• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تبلیغی جماعت

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,417
ری ایکشن اسکور
2,730
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
یہ کہہ کر آپ نے اپنی لاعلمی اوردوسرے لفظوں میں جہالت کا مظاہرہ کیاہے؟ تبلیغی جماعت سے وابستہ دیوبندی بھی ہیں اورغیردیوبندی بھی۔ شوافع کی ایک بڑی تعداد اس سے وابستہ ہے کیاشوافع حضرات دیوبندی ہیں؟مالکیہ حضرات بھی دعوت وتبلیغ کے کام سے جڑے ہوئے ہیں کیامالکیہ حضرات دیوبندی ہیں؟کچھ حنبلیوں کوبھی تبلیغی مرکز نظام الدین بستی میں دیکھااوران سے ملنے جلنے کا اتفاق ہوا۔ یہ تب کی بات ہے جب راقم الحروف وہاں ایک سال کیلئے گیاہواتھا؟
کیایہ سبھی کے سبھی جن کا ذکر اوپر ہواہے دیوبندی ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کو دیوبندیوں سے متصل کرنااور ہرتبلیغی جماعت کے فرد کو دیوبندی کہناجہالت اورناواقفیت توہوسکتی ہے لیکن یہ علم اورتحقیق کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا۔
افراد کا ذکر کہاں ہے؟ مراقبہ کی حالت میں لکھنے سے گریز کریں!! اور تبلیغی نصاب سے پیش کردہ اقتباس کا جواب دیں! اور اتنی لیاقت نہیں تو تلمیذ صاحب کو گفتگو کرنے دیں!!
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
ابن داؤد صاحب نے جو اقتباس پیش کیا اس کا جواب ان شاء اللہ جلد ۔ میرے انٹرنیٹ میں کچھ مسئلہ ہو گيا ہے ۔ اس لئیے کچھ تاخیر
باقی میرے تمام افراد سے گذارش ہے کہ بات تبلیغی جماعت تک رکھیں ۔ دیگر موضوعات کے لئیے الگ تھریڈ ہیں ۔ یہاں ڈسکشن کو پیچیدہ نہ بنائیں
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
ابن داؤد صاحب نے تبلیغی نصاب سے ایک اقتباس پیش کیا تھا

شیخ ابو یزید قرطبی فرماتے ہیں میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لا اله الا الله پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے۔ میں نے یہ خبر سنکر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کے لئے بھی پڑھا اور کئی نصاب خود اپنے لئے پڑھ کر ذخیرہ آخرت بنایا۔ ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق مشہور تھا کہ یہ صاحب کشف ہے، جنت دوزخ کا بھی اس کو کشف ہوتا ہے۔ مجھے اس کی صحت میں کچھ تردد تھا۔ ایک مرتبہ وہ نوجوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا کہ دفعۃ اس نے ایک چیخ ماری اور سانس پھولنے لگا اور کہا کہ میری ماں دوزخ میں جل رہی ہے اس کی حالت مجھے نظر آئی۔ قرطبی کہتے ہیں کہ میں اس کی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں جس سے اس کی سچائی کا بھی مجھے تجربہ ہو جائے گا۔ چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا ان نصابوں میں سے جو اپنے لئے پڑھے تھے اس کی ماں کو بخش دیا۔ میں نے اپنے دل میں چپکے ہی سے بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجوان فورا کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔ قرطبی کہتے ہیں کہ مجھے اس قصہ سے دو فائدے ہوئے۔ ایک تو اس برکت کا جو ستر ہزار کی مقدار پر میں نے سنی تھی اس کا تجربہ ہوا دوسرا اس نوجوان کی سچائی کا یقین ہوگیا۔
یہ ایک وقعہ ہے اس قسم کے نامعلوم کتنے وقعات اس امت کے افراد میں پائے جاتے ہیں ۔۔۔۔
ابن داؤد صاحب اگر آپ اس اقتباس کو نقل کرنے کے بعد اگر آپ بتادیتے اپ کواعتراض کہاں کہاں ہے تو جواب دینے میں آسانی رہتی ۔
بہرحال میں آپ کے متوقع اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ تحریر کرتا ہوں
اس تحریر ہے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ تبلیغی جماعت والوں کا عقیدہ ہے اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں
اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی
ورنہ ایسی تحریر والا واقعہ ان کی کتب میں نہ پایا جاتا ۔
باقی اس قصہ میں ایک کرامت کا ذکر ہے ۔ اسی اقتباس پر بات آکے بڑہانے سے پہلے آپ صرف اتنا بتادیں کہ آپ کے نذدیک کرامت کی کیا حقیقت ہے ۔
مجھے امید ہے جواب آئے گا کہ پہلے آپ بتائیں ۔
آپ مجھ سے سوال ضرور کیجیئے گا لیکن پہلے میرے سوال کا جواب دینے کے بعد
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,417
ری ایکشن اسکور
2,730
پوائنٹ
556
ابن داؤد صاحب نے تبلیغی نصاب سے ایک اقتباس پیش کیا تھا
ابن داؤد صاحب اگر آپ اس اقتباس کو نقل کرنے کے بعد اگر آپ بتادیتے اپ کواعتراض کہاں کہاں ہے تو جواب دینے میں آسانی رہتی ۔
تلمیذ صاحب! آپ کو اس اقتباس میں شرک نظر نہیں آرہا!! کیا عجیب بات ہے!!! چلیں آپ کی خواہش کے مطابق ہم آپ کو اس اقتباس سے چند بدعات و کفرو شرک دکھلادیتے ہیں!!
بہرحال میں آپ کے متوقع اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ تحریر کرتا ہوں
اس تحریر ہے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ تبلیغی جماعت والوں کا عقیدہ ہے اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں
اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی
ورنہ ایسی تحریر والا واقعہ ان کی کتب میں نہ پایا جاتا ۔
آپ نے یہ بھی بڑی ہی عجیب بات کی ہے!! آپ نے جو جملہ نقل کیا ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرطبی صاحب نے خاموشی سے یہ ٹرانزکشن کی تھی!! اور محفل میں موجود لوگوں کو بتلایا نہ تھا۔ اور اسی کے بعد والا جملہ آپ کو نظر نہ آیا!!!
میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجوان فورا کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔
آپ کے اخذ کردہ عقیدہ کی نفی کر رہا ہے کہ نہ بتلانے کے باوجود، وہ نوجوان قرطبی صاحب کے دل ہی دل میں کی ہوئی ٹرانزکشن سے آگاہ ہو گیا!! اور اس غیب کا علم بھی اسے ہو گیا!! یہاں سے تبلیغی جماعت کا یہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے کہ تبلغی نصاب کے مصنف ، اس کتاب کی تبلیغ کرنے والے اس عقیدہ کی دعوت دیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ ایسے صوفی بھی عالم الغیب اور عليم بذات الصدور ہیں!!
اور تملیذ صاحب! یوں کہئے کہ:
اس تحریر ہے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ تبلیغی جماعت والوں کا عقیدہ ہے اللہ سوا کچھ اور بھی عالم الغیب ہیں ورنہ ایسی تحریر والا واقعہ ان کی کتب میں نہ پایا جاتا ۔
او ر بات صرف کتب میں واقعہ کے وجود کی نہیں ، اس کی توثیق و قبولیت سے کی ہے!!!
باقی اس قصہ میں ایک کرامت کا ذکر ہے ۔ اسی اقتباس پر بات آکے بڑہانے سے پہلے آپ صرف اتنا بتادیں کہ آپ کے نذدیک کرامت کی کیا حقیقت ہے ۔
مجھے امید ہے جواب آئے گا کہ پہلے آپ بتائیں ۔
آپ مجھ سے سوال ضرور کیجیئے گا لیکن پہلے میرے سوال کا جواب دینے کے بعد
تلمیذ صاحب! یہ آپ کا معقول سوال ہے اور موضوع سے متعلقہ ہے، ہم آپ کے موضوع سے متعلقہ ہر معقول سوال کا جواب دیں گے: سو ہمارا جواب اچھی طرح ذہن نشین کر لیں!!
کرامات خلاف قرآن و سنت نہیں ہوتیں! جو خلاف قرآن و سنت ہو وہ بدعت، کفر و شرک ہے!!!
اب ہم آپ کو اس اقتباس سے چند بدعات و کفرو شرک دکھلادیتے ہیں!!
شیخ ابو یزید قرطبی فرماتے ہیں میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لا اله الا الله پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے۔ میں نے یہ خبر سنکر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کے لئے بھی پڑھا اور کئی نصاب خود اپنے لئے پڑھ کر ذخیرہ آخرت بنایا۔
سنی سنائی بات پر عمل کیا !! لیکن یہ بحث بعد میں!!!
ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق مشہور تھا کہ یہ صاحب کشف ہے، جنت دوزخ کا بھی اس کو کشف ہوتا ہے۔ مجھے اس کی صحت میں کچھ تردد تھا۔
تردد چہ معنی داورد!! سیدھا سیدھا اسے جھوٹ و کفر شرک کہتے کہ یہ سمجھنا کہ کسی امتی کو جنت دوزخ کا کشف ہوتا ہے کفریہ شرکیہ عقیدہ ہے!!!
ایک مرتبہ وہ نوجوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا کہ دفعۃ اس نے ایک چیخ ماری اور سانس پھولنے لگا اور کہا کہ میری ماں دوزخ میں جل رہی ہے اس کی حالت مجھے نظر آئی۔
کسی امتی کا دوزخ نظر آنے کا دعوی کفریہ شرکیہ دعویٰ
قرطبی کہتے ہیں کہ میں اس کی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں جس سے اس کی سچائی کا بھی مجھے تجربہ ہو جائے گا۔
قرطبی صاحب بھی ایک بدعت کے کی مدد سے یہ تجربہ کرنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ نوجوان، شیطان کا اتنا بڑا چیلہ ہے کہ جنت دوزخ کے دیکھنے کا دعوی کر رہا ہے!!
چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا ان نصابوں میں سے جو اپنے لئے پڑھے تھے اس کی ماں کو بخش دیا۔
یہ بدعت ہے ، اس پر بعد میں گفتگو کرتے ہیں!!
میں نے اپنے دل میں چپکے ہی سے بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجوان فورا کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔
یہ اس نوجوان ک عالم الغیب اور عليم بذات الصدور قرار دے رہے ہیں!! اور قرطبی صاحب! اس کی تصدیق کر رہے ہیں!!
قرطبی کہتے ہیں کہ مجھے اس قصہ سے دو فائدے ہوئے۔ ایک تو اس برکت کا جو ستر ہزار کی مقدار پر میں نے سنی تھی اس کا تجربہ ہوا دوسرا اس نوجوان کی سچائی کا یقین ہوگیا۔
قرطبی صاحب اس سنی سنائی بات کو اپنے اس بدعتی ، کفریہ و شرکیہ تجربہ کی بنیاد پر صحیح قرار دے رہے ہیں!! لیکن یہ بات بعد میں!!
اور اسی بدعتی ، کفریہ شرکیہ تجربہ کی بنیاد پر قرطبی صاحب اس نوجون کے عالم الغیب اور عليم بذات الصدور ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں!!
یہ ایک وقعہ ہے اس قسم کے نامعلوم کتنے وقعات اس امت کے افراد میں پائے جاتے ہیں ۔۔۔۔
یہ قول مولانا محمد زکریا صاحب کا ہے، اور صاحب تبلیغی نصاب اس کفریہ شرکیہ عقیدہ کو قبول کرتے ہوئے اس کفریہ شرکیہ عقیدہ کی دعوت دے رہے ہیں!!
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,773
ری ایکشن اسکور
8,477
پوائنٹ
964
جمشید بھائی ! میری مشارکت یہ ہے :
یا تو استدلال غلط ثابت کریں ورنہ پھر لازم کیوں نہیں آتا ؟ اور یاپھر محمود الحسن رحمہ اللہ کا قول ادھار لے لیں ۔ کہ الحق و الإنصاف ۔۔۔۔ سمجھ گئے ہوں گے ۔

کبھی قادیانی یا خارجی بن کر قرآنی آیات لے کر آجائیں ہم آپ کی غلطی واضح نہ کریں تو پھر کہیے گا ۔

اس سے بڑھ کر قرآنی آیات کو توڑنا مڑورنا کیا ہے کہ جہاں اتباع کاحکم ہے وہاں سے تقلید ثابت کرنے کی کوشش کی جائے ۔ بئس ما تفعلون ۔

سبحان اللہ ! اب یہ کفیف و عاجز لوگ بھی لگے شرعی نصوص پیش کرنے جو تقلید کرنے کی وجہ ہی اپنی کم علمی بتاتے ہیں ۔
قرآنی آیت پیش کرکے جو فتوی لگایا ہے یہ آپ کی اتباع ہے یا تقلید ؟
ہم نے پانچ نکات آپ کے سامنے رکھے تھے ۔ جن میں سے صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ کیا معرکہ مارا ہے ۔ دوبارہ پھر پیش کیے دیتا ہوں ان شاء اللہ فائدہ ہوگا ۔
١۔ قرآن سے بڑھ کر مصدقہ حوالہ آپ کو اور کون سا چاہیے ۔ اگر فقہ حنفی ہے ( معاذ اللہ ) تو یہ کام آپ کے ذمہ ہے ہم سے کیوں مطالبہ کرتے ہیں ۔
٢۔اتباع اتباع ہے جب تک کہ وہ اتباع ہے یہ ایک مختصر عبارت ہے جس کی تفصیل اس کےموقع و محل میں بیان کردی گئی ہے ۔ آپ اختصار کو لیتے ہیں لیکن تفصیل سے اعراض کرتے ہیں ۔ بلکہ اصل مسئلہ اس عبارت کے مختصر ہونے کا نہیں ہے بلکہ آپ کے کرب و الم کی وجہ اس سے تقلید کا ناطقہ بند ہوتا ہے ۔ اور آپ کے اس فلسفہ کی بیخ کنی ہوتی ہے کہ آپ کی تقلید بھی اتباع ہی ہے ۔
٣۔ آپ اتباع کی تعریف کا بہانہ کرکے قرآن وسنت کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ کو اتباع کی تعریف ہم سے سمجھ نہیں آتی تو اپنے امام سے سمجھ لیں وہ بھی تو براہ راست قرآن وسنت کی اتباع کرتے تھے ۔
٤۔ جدلا تسلیم کرلیں کہ ہم نے اتباع کے حوالے جو باتیں کہیں وہ غلط ہیں تو کیاآپ قرآن کی اس آیت کے مخاطب نہیں ہیں کہ اتبعوا ما أنزل إلیکم من ربکم و لا تتبعوا من دونہ أولیاء ۔ آپ اس آیت میں جو لفظ اتباع آیا ہے اس کا کیا مفہوم لیتے ہیں ؟ کیا یہاں اتبعوا سے تقلید ثابت ہوتی ہے ؟ تو پھر ولا تتبعوا سے کس چیز کی نفی ہے ؟
٥۔ آپ نے مایوسی کی بات کی تو ہم سمجھتے ہیں کہ یقینا آپ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اتباع کی تعریف معلوم کرنے سےمایوس ہو گئے اسی وجہ سےآپ ہم سے اتباع کی تعریف پوچھ رہے ہیں ۔ ہم آپ سے گزارش کرتےہیں کہ یا تو ہماری بات مان کر قرآن وسنت کی پیروی کر لو ورنہ پھر تقلید کا پھندا گلے میں ڈال کر اسی طرح مایوس ہوتے رہو ۔
حسرت و یأس اس شخص کا مقدر ہے جس نے تقلید کو اپنے لیے اختیار کیا ۔ یہ تو اب آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ جن مسائل میں قول امام تک رسائی نہیں ہوتی اس میں آپ کو کتنی مایوسی ہوتی ہوگی ۔
اگر اس مایوسی سے بچنا چاہتے ہیں تو قرآن وسنت کی پیروی کرو جس میں قیامت تک آنے والے ہر ہر مسئلے کاحل موجود ہے ۔
آپ نے جوابا یہ لکھا ہے :
بحان اللہ ! اب یہ کفیف و عاجز لوگ بھی لگے شرعی نصوص پیش کرنے جو تقلید کرنے کی وجہ ہی اپنی کم علمی بتاتے ہیں ۔
قرآنی آیت پیش کرکے جو فتوی لگایا ہے یہ آپ کی اتباع ہے یا تقلید ؟
اگرکچھ لوگوں نے خود کو قرآن وسنت کا ٹھیکیدار سمجھ رکھاہے تودوسرااس میں کیاکرسکتاہے؟کچھ لوگوں پر ایسامرحلہ آتاہے شاید آپ نے بھی دیکھاہوگاکہ روڈ پر پھٹے حال گھوم رہے ہیں اوردماغ میں کروڑوں کے منصوبے ہیں۔( ایسے لوگوں کو احیتاط سے دیگر لوگ کہیں اورچھوڑآتے ہیں؟)ان کے خود کو کروڑوں بلکہ پوری دنیا کی دولت پر اپنی ملکیت سمجھنے سے کچھ لازم تونہیں آتا لہذا آپ چاہے خود کو قرآن وسنت کا جتنابڑابھی دعویدار تصورفرمالیں اس سے لازم کچھ نہیں ہوگا۔ہاں بس
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھاہے

لہذا یہی سوچ کر اپنادل خوش کرتے رہاکریں۔ہمیں اس میں کوئی پریشانی اورتکلیف نہیں ہے۔بلکہ ہم تودعاگوہیں کہ اگر یہی سوچنے سے آپ کو خوشی ملتی ہے تومزید سوچاکریں۔ ٢٤گھنٹے سوچاکریں ۔ ہروقت سوچاکریں۔

اگراتباع پر بات ہی کرنی ہے توواپس اتباع والے تھریڈ میں چلئے۔
اب اگر میں کہوں کہ سوال گندم اور جواب چنا تو آپ کو ناراض ہونے کی بجائے ان باتوں کی معقول وضاحت کرنی چاہیے ۔
باقی آپ نے اتباع والے موضوع میں واپس لوٹنے کی دعوت دی ہے ۔ تو اس حوالے سے گزارش ہےکہ میں الحمد للہ اپنی بات مکمل وضاحت کے ساتھ پیش کر چکا ہوں ۔ اور میری اتباع کے حوالے سے آخری مشارکت ویسے ہی جوں کی توں موجود ہے اس کے جواب میں آپ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔ حتی کہ یہ فتوی بھی نہیں لگایا کہ یہ طرز ’’ غیر سنجیدہ ‘‘ ’’ غیر مناسب ‘‘ وغیرہ وغیرہ جیساکہ آپ کی عادت ہے ۔
بلکہ آپ نے شیخ رفیق طاہر صاحب سے گفتگو شروع کر لی ہے ۔ تواب میں شیخین کی گفتگو میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا ۔
چونکہ بات چل نکلی تھی اس وجہ سے مجبورا اس جگہ لکھ دیا ۔ اب اس مشارکت کے بعد ان شاء اللہ یہاں پرہیز کرنے کی کوشش کروں گا ۔ جمشید بھائی سے گزارش ہےکہ اگر اس حوالے سے کچھ ارشاد کرنا چاہیں تو یہاں تشریف لے آئیں ۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
خضرحیات کو شاید یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ ان کے جس آخری پوست کا جواب نہیں دیاگیاہے وہ کوئی بہت وزنی شے ہے اوراس میں میرے سوالات کے جوابات موجود ہیں لیکن افسوس کہ ایسانہیں ہے۔
اس پوسٹ پر کوئی ردعمل اس لئے ظاہر نہیں کیاتھاکہ موصوف نے جب خود کو اس بحث سے الگ کرلیاتوان کی مراسلات پر خواہ مخواہ تبصرہ کرکے اپناوقت کیوں ضائع کروں۔
لیکن ایسالگتاہے کہ موصوف خوش فہمی کے شکار ہیں توانشاء اللہ اگلی صبح تک آپ کی یہ خوش فہمی دور کردی جائے گی۔والسلام
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
سب سے پہلے سعودی علماء کا فتوی پڑھ لیں
س: هذا السائل يقول: هل صحيح أن الأولياء تحدث لهم كرامات خارقة للعادة، كالمشي على الماء، والمكاشفات كالنظر إلى اللوح، وظهور الملائكة وغير ذلك؟
ج : نعم الأولياء لهم كرامات خرقاً للعادة، إذا كانوا مستقيمين على طاعة الله ورسوله، قد تقع لهم كرامات عند حاجتهم، أو عند
إقامة الحجة على غيرهم، قد يخرق الله لهم العادة بكرامة، ومن ذلك ما وقع لعباد بن بشر، وأسيد بن حضير، كانا زارا النبي في ليلة مظلمة، فلما خرجا من عنده أضاءت لهما أسواطهما كالسراج في الطريق حتى وصلا إلى أهلهما، كرامة من الله لهما، ومن هذا قصة الطفيل الدوسي رئيس دوس، لما أسلم وطلب من النبي صلى الله عليه وسلم أن يجعل الله له آية حتى يصدقه قومه، فصار له نور في وجهه مثل السراج لما أتى أهله، فقال يا ربي في غير وجهي فجعلها الله في سوطه، إذا رفعه استنار كالسراج، فأسلم قومه على يديه، وهداهم الله بأسبابه، وهناك وقائع أخرى لأولياء الله، عند الشدائد مثل ما وقع لجريج، لما ظلمته البغي، قالت: إنه زنى بها وأنها حملت منه، وهي كاذبة ، فجاءه أهل بلده، وهدموا عليه صومعته، فقال: ما بالكم؟ قالوا: زنيت بهذه، فقال: سبحان الله ما زنيت بها، هاتوا الغلام؟ فجاءوا بالغلام، ووضع إصبعه على الغلام، وهو لتوه مولود، فقال: من أبوك يا هذا؟ فقال: أبي فلان الراعي، الذي زنى بالمرأة، فلما أنطقه الله وهو صغير، قالوا: نعيد لك صومعتك من الذهب؟ فقال: لا، ردوها طيناً كحالها الأولى، المقصود براءتي مما رميتموني به، الحمد لله ؛ والقصص كثيرة في هذا.


انہوں نے ، والمكاشفات كالنظر إلى اللوح کو شرک نہیں کہا ۔
اسی فتوی ایک قصہ جریج کا ہے ۔ اگر آپ کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو اس کا مطلب ہے جریج عالم الغیب تھے کیوں کہ انہوں نے بچہ کو بلایا اور اس سے پوچھا
من أبوك يا هذا
جریج کو کیسے معلوم ہوا کہ بچہ کلام کرے گا اور صحیح بات کرے گا ۔ آپ کی کسوٹی کے مطابق تو اس قصہ سے جریج کا عالم الغیب ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اور اس بچہ کو کیسے معلوم ہوا کہ اس کا باپ کون ہے ۔ اس سے تو وہ بچہ بھی عالم الغیب ثابت ہوا ۔
یہ واقعہ صحیح حدیث میں ہے
آپ کی کسوٹی کے مطابق یہ تو شرکیہ کرامت ہے تو کیا حدیث شرکیہ کرامت کا بتا رہی ہے اور بھر تو اس حدیث کی کتاب کا پڑھنا پڑھانا شرکیہ کام ہوا ۔ (معاذ اللہ )
میں نے تو جو تبلیغی جماعت کے متعلق کہا تھا کہ ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں تو اس کے جواب میں آپ نے کہا
میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجوان فورا کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔
اس اقتباس کا پہلا حصہ بتاتا ہے کے تبلیغی جماعت کا عقیدہ ہے اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں لیکن اس اقتباس کا دوسرا حصہ کرامت ہے ۔ اس سے اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی کو کشف ہو تو عالم الغیب ماننا اس کو لازمی ہے تو اوپر جریج کے واقعہ سے بھی جریج کا عالم الغیب ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ کیا آپ جریج کو عالم الغیب مانتے ہیں
باقی بدعت والی بات کے متعلق آپ نے خود کہا ہے کہ
یہ بدعت ہے ، اس پر بعد میں گفتگو کرتے ہیں!!
ٹھیک ہے اس پر بعد میں بات کرلیں گے
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
میں نے کافی دن کے بعد طالب نور صاحب کی یہ پوسٹ دیکھی ہے۔ میں اب تک اسی انتظار میں تھا کہ وہ میرے پوسٹ کا کب جواب دیتے ہیں اوران کا یہ مراسلہ دیگر مراسلوں کی تیز آمد کیوجہ سے اوجھل ہوگیا۔ بہرحال آج ان کا مراسلہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اب اس پر اپناردعمل دے رہاہوں۔

نیز عرض ہے کہ آپ نے جس بات کو ٹو دی پوائینٹ فرمایا تھا وہ یہ تھی کہ ہم مان لیں کہ تبلیغی جماعت میں عملی طور پر شرک نہیں اور جوابی طور پر عرض کر دی گئی تھی کہ اصولی طور پر پہلے آپ تسلیم فرما لیں کہ تبلیغی جماعت کے عقیدے میں شرک ہے۔ اب آپ اس ٹو دی پوائینٹ بات ماننے میں بات کر لیتے ہیں کہاں سے گھسا رہے ہیں؟ اور اگر بات یہی تھی تو وہ پہلی بات ٹو دی پوائینٹ کس طرح تھی؟
مدعا عنقاہے اپنے عالم تقریر کا​

تلمیذ صاحب کا موقف تھا کہ پہلے یہ بات کرلی جائے کہ تبلیغی جماعت عملی اعتبار کس کفر وشرک میں مبتلاہے۔آپ کااصرار تھا کہ پہلے عقیدہ پر بات کی جائے ۔تلمیذ صاحب کاکہناتھاکہ پہلے یہ بات کنفرم ہوجائے کہ تبلیغی جماعت عملی اعتبار سے کس کفروشرک یابدعت میں مبتلاہے ؟اس کے بعد عقیدے پر بھی بات ہوجائے گی۔اسی کو میں نے ٹودی پوائنٹ بات قراردیاتھا۔اس پر آپ نے ماقبل میں جوکچھ فرمایاہے وہ آپ یاسمجھیں یاوہ سمجھے کے قبیل سے ہیں۔

رہی بات عقیدے پر بات شروع کرنے کی تو حاضر صد بار حاضر۔ پہلے صرف یہ وضاحت فرما دیں کہ تبلیغی جماعت کے عقائد علمائے دیوبند کے متفقہ عقائد کے مطابق ہیں یا متصادم۔ ہم اس سلسلے میں تبلیغی جماعت کیبانی مولوی الیاس صاحب کا اعتراف بھی پیش کر چکے ہیں۔ اس کی وضاحت فرما دیں تاکہ آپ علمائے دیوبند کے عقائد کو تبلیغی جماعت کے عقائد سے علیحدہ بحث بنانے پر جس طرح مصر ہیں اس کو آپ کی کج بحثی سمجھنے کی بجائے ہم دلائل کی روشنی میں سمجھ سکیں۔ والسلام
پہلے یہ بتادیں کہ آپ کو کس کے عقیدے پر گفتگو کرنی ہے۔تبلیغی جماعت یا علماء دیوبند۔
1 :تبلیغی جماعت عقیدے کامشن لوگوں کو اعمال سے جوڑناہے وہ اسی حد تک محدودہتی ہے۔ عقیدہ کے تعلق سے وہ بات نہیں کرتی۔علماء سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیتی ہے؟
2: تبلیغی جماعت میں ہرفرقہ اورجماعت کے لوگ شامل ہیں۔ حنفی شافعی ،مالکی حنبلی سبھی لوگ اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہذا تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد اکا عقیدہ علماء دیوبند کا عقیدہ ہوتاہے یہ اصول آپ نے کہاں سے اخذ کیاہے اس کی دلیل کیاہے؟ایک صاحب عبدالعللام نے یہی بات کہی لیکن جب دلیل مانگی گئی تو اب بجزخاموشی چارہ نیست
3: آپ جس طرح سے علماء دیوبند کے عقائد کوتبلیغی جماعت کے عقائد سے جوڑنے پر مصر ہیں ہم اسے آپ کی کج بحثی سمجھنے پر مجبور ہیں۔ تھریڈ قائم کرتے ہیں تبلیغی جماعت۔ بات ہورہی ہے تبلیغی جماعت کی اورآپ بیچ بحث میں گھیسٹ رہے ہیں عقائد علماء دیوبند کو۔ تنہاتبلیغی جماعت پر بحث کرنے سے آپ کیوں کتراتے ہیں!جب آپ عنوان قائم کرتے ہیں تبلیغی جماعت کے شرکیہ عقائد تواس وقت اردو کایہ بنیادی قاعدہ یاد نہیں رہتا کہ کیاکہہ رہے ہیں ۔یہ عنوان کیوں نہیں قائم کرتے تبلیغی جماعت کے علماء دیوبند کے واسطے سے شرکیہ عقائد۔ یاآپ کی پوری جماعت ہی اردو زبان میں مافی الضمیر کے تعبیر سے قاصر ہے؟
4: بنیادی بحث یہ ہے کہ یاتو تبلیغی جماعت کے عقائد پر بات کریں یاپھر علماء دیوبند کے عقائد پر بات کریں۔دونوں کوایک دوسرے سے مخلوط کرنا بحث میں کود کر ادھر اورکود کر ادھر بھاگنا نہایت قابل کراہت عمل ہے۔ یاپھر اس کااعتراف کرلیجئے اگراخلاقی جرات سے متصف ہیں تو کہ ہم تبلیغی جماعت کے عقائد پر بات نہیں کریں گے صرف علمائے دیوبند کے عقائد پر بات کریں گے۔لیکن یہ دوہرارویہ کہ تھریڈ قائم کریں تبلیغی جماعت اوربات شروع کردیں علماء دیوبند پر اس کی تائید کوئی بھی شخص جسے خدا نے عقل وحواس کی نعمت سے بہرہ ورکیاہے وہ اس کی تائید نہیں کرے گا۔
خلاصہ کلام

تبلیغی جماعت کے عقائد پر بات کریں گے یاپھر علمائے دیوبند کے عقائد پر۔اگرعلمائے دیوبند کے عقائد پر بات کرنی ہے توآئندہ تبلیغی جماعت پر کسی قسم کا کلام نہ کریں اوراگرتبلیغی جماعت پر بات کرنی ہے توپھر علماء دیوبند کو اس بحث سے خارج کریں ؟
 

مفتی عبداللہ

مشہور رکن
شمولیت
جولائی 21، 2011
پیغامات
531
ری ایکشن اسکور
2,183
پوائنٹ
171
یہ زبردست لڑایی کب ختم ہوگی ؟کتنا وقت لگیگا ؟ نتیجہ کیا ہوگا؟فایدہ کس کو ہوگا؟ دونوں جماعتوں کی بڑے ایک دوسرے کی دعوتیں کھارہے ہیں اور یہ بیچارے لڑ رہے ہیں کیوں ؟
 

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,957
ری ایکشن اسکور
5,787
پوائنٹ
354
یہ زبردست لڑایی کب ختم ہوگی ؟کتنا وقت لگیگا ؟ نتیجہ کیا ہوگا؟فایدہ کس کو ہوگا؟ دونوں جماعتوں کی بڑے ایک دوسرے کی دعوتیں کھارہے ہیں اور یہ بیچارے لڑ رہے ہیں کیوں ؟
جزاک اللہ خیرا مفتی صاحب
دیر آئے درست آئے
 
Top