• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اقوال سلف

شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
ایک قول کے بارے میں کوئی بھائی رہنمائی فرمائیں
احسن اللہ جزاکم

سفیان ثوری 171/97ھ فرماتے ہیں :
مسلمانوں کے علماء میں سے جو خراب ہو جائے اس میں یہودیت سے مشابہت ہو جاتی ہے جو صاحب علم ہوتے لیکن عمل سے عاری ہوتے ہیں
اور مسلمانوں کے عابدوں میں سے جس میں خرابی آجائے ، اسمیں نصاری ( عیسائیوں) سے مشابہت ہوجاتی ہے جو جہالت اور گمراہی پر ہوتے ہوئے اللہ کی عبادت کرتے ہیں
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو سلامتی اور عافیت میں رکھے !

قول مذکورکو بعض لوگ سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ سے منسوب کرتے ہے
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
[ اذکار ]

ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

میرے استاد شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:

ذکر دل کیلئے ایسے ہیں جیسے مچھلی کیلئے پانی پس اسوقت مچھلی کا کیا حال ہوتا ہے جب وہ پانی سے دور ہو

[ التحفۃ العراقیہ: 85/15، الوابل الغیب: 96 ]

مزید فرماتے ہیں:

جو شخص دل کے مرنے سے نجات چاہتا ہے پس وہ بہت زیادہ اللہ کا ذکر کرے،

[ الوابل الصیب: 96 ]
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

اذکار میں سو کے قریب فائدے ہیں

[ الوابل الصیب: 94 ، دارعالم الفوائد]

مزید فرماتے ہیں:

مشاہدے اور تجربہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس شخص نے اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے یعنی ذکر پر لگایا تو اللہ بھی اسکی زبان کو ہر باطل اور فضول کام سے محفوظ کرلیتے ہیں اور جسکی زبان اللہ کے ذکر سے خشک ہو جائے تو پھر اسکی زبان ہر طرح کی باطل ، فضول اور فحش باتوں سے آلودہ ہو جاتی ہے

[ الوابل الصیب: 99 ]

مزید فرمایا کہ:

بلاشبہ ذکر روشنی ہے ، ذکر کرنے والے کیلئے دنیا میں اور روشنی ہے اسکی قبر میں اور روشنی ہے اس کیلئے اسکی آخرت میں اور

[ الوابل الصیب: 114 ]

مزید فرماتے ہیں:

بلاشبہ ذکر شکر کی بنیاد ہے جس نے اللہ کا ذکر نہیں کیا اس نے اللہ کا شکر بھی نہیں کیا ،

[ الوابل الصیب: 161 ]

مزید فرماتے ہیں:

اگر ذکر کے فوائد میں صرف یہ اکیلا فائدہ ہی تو فضیلت اور شرف کے لحاظ سے کافی ہے

[ الوابل الصیب: 96 ]

مزید فرماتے ہیں:

اللّٰہ کا ذکر شفاء ہے اور لوگوں کا ذکر بیماری ہے

[ شعب الایمان:593/2 ، سیر اعلام النبلاء 369/6 الوابل الصیب: 172 ]

اس کتاب کے حاشیہ میں محقق عالم لکھتے ہیں
اللّٰہ کی قسم ہماری طرف سے کیسی عجیب بات ہے اور ہماری جہالت ہے کہ ہم شفاء چھوڑ دیتے ہیں اور بیماری کی طرف تیزی سے گھس رہے ہیں
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
[ لا حول ولا قوۃ ]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ؛
میں نے بڑے بڑے باطل فرقوں کا مقابلہ کیا ہے میرے پاس انکے خلاف سب سے بڑا ہتھیار " لاحول ولاقوۃ الاباللہ" تھا
میں اسکو کثرت سے پڑھتا تھا اور اللہ تعالیٰ اسکی برکت سے میرے لیے فتح اور کامیابی کے سب دروازے کھول دیتے تھے ۔

ایک جگہ مزید فرمایا:
" لاحول ولاقوۃ الاباللہ" کیوجہ سے بڑی بڑی ہولناکیاں ختم ہو جاتی ہے بڑے بڑے بوجھ اتر جاتے ہیں ۔ اور اس کلمہ کیوجہ سے مسلمان بہت بلندیاں حاصل کر لیتے ہیں ۔ کیونکہ اسکو پڑھنے والا اپنے سارے معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے
جو شخص اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیں تو پھر اللہ ایسے شخص کو کبھی ضائع نہیں کرتے ،

[ فتاویٰ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ]

اسطرح امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اس کلمے میں عجیب طاقت ہے اسکی برکت سے اللہ بڑے بڑے کٹھن حالات اور کھٹن موڑ پار کروادیتا ہے
اور بالخصوص اگر کسی شخص کو کسی وڈیرے کے ظلم کا ڈر ہو تو اس کلمہ کو کثرت سے پڑھیں اور مزید فرمایا:
اور اسطرح غربت کو مٹانے میں بھی یہ وظیفہ نہایت شاندار ہے

[ الوابل الصیب: 187 ]
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
کچھ اھل علم اس کلمہ " لاحول ولاقوۃ الاباللہ" کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

" نہیں ہم پھر سکتے بیماری سے شفاء کی طرف ، نہ غریبی سے امیری کی طرف ، نہ شر سے خیر کی طرف اور نہ ہی تھکاوٹ سے راحت کی طرف مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے "

[ فقہ الادعیۃ والاذکار: 254 ]

حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:
حصول صبر اور حصول مدد کیلئے آزمائش کے دوران بھی لاحول ولاقوۃ الاباللہ پڑھتے رہنا چاہیے یہ کلمہ استرجاع نہیں ہے بلکہ کلمہ استعانت ہے

[ الاستقامۃ : 81/2 ]

اس کو شوق سے پڑھنے سے مایوسی ختم ہو جاتی ہے اور ہر غم دور ہوتا ہے ہر خوشی نصیب ہوتی ہے ،

ریاض شہر میں ایک بہت بڑے عالم دین ہے انکو "خطیب العرب" بھی کہا جاتا ہے انکا نام " سعد عتیق العتیق " ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ:

ایک دفعہ میں ریاض سے جدہ ائیرپورٹ پر اترا اسی دوران میں مجھے ایک نمبر سے بہت زیادہ کالیں آئی جب میں نے اس بھائی سے بات کی تو اس نے کہا:

" میں بہت زیادہ مقروض تھا ، میں بہت زیادہ غمگین تھا اور مجھے بہت زیادہ مشکلیں پہنچ چکی تھی بس میں نے " لاحول ولاقوۃ الاباللہ " پر ہمیشگی کی تو اللہ نے ہر آزمائش دور کرتے ہوئے مجھے پر ہر نعمت عطاء کردی"

[ من محاضرۃ الشیخ ]

عرب میں ایک معروف خطیب " نواف خیاط " ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ :

ہمارے ہاں ایک شخص نے پلاٹ خریدا جب وہ اسکی بنیادوں کیلئے کھدائی کر رہا تھا تو اسکو نیچے سے ایک صندوق ملا جو سونے سے بھرا ہوا تھا اس نے حکومتی کاروائی کے بعد خزانے کو تین ملین ریال میں فروخت کردیا اور وہ بہت خوش تھا کہ اسکو زمین سے خزانہ ملا جسکے بدلے تین ملین ریال حاصل ہوگئے

اللّٰہ ہمیں دنیا اور آخرت کے خزانے نصیب فرمائیں
آمین یارب
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
عید کے متعلق امام ابن رجبؒ کے خوبصورت اشعار:

لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدِ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ خَافَ بِالْوَعِیْدِ

عید ان کی نہیں جنہوں نے عمده لباس زیب تن کر لیا بلکہ عید تو ان کی ہے جو الله کے خوف اور اس کی پکڑ سے ڈر گئے۔

لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ تَبَخَّرَ بِالْعُوْدِ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَابَ وَلَا یَعُوْدُ

عید ان کی نہیں جنہوں نے آج عمده خوشبوؤں کا استعمال کیا بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں کی توبہ کی اور پهر اس پر قائم رہے

لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ نَصَبَ الْقُدُوْرَ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ سَعَدَ بِالْمَقْدُوْرِ

عید ان کی نہیں جنہوں نے عمده کهانوں کی ڈشیں پکائی بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے حتی الامکان سعادت حاصل کی اور نیک بننے کی کوشش کی۔

لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ تَزَیَّنَ بِزِیْنَةِ الدُّنْیَا
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَزَوَّدَ بِزَادِ التَّقْویٰ

عید ان کی نہیں جنہوں نے دنیاوی زیب و زینت اختیار کی بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے تقویٰ اور پرہیزگاری کو اختیار کیا اور اسے اپنا توشه بنایا

لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ رَکِبَ الْمَطَایَا
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَرَکَ الْخَطَایَا

عید ان کی نہیں جنہوں نے عمده سواریوں اور گاڑیوں پر سواری کی بلکہ عید تو ان کی ہے جنہوں نے گناہوں کو چهوڑ دیا

لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ بَسَطَ الْبَسَاطَ
اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ جَاوَزَ الصِّرَاطَ

عید ان کی نہیں جنہوں نے اعلیٰ درجہ فرش سے اپنے مکانوں کو آراسته کیا بلکہ عید تو ان کی ہے جو پل صراط سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے

اللّه ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو حقیقی عید منا رہے ہیں

آمین یارب
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
’’بے شک طبعیت ایک ہی چیز پر مسلسل قائم رہنے سے اُکتا جاتی ہے، اسی لیے کھانوں میں مختلف قسمیں رکھی گئیں، چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی، سیر و تفریح اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا طریقہ مقرر کیا گیا، زیادہ سے زیادہ بھائی چارے (دوستی) کو اپنانے کی ترغیب دی گئی، آداب میں تنوع اختیار کیا گیا، اور سنجیدگی اور مزاح کو جمع کرنے کا طریقہ رائج کیا گیا۔‘‘

[ قاله بعض العلماء كما في سبل الهدى والرشاد للصالحي الشامي : ٩/‏٣٩٣ ]
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
قال الإمام سفيان بن عيينة رحمه الله
"والله، إن كُنَّا لَسْنا بصالحين، إنَّا لَنُحِبّ الصالحين."

امام سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’اللہ کی قسم! ہم نیک کہاں ہیں!!! ہم تو بس نیک لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔‘‘

[ الطيوريات للسلفي : ٢/ ٢٩٧ وسنده حسن ]

احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحاً

میں نیکو کاروں سے محبت رکھتا ہوں اگرچہ ان میں سے نہیں ہوں۔
شاید اسی طرح مجھے نیکو کاری حاصل ہو جائے۔
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
> قَالَ فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ رَحِمَهُ اللَّهُ:
"إِذَا قِيلَ لَكَ: أَتَخَافُ اللَّهَ؟ فَاسْكُتْ، فَإِنْ قُلْتَ: نَعَمْ، فَلَسْتَ كَمَا تَقُولُ، وَإِنْ قُلْتَ: لَا، كَفَرْتَ."



اردو ترجمہ:

فضیل بن عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا:
"جب تم سے کہا جائے: 'کیا تم اللہ سے ڈرتے ہو؟' تو خاموش رہو،
اگر تم نے کہا: 'ہاں'، تو تم ویسے نہیں ہو جیسے تم کہہ رہے ہو (یعنی تم میں اس کا اثر نظر نہیں آتا)،
اور اگر تم نے کہا: 'نہیں'، تو تم کفر کر بیٹھو گے۔

ماخذ (حوالہ):

یہ قول مختلف مصادرِ زہد و رقائق میں نقل ہوا ہے، مثلاً:

ابن جوزیؒ، "صفوة الصفوة" (جلد 4، صفحہ 120 کے قریب)

"حلية الأولياء" از ابو نعيم الاصفهانی (جلد 8، ص: 89)

"الزهد" از ابن المبارک میں بھی فضیل بن عیاض کے اقوال میں اس مفہوم کے اقوال موجود ہیں۔
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
"ندامت توبہ ہے؟"
کہا: ہاں۔
جب تُو اپنے آپ سے بیٹھ کر یہ کہتا ہے:
"میں اپنے رب کا سامنا کیسے کروں گا؟ میں اُسے کیا کہوں گا ان کاموں کے بارے میں جو میں نے کیے؟
ہائے افسوس! کاش میں نے یہ نہ کیا ہوتا!"
تو تیرے دل میں جو یہ جلن اور تڑپ ہے — یہی توبہ ہے!

سلف میں سے کسی نے گناہوں میں حد سے تجاوز کیا،
پھر ایک دن کھڑا ہو کر کہا:
"اے اللہ! کیا تیری رحمت کے خزانے ختم ہو گئے ہیں کہ میرے جیسے کو معاف کرنا آپ پر بھاری ہو گیا ہے؟
اے اللہ! مجھے بخش دے!"

پھر وہ سو گیا،
اور نیند میں کسی نے اس سے کہا:
"اللہ نے تجھے بخش دیا۔"

— الشیخ سمیر مصطفى

امام فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کی ملاقات شعوانہ نامی عابدة (مشہور نیک خاتون) سے ہوئی۔
انہوں نے شعوانہ سے دعا کی درخواست کی۔
شعوانہ نے جواب دیا: "اے فضیل! تمہارے اور اللہ کے درمیان کیا چیز حائل ہے کہ اگر تم اسے پکارو تو وہ تمہاری دعا قبول نہ کرے؟"
یہ سن کر فضیل پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔

صفة الصفوة 4/34
 
Top