• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَذَٰلِكَ مَا أَتَى الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّ‌سُولٍ إِلَّا قَالُوا سَاحِرٌ‌ أَوْ مَجْنُونٌ ﴿٥٢﴾
اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس جو بھی رسول آیا انہوں نے کہہ دیا کہ یا تو یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔

أَتَوَاصَوْا بِهِ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ ﴿٥٣﴾
کیا یہ اس بات کی ایک دوسرے کو وصیت کرتے گئے ہیں۔ (١)
٥٣۔١ یعنی ہر بعد میں آنے والی قوم نے اس طرح رسولوں کی تکذیب کی اور انہیں جادوگر اور دیوانہ قرار دیا، جیسے پچھلی قومیں بعد میں آنے والی قوموں کے لیے وصیت کر کے جاتی رہی ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہر قوم نے یہی تکذیب کا راستہ اختیار کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنتَ بِمَلُومٍ ﴿٥٤﴾
(نہیں) بلکہ یہ سب کے سب سرکش ہیں۔ (١) تو آپ ان سے منہ پھیر لیں آپ پر کوئی ملامت نہیں۔
٥٤۔١ یعنی ایک دوسرے کو وصیت تو نہیں کی بلکہ ہر قوم ہی اپنی اپنی جگہ سرکش ہے، اس لیے ان سب کے دل بھی متشابہ ہیں اور ان کے طور اطوار بھی ملتے جلتے۔ اس لیے متاخرین نے بھی وہی کچھ کہا اور کیا جو متقدمین نے کہا اور کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَذَكِّرْ‌ فَإِنَّ الذِّكْرَ‌ىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ ﴿٥٥﴾
اور نصیحت کرتے رہیں یقیناً یہ نصیحت ایمانداروں کو نفع دے گی۔ (۱)
۵۵۔۱ اس لیے کہ نصیحت سے فائدہ انہیں کو پہنچتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں، اس نصیحت سے وہ لوگ یقیناً فائدہ اٹھائیں گے جن کی بابت اللہ کے علم میں ہے کہ وہ ایمان لائیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦﴾
میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں۔ (۱)
۵٦۔۱ اس میں اللہ تعالیٰ کے اس ارادۂ شرعیہ تکلیفیہ کا اظہار ہے جو اس کو محبوب و مطلوب ہے کہ تمام انس و جن صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اطاعت بھی اسی ایک کی کریں۔ اگر اس کا تعلق ارادۂ تکوینی سے ہوتا، پھر تو کوئی انس وجن اللہ کی عبادت و اطاعت سے انحراف کی طاقت ہی نہ رکھتا۔ یعنی اس میں انسانوں اور جنوں کو اس مقصد زندگی کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، جسے اگر انہوں نے فراموش کیے رکھا تو آخرت میں سخت باز پرس ہو گی اور وہ اس امتحان میں ناکام قرار پائیں گے جس میں اللہ نے ان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دے کر ڈالا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مَا أُرِ‌يدُ مِنْهُم مِّن رِّ‌زْقٍ وَمَا أُرِ‌يدُ أَن يُطْعِمُونِ ﴿٥٧﴾
نہ میں ان سے روزی چاہتا ہوں نہ میری یہ چاہت ہے کہ یہ مجھے کھلائیں۔ (١)
٥٧۔١ یعنی میری عبادت و اطاعت سے میرا مقصود یہ نہیں ہے کہ یہ مجھے کما کر کھلائیں، جیسا کہ دوسرے آقاؤں کا مقصود ہوتا ہے، بلکہ رزق کے سارے خزانے تو خود میرے ہی پاس ہیں میری عبادت و اطاعت سے تو خود ان ہی کو فائدہ ہو گا کہ ان کی آخرت سنور جائے گی نہ کہ مجھے کوئی فائدہ ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الرَّ‌زَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ ﴿٥٨﴾
اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں توانائی والا اور زور آور ہے۔

فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذَنُوبًا مِّثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَابِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ ﴿٥٩﴾
پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے انہیں بھی ان کے ساتھیوں کے حصہ کے مثل حصہ ملے گا، (۱) لہذا وہ مجھ سے جلدی طلب نہ کریں۔ (۲)
٥٩۔١ ذَنُوبٌ کے معنی بھرے ڈول کے ہیں۔ کنویں سے ڈول میں پانی نکالا کر تقسیم کیا جاتا ہے اس اعتبار سے یہاں ڈول کو حصے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مطلب ہے کہ ظالموں کو عذاب سے حصہ پہنچے گا، جس طرح اس سے پہلے کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے عذاب کا حصہ ملا تھا۔
٥٩۔۲ لیکن یہ حصۂ عذاب انہیں کب پہنچے گا، یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، اس لیے طلب عذاب میں جلدی نہ کریں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُ‌وا مِن يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ ﴿٦٠﴾
پس خرابی ہے منکروں کو ان کے اس دن کی جس کا وعدہ دیئے جاتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الطور

(سورة الطور مکی ہے اور اس میں انچاس آیتیں ہیں اور دو رکوع ہیں)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَالطُّورِ‌ ﴿١﴾
قسم ہے طور کی۔ (١)
١۔١ طُورٌ وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ عليہ السلام اللہ سے ہم کلام ہوئے۔ اسے طور سینا، بھی کہا جاتا ہے۔ اللہ نے اس کے اسی شرف کی بنا پر اس کی قسم کھائی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ‌ ﴿٢﴾
اور لکھی ہوئی کتاب کی۔ (١)
٢۔١ مَسْطُورٍ کے معنی ہیں۔ مکتوب، لکھی ہوئی چیز۔ اس کے مصداق مختلف بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید، لوح محفوظ، تمام کتب منزلہ یا وہ انسانی اعمال نامے جو فرشتے لکھتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي رَ‌قٍّ مَّنشُورٍ‌ ﴿٣﴾
جو جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں ہے۔ (۱)
٣۔١ یہ متعلق ہے مَسْطُورٍ کے۔ رَقٍّ ، وہ باریک چمڑا جس پر لکھا جاتا تھا۔ مَنْشُورٍ بمعنی مَبْسُوطٍ، پھیلایا کھلا ہوا۔
 
Top