- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ ۖ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَلِيمًا ﴿٥١﴾
ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے، (١) اور اگر تو ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلا لے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں، (٢) اس میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دیدے اس پر سب کی سب راضی رہیں، (۳) تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے۔ (٤) اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم والا ہے۔
٥١۔١ اس کا تعلق ﴿إِنَّا أَحْلَلْنَا﴾ سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ ﷺ کے لیے حلت اس لیے ہے تاکہ آپ ﷺ کو تنگی محسوس نہ ہو اور آپ ﷺ ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔
٥١۔٢ یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ ﷺ چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ ﷺ کو حاصل ہے۔
٥١۔٣ یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہوں گی، غمگین نہیں ہوں گی اور جتنا کچھ آپ ﷺ کی طرف سے انہیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی۔ کیوں؟ اس لیے کہ انہیں معلوم ہے کہ پیغمبر ﷺ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اجازت سے کر رہے ہیں اور یہ ازواج مطہرات اللہ کے فیصلہ پر راضی اور مطمئن ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو یہ اختیار ملنے کے باوجود آپ ﷺ نے اسے استعمال نہیں کیا اور سوائے حضرت سودہ رضی الله عنہا کے (کہ انہوں نے اپنی باری خود ہی حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے لیے ہبہ کر دی تھی) آپ ﷺ نے تمام ازواج مطہرات کی باریاں برابر برابر مقرر کر رکھی تھیں، اس لیے آپ ﷺ نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گزارے ﴿أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ﴾ کا تعلق آپ ﷺ کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ ﷺ پر تقسیم اگرچہ (دوسرے لوگوں کی طرح) واجب نہیں تھی، اس کے باوجود آپ ﷺ نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ ﷺ کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور آپ ﷺ کے اس حسن سلوک اور عدل و انصاف سے خوش ہو جائیں کہ آپ ﷺ نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دلداری کا اہتمام فرمایا۔
٥٢۔٤ یعنی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، ان میں یہ بات بھی یقیناً ہے کہ سب بیویوں کی محبت دل میں یکساں نہیں ہے۔ کیوں کہ دل پر انسان کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لیے بیویوں کے درمیان مساوات باری میں، نان و نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی اور آسائشوں میں ضروری ہے، جس کا اہتمام انسان کر سکتا ہے۔ دلوں کے میلان میں مساوات چونکہ اختیار ہی میں نہیں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا بشرطیکہ دلی محبت کسی ایک بیوی سے امتیازی سلوک کا باعث نہ ہو۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے یا اللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے، لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ (أبو داود، باب القسم في النساء، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، مسند أحمد ۶ / ۱۴۴)
ان میں سے جسے تو چاہے دور رکھ دے اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لے، (١) اور اگر تو ان میں سے بھی کسی کو اپنے پاس بلا لے جنہیں تو نے الگ کر رکھا تھا تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں، (٢) اس میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ ان عورتوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور جو کچھ بھی تو انہیں دیدے اس پر سب کی سب راضی رہیں، (۳) تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ (خوب) جانتا ہے۔ (٤) اللہ تعالیٰ بڑا ہی علم اور حلم والا ہے۔
٥١۔١ اس کا تعلق ﴿إِنَّا أَحْلَلْنَا﴾ سے ہے یعنی مذکورہ تمام عورتوں کی آپ ﷺ کے لیے حلت اس لیے ہے تاکہ آپ ﷺ کو تنگی محسوس نہ ہو اور آپ ﷺ ان میں سے کسی کے ساتھ نکاح میں گناہ نہ سمجھیں۔
٥١۔٢ یعنی جن بیویوں کی باریاں موقوف کر رکھی تھیں اگر آپ ﷺ چاہیں کہ ان سے بھی مباشرت کا تعلق قائم کیا جائے، تو یہ اجازت بھی آپ ﷺ کو حاصل ہے۔
٥١۔٣ یعنی باری موقوف ہونے اور ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کے باوجود وہ خوش ہوں گی، غمگین نہیں ہوں گی اور جتنا کچھ آپ ﷺ کی طرف سے انہیں مل جائے گا، اس پر مطمئن رہیں گی۔ کیوں؟ اس لیے کہ انہیں معلوم ہے کہ پیغمبر ﷺ یہ سب کچھ اللہ کے حکم اور اجازت سے کر رہے ہیں اور یہ ازواج مطہرات اللہ کے فیصلہ پر راضی اور مطمئن ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو یہ اختیار ملنے کے باوجود آپ ﷺ نے اسے استعمال نہیں کیا اور سوائے حضرت سودہ رضی الله عنہا کے (کہ انہوں نے اپنی باری خود ہی حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے لیے ہبہ کر دی تھی) آپ ﷺ نے تمام ازواج مطہرات کی باریاں برابر برابر مقرر کر رکھی تھیں، اس لیے آپ ﷺ نے مرض الموت میں ازواج مطہرات سے اجازت لے کر بیماری کے ایام حضرت عائشہ رضی الله عنہا کے پاس گزارے ﴿أَنْ تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ﴾ کا تعلق آپ ﷺ کے اسی طرز عمل سے ہے کہ آپ ﷺ پر تقسیم اگرچہ (دوسرے لوگوں کی طرح) واجب نہیں تھی، اس کے باوجود آپ ﷺ نے تقسیم کو اختیار فرمایا، تاکہ آپ ﷺ کی بیویوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں اور آپ ﷺ کے اس حسن سلوک اور عدل و انصاف سے خوش ہو جائیں کہ آپ ﷺ نے خصوصی اختیار استعمال کرنے کے بجائے ان کی دلجوئی اور دلداری کا اہتمام فرمایا۔
٥٢۔٤ یعنی تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، ان میں یہ بات بھی یقیناً ہے کہ سب بیویوں کی محبت دل میں یکساں نہیں ہے۔ کیوں کہ دل پر انسان کا اختیار ہی نہیں ہے۔ اس لیے بیویوں کے درمیان مساوات باری میں، نان و نفقہ اور دیگر ضروریات زندگی اور آسائشوں میں ضروری ہے، جس کا اہتمام انسان کر سکتا ہے۔ دلوں کے میلان میں مساوات چونکہ اختیار ہی میں نہیں ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اس پر گرفت بھی نہیں فرمائے گا بشرطیکہ دلی محبت کسی ایک بیوی سے امتیازی سلوک کا باعث نہ ہو۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے یا اللہ یہ میری تقسیم ہے جو میرے اختیار میں ہے، لیکن جس چیز پر تیرا اختیار ہے، میں اس پر اختیار نہیں رکھتا، اس میں مجھے ملامت نہ کرنا۔ (أبو داود، باب القسم في النساء، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، مسند أحمد ۶ / ۱۴۴)