• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تُرْ‌جِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن تَقَرَّ‌ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْ‌ضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَلِيمًا ﴿٥١﴾
ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے، (١) اور اگر تو ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلا لے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں، (٢) اس میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دیدے اس پر سب کی سب راضی رہیں، (۳) تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے۔ (٤) اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم والا ہے۔
٥١۔١ اس کا تعلق ﴿إِنَّا أَحْلَلْنَا﴾ سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ ﷺ کے لیے حلت اس لیے ہے تاکہ آپ ﷺ کو تنگی محسوس نہ ہو اور آپ ﷺ ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔
٥١۔٢ یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ ﷺ چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ ﷺ کو حاصل ہے۔
٥١۔٣ یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہوں گی، غمگین نہیں ہوں گی اور جتنا کچھ آپ ﷺ کی طرف سے انہیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی۔ کیوں؟ اس لیے کہ انہیں معلوم ہے کہ پیغمبر ﷺ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اجازت سے کر رہے ہیں اور یہ ازواج مطہرات اللہ کے فیصلہ پر راضی اور مطمئن ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو یہ اختیار ملنے کے باوجود آپ ﷺ نے اسے استعمال نہیں کیا اور سوائے حضرت سودہ رضی الله عنہا کے (کہ انہوں نے اپنی باری خود ہی حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے لیے ہبہ کر دی تھی) آپ ﷺ نے تمام ازواج مطہرات کی باریاں برابر برابر مقرر کر رکھی تھیں، اس لیے آپ ﷺ نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گزارے ﴿أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ﴾ کا تعلق آپ ﷺ کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ ﷺ پر تقسیم اگرچہ (دوسرے لوگوں کی طرح) واجب نہیں تھی، اس کے باوجود آپ ﷺ نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ ﷺ کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور آپ ﷺ کے اس حسن سلوک اور عدل و انصاف سے خوش ہو جائیں کہ آپ ﷺ نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دلداری کا اہتمام فرمایا۔
٥٢۔٤ یعنی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، ان میں یہ بات بھی یقیناً ہے کہ سب بیویوں کی محبت دل میں یکساں نہیں ہے۔ کیوں کہ دل پر انسان کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لیے بیویوں کے درمیان مساوات باری میں، نان و نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی اور آسائشوں میں ضروری ہے، جس کا اہتمام انسان کر سکتا ہے۔ دلوں کے میلان میں مساوات چونکہ اختیار ہی میں نہیں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا بشرطیکہ دلی محبت کسی ایک بیوی سے امتیازی سلوک کا باعث نہ ہو۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے یا اللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے، لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ (أبو داود، باب القسم في النساء، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، مسند أحمد ۶ / ۱۴۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ رَّ‌قِيبًا ﴿٥٢﴾
اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لیے حلال نہیں اور نہ (درست ہے) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے (نکاح کرے) اگرچہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو (١) مگر جو تیری مملوکہ ہوں۔ (٢) اور اللہ تعالٰی ہر چیز کا (پورا) نگہبان ہے۔
٥٢۔۱ آیت تخییر کے نزول کے بعد ازواج مطہرات نے دنیا کے اسباب عیش و راحت کے مقابلے میں عسرت کے ساتھ، نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہنا پسند کیا تھا، اس کا صلہ اللہ نے یہ دیا کہ آپ ﷺ کو ان ازواج کے علاوہ (جن کی تعداد اس وقت ۹ تھی) دیگر عورتوں سے نکاح کرنے یا اس میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ اور سے نکاح کرنے سے منع فرما دیا۔ بعض کہتے ہیں کہ بعد میں آپ ﷺ کو یہ اختیار دے دیا گیا تھا، لیکن آپ ﷺ نے کوئی نکاح نہیں کیا۔ (ابن کثیر)۔
۵۲۔۲ یعنی لونڈیاں رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ بعض نے اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ کافر لونڈی بھی رکھنے کی آپ ﷺ کو اجازت تھی اور بعض نے ﴿وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ﴾ (الممتحنہ: ۱۰) کے پیش نظر اسے آپ ﷺ کے حلال نہیں سمجھا۔ (فتح القدیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ‌ نَاظِرِ‌ينَ إِنَاهُ وَلَـٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُ‌وا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ ۖ وَاللَّـهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَ‌اءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ‌ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَ‌سُولَ اللَّـهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمًا ﴿٥٣﴾
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو۔ نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ تو وہ لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، (١) جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو، (۲) تو تم پردے کے پیچھے سے طلب کرو، (۳) تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی یہی ہے، (٤) نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو (۵) اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناہ) ہے۔ (٦)
٥٣۔١ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی دعوت پر حضرت زینب رضی الله عنہا کے ولیمے میں صحابہ کرام رضی الله عنہم تشریف لائے جن میں سے بعض کھانے کے بعد بیٹھے ہوئے باتیں کرتے رہے جس سے آپ ﷺ کو خاص تکلیف ہوئی، تاہم حیا و اخلاق کی وجہ سے آپ ﷺ نے انہیں جانے کے لیے کہا نہیں۔ (صحيح بخاری، تفسير سورة الأحزاب) چنانچہ اس آیت میں دعوت کے آداب بتلا دیئے گئے کہ ایک تو اس وقت جاؤ، جب کھانا تیار ہو چکا ہو، پہلے سے ہی جا کر دھرنا مار کر نہ بیٹھ جاؤ۔ دوسرا، کھاتے ہی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ، وہاں بیٹھے ہوئے باتیں مت کرتے رہو، کھانے کا ذکر تو سبب نزول کی وجہ سے ہے، ورنہ مطلب یہ ہے کہ جب بھی تمہیں بلایا جائے چاہے کھانے کے لیے یا کسی اور کام کے لیے، اجازت کے بغیر گھر کے اندر داخل مت ہو۔
٥٣۔٢ یہ حکم حضرت عمر رضی الله عنہ کی خواہش پر نازل ہوا۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ امہات المومنین کو پردے کا حکم دیں تو کیا اچھا ہو۔ جس پر اللہ نے یہ حکم نازل فرما دیا۔ (صحيح بخاری، كتاب الصلاة ، وتفسير سورة البقرة، مسلم باب فضائل عمر بن الخطاب)۔
۵۳۔۳ یہ پردے کی حکمت اور علت ہے کہ اس سے مرد اور عورت دونوں کے دل ریب و شک سے اور ایک دوسرے کے ساتھ فتنے میں مبتلا ہونے سے محفوظ رہیں گے۔
۵۳۔٤ چاہے وہ کسی بھی لحاظ سے ہو۔ آپ ﷺ کے گھر میں بغیر اجازت داخل ہونا، آپ ﷺ کی خواہش کے بغیر گھر میں بیٹھے رہنا اور بغیر حجاب کے ازواج مطہرات سے گفتگو کرنا، یہ امور بھی ایذا کے باعث ہیں، ان سے بھی اجتناب کرو۔
۵۳۔٦ یہ حکم ان ازواج مطہرات کے بارے میں ہے جو وفات کے وقت نبی کریم ﷺ کے حبالۂ عقد میں تھیں۔ تاہم جن کو آپ ﷺ نے ہم بستری کے بعد زندگی میں طلاق دے کر اپنے سےعلیحدہ کر دیا ہو، وہ اس کے عموم میں داخل ہیں یا نہیں؟ اس میں دو رائے ہیں۔ بعض ان کو بھی شامل سمجھتے ہیں اور بعض نہیں۔ لیکن آپ ﷺ کی ایسی کوئی بیوی تھی ہی نہیں۔ اس لیے یہ محض ایک فرضی شکل ہے۔ علاوہ ازیں ایک تیسری قسم ان عورتوں کی ہے جن سے آپ ﷺ نکاح ہوا لیکن ہم بستری سے قبل ہی ان کو آپ ﷺ نے طلاق دے دی۔ ان سے دوسرے لوگوں کا نکاح درست ہونے میں کوئی نزاع معلوم نہیں۔ (تفسیر ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِن تُبْدُوا شَيْئًا أَوْ تُخْفُوهُ فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿٥٤﴾
تم کسی چیز کو ظاہر کرو یا مخفی رکھو اللہ تو ہر ہر چیز کا بخوبی علم رکھنے والا ہے۔

لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَائِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ ۗ وَاتَّقِينَ اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا ﴿٥٥﴾
ان عورتوں پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی (میل جول کی) عورتوں اور ملکیت کے ماتحتوں (لونڈی، غلام) کے سامنے ہوں۔ (١) (عورتو!) اللہ سے ڈرتی رہو۔ اللہ تعالیٰ یقیناً ہر چیز پر شاہد ہے۔ (٢)
٥٥۔١ جب عورتوں کے لیے پردے کا حکم نازل ہوا تو پھر گھر میں موجود اقارب یا ہر وقت آنے والے جانےوالے رشتے داروں کی بابت سوال ہوا کہ ان سے پردہ کیا جائے یا نہیں؟ چنانچہ اس آیت میں ان اقارب کا ذکر کردیا گیا جن سے پردے کی ضرورت نہیں؟ اس کی تفصیل سورۂ نور کی آیت ۳۱ ﴿وَلا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ﴾ میں بھی گزر چکی ہے، اسے ملاحظہ فرما لیا جائے۔
٥٥۔٢ اس مقام پر عورتوں کو تقویٰ کا حکم دے کر واضح کر دیا کہ اگر تمہارے دلوں میں تقویٰ ہو گا تو پردے کا جو اصل مقصد، قلب و نظر کی طہارت اور عصمت کی حفاظت ہے، وہ یقیناً تمہیں حاصل ہو گا، ورنہ حجاب کی ظاہری پابندیاں تمہیں گناہ میں ملوث ہونے سے نہیں بچا سکیں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ اللَّـهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٥٦﴾
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام (بھی) بھیجتے رہا کرو۔ (١)
٥٦۔١ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کے اس مرتبہ و منزلت کا بیان ہے جو ملأ اعلیٰ (آسمانوں) میں آپ ﷺ کو حاصل ہے اور وہ یہ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرشتوں میں آپ ﷺ کی ثنا و تعریف کرتا اور آپ ﷺ پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے بھی آپ ﷺ کی بلندی درجات کی دعا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے عالم سفلی (اہل زمین) کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ ﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجیں تاکہ آپ ﷺ کی تعریف میں علوی اور سفلی دونوں عالم متحد ہو جائیں۔ حدیث میں آتا ہے، صحابہ کرام (رضی الله عنہم) نے عرض کیا، یا رسول اللہ! سلام کا طریقہ تو ہم جانتے ہیں (یعنی التحیات میں [السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ] پڑھتے ہیں) ہم درود کس طرح پڑھیں؟ اس پر آپ ﷺ نے وہ درود ابراہیمی بیان فرمایا جو نمازمیں پڑھا جاتا ہے۔ (صحيح بخاری، تفسير سورة الأحزاب) علاوہ ازیں احادیث میں درود کے اور بھی صیغے آتے ہیں، جو پڑھے جا سکتے ہیں۔ نیز مختصراً ﷺ بھی پڑھا جا سکتا ہے تاہم [الصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ] پڑھنا اس لیے صحیح نہیں کہ اس میں نبی کریم ﷺ سے خطاب ہے اور یہ صیغہ نبی کریم سے عام درود کے وقت منقول نہیں ہے اور تحیات میں [السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ] چونکہ آپ ﷺ سے منقول ہے اس وجہ سے اس وقت میں پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں مزید برآں اس کا پڑھنے والا اس فاسد عقیدے سے پڑھتا ہے کہ آپ ﷺ اسے براہ راست سنتے ہیں۔ یہ عقیدہ فاسدہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور اس عقیدے سے مذکورہ خانہ ساز درود پڑھنا بھی غیر صحیح ہے۔ اسی طرح اذان سے قبل اسے پڑھنا بھی بدعت ہے، جو ثواب نہیں، گناہ ہے۔ احادیث میں درود کی بڑی فضیلت وارد ہے۔ نماز میں اس کا پڑھنا واجب ہے یا سنت؟ جمہور علما اسے سنت سمجھتے ہیں اور امام شافعی اور بہت سے علما واجب۔ اور احادیث سے اس کے وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے۔ اسی طرح احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح آخری تشہد میں درود پڑھنا واجب ہے، پہلے تشہد میں بھی درود پڑھنے کی وہی حیثیت ہے۔ اس لیے نماز کے دونوں تشہد میں درود پڑھنا ضروری ہے۔ اس کے دلائل مختصراً حسب ذیل ہیں۔ ایک دلیل یہ ہے کہ مسند احمد میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا، یا رسول اللہ (ﷺ) آپ (ﷺ) پر سلام کس طرح پڑھنا ہے، یہ تو ہم نے جان لیا (کہ ہم تشہد میں [السَّلامُ عَلَيْكَ] پڑھتے ہیں) لیکن جب ہم نماز میں ہوں تو آپ (ﷺ) پر درود کس طرح پڑھیں؟ تو آپ ﷺ نے درود ابراہیمی کی تلقین فرمائی (الفتح الربانی، ج۴، ص۲۰-۲۱) مسند احمد کے علاوہ یہ روایت صحیح ابن حبان، سنن کبری بیہقی، مستدرک حاکم اور ابن خزیمہ میں بھی ہے۔ اس میں صراحت ہے کہ جس طرح سلام نماز میں پڑھا جاتا ہے یعنی تشہد میں، اسی طرح یہ سوال بھی نماز کے اندر درود پڑھنے سے متعلق تھا، نبی ﷺ نے درود ابراہیمی پڑھنے کا حکم فرمایا۔ جس سے معلوم ہوا کہ نماز میں سلام کے ساتھ درود بھی پڑھنا چاہیئے، اور اس کا مقام تشہد ہے۔ اور حدیث میں یہ عام ہے، اسے پہلے یا دوسرے تشہد کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ استدلال کرنا صحیح ہے کہ (پہلے اور دوسرے) دونوں تشہد میں سلام اور درود پڑھا جائے۔ اور جن روایات میں تشہد اول کا بغیر درود کے ذکر ہے، انہیں سورۂ احزاب کی آیت ﴿صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا﴾ کے نزول سے پہلے پر محمول کیا جائے گا۔ لیکن اس آیت کے نزول یعنی ۵ ہجری کے بعد جب نبی ﷺ نے صحابہ (رضی الله عنہم) کے استفسار پر درود کے الفاظ بھی بیان فرما دیئے تو اب نماز میں سلام کے ساتھ صلوٰۃ (درود شریف) کا پڑھنا بھی ضروری ہو گیا، چاہے وہ پہلا تشہد ہو یا دوسرا۔ اس کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے بیان فرمایا کہ نبی ﷺ (بعض دفعہ) رات کو نو رکعات ادا فرماتے، آٹھویں رکعت میں تشہد بیٹھتے تو اس میں اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر ﷺ پر درود پڑھتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پوری کرکے تشہد میں بیٹھتے تو اپنے رب سے دعا کرتے اور اس کے پیغمبر پر درود پڑھتے اور پھر دعا کرتے، پھر سلام پھیر دیتے (السنن الكبرى للبيهقي ج۲ ص۷۰۴ طبع جديد سنن النسائی، مع التعليقات السلفية، كتاب قيام الليل ج۱ ص۲۰۲۔ مزید ملاحظہ ہو، صفة صلاة النبي ﷺ للألباني ص۱۴۵) اس میں بالکل صراحت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی رات کی نماز میں پہلے اور آخری دونوں تشہد میں درود پڑھا ہے۔ یہ اگرچہ نفلی نماز کا واقعہ ہے لیکن مذکورہ عمومی دلائل کی آپ ﷺ کے اس عمل سے تائید ہو جاتی ہے، اس لیے اسے صرف نفلی نماز تک محدود کر دینا صحیح نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ﴿٥٧﴾
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے نہایت رسوا کن عذاب ہے۔ (١)
٥٧۔١ اللہ کا ایذا دینے کا مطلب ان افعال کا ارتکاب ہے جسے وہ ناپسند فرماتا ہے۔ ورنہ اللہ کو ایذا پہنچانے پر کون قادر ہے؟ جیسے مشرکین، یہود اور نصاریٰ وغیرہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں۔ یا جس طرح حدیث قدسی میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے، زمانے کو گالی دیتا ہے، حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں اس کے رات اور دن کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے۔ (صحيح بخاری، تفسير سورة الجاثية ومسلم، كتاب الألفاظ من الأدب، باب النهي عن سب الدهر) یعنی یہ کہنا کہ زمانے نے یا فلک کج رفتار نے ایسا کر دیا، یہ صحیح نہیں، اس لیے کہ افعال اللہ کے ہیں، زمانے یا فلک کے نہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچانا، آپ ﷺ کی تکذیب، آپ ﷺ کو شاعر، کذاب، ساحر وغیرہ کہنا ہے۔ علاوہ ازیں بعض احادیث میں صحابہ کرام رضی الله عنہم کو ایذا پہنچانے اور ان کی تنقیص و اہانت کو بھی آپ ﷺ نے ایذا قرار دیا ہے۔ لعنت کا مطلب، اللہ کی رحمت سے دوری اور محرومی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ‌ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا ﴿٥٨﴾
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وہ (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ (۱)
٥٨۔١ یعنی ان کو بدنام کرنے کے لیے ان پر بہتان باندھنا، ان کی ناجائز تنقیص و توہین کرنا۔ جیسے روافض صحابہ کرام رضی الله عنہم پر سب و شتم کرتے اور ان کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں رافضی منکوس القلوب ہیں، ممدوح اشخاص کی مذمت کرتے اور مذموم لوگوں کی مدح کرتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَ‌فْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا ﴿٥٩﴾
اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکا لیا کریں، (۱) اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، (۲) اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
۵۹۔۱ جلابیب، جلباب کی جمع ہے جو ایسی بڑی چادر کو کہتے ہیں جس سے پورا بدن ڈھک جائے اپنے اوپر چادر لٹکانے سے مراد اپنے چہرے پر اس طرح گھونگٹ نکالنا ہے کہ جس سے چہرے کا بیشتر حصہ بھی چھپ جائے اور نظریں جھکا کر چلنے سے اسے راستہ بھی نظر آتا جائے پاک و ہند یا دیگر اسلامی ممالک میں برقعے کی جو مختلف صورتیں ہیں عہد رسالت میں یہ برقعے عام نہیں تھے پھر بعد میں معاشرت میں وہ سادگی نہیں رہی جو عہد رسالت اور صحابہ و تابعین کے دور میں تھی عورتیں نہایت سادہ لباس پہنتی تھیں بناؤ سنگھار اور زیب و زینت کے اظہار کا کوئی جذبہ ان کے اندر نہیں ہوتا تھا اس لیے ایک بڑی چادر سے بھی پردے کے تقاضے پورے ہو جاتے تھے لیکن بعد میں یہ سادگی نہیں رہی اس کی جگہ تجمل اور زینت نے لے لی اور عورتوں کے اندر زرق برق لباس اور زیورات کی نمائش عام ہو گئی جس کی وجہ سے چادر سے پردہ کرنا مشکل ہو گیا اور اس کی جگہ مختلف انداز کے برقعے عام ہو گئے گو اس سے بعض دفعہ عورت کو بالخصوص سخت گرمی میں کچھ دقت بھی محسوس ہوتی ہے لیکن یہ ذرا سی تکلیف شریعت کے تقاضوں کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہں رکھتی تاہم جو عورت برقعے کے بجائے پردے کے لیے بڑی چادر استعمال کرتی ہے اور پورے بدن کو ڈھانکتی اور چہرے پر صحیح معنوں میں گھونگٹ نکالتی ہے وہ یقینا پردے کے حکم کو بجا لاتی ہے کیونکہ برقعہ ایسی لازمی شئی نہیں ہے جسے شریعت نے پردے کے لیے لازمی قرار دیا ہو لیکن آج کل عورتوں نے چادر کو بے پردگی اختیار کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے پہلے وہ برقعے کی جگہ چادر اوڑھنا شروع کرتی ہیں پھر چادر بھی غائب ہو جاتی ہے صرف دوپٹہ رہ جاتا ہے اور بعض عورتوں کے لیے اس کا لینا بھی گراں ہوتا ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے کہنا پڑتا ہے کہ اب برقع کا استعمال ہی صحیح ہے کیونکہ جب سے برقعے کی جگہ چادر نے لے لی ہے بے پردگی عام ہو گئی ہے بلکہ عورتیں نیم برہنگی پر بھی فخر کرنے لگی ہیں انا للہ وانا الیہ راجعون بہرحال اس آیت میں نبی کی بیویوں، بیٹیوں اور عام مومن عورتوں کو گھر سے باہر نکلتے وقت پردے کا حکم دیا گیا جس سے واضح ہے کہ پردے کا حکم علماء کا ایجاد کردہ نہیں ہے جیسا کہ آج کل بعض لوگ باور کراتے ہیں یا اس کو قرار واقعی اہمیت نہیں دیتے بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے جو قرآن کریم کی نص سے ثابت ہے۔ اس سے اعراض، انکار اور بے پردگی پر اصرار کفر تک پہنچا سکتا ہے دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ نبی کی ایک بیٹی نہیں تھی جیسا کہ رافضیوں کا عقیدہ ہے بلکہ آپ کی ایک سے زائد بیٹیاں تھیں جیسا کہ نص قرآنی سے واضح ہے اور یہ چار تھیں جیسا کہ تاریخ و سیرت اور احادیث کی کتابوں سے ثابت ہے۔
٥٩۔۲ یہ پردے کی حکمت اور اس کے فائدے کا بیان ہے کہ اس سے ایک شریف زادی اور باحیا عورت اور بے شرم اور بدکار عورت کے درمیان پہچان ہو گی۔ پردے سے معلوم ہو گا کہ یہ خاندانی عورت ہے جس سے چھیڑ چھاڑ کی جرات کسی کو نہیں ہو گی، اس کے برعکس بے پردہ عورت اوباشوں کی نگاہوں کا مرکز اور ان کی بوالہوسی کا نشانہ بنے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
لَّئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ وَالْمُرْ‌جِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِ‌يَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُ‌ونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا ﴿٦٠﴾
اگر (اب بھی) یہ منافق اور وہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ لوگ جو مدینہ میں غلط افواہیں اڑانے والے ہیں (١) باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان (کی تباہی) پر مسلط کر دیں گے پر تو وہ چند دن ہی آپ کے ساتھ اس (شہر) میں رہ سکیں گے۔
٦٠۔ ا مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے منافقین افواہیں اڑاتے رہتے تھے کہ مسلمان فلاں علاقے میں مغلوب ہو گئے، یا دشمن کا لشکر جرار حملہ آور ہونے کے لیے آرہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَّلْعُونِينَ ۖ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا ﴿٦١﴾
ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ (۱)
٦١۔١ یہ حکم نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر مار ڈالا جائے، بلکہ بد دعا ہے کہ اگر وہ اپنے نفاق اور ان حرکتوں سے باز نہ آئے تو ان کا نہایت عبرت ناک حشر ہو گا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ حکم ہے۔ لیکن یہ منافقین نزول آیت کے بعد اپنی حرکتوں سے باز آگئے تھے، اس لیے ان کے خلاف یہ کارروائی نہیں کی گئی جس کا حکم اس آیت میں دیا گیا تھا۔ (فتح القدیر)
 
Top