• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تبلیغی جماعت

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,412
ری ایکشن اسکور
2,730
پوائنٹ
556
3: آپ جس طرح سے علماء دیوبند کے عقائد کوتبلیغی جماعت کے عقائد سے جوڑنے پر مصر ہیں ہم اسے آپ کی کج بحثی سمجھنے پر مجبور ہیں۔ تھریڈ قائم کرتے ہیں تبلیغی جماعت۔ بات ہورہی ہے تبلیغی جماعت کی اورآپ بیچ بحث میں گھیسٹ رہے ہیں عقائد علماء دیوبند کو۔ تنہاتبلیغی جماعت پر بحث کرنے سے آپ کیوں کتراتے ہیں!جب آپ عنوان قائم کرتے ہیں تبلیغی جماعت کے شرکیہ عقائد تواس وقت اردو کایہ بنیادی قاعدہ یاد نہیں رہتا کہ کیاکہہ رہے ہیں ۔یہ عنوان کیوں نہیں قائم کرتے تبلیغی جماعت کے علماء دیوبند کے واسطے سے شرکیہ عقائد۔ یاآپ کی پوری جماعت ہی اردو زبان میں مافی الضمیر کے تعبیر سے قاصر ہے؟
4: بنیادی بحث یہ ہے کہ یاتو تبلیغی جماعت کے عقائد پر بات کریں یاپھر علماء دیوبند کے عقائد پر بات کریں۔دونوں کوایک دوسرے سے مخلوط کرنا بحث میں کود کر ادھر اورکود کر ادھر بھاگنا نہایت قابل کراہت عمل ہے۔ یاپھر اس کااعتراف کرلیجئے اگراخلاقی جرات سے متصف ہیں تو کہ ہم تبلیغی جماعت کے عقائد پر بات نہیں کریں گے صرف علمائے دیوبند کے عقائد پر بات کریں گے۔لیکن یہ دوہرارویہ کہ تھریڈ قائم کریں تبلیغی جماعت اوربات شروع کردیں علماء دیوبند پر اس کی تائید کوئی بھی شخص جسے خدا نے عقل وحواس کی نعمت سے بہرہ ورکیاہے وہ اس کی تائید نہیں کرے گا۔
خلاصہ کلام

تبلیغی جماعت کے عقائد پر بات کریں گے یاپھر علمائے دیوبند کے عقائد پر۔اگرعلمائے دیوبند کے عقائد پر بات کرنی ہے توآئندہ تبلیغی جماعت پر کسی قسم کا کلام نہ کریں اوراگرتبلیغی جماعت پر بات کرنی ہے توپھر علماء دیوبند کو اس بحث سے خارج کریں ؟
آپ تو مراقبہ میں ہی رہیں !! بات چل رہی ہے ، کچھ تلمیذ صاحب سے ہی سیکھ لیں!

جمشید میاں! یہ اعلان کر دیں کہ مولانا محمد زکریا ، مولانا محمد الیاس ، بھائی عبدالوھاب کے وغیرہ کے عقائد دیوبندیوں کے عقائد سے مختلف ہیں!! پھر ان شاءاللہ! دیوبند کے عقائد کا ذکر تبلیغی جماعت کے حوالہ سےنہیں ہو گا!!!

تلمیذ صاحب! آپ کی تحریر کا جواب ان شاءاللہ کل تحریر کروں گا!صبح سفر کا پروگرام ہے!!
 
شمولیت
مارچ 15، 2012
پیغامات
154
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
95
(لہذا تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد اکا عقیدہ علماء دیوبند کا عقیدہ ہوتاہے یہ اصول آپ نے کہاں سے اخذ کیاہے اس کی دلیل کیاہے؟ایک صاحب عبدالعللام نے یہی بات کہی لیکن جب دلیل مانگی گئی تو اب بجزخاموشی چارہ نیست ) میں تو یہی کہوں گا دروغ گو را حافظہ نا باشد- جمشید صاحب کو میری جس بات پر اعتراض تھا وہ یہ کہ دیوبندیت کا بنیادی عنصر حنفیت نہیں تقلید ہے اور انہوں نے اسی بات کی دلیل مجھ سے طلب کی تھی- میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ جس جماعت کا بانی مولوی الیاس دیوبندی ہو -جماعت کا لٹریچر تیار کرنے والا مولوی زکریا دیوبندی ہو- جس کی تعلیمات مولوی الیاس عام کرنا چاہ رہے تھے وہ اشرف علی تھانوی دیوبندی ہو-اس جماعت کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ دیوبندی جماعت نہیں سفید جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے- جمشید صاحب نے اس پر ایک لفظ نہں کہا- یہ ساری بحث موجود ہے جو چاہے دیکھ سکتا ہے- میں نے جمشید صاحب سے بحث کیوں بند کی؟ بات یہ ہے کہ میں ہمیشہ جمشید صاحب کو بڑے احترام سے مخاطب کرتا رہا اور سنجیدگی سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن جناب والا نے جدال احسن کا طریقہ اختیار نہیں کیا-(جو چاہے دیوبندی میں جاکر دیکھ سکتا ہے )اس بنیاد پر میں نے جمشید بھائ سے بحث جاری رکھنا مناسب خیال نہ کیا-(اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کردیا)والسلام علیکم-
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
یہ زبردست لڑایی کب ختم ہوگی ؟کتنا وقت لگیگا ؟ نتیجہ کیا ہوگا؟فایدہ کس کو ہوگا؟ دونوں جماعتوں کی بڑے ایک دوسرے کی دعوتیں کھارہے ہیں اور یہ بیچارے لڑ رہے ہیں کیوں ؟
مفتی عبد اللہ صاحب
میرا مقصد صرف تبلیغی جماعت پر اعتراضات کا جواب دینا ہے ۔ تاکہ کل قیامت کو میں بھی حق کی تبلیغ کرنے والی جماعتوں کے ساتھ کھڑا ہوں ۔ اگر میرا مقصد لڑنا ہوتا تو میں بھی سلفی جماعتوں پر ایسے فضول اعتراضات کر رہا ہوتا ۔
اللہ مسلمانوں میں اتحاد نصیب فرمائے ۔ آمیں

ابن داؤد صاحب ،
اللہ آپ کے سفر کو راحت سے پر سفر بنائے اور خیریت سے منزل پر پہنچائے ۔ آمیں
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
(لہذا تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد اکا عقیدہ علماء دیوبند کا عقیدہ ہوتاہے یہ اصول آپ نے کہاں سے اخذ کیاہے اس کی دلیل کیاہے؟ایک صاحب عبدالعللام نے یہی بات کہی لیکن جب دلیل مانگی گئی تو اب بجزخاموشی چارہ نیست ) میں تو یہی کہوں گا دروغ گو را حافظہ نا باشد- جمشید صاحب کو میری جس بات پر اعتراض تھا وہ یہ کہ دیوبندیت کا بنیادی عنصر حنفیت نہیں تقلید ہے اور انہوں نے اسی بات کی دلیل مجھ سے طلب کی تھی- میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ جس جماعت کا بانی مولوی الیاس دیوبندی ہو -جماعت کا لٹریچر تیار کرنے والا مولوی زکریا دیوبندی ہو- جس کی تعلیمات مولوی الیاس عام کرنا چاہ رہے تھے وہ اشرف علی تھانوی دیوبندی ہو-اس جماعت کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ دیوبندی جماعت نہیں سفید جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے- جمشید صاحب نے اس پر ایک لفظ نہں کہا- یہ ساری بحث موجود ہے جو چاہے دیکھ سکتا ہے- میں نے جمشید صاحب سے بحث کیوں بند کی؟ بات یہ ہے کہ میں ہمیشہ جمشید صاحب کو بڑے احترام سے مخاطب کرتا رہا اور سنجیدگی سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن جناب والا نے جدال احسن کا طریقہ اختیار نہیں کیا-(جو چاہے دیوبندی میں جاکر دیکھ سکتا ہے )اس بنیاد پر میں نے جمشید بھائ سے بحث جاری رکھنا مناسب خیال نہ کیا-(اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کردیا)والسلام علیکم-
موصوف عبدالعلام کاجدال احسن ’’کھلاجھوٹ ‘‘جیسے الفاظ سےشروع ہوتاہے ویسے یہ موصوف کی یہ بات کہ میں ہمیشہ ان سے بڑے احترام سے مخاطب ہوتاہوں کسی لطیفہ سے کم نہیں ہے۔ موصوف نے پہلاہی مراسلہ جو میرے مراسلہ کے رد میں لکھااس میں کھلے جھوٹ سے اپنی بات شروع کی۔ اب جس کی بات کھلے جھوٹ سے شروع ہواس کی بات کتنی سچی ہوگی اوروہ مخاطب کااحترام کتناکررہے ہیں وہ بھی واضح ہے۔
جہاں تک جواب کی بات ہے توبقیہ حضرات وہیں دیکھ لیں ۔ وہاں پر موصوف کے بے بنیاد شبہات کادیگراداروں سے تقابل کرکے جواب دے دیاگیاہے۔ ویسے موصوف نے گریز کااچھاطریقہ استعمال کیاہے۔ خدامزید ترقی دے۔
 
شمولیت
مارچ 15، 2012
پیغامات
154
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
95
(لہذا تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد اکا عقیدہ علماء دیوبند کا عقیدہ ہوتاہے یہ اصول آپ نے کہاں سے اخذ کیاہے اس کی دلیل کیاہے؟ایک صاحب عبدالعللام نے یہی بات کہی لیکن جب دلیل مانگی گئی تو اب بجزخاموشی چارہ نیست )مجھ سے یہ دلیل کب مانگی گئی کہ تبلیغی جماعت اور علمائ دیوبند کا عقیدہ ایک ہے ؟ یہ کھلا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے-
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,412
ری ایکشن اسکور
2,730
پوائنٹ
556
سب سے پہلے سعودی علماء کا فتوی پڑھ لیں
س: هذا السائل يقول: هل صحيح أن الأولياء تحدث لهم كرامات خارقة للعادة، كالمشي على الماء، والمكاشفات كالنظر إلى اللوح، وظهور الملائكة وغير ذلك؟
ج : نعم الأولياء لهم كرامات خرقاً للعادة، إذا كانوا مستقيمين على طاعة الله ورسوله، قد تقع لهم كرامات عند حاجتهم، أو عند
إقامة الحجة على غيرهم، قد يخرق الله لهم العادة بكرامة، ومن ذلك ما وقع لعباد بن بشر، وأسيد بن حضير، كانا زارا النبي في ليلة مظلمة، فلما خرجا من عنده أضاءت لهما أسواطهما كالسراج في الطريق حتى وصلا إلى أهلهما، كرامة من الله لهما، ومن هذا قصة الطفيل الدوسي رئيس دوس، لما أسلم وطلب من النبي صلى الله عليه وسلم أن يجعل الله له آية حتى يصدقه قومه، فصار له نور في وجهه مثل السراج لما أتى أهله، فقال يا ربي في غير وجهي فجعلها الله في سوطه، إذا رفعه استنار كالسراج، فأسلم قومه على يديه، وهداهم الله بأسبابه، وهناك وقائع أخرى لأولياء الله، عند الشدائد مثل ما وقع لجريج، لما ظلمته البغي، قالت: إنه زنى بها وأنها حملت منه، وهي كاذبة ، فجاءه أهل بلده، وهدموا عليه صومعته، فقال: ما بالكم؟ قالوا: زنيت بهذه، فقال: سبحان الله ما زنيت بها، هاتوا الغلام؟ فجاءوا بالغلام، ووضع إصبعه على الغلام، وهو لتوه مولود، فقال: من أبوك يا هذا؟ فقال: أبي فلان الراعي، الذي زنى بالمرأة، فلما أنطقه الله وهو صغير، قالوا: نعيد لك صومعتك من الذهب؟ فقال: لا، ردوها طيناً كحالها الأولى، المقصود براءتي مما رميتموني به، الحمد لله ؛ والقصص كثيرة في هذا.

انہوں نے ، والمكاشفات كالنظر إلى اللوح کو شرک نہیں کہا ۔
تلمیذ صاحب! آپ نے تو اس فتوی کے حوالہ پیش نہ کیا! بس کہ دیا کہ " سب سے پہلے سعودی علماء کا فتوی پڑھ لیں" عالم کا نام نہ کتاب کا کچھ نہیں!! آپ کو نہ جانے یہ کہاں سے ملا!! خیر اس کا حوالہ ہم آپ کو پیش کئے دیتے ہیں:
فتاوى نور على الدرب
المؤلف: عبد العزيز بن عبد الله بن باز (المتوفى: 1420هـ)
جمعها: الدكتور محمد بن سعد الشويعر
قدم لها: عبد العزيز بن عبد الله بن محمد آل الشيخ
الأولياء لهم كرامات تكون خرقاً للعادة إذا كانوا مستقيمين على طاعة الله ورسوله

مندرجہ ذیل لنک پر آپ اس فتوی کو مفتی کی زبانی یعنی کہ شیخ بن باز رحمۃاللہ علیہ کی ےزبانی سن سکتے ہیں: اور ضرور سنیئے گا!!!
الأولياء لهم كرامات تكون خرقاً للعادة إذا كانوا مستقيمين على طاعة الله ورسوله | الموقع الرسمي لسماحة الشيخ عبدالعزيز بن باز

آپ کے علم میں شاید یہ نہیں تھا کہ یہ فتوی شیخ بن باز رحمۃاللہ علیہ نے تحریری نہیں بلکہ زبانی دیا تھا!!!
اور جب کسی عالم سے زبانی سوال و جواب کیئے جاتے ہیں تو ایسا ہو جایا کرتا ہے کہ سائل کے سوال کے ایک نکتہ کا جواب عالم دے دیا کرتے ہیں اور دوسرے نکتہ کا جواب نسیانا یا کسی اور وجہ سے رہ جایا کرتا ہے!! یہاں بھی یہی معالہ ہے!!
سائل کے سوال کے ایک نکتہ "هل صحيح أن الأولياء تحدث لهم كرامات خارقة للعادة،" کا جواب شیخ بن باز رحمۃاللہ علیہ نے دیا ہے اور اس کے دیگر نکات " كالمشي على الماء، والمكاشفات كالنظر إلى اللوح، وظهور الملائكة وغير ذلك؟" کا جواب نہیں دیا گیا!!
لہذا اس فتوی سے آپ کی مراد قطعی پوری نہیں ہوتی!!!

لیکن آپ کا عقیدہ مزید واضح ہو گیا کہ آپ تو "النظر إلى اللوح" کے دعوی کو بھی کرامات کہہ کر تسلیم کرتے ہو!!! یعنی کہ آپ اس شرک کے قائل بھی ہو کہ کوئی امتی لوح محفوظ کو دیکھ سکتا ہے!!
ویسے حکیم الامت دیوبندیہ لوح محفوظ کو دیکھنے کا دعوی بھی کر چکے ہیں!!! اب یہ نہیں معلوم کہ خود دیکھنے کا ہے یا کسی اور صوفی کے دیکھنے کا ہے!!! حوالہ مطلوب ہو تو پیش کر دیا جائے گا!!!
اسی فتوی ایک قصہ جریج کا ہے ۔ اگر آپ کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو اس کا مطلب ہے جریج عالم الغیب تھے کیوں کہ انہوں نے بچہ کو بلایا اور اس سے پوچھا
من أبوك يا هذا
جریج کو کیسے معلوم ہوا کہ بچہ کلام کرے گا اور صحیح بات کرے گا ۔ آپ کی کسوٹی کے مطابق تو اس قصہ سے جریج کا عالم الغیب ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اور اس بچہ کو کیسے معلوم ہوا کہ اس کا باپ کون ہے ۔ اس سے تو وہ بچہ بھی عالم الغیب ثابت ہوا ۔
یہ واقعہ صحیح حدیث میں ہے
آپ کی کسوٹی کے مطابق یہ تو شرکیہ کرامت ہے تو کیا حدیث شرکیہ کرامت کا بتا رہی ہے اور بھر تو اس حدیث کی کتاب کا پڑھنا پڑھانا شرکیہ کام ہوا ۔ (معاذ اللہ )
جریج نے تو سوال کیا ہے! اب صرف سوال کرنے سے عالم الغیب ہونے کی بات کہاں سے آگئی!! کبھی آپ کی پاکستانی پولیس والے سے گفتگو ہو تو اس کے سوالات سے تو آپ نہ جانے کیا کیا اخذ کر لیں گے!!!
بچہ کا کلام کرنا خرق عادت ہے!! خلاف قرآن و سنت نہیں!!!
جریج نے ایسا کوئی دعوی نہیں کیا کہ نہ جریج کے کلام سے ایسی کوئی بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ جانتے تھے کہ بچہ کلام کرے گا!!
اب جناب من! اس بچہ نے یہ خبر کسی سے خبر پانے کی بنیاد پرنہ ہونے کی کوئی بات ہی نہیں!! اور بچہ اپنے باپ کا نام کسی سے خبر پانے کی بنیاد پر دیتا ہے!!! اور عموما وہ اس کی ماں ہی ہوتی ہے ، جو اسے بچپن میں سکھلاتی ہے کہ فلان تیرا باپ ہے!!! ابا بولو !! ابو بولو!!! یا پاپا بولو!!! جب یہ ماں سکھلاتی ہے !! تب بچہ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا باپ کون ہے!!!

میں نے تو جو تبلیغی جماعت کے متعلق کہا تھا کہ ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں تو اس کے جواب میں آپ نے کہا
میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجوان فورا کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔
اس اقتباس کا پہلا حصہ بتاتا ہے کے تبلیغی جماعت کا عقیدہ ہے اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں لیکن اس اقتباس کا دوسرا حصہ کرامت ہے ۔
معلوم ہوتا ہے کہ آپ اردو کلام سمجھنے سے بھی قاصر ہیں؛ آپ تو "مگر" کو بلکل نظر انداز کرتے ہوئے دونوں فقروں کو بلکل الگ تھلگ کر کے اس عبارت کا معنی اخذ کرنا چاہتے ہو!!
یہ ان دونوں فقروں کے درمیان "مگر" آپ کے اس معنی کو باطل قرار دے رہا ہے!!! کیوں کہ یہ "مگر" بتلا رہا ہے کہ قرطبی صاحب کا گمان تھا کہ "میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی" "مگر" ان کے بقول ہی ان کا یہ گمان باطل تھا، اسی لئے قرطبی صاحب نے فرمایا کہ" مگر"" وہ نوجوان فورا کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔"
یہاں جو اصل مدعا ہے کہ اس صوفی نوجوان کو قرطبی صاحب نے دل ہی دل میں جو ٹرانزکشن کی تھی اس کا معلوم ہو جانا عليم بذات الصدور ہونا ہے!!! اور اس نوجوان کے عليم بذات الصدور ہونے کے عقیدہ کی تصدیق صاحب تبلیغی نصاب مولانا محمد زکریا صاحب بھی کر رہے ہیں!!!
اور اس صوفی نو جوان کو دوزخ نظر آنے کا قائل ہونا ، اس صوفی نو جوان کو عالم الغیب ماننا ہے۔ اور اس عقیدہ کی تصدیق صاحب تبلیغی نصاب مولانا محمد زکریا صاحب بھی کر رہے ہیں!!!
ان امور کو ہم کرامات نہیں بلکہ اولیاء الشیطان کے کرتوت ضرور مانتے ہیں!!!
ہاں آپ کی تحریر یہ بیان کرتی ہے کہ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ کرامات کے ذریعے کوئی عالم الغیب بھی بن سکتا ہے اور عليم بذات الصدور بھی بن سکتا ہے!!
اور ہم عالم الغیب ہونے میں اور علیم بذات الصدور ہونے میں اللہ کی توحید کے قائل ہیں!!
جبکہ تبلیغی جماعت اور آپ عالم الغیب ہونے میں اور علیم بذات الصدور ہونے میں اللہ کی توحید کے کے منافی صوفیوں کو اللہ کی ان صفات میں شریک سمجھتے ہو!!!!
اس سے اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی کو کشف ہو تو عالم الغیب ماننا اس کو لازمی ہے تو اوپر جریج کے واقعہ سے بھی جریج کا عالم الغیب ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ کیا آپ جریج کو عالم الغیب مانتے ہیں
تبلیغی نصاب کے مذکورہ واقعہ کو جریج کے واقعہ پر قیاس باطل ہے !!!وجہ اوپر بیان کر دی گئی ہے!!!
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
ابن دائود صاحب کیلئے اسپیشل حضرت ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک کرامت ہم ذکرتے ہیں جوان کے مشہور شاگرد ابن قیم نے کتاب الروح میں بیان کیاہے۔ پڑھئے اوربتائیے کہ اس میں کیاکیاشرکیہ عقائد ہیں۔
ابن القیم رح اپنی ( کتاب الروح ص 69 ) پر فرماتے هیں کہ
ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیاده هے جنهوں نے شیخ الاسلام کو بعد از وفات خواب میں دیکها ، اور شیخ الاسلام نے خواب میں اُن کو کوئ دوا ( نسخہ ) بتلایا ، انهوں نے استعمال کیا اور شفا یاب هوگئے ؟؟؟
اور مجهے ایک سے زیاده ایسے لوگوں نے بیان کیا جوشیخ الاسلام کے معتقد بهی نہیں تهے ، کہ انهوں نے شیخ الاسلام کو بعد از وفات خواب میں دیکها ، اور شیخ الاسلام سے فرائض وغیره کے مشکل مسائل کے بارے میں سوال کیا ، شیخ الاسلام نے درست وصحیح جواب دیا ؟؟؟
ابن القیم رح فرماتے هیں کہ یہ ایسا معاملہ هے کہ اس کا انکار وهی آدمی کرے گا ، جو لوگوں میں ارواح کے حالات واحکام سے سب بڑا جاهل هو ۰ ؟؟؟
سبحان الله ،علماء دیوبند کے چند اس طرح کے واقعات پر لعن طعن کرنے والے ،
ابن القیم رح کے بیان کے مطابق تمام لوگوں میں سب سے بڑے جاهل هیں ، ویسے ایسے لوگوں کی جهالت کا تو همیں پہلے بهی علم ویقین تها ، لیکن ابن القیم رح کی اس بیان کے بعد یہ یقین اور بهی پختہ هو گیا ۔
ابن القیم رح کی اصل عبارت ملاحظہ کریں
قال الإمام ابن القيم رحمه الله تعالى في كتابه الروح ص 69 :
( وأما من حصل له الشفاء باستعمال دواء رأى من وصَفَه له في منامه فكثير جدا ، وقد حدثني غير واحد ممن كان غير مائل إلى شيخ الإسلام ابن تيمية أنه رآه بعد موته ، وسأله عن شيء كان يشكل عليه من مسائل الفرائض وغيرها فأجابه بالصواب .
وبالجملة فهذا أمر لا ينكره إلا من هو أجهل الناس بالأرواح وأحكامها وشأنها ، وبالله التوفيق )
ماخوذ
ویسے کون سی کرامت خلاف قرآن وسنت ہے اورکون سی کرامت خلاف قرآن وسنت نہیں ہے اس کا کیاضابطہ اورقاعدہ ہے براہ کرم ہمیں بتاکر ممنوک کریں؟
بچہ کا کلام کرنا خرق عادت ہے!! خلاف قرآن و سنت نہیں!!!
والسلام
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,412
ری ایکشن اسکور
2,730
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ!
ابن دائود صاحب کیلئے اسپیشل حضرت ابن تیمیہ رحمہ اللہ ایک کرامت ہم ذکرتے ہیں جوان کے مشہور شاگرد ابن قیم نے کتاب الروح میں بیان کیاہے۔ پڑھئے اوربتائیے کہ اس میں کیاکیاشرکیہ عقائد ہیں۔
ابن القیم رح اپنی ( کتاب الروح ص 69 ) پر فرماتے هیں کہ
ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیاده هے جنهوں نے شیخ الاسلام کو بعد از وفات خواب میں دیکها ، اور شیخ الاسلام نے خواب میں اُن کو کوئ دوا ( نسخہ ) بتلایا ، انهوں نے استعمال کیا اور شفا یاب هوگئے ؟؟؟
اور مجهے ایک سے زیاده ایسے لوگوں نے بیان کیا جوشیخ الاسلام کے معتقد بهی نہیں تهے ، کہ انهوں نے شیخ الاسلام کو بعد از وفات خواب میں دیکها ، اور شیخ الاسلام سے فرائض وغیره کے مشکل مسائل کے بارے میں سوال کیا ، شیخ الاسلام نے درست وصحیح جواب دیا ؟؟؟
ابن القیم رح فرماتے هیں کہ یہ ایسا معاملہ هے کہ اس کا انکار وهی آدمی کرے گا ، جو لوگوں میں ارواح کے حالات واحکام سے سب بڑا جاهل هو ۰ ؟؟؟
طحاوی دوراں صاحب خواب کو قرآن و سنت کا پابند قرار دینا چاہتے ہیں!! اب یہ انہیں یہ کیسے سمجھایا جائے کہ نیک خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں، اس میں خواب میں نظر آنے والی کا اپنا کوئی تصرف نہیں ہوتا!!!
سبحان الله ،علماء دیوبند کے چند اس طرح کے واقعات پر لعن طعن کرنے والے ،
علماء دیوبند اِس طرح کے وقعات پر لعن طعن کے مستحق نہیں ٹھہرتے بلکہ اُس طرح کے واقعات پر جیسا کہ ایک واقعہ تبلیغی نصاب سے پیش کیا ہے!!
ابن القیم رح کے بیان کے مطابق تمام لوگوں میں سب سے بڑے جاهل هیں ، ویسے ایسے لوگوں کی جهالت کا تو همیں پہلے بهی علم ویقین تها ، لیکن ابن القیم رح کی اس بیان کے بعد یہ یقین اور بهی پختہ هو گیا ۔
ابن القیم رح کی اصل عبارت ملاحظہ کریں
قال الإمام ابن القيم رحمه الله تعالى في كتابه الروح ص 69 :
( وأما من حصل له الشفاء باستعمال دواء رأى من وصَفَه له في منامه فكثير جدا ، وقد حدثني غير واحد ممن كان غير مائل إلى شيخ الإسلام ابن تيمية أنه رآه بعد موته ، وسأله عن شيء كان يشكل عليه من مسائل الفرائض وغيرها فأجابه بالصواب .
وبالجملة فهذا أمر لا ينكره إلا من هو أجهل الناس بالأرواح وأحكامها وشأنها ، وبالله التوفيق )
بلکل جو اس طرح کی کرامات کے ممکن ہونے کا انکار کرے وہ تمام لوگوں میں سب سے بڑے جاہل!!!
اور جو تبلیغی نصاب سے پیش کردہ کفر شرک کو کرامات قرار دے وہ بڑے مشرک !!!
ماخوذ
ویسے کون سی کرامت خلاف قرآن وسنت ہے اورکون سی کرامت خلاف قرآن وسنت نہیں ہے اس کا کیاضابطہ اورقاعدہ ہے براہ کرم ہمیں بتاکر ممنوک کریں؟
جو واقعہ تبلیغی نصاب سے ہم نے پیش کیا وہ قرآن و سنت کے مخالف ہے اور جو کرامت آپ نے پیش کی وہ قرآن و سنت کے مخالف نہیں!! اگر ہے تو بتلائے کس آیت اور کس حدیث کے مخالف ہے!!!
بچہ کا کلام کرنا خرق عادت ہے!! خلاف قرآن و سنت نہیں!!!
والسلام
اگر آپ بچہ کے کلام کرنے کو خلاف قران و سنت سمجھتے ہو تو تو بتلائے کس آیت اور کس حدیث کے مخالف ہے!!!
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
اب جناب من! اس بچہ نے یہ خبر کسی سے خبر پانے کی بنیاد پرنہ ہونے کی کوئی بات ہی نہیں!! اور بچہ اپنے باپ کا نام کسی سے خبر پانے کی بنیاد پر دیتا ہے!!! اور عموما وہ اس کی ماں ہی ہوتی ہے ، جو اسے بچپن میں سکھلاتی ہے کہ فلان تیرا باپ ہے!!! ابا بولو !! ابو بولو!!! یا پاپا بولو!!! جب یہ ماں سکھلاتی ہے !! تب بچہ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا باپ کون ہے!!!
ابن دائود صاحب ذرااپنے اس پیراگراف کی تشریح کردیں ۔
کیاآپ کاکہناہے کہ بچہ بولنے کی عمر کا ہوگیاتھا اوراس نے اپنی ماں سے سن کر باپ کا نام بتادیا۔
یہ تصدیق اس لئے کرانی ضروری ہے کہ تاکہ آپ اپنی بات سے بعد مین پلٹ نہ جائیں۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
(لہذا تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد اکا عقیدہ علماء دیوبند کا عقیدہ ہوتاہے یہ اصول آپ نے کہاں سے اخذ کیاہے اس کی دلیل کیاہے؟ایک صاحب عبدالعللام نے یہی بات کہی لیکن جب دلیل مانگی گئی تو اب بجزخاموشی چارہ نیست )مجھ سے یہ دلیل کب مانگی گئی کہ تبلیغی جماعت اور علمائ دیوبند کا عقیدہ ایک ہے ؟ یہ کھلا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے-
حضرت مظاہری صاحب!ایسی بھی کیاظاہرپرستی !
پوراپیراگراف پڑھیں دلیل آپ سے نہیں مانگی گئی اورنہ روئے سخن آپ کی جانب ہے یہ طالب نور صاحب کے مراسلہ کے جواب میں میرامراسلہ ہے۔
آپ کانام اورآپ کے مراسلہ کا ذکر مقطع مین سخن گسترانہ طورپر آیاہے۔ اپنے ذہن پر زیادہ بوجھ نہ ڈالیں۔ والسلام
 
Top