افسوس صد افسوس کی ساتھ ابن داود صاحب کو السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ قابل صد احترام ابن داود صاحب آپ علماء کی دفاع کی فکر میں مصروف ھوگیے مجھے حدیث میں ّعذ ر کا لفظ دکھادو اور بس
عذر پہلی احناف نے نکالا تھا اب ھمارے علماء نے نکالا نبی مھربان صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث میں عذر کا لفظ دکھادو پھر میں ایک لفظ بھی نھی بولونگا آپ کی بات مانونگا
پہلی بات تو یہ ہے کہ ایمانیات میں کم ازکم دو گواہ ہوں تو وہ قابل قبول ہوتی ہے جبکہ یہاں صرف ایک ہی گواہ ہے حضرت ابن عباس
لیکن یہ تو نبی کریم کی وفات کے وقت بھی بارہ سال کے نابالغ بچے تھے اور انکے والد حضرت عباس نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا تھا تو یہ فتح مکہ کے بعد مدینہ شفٹ ہوئے
اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابن عباس ایک تو نابالغ تھے اور دوسرا انہیں نبی کریم کی صحبت کا بہت تھوڑا وقت ہے
مدینہ میں تمام صحابہ نبی کریم کے ساتھ نمازیں ادا کرتے تھے کیا وجہ ہے کہ کسی اور نے یہ بات بیان نہیں کی سب صحابہ نے یہ نمازیں پڑھیں ہوں گیں لیکن انکے علاؤہ کسی نے بیان نہیں کیا
حضرت ابن عباس کا نابالغ ہونا اور اکیلے گواہ ہونا اس کو رد کرنے کے لئے کافی ہے یہ کوئ ایسا کام تو نہیں تھا کہ خفیہ ہوا ہو
حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم کا سفر کا ارادہ ہوتا تھا تو وہ کوچ سے پہلے مدینہ میں بھی نمازیں جمع کرلیا کرتے تھے تو ممکن ہے کوئ ایسا معاملہ ہی ہو نبی کریم کسی سفر پر جانے کا ارادہ رکھتے ہوں مگر بعد میں کینسل ہوگیا ہو
اکیلی اور نابالغ بچے کی گواہی عدالت میں اہم معاملات میں قابل قبول نہیں