• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اقوال سلف

شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
"اے ابن آدم! تیرا دین تب تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے؛ جب تک تیرا دل دنیا کی محبت سے وابستہ ہے!"

امام يحيى بن معاذ رحمه الله

(حلية الأولياء : 52/10)
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
مردہ دل کو زندہ کیجیے

امام ابن القيم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

جس نے" یاحي ياقيوم" مسلسل کہنا شروع کر دیتا ہے
اللہ تعالیٰ اس کی عقل اور دل کو زندہ کر دیتے ہیں

[ مدارج السالكين ١ / ٤٤٦ ]
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
امام مالک بن دینار دعا کرتے تھے:

اے الله! نیک لوگوں کو بھی تو نے ہی نیک بنایا تھا پس ہماری بھی اصلاح کردے تاکہ ہم بھی نیک بن جائے۔

[ التوبة لابن ابي الدنيا ٦٨ ]
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
`مدارس و جامعات کے مھاجر بچے۔`

مجھے یہ بات پہنچی ھے۔ اور اللہ ہی زیادہ بہتر جانتا ھے۔ ایک وقت آئے گا کہ علم حاصل کرنے والا (طالب علم) اجنبی ھو جائے گا۔

[اﻟﺒﺪﻉ ﻻﺑﻦ ﻭﺿﺎﺡ:١٦٥]
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
ابن عثيمين رحمه الله فرماتے ہیں ؛

اگر تم یہ دعویٰ کرتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، تو اس دعویٰ کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ تم ان کے حکم کو اپنی خواہش پر مقدم رکھو

شرح صحيح البخاري (٦٣/١)
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
ڈپریشن حرکت میں رہنے والے ہدف کو متاثر نہیں کر سکتا۔
ابن القیم (رح) نے فرمایا:
"اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ سست لوگ اکثر فکر، غم اور اداسی میں سب سے زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ حقیقی خوشی یا مسرت محسوس نہیں کرتے۔
لیکن جو لوگ متحرک اور محنتی ہوتے ہیں - چاہے وہ کوئی بھی کام کریں، وہ اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ اور اگر ان کی محنت کسی ایسے کام میں ہو جس کے اچھے نتائج اور فائدہ مند انجام کا انہیں علم ہو، تو اس کام کو کرنے میں انہیں جو خوشی اور تحریک ملتی ہے وہ اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔
اور اللہ ہی کامیابی دینے والا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ محبت روح کو حرکت دیتی ہے اور شدت سے طلب کرنے پر مجبور کرتی ہے۔"
ابن القیم (رح) نے فرمایا:
"جو لوگ سست ہوتے ہیں، ان میں عام طور پر فکریں، پریشانیاں اور غم زیادہ پائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی حالت میں شاذ و نادر ہی خوشی اور مسرت پاتے ہیں، اس کے برعکس ان لوگوں کے جو اپنے معاملات میں کوشش اور محنت کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔"
[روضۃ المحبین ص ۱۶۸]
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:

"مومن کے لیے موسم سرما کتنا عمدہ ہے، اس کی راتیں لمبی ہیں جو وہ قیام میں گزارتا ہے، اور اس کے دن چھوٹے ہیں جو وہ روزہ رکھ کر گزارتا ہے۔"

[لطائف المعارف]
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
زندگی تو جنت کی ہے ...

”میں نے اپنے آپ پر غور کیا تو اپنے آپ کو ہر شے سے مفلس پایا۔ اگر بیوی پر تکیہ کرتا ہوں تو وہ میری مراد کے مطابق نہیں ہو سکتی۔ حُسن ہے تو اخلاق ناقص ہیں، اخلاق عمدہ ہیں تو مفادات اس کے اپنے ہیں، اور شاید اسے میری موت کا ہی انتظار ہو۔ بچوں کو دیکھوں تو یہی معاملہ ہے۔ خادم اور مرید کو دیکھوں تب بھی یہی، اگر انہیں میرے سے کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو تو انہیں مجھ سے کیا مطلب! دوست ویسے کوئی نہیں ہے، اخوت فی اللہ محض خیالی فلسفہ رہ گیا، اہلِ خیر کا اتہ پتہ رکھنے والے معتقدین راہیِ عدم ہو چکے۔ میں اکیلا رہ گیا ہوں۔ اپنے نفس کو دیکھتا ہوں، تو یہ کمبخت بھی مجھ سے مخلص نہیں ہے، کوئی حالتِ سلیمہ اسے راس نہیں آتی۔ پس پیدا کرنے والی ذاتِ سبحانی کے علاوہ کوئی بھی باقی نہیں ہے! اس کی بھی نعمتیں ہیں تو آزمائش کا پہلو لیے ہوئے، اس کے عفو کی امید ہے مگر سزا کا دھڑکا بھی۔ ہاااہ، نہ اطمینان ہے نہ دل کو قرار ہے، ہائے یہ بے چینی و اضطراب کی شدّت، ہائے یہ سینے میں لگی آگ کی حدّت! اللہ کی قسم، زندگی تو جنت کی ہے۔ جہاں ایمان کے ساتھ ہی رضائے الٰہی بھی ہو گی، جہاں معاشرہ خیانت و ایذا رسانی سے پاک ہو گا۔ رہی دنیا تو یہ بے سکونی کی آماجگاہ ہے اور بس!“

(صيد الخاطر لابن الجوزي : ٣٤٢)
 
شمولیت
فروری 04، 2025
پیغامات
132
ری ایکشن اسکور
7
پوائنٹ
33
طلباء علم کے بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ کی ایک اہم نصیحت

امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "علم حاصل کرنے والے طالب علموں میں سب سے گھٹیا یا کمزور ذہنیت اس شخص کی ہوتی ہے جو اپنی ساری محنت صرف ایسے عجیب و غریب، غیر معمولی اور شاذ نادر مسائل کے پیچھے لگا دیتا ہے جو نہ کبھی ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کا آئندہ کوئی امکان ہے۔
یا پھر وہ شخص جس کی ساری دلچسپی صرف مختلف فقہی آراء (اقوال) اور اختلافات جاننے میں ہو، لیکن اسے اس بات سے کوئی غرض نہ ہو کہ ان تمام اقوال میں صحیح اور راجح بات کون سی ہے۔
ایسے لوگوں میں سے بہت کم ہی ہیں جو اپنے علم سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔"

(الفوائد ص84)
 
Top