہے لیکن کوئی ابو بکر پیدا نہیں ہو رہا ہے. کفر دندنا رہا ہے لیکن درہ فاروقی کو حرکت میں لانے والا کوئی نہیں. تاریکی اور اندھیرے بڑھ رہے ہیں لیکن ایمان و ھدایت کی مشعلیں فروزاں کرنے والے نظر نہیں آ رہے ہیں. بلکہ نوبت بہ ایں جارسید کہ مسندیں اجڑ رہی ہیں. مسجدیں ویران ہو رہی ہیں. علمی و دینی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں اور تحقیق و افتاء کے میدان خالی ہو رہے ہیں.
... کیا ہمارے نوجوان علماء میں ان ضرورتوں کا ادراک نہیں؟
کیا انہیں اپنی ذمہ داریوں کا کوئی احساس نہیں؟
کیا مدارس کے چارہ گروں کو بھی اسکا حل اور اسکا علاج سوچنے کی ضرورت نہیں؟
أ ليس منكم رجل رشيد

مفسر قرآن، فقید ملت حافظ صلاح الدين یوسف رحمہ اللہ
الاعتصام / خصوصی اشاعت / مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی نمبر / ص 177