• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اقوال سلف

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
✍ سیدنا مالك بن دينار رحمہ الله فرماتے ہیں :
*جو مخلوق کی کلام میں مگن ہو کر خالق کی کلام کو فراموش کر بیٹھے گا ، اس کا علم محدود ہوگا اور اس کے دل کا اندھا پن اس کی زندگی برباد کردے گا* ۔

[ روضة العقلاء: ٨٥/ ١ ]
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

*« نا محرم مردوں کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا عورت کی بہترین صفات میں شمار کیا گیا ہے؛ زمانہ جاہلیت میں بھی اور اسلام میں بھی! ».*

[ روح المعاني : ١٨٧/١١ ]
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
"میں نے لوگوں کے احوال کا جائزہ لیا تو بڑا ہی عجیب معاملہ پایا ...

وہ گھروں کے اجڑنے پر روتے ہیں، پیاروں کی موت پر آہیں بھرتے ہیں، معاشی تنگ دستی پر حسرتیں کرتے ہیں اور زمانے کو برا بھلا کہتے ہیں!

حالانکہ وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کی عمارت گر رہی ہے، دین فرقوں میں بٹ چکا ہے، سنتیں مٹ رہی ہیں اور بدعات کا غلبہ ہے، گناہوں کی کثرت ہے!

لیکن ان میں سے اپنے دین کیلیے رونے والا کوئی نہیں ہے، اپنی عمر برباد کرنے پر کسی کو افسوس نہیں ہے، اپنے وقت کو ضائع کرنے پر کوئی غم نہیں ہے!!

اور میں اس سب کا ایک ہی سبب دیکھتا ہوں کہ دین ان کی نظروں میں ہلکا ہو گیا ہے اور دنیا ان کی فکروں کا محور بن چکی ہے!"

- [ امام ابن عقيل الحنبلي رحمه الله || الآداب الشرعية لابن مفلح : ٢٤٠/٣ ]
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
*« برا ہو ایسے إنسـان کا جس کا سب سـے اہم اور بڑا مقصد بس اپنا پیٹ ہی ہو »*

¦¦ عمـر بن عبدالعزيز رحمه الله ¦¦
الجوع لإبن أبي الدنيا / ١٣٩
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
- کتنے ہی لوگ رمضان کو پانے کی امید لیے قبروں میں جا چکے ہیں ...

✍ حافظ ابن رجب رحمه الله فرماتے ہیں :

"کتنے ہی ایسے لوگ تھے جو یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ وہ اس مہینے کے روزے رکھیں گے لیکن انکی امید نے انکو دهوکہ دے دیا، اب وہ قبر کے اندهیروں میں پڑے ہیں۔

کتنے ہی دن کا آغاز کرنے والے دن کو ختم نہیں کر پاتے اور کتنے ہی کل کی آس لگانے والے کل کو نہیں پہنچ پاتے!

یقینا اگر تمہیں موت اور اس کی نقل و حرکت کا علم ہو جائے تو تم لمبی امیدوں اور ان کے دھوکے سے بغض رکھنے لگو۔"

- |[ لطائف المعارف : ١٤٩/١ ]|
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
✍ - ”جو لایعنی کاموں میں پڑ جائے وہ بامقصد کاموں سے محروم ہو جاتا ہے، اور جو باطل کو گلے لگا لے وہ حق سے اندھا ہو جاتا ہے۔ پس خیر کے معاملے میں لوگوں کے ساتھ رہو، اور شر کے معاملے میں الگ تھلگ ہو جاؤ۔“

|[ امام خطابی رحمه الله || العزلة : ٩٨ ]|
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
دنیا نے ہم سب کو بدل ڈالا ...

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کے دورے پر ہیں۔ گورنرِ شام ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں :”ہمیں اپنے گھر لے چلیے۔“ ابو عبیدہ کہتے ہیں : ”آپ میرے گھر جا کر کیا کریں گے؟“ عمر اصرار کرتے ہیں۔ ابو عبیدہ پھر کہتے ہیں : ”میرے غریب خانے میں آپ کو آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں ملے گا!“

عمر گھر میں داخل ہوتے ہیں ... ”ابو عبیدہ! آپ کا سامان کہاں ہے؟ اس گدّے، گھڑے اور پیالے کے علاوہ کچھ ہے بھی؟ آپ گورنر ہیں! آپ کا کھانا کدھر ہے؟!“ ابو عبیدہ ایک برتن سے روٹی کے خشک ٹکڑے نکال لاتے ہیں۔ اب امیر المؤمنين کے ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں : ”میں نے عرض کیا تھا کہ آپ رو دیں گے، بندے کو دنیا سے اتنا ہی کافی ہے جو اسے قبر تک پہنچا دے۔“ عمر فرماتے ہیں : ”ابو عبیدہ! آپ کے سوا اس دنیا نے ہم سب کو بدل ڈالا!“

(الزهد لأبي داؤد : ١٢٣، حسن)
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
”میں نے عمر رضی اللہ عنہ کی قمیص پر دونوں کندھوں کے درمیان چار پیوند لگے ہوئے دیکھے!“

(انس بن مالك رضى الله عنه || مصنف عبدالرزاق : ١٩٩٣٤)
 

عمر السلفی۔

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 22، 2020
پیغامات
1,543
ری ایکشن اسکور
30
پوائنٹ
110
”روئے زمین پر تنہائی ہی مجھے راس آتی ہے۔ میں اکیلے جیتا ہوں، اکیلے ہی کھاتا ہوں اور اکیلے ہی غور و فکر کرتا ہوں۔ خوشی کے وقت بھی تنہا ہوتا ہوں اور دکھوں کا ساتھی بھی کوئی نہیں۔ اگر تو یہ تنہائی باعثِ لطف و راحت ہے تو یہ فانی دنیا کی ایک راحت ہے اور بس! اور اگر یہ تنہائی باعثِ کرب و حسرت ہے تب بھی یہ اسی دنیا کا ایک کرب ہے اور بس ...“

(جمهرة مقالات الشيخ محمود محمد شاكر : ٨٤٢/٢)
 
Top