• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تبلیغی جماعت

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,415
ری ایکشن اسکور
2,730
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
تقلید کے باوجود بھی اتباع کا دعویٰ
ہمارے طحاوی دوراں! مراقبہ کی حالت میں لکھنے سے باز نہ آئیں گے!! جب یہ حالت مراقبہ سے باہر نکلیں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ یہاں اس فقرہ میں ہمارے طحاوہ دوراں تقلید کو اتباع کے منافی قرار دے چکے ہیں!!
ویسے تبلیغی نصاب سے پیش کردہ اقتباس پر ہمارے طحاوی دوراں نے کیسی چپکی سادھی ہے!!
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,771
ری ایکشن اسکور
8,482
پوائنٹ
964
حقیقت یہ ہے کہ اصل خانہ ساز تعریف تو اتباع کی ہے ۔کوئی کہتاہے کہ اتباع اتباع ہے جب تک کہ وہ اتباع ہے اورکوئی کہتاہے کہ اتبعواماانزل الیکم اتباع ہے۔اگراتباع کی کوئی مصدقہ اورباحوالہ تعریف ہے توپیش کریں نہیں ہے تو (جیساکہ ظاہر ہے)توپھرخواہ مخواہ تقلید پر بحث شروع کرکے بات کو گھمانے کی کوشش نہ کریں۔ میں آپ کی مایوسی سمجھ سکتاہوں لیکن اس کا حل خودآپ کو ہی ڈھونڈناہے۔
١۔ قرآن سے بڑھ کر مصدقہ حوالہ آپ کو اور کون سا چاہیے ۔ اگر فقہ حنفی ہے ( معاذ اللہ ) تو یہ کام آپ کے ذمہ ہے ہم سے کیوں مطالبہ کرتے ہیں ۔
٢۔اتباع اتباع ہے جب تک کہ وہ اتباع ہے یہ ایک مختصر عبارت ہے جس کی تفصیل اس کےموقع و محل میں بیان کردی گئی ہے ۔ آپ اختصار کو لیتے ہیں لیکن تفصیل سے اعراض کرتے ہیں ۔ بلکہ اصل مسئلہ اس عبارت کے مختصر ہونے کا نہیں ہے بلکہ آپ کے کرب و الم کی وجہ اس سے تقلید کا ناطقہ بند ہوتا ہے ۔ اور آپ کے اس فلسفہ کی بیخ کنی ہوتی ہے کہ آپ کی تقلید بھی اتباع ہی ہے ۔
٣۔ آپ اتباع کی تعریف کا بہانہ کرکے قرآن وسنت کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ کو اتباع کی تعریف ہم سے سمجھ نہیں آتی تو اپنے امام سے سمجھ لیں وہ بھی تو براہ راست قرآن وسنت کی اتباع کرتے تھے ۔
٤۔ جدلا تسلیم کرلیں کہ ہم نے اتباع کے حوالے جو باتیں کہیں وہ غلط ہیں تو کیاآپ قرآن کی اس آیت کے مخاطب نہیں ہیں کہ اتبعوا ما أنزل إلیکم من ربکم و لا تتبعوا من دونہ أولیاء ۔ آپ اس آیت میں جو لفظ اتباع آیا ہے اس کا کیا مفہوم لیتے ہیں ؟ کیا یہاں اتبعوا سے تقلید ثابت ہوتی ہے ؟ تو پھر ولا تتبعوا سے کس چیز کی نفی ہے ؟
٥۔ آپ نے مایوسی کی بات کی تو ہم سمجھتے ہیں کہ یقینا آپ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اتباع کی تعریف معلوم کرنے سےمایوس ہو گئے اسی وجہ سےآپ ہم سے اتباع کی تعریف پوچھ رہے ہیں ۔ ہم آپ سے گزارش کرتےہیں کہ یا تو ہماری بات مان کر قرآن وسنت کی پیروی کر لو ورنہ پھر تقلید کا پھندا گلے میں ڈال کر اسی طرح مایوس ہوتے رہو ۔
حسرت و یأس اس شخص کا مقدر ہے جس نے تقلید کو اپنے لیے اختیار کیا ۔ یہ تو اب آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ جن مسائل میں قول امام تک رسائی نہیں ہوتی اس میں آپ کو کتنی مایوسی ہوتی ہوگی ۔
اگر اس مایوسی سے بچنا چاہتے ہیں تو قرآن وسنت کی پیروی کرو جس میں قیامت تک آنے والے ہر ہر مسئلے کاحل موجود ہے ۔


آپ حضرات کی طرف سے ان باتوں کاجو جواب آنے کی امید ہے اس حوالے سے پہلے عرض کردیتا ہوں کہ آپ ان سوالات کا جوابات دینے میں یقینا پریشانی اور مایوسی کا شکار ہوں گے لہذا ان کاجواب اگر نہیں دے سکتے تو نہ دیں بس ان کو ایک دفعہ غو رسے پڑھ لیں ممکن ہے کوئی اصلاح کی سبیل نکل آئے ۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
١۔ قرآن سے بڑھ کر مصدقہ حوالہ آپ کو اور کون سا چاہیے ۔ اگر فقہ حنفی ہے ( معاذ اللہ ) تو یہ کام آپ کے ذمہ ہے ہم سے کیوں مطالبہ کرتے ہیں ۔
٢۔اتباع اتباع ہے جب تک کہ وہ اتباع ہے یہ ایک مختصر عبارت ہے جس کی تفصیل اس کےموقع و محل میں بیان کردی گئی ہے ۔ آپ اختصار کو لیتے ہیں لیکن تفصیل سے اعراض کرتے ہیں ۔ بلکہ اصل مسئلہ اس عبارت کے مختصر ہونے کا نہیں ہے بلکہ آپ کے کرب و الم کی وجہ اس سے تقلید کا ناطقہ بند ہوتا ہے ۔ اور آپ کے اس فلسفہ کی بیخ کنی ہوتی ہے کہ آپ کی تقلید بھی اتباع ہی ہے ۔
٣۔ آپ اتباع کی تعریف کا بہانہ کرکے قرآن وسنت کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ کو اتباع کی تعریف ہم سے سمجھ نہیں آتی تو اپنے امام سے سمجھ لیں وہ بھی تو براہ راست قرآن وسنت کی اتباع کرتے تھے ۔
٥۔ جدلا تسلیم کرلیں کہ ہم نے اتباع کے حوالے جو باتیں کہیں وہ غلط ہیں تو کیاآپ قرآن کی اس آیت کے مخاطب نہیں ہیں کہ اتبعوا ما أنزل إلیکم من ربکم و لا تتبعوا من دونہ أولیاء ۔ آپ اس آیت میں جو لفظ اتباع آیا ہے اس کا کیا مفہوم لیتے ہیں ؟ کیا یہاں اتبعوا سے تقلید ثابت ہوتی ہے ؟ تو پھر ولا تتبعوا سے کس چیز کی نفی ہے ؟
٦۔ آپ نے مایوسی کی بات کی تو ہم سمجھتے ہیں کہ یقینا آپ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اتباع کی تعریف معلوم کرنے سےمایوس ہو گئے اسی وجہ سےآپ ہم سے اتباع کی تعریف پوچھ رہے ہیں ۔ ہم آپ سے گزارش کرتےہیں کہ یا تو ہماری بات مان کر قرآن وسنت کی پیروی کر لو ورنہ پھر تقلید کا پھندا گلے میں ڈال کر اسی طرح مایوس ہوتے رہو ۔
حسرت و یأس اس شخص کا مقدر ہے جس نے تقلید کو اپنے لیے اختیار کیا ۔ یہ تو اب آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ جن مسائل میں قول امام تک رسائی نہیں ہوتی اس میں آپ کو کتنی مایوسی ہوتی ہوگی ۔
اگر اس مایوسی سے بچنا چاہتے ہیں تو قرآن وسنت کی پیروی کرو جس میں قیامت تک آنے والے ہر ہر مسئلے کاحل موجود ہے ۔

آپ حضرات کی طرف سے ان باتوں کاجو جواب آنے کی امید ہے اس حوالے سے پہلے عرض کردیتا ہوں کہ آپ ان سوالات کا جوابات دینے میں یقینا پریشانی اور مایوسی کا شکار ہوں گے لہذا ان کاجواب اگر نہیں دے سکتے تو نہ دیں بس ان کو ایک دفعہ غو رسے پڑھ لیں ممکن ہے کوئی اصلاح کی سبیل نکل آئے ۔
یہ جذباتیت اوراس کے پس پردہ قنوطیت آپ کو مبارک ہو۔قرآن کی آیت پیش کردینے سے یہ لازم نہیں آتاکہ پیش کرنے والے کا موقف درست ہو۔
قادیانی قرآن کی آیت ہی پیش کیاکرتے ہیں اوردیگر گمراہ فرقوں کا عمل بھی اسی پر ہے۔حضرت عباس کو جب خوارج سے مناظرہ کیلئے حضرت علی نے بھیجاتھاتوکیافرمایاتھایاد ہےنا۔
لہذا قرآن کی آیت کوتوڑمروڑ کو اپنے موقف کو ثابت کردینااوراس کے معنی ومطلب سے صرف نظرکرلینابہتر نہیں ہے۔
جہاں تک حسرت ویاس کی بات ہے توانشاء اللہ یہ حسرت ویاس ان لوگوں کونصیب ہوگی جو خود کو قرآن وسنت پر عمل کے مدعی ہیں اوربلاشرکت غیرے ٹھیکیدار بنتے ہیں لیکن کل پتہ چلے گاکہ وہ اس کا مصداق ہوں گے
قل هل ننبؤكم بالاخسرين اعمالا الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعا
اورانہیں یہ بھی معلوم ہوجائے گاکہ
افرس تحت رجلھم ام حمار
 

تلمیذ

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 12، 2011
پیغامات
765
ری ایکشن اسکور
1,506
پوائنٹ
191
ابن داؤد صاحب نے کہا
ایک زمانہ سے انہیں بتلایا جا رہا ہے کہ تبلیغی نصاب از مولانا محمد زکریا، جس کی یہ تعلیم و تبلیغ کرتے ہیں وہ شرک و کفر کی دعوت ہے!!
تبلیغی جماعت کا اس تبلیغی نصاب کی تبلیغ کرنا ایک عمل ہے!!! اور ان کا یہ عمل کفریہ شرکیہ ہے!!!
اگر تبلیغی نصاب شرکیہ کتاب ہے تو اس کی تبلیغ بھی شرکیہ ہے ۔میں تو اس بات کے لئیے تیار ہوں کہ تبلیغی نصاب پر پہلے بات کرلیں لیکن طالب نور صاحب لگتاتیار ہے نہیں اس لئیے دیوبند علماء کے عقائد پر پہلے بہت کرہے ہیں
کیا آپ اس تبلیغی نصاب پر بات کے لئیے تیار ہیں ؟

باقی میری تمام احباب سے گذارش ہے تقلید کے متعلق بات تقلید کے تھریڈ میں رہنے دیں اور دیگر موضوع بھی یہاں شروع نہ کریں ۔ یہاں بات صرف تبلیغی جماعت کے جوالہ سے کریں ۔

طالب نور صاحب چوں کہ علماء دیوبند پر بات کرنا چاہتے ہیں اور یہ تھریڈ تبلیغی جماعت سے متعلق ہے تو میں ان بات کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا ۔ اور مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ تبلیغی جماعت سے متلق انتظامیہ نے الگ کیٹگری رکھی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ۔ وہ صرف کہدیتے / لکھ دیتے کہ یہ دیوبندی جماعت ہے ۔ ان کے متعلق دیوبندی کیٹگری میں بات کریں
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
رکن انتظامیہ
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,748
ری ایکشن اسکور
26,379
پوائنٹ
995
اور مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ تبلیغی جماعت سے متلق انتظامیہ نے الگ کیٹگری رکھی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ۔ وہ صرف کہدیتے / لکھ دیتے کہ یہ دیوبندی جماعت ہے ۔ ان کے متعلق دیوبندی کیٹگری میں بات کریں
محترم بھائی اس طرح کے معاملے میں انتظامیہ کے کسی بھی عمل کی مثال پیش نہ کی جائے تو بہتر ہے۔جب آپ کو ہی معلوم نہیں کہ انتظامیہ نے علیحدہ کیٹگری کیوں بنائی تو پھر بات کرنے کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔اور نہ ہی انتظامیہ کی یہ ڈیوٹی ہے کہ ہر کسی کو بتاتی پھرے کہ فلاں کیٹگری کیوں بنائی گئی ہے؟ اگر انتظامیہ تقابل مسالک سیکشن میں یوں دو فورم بنا دیتی کہ (اہل السنۃ والجماعت اور مقلدین مختلف آئمہ یا فرق باطلہ) تو پھر آپ کو سمجھ آجاتی ؟ اور پھر اسی طرح باقی تمام فورم پر نظر کریں تو آپ کی اس بات سے چند ہی فورمز معقول نظر آتے ہیں باقی سب فضول اور صفحہ پوری نظر آتی ہے۔اور انتظامیہ نے جو کچھ کیا ہوا ہے سب کچڑے کے ڈبے کے قابل ہے۔برائے مہربانی انتظامیہ کی بات انتظامیہ تک باقی آپ جس موضوع پر بات کرنے کےلیے آئے ہیں صرف اسی پر بات کریں۔جزاکم اللہ خیرا
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,771
ری ایکشن اسکور
8,482
پوائنٹ
964
قرآن کی آیت پیش کردینے سے یہ لازم نہیں آتاکہ پیش کرنے والے کا موقف درست ہو۔
یا تو استدلال غلط ثابت کریں ورنہ پھر لازم کیوں نہیں آتا ؟ اور یاپھر محمود الحسن رحمہ اللہ کا قول ادھار لے لیں ۔ کہ الحق و الإنصاف ۔۔۔۔ سمجھ گئے ہوں گے ۔
قادیانی قرآن کی آیت ہی پیش کیاکرتے ہیں اوردیگر گمراہ فرقوں کا عمل بھی اسی پر ہے۔حضرت عباس کو جب خوارج سے مناظرہ کیلئے حضرت علی نے بھیجاتھاتوکیافرمایاتھایاد ہےنا۔
کبھی قادیانی یا خارجی بن کر قرآنی آیات لے کر آجائیں ہم آپ کی غلطی واضح نہ کریں تو پھر کہیے گا ۔
لہذا قرآن کی آیت کوتوڑمروڑ کو اپنے موقف کو ثابت کردینااوراس کے معنی ومطلب سے صرف نظرکرلینابہتر نہیں ہے۔
اس سے بڑھ کر قرآنی آیات کو توڑنا مڑورنا کیا ہے کہ جہاں اتباع کاحکم ہے وہاں سے تقلید ثابت کرنے کی کوشش کی جائے ۔ بئس ما تفعلون ۔
جہاں تک حسرت ویاس کی بات ہے توانشاء اللہ یہ حسرت ویاس ان لوگوں کونصیب ہوگی جو خود کو قرآن وسنت پر عمل کے مدعی ہیں اوربلاشرکت غیرے ٹھیکیدار بنتے ہیں لیکن کل پتہ چلے گاکہ وہ اس کا مصداق ہوں گے
قل هل ننبؤكم بالاخسرين اعمالا الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعا
سبحان اللہ ! اب یہ کفیف و عاجز لوگ بھی لگے شرعی نصوص پیش کرنے جو تقلید کرنے کی وجہ ہی اپنی کم علمی بتاتے ہیں ۔
قرآنی آیت پیش کرکے جو فتوی لگایا ہے یہ آپ کی اتباع ہے یا تقلید ؟
ہم نے پانچ نکات آپ کے سامنے رکھے تھے ۔ جن میں سے صرف ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ کیا معرکہ مارا ہے ۔ دوبارہ پھر پیش کیے دیتا ہوں ان شاء اللہ فائدہ ہوگا ۔
١۔ قرآن سے بڑھ کر مصدقہ حوالہ آپ کو اور کون سا چاہیے ۔ اگر فقہ حنفی ہے ( معاذ اللہ ) تو یہ کام آپ کے ذمہ ہے ہم سے کیوں مطالبہ کرتے ہیں ۔
٢۔اتباع اتباع ہے جب تک کہ وہ اتباع ہے یہ ایک مختصر عبارت ہے جس کی تفصیل اس کےموقع و محل میں بیان کردی گئی ہے ۔ آپ اختصار کو لیتے ہیں لیکن تفصیل سے اعراض کرتے ہیں ۔ بلکہ اصل مسئلہ اس عبارت کے مختصر ہونے کا نہیں ہے بلکہ آپ کے کرب و الم کی وجہ اس سے تقلید کا ناطقہ بند ہوتا ہے ۔ اور آپ کے اس فلسفہ کی بیخ کنی ہوتی ہے کہ آپ کی تقلید بھی اتباع ہی ہے ۔
٣۔ آپ اتباع کی تعریف کا بہانہ کرکے قرآن وسنت کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ کو اتباع کی تعریف ہم سے سمجھ نہیں آتی تو اپنے امام سے سمجھ لیں وہ بھی تو براہ راست قرآن وسنت کی اتباع کرتے تھے ۔
٤۔ جدلا تسلیم کرلیں کہ ہم نے اتباع کے حوالے جو باتیں کہیں وہ غلط ہیں تو کیاآپ قرآن کی اس آیت کے مخاطب نہیں ہیں کہ اتبعوا ما أنزل إلیکم من ربکم و لا تتبعوا من دونہ أولیاء ۔ آپ اس آیت میں جو لفظ اتباع آیا ہے اس کا کیا مفہوم لیتے ہیں ؟ کیا یہاں اتبعوا سے تقلید ثابت ہوتی ہے ؟ تو پھر ولا تتبعوا سے کس چیز کی نفی ہے ؟
٥۔ آپ نے مایوسی کی بات کی تو ہم سمجھتے ہیں کہ یقینا آپ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے اتباع کی تعریف معلوم کرنے سےمایوس ہو گئے اسی وجہ سےآپ ہم سے اتباع کی تعریف پوچھ رہے ہیں ۔ ہم آپ سے گزارش کرتےہیں کہ یا تو ہماری بات مان کر قرآن وسنت کی پیروی کر لو ورنہ پھر تقلید کا پھندا گلے میں ڈال کر اسی طرح مایوس ہوتے رہو ۔
حسرت و یأس اس شخص کا مقدر ہے جس نے تقلید کو اپنے لیے اختیار کیا ۔ یہ تو اب آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ جن مسائل میں قول امام تک رسائی نہیں ہوتی اس میں آپ کو کتنی مایوسی ہوتی ہوگی ۔
اگر اس مایوسی سے بچنا چاہتے ہیں تو قرآن وسنت کی پیروی کرو جس میں قیامت تک آنے والے ہر ہر مسئلے کاحل موجود ہے ۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,415
ری ایکشن اسکور
2,730
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
ابن داؤد صاحب نے کہا
ایک زمانہ سے انہیں بتلایا جا رہا ہے کہ تبلیغی نصاب از مولانا محمد زکریا، جس کی یہ تعلیم و تبلیغ کرتے ہیں وہ شرک و کفر کی دعوت ہے!!تبلیغی جماعت کا اس تبلیغی نصاب کی تبلیغ کرنا ایک عمل ہے!!! اور ان کا یہ عمل کفریہ شرکیہ ہے!!!
اگر تبلیغی نصاب شرکیہ کتاب ہے تو اس کی تبلیغ بھی شرکیہ ہے ۔میں تو اس بات کے لئیے تیار ہوں کہ تبلیغی نصاب پر پہلے بات کرلیں
دیر آید درست آید!! آخر آپ کو یہ بات تو سمجھ آگئی !!
بلکل جناب! اسی پر گفتگو کریں گے!!
لیکن طالب نور صاحب لگتاتیار ہے نہیں اس لئیے دیوبند علماء کے عقائد پر پہلے بہت کرہے ہیں
جناب من! جب ایک پیش کردہ حوالہ کو بلکل صرف نظر کردیا گیا تھا تو دیگر حوالہ پیش کرنے لازم ہو گئے تھے!! اور ویسے جناب! کیا علماء دیوبند کے عقائد اور مولانا محمد زکریا، مولانا محمد الیاس اور بھائی عبدالوھاب کے عقائد مختلف ہیں؟؟
لہذا طالب نور کا علماءدیوبند کے عقائد پیش کرنا بھی کوئی خلاف موضوع نہ تھا!!
کیا آپ اس تبلیغی نصاب پر بات کے لئیے تیار ہیں ؟
جناب! بلکل ہم آپ کی خواہش کے مطابق تبلیغی نصاب پر گفتگو کریں گے!!
باقی میری تمام احباب سے گذارش ہے تقلید کے متعلق بات تقلید کے تھریڈ میں رہنے دیں اور دیگر موضوع بھی یہاں شروع نہ کریں ۔ یہاں بات صرف تبلیغی جماعت کے جوالہ سے کریں ۔
جی میں بھی تمام صارفین فورم سے یہی التماس کروں گا!!
طالب نور صاحب چوں کہ علماء دیوبند پر بات کرنا چاہتے ہیں اور یہ تھریڈ تبلیغی جماعت سے متعلق ہے تو میں ان بات کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا ۔ اور مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ تبلیغی جماعت سے متلق انتظامیہ نے الگ کیٹگری رکھی ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ۔ وہ صرف کہدیتے / لکھ دیتے کہ یہ دیوبندی جماعت ہے ۔ ان کے متعلق دیوبندی کیٹگری میں بات کریں
تبلیغی جماعت کو آپ دیوبندیہ سے یوں الگ تھلگ تو نہیں کر سکتے!! اب دیکھیں کہ مماتی بھی دیوبندی ہیں اور حیاتی بھی!! لیکن ہر دیوبندی حیاتی دیوبندی نہیں اور نہ ہی ہر دیوبندی مماتی دیوبندی ہے!! اسی طرح تبلیغی جماعت دیوبندیہ میں شامل ہے، لیکن دیوبندیہ صرف تبلیغی جماعت نہیں!! خیر یہ ہماری بحث نہیں ہے !!
میں تبلیغی نصاب سے اسی اقتباس کو پھر نقل کر دیتا ہوں:
اب مجھے کوئی جہمی، صوفی، مرجئی ،حنفی اور تبلیغی بتلائے کہ اگر یہ شرک نہیں تو اور شرک کیا ہے!!!
شیخ ابو یزید قرطبی فرماتے ہیں میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لا اله الا الله پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے۔ میں نے یہ خبر سنکر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کے لئے بھی پڑھا اور کئی نصاب خود اپنے لئے پڑھ کر ذخیرہ آخرت بنایا۔ ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق مشہور تھا کہ یہ صاحب کشف ہے، جنت دوزخ کا بھی اس کو کشف ہوتا ہے۔ مجھے اس کی صحت میں کچھ تردد تھا۔ ایک مرتبہ وہ نوجوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا کہ دفعۃ اس نے ایک چیخ ماری اور سانس پھولنے لگا اور کہا کہ میری ماں دوزخ میں جل رہی ہے اس کی حالت مجھے نظر آئی۔ قرطبی کہتے ہیں کہ میں اس کی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں جس سے اس کی سچائی کا بھی مجھے تجربہ ہو جائے گا۔ چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا ان نصابوں میں سے جو اپنے لئے پڑھے تھے اس کی ماں کو بخش دیا۔ میں نے اپنے دل میں چپکے ہی سے بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجوان فورا کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹادی گئی۔ قرطبی کہتے ہیں کہ مجھے اس قصہ سے دو فائدے ہوئے۔ ایک تو اس برکت کا جو ستر ہزار کی مقدار پر میں نے سنی تھی اس کا تجربہ ہوا دوسرا اس نوجوان کی سچائی کا یقین ہوگیا۔
یہ ایک وقعہ ہے اس قسم کے نامعلوم کتنے وقعات اس امت کے افراد میں پائے جاتے ہیں ۔۔۔۔

تبلیغی نصاب۔ فضائل اعمال۔ فضائل ذکر ۔ باب دوم ۔ فصل سوم ۔ حدیث 17 صفحہ 484
کتب خانہ فیضی لاھور
(قرطبی پر تشدید نہ جانے کیوں لگ رہی ہےـ؟ غالبا ارسلان بھائی بتلا سکیں گے )
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
اسی طرح تبلیغی جماعت دیوبندیہ میں شامل ہے
یہ کہہ کر آپ نے اپنی لاعلمی اوردوسرے لفظوں میں جہالت کا مظاہرہ کیاہے؟ تبلیغی جماعت سے وابستہ دیوبندی بھی ہیں اورغیردیوبندی بھی۔ شوافع کی ایک بڑی تعداد اس سے وابستہ ہے کیاشوافع حضرات دیوبندی ہیں؟مالکیہ حضرات بھی دعوت وتبلیغ کے کام سے جڑے ہوئے ہیں کیامالکیہ حضرات دیوبندی ہیں؟کچھ حنبلیوں کوبھی تبلیغی مرکز نظام الدین بستی میں دیکھااوران سے ملنے جلنے کا اتفاق ہوا۔ یہ تب کی بات ہے جب راقم الحروف وہاں ایک سال کیلئے گیاہواتھا؟
کیایہ سبھی کے سبھی جن کا ذکر اوپر ہواہے دیوبندی ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی جماعت کو دیوبندیوں سے متصل کرنااورہرتبلیغی جماعت کے فرد کو دیوبندی کہناجہالت اورناواقفیت توہوسکتی ہے لیکن یہ علم اورتحقیق کی بنیاد پر نہیں ہوسکتا۔
 

جمشید

مشہور رکن
شمولیت
جون 09، 2011
پیغامات
871
ری ایکشن اسکور
2,331
پوائنٹ
180
بحان اللہ ! اب یہ کفیف و عاجز لوگ بھی لگے شرعی نصوص پیش کرنے جو تقلید کرنے کی وجہ ہی اپنی کم علمی بتاتے ہیں ۔
قرآنی آیت پیش کرکے جو فتوی لگایا ہے یہ آپ کی اتباع ہے یا تقلید ؟
اگرکچھ لوگوں نے خود کو قرآن وسنت کا ٹھیکیدار سمجھ رکھاہے تودوسرااس میں کیاکرسکتاہے؟کچھ لوگوں پر ایسامرحلہ آتاہے شاید آپ نے بھی دیکھاہوگاکہ روڈ پر پھٹے حال گھوم رہے ہیں اوردماغ میں کروڑوں کے منصوبے ہیں۔( ایسے لوگوں کو احیتاط سے دیگر لوگ کہیں اورچھوڑآتے ہیں؟)ان کے خود کو کروڑوں بلکہ پوری دنیا کی دولت پر اپنی ملکیت سمجھنے سے کچھ لازم تونہیں آتا لہذا آپ چاہے خود کو قرآن وسنت کا جتنابڑابھی دعویدار تصورفرمالیں اس سے لازم کچھ نہیں ہوگا۔ہاں بس

دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھاہے
لہذا یہی سوچ کر اپنادل خوش کرتے رہاکریں۔ہمیں اس میں کوئی پریشانی اورتکلیف نہیں ہے۔بلکہ ہم تودعاگوہیں کہ اگر یہی سوچنے سے آپ کو خوشی ملتی ہے تومزید سوچاکریں۔ ٢٤گھنٹے سوچاکریں ۔ ہروقت سوچاکریں۔

اگراتباع پر بات ہی کرنی ہے توواپس اتباع والے تھریڈ میں چلئے۔
 
شمولیت
مارچ 15، 2012
پیغامات
154
ری ایکشن اسکور
493
پوائنٹ
95
یہ سارے صفحات میں نے نہی پڑھے -اپنا ذاتے تجربہ بتاتا ہوں -مین تبلیغی جماعت میں ایک سال تک لگا چکا ہوں-پھر اللہ نے ہدایت دی -تبلیغی جماعت میں حق وہی ہے جو ان کے بزرگ بتایں کتاب و سنت کی کوی اہمیت نہین-آپ قران کی ایت بتلایں حدیث سنایں لیکن جب تک تک بڑوں کی سند نہ ہو نہ قران معتبر ہے نہ حدیث - یہ شرک نہیں تو اور کیا ہے - ان کی کتاب مین دسیوں جھوٹی حدیثین ہیں لیکن جاننے کہ باوجود یہ لوگ نہ اس کتاب کی اصلاح کرتے ہیں نہ اس کتاب کو چھوڑتے ہیں- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار) جو مجھ پہ جان بوجھ کہ جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جھنم میں بنالے(صحیح بخاری) جن لوگوں کو اس جماعت میں بدعات نظر نہیں آتی انہیں اہنی آنکھوں کا علاج کروانا چاہیے- کیا میلاد اور گیارھویں ہی بددعت ہے -بدعت کے معنی ذھن میں رکھیں اور فرمایں-والسلام علیکم
 
Top