• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمع بین الصلاتین کی متعلق روایات میں اھل حدیث علماء کی تاویل

الیاسی

رکن
شمولیت
فروری 28، 2012
پیغامات
425
ری ایکشن اسکور
736
پوائنٹ
86
مفتی عبداللہ اور اعتصام صاحب کے ہوتے ہوئے شیعوں کو اسحاق جھال والا کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم آیۃ المنافق ثلاث اذا حدث کذب واذا وعد اخلف واذا حرب شتم
 
شمولیت
جنوری 19، 2013
پیغامات
301
ری ایکشن اسکور
571
پوائنٹ
86
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم آیۃ المنافق ثلاث اذا حدث کذب واذا وعد اخلف واذا حرب شتم
الیاسی صاحب جب آپ سے دوسرے موضوع میں جواب نہ بن پڑا تو آپ نے اس موضوع میں میرے اوپر ایک عجمی حدیث فٹ کر دی اور مجھے منافق کذاب کہہ دیا ۔ میں اللہ تعالیٰ سے ہی انصاف کا مطالبہ کروں گا ۔جناب میں نے جو بات اوپر والی پوسٹ میں کہی تھی وہ حقیقت پر مبنی تھی آپ نے جو حدیث میرے بارے میں لکھی ہے اس کو میرے پوسٹوں کے تناظر میں ذرا ثابت کریں کہ آپ ان نشانیوں کی وجہ سے منافق ہیں یا پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں آپ نے ایک مسلمان پر منافق ہونے کا الزام لگایا ہے۔
 
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
26
ری ایکشن اسکور
110
پوائنٹ
52
مفتی عبداللہ اور اعتصام صاحب کے ہوتے ہوئے شیعوں کو اسحاق جھال والا کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
مولانا اسحاق صاحب جھال والے۔۔۔۔ان کے بارے زرا تمیز سے بات کریں۔۔۔ہمارے استاد ہیں۔
یہ اہل حدیثوں کا طریقہ ہے؟
ہمیں تو ڈر لگنے لگا ہے آپ لوگ علماء سے بد تمیزی کے بارے میں بھی کوئی "صحیح حدیث" نہ لے آئیں۔
 
شمولیت
جنوری 19، 2013
پیغامات
301
ری ایکشن اسکور
571
پوائنٹ
86
مولانا اسحاق صاحب جھال والے۔۔۔۔ان کے بارے زرا تمیز سے بات کریں۔۔۔ہمارے استاد ہیں۔
یہ اہل حدیثوں کا طریقہ ہے؟
ہمیں تو ڈر لگنے لگا ہے آپ لوگ علماء سے بد تمیزی کے بارے میں بھی کوئی "صحیح حدیث" نہ لے آئیں۔
جناب آپ کا تعارف تا کہ پتا چلے کہ استاد محترم نے تو جو کیا سو کیا اب ان کے شاگرد کیا گل کھلاتے ہیں ۔جنا ب جو بندہ صحابہ پہ طعن کرتا ہے میں اسے استاد تو کیا بندہ ہی نہیں سمجھتا آگے آپ کی مرضی کہ آپ ان کا احترام کریں یا نہ کریں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ۔علماء نہیں علما ء سوء کے لئے کہو ۔
 

گڈمسلم

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
1,407
ری ایکشن اسکور
4,918
پوائنٹ
292
مولانا اسحاق صاحب جھال والے۔۔۔۔ان کے بارے زرا تمیز سے بات کریں۔۔۔ہمارے استاد ہیں۔
یہ اہل حدیثوں کا طریقہ ہے؟
ہمیں تو ڈر لگنے لگا ہے آپ لوگ علماء سے بد تمیزی کے بارے میں بھی کوئی "صحیح حدیث" نہ لے آئیں۔
جو شخص صحابہ کرام﷢ بارے تبرا کرے ایسے شخص کی حیثیت ومقام ہمارے سامنے ایک ذرہ کے برابر بھی نہیں۔ چاہے وہ جتنے جاہ جلال کا مالک ہو۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,634
پوائنٹ
791
جناب آپ کا تعارف تا کہ پتا چلے کہ استاد محترم نے تو جو کیا سو کیا اب ان کے شاگرد کیا گل کھلاتے ہیں ۔جنا ب جو بندہ صحابہ پہ طعن کرتا ہے میں اسے استاد تو کیا بندہ ہی نہیں سمجھتا آگے آپ کی مرضی کہ آپ ان کا احترام کریں یا نہ کریں مجھے اس سے کوئی غرض نہیں ۔علماء نہیں علما ء سوء کے لئے کہو ۔
اور

زبر دست ۔۔۔جزاکم اللہ تعالی احسن الجزاء

صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم پر طعن کرنے والا ۔۔دراصل اللہ کی رضا پر طعن کا مرتکب ہے ،بلکہ تکذیب کا مرتکب ہے ؛
فاعلم أن صحابة رسول الله صلى الله عليه وسلم هم خير هذه الأمة وأفضلها وأبرها ، وقد أثنى الله تعالى عليهم أحسن الثناء ، وأثنى عليهم رسوله صلى الله عليه وسلم ، وأجمع من يعتد بإجماعه من هذه الأمة على حبهم وتوقيرهم ، قال الله تعالى : ( والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم ورضوا عنه وأعد لهم جنات تجري تحتها الأنهار خالدين فيها أبداً ، ذلك الفوز العظيم ). [ التوبة: 100].

فمن سب قوماً هذه فضائلهم ، وهذا ثناء ربهم عليهم ، وثناء رسوله صلى الله عليه وسلم عليهم ، فلا شك أنه مكذب لله ولرسوله صلى الله عليه وسلم ، فيجب أن يعرف ذلك ۔۔
 
شمولیت
اگست 31، 2016
پیغامات
28
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
40
شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728ھ) فرماتے ہیں :سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جس جمع کا ذکر کیا ہے، وہ نہ خوف کی وجہ سے تھی، نہ بارش کی وجہ سے۔
اسی حدیث سے امام احمد رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ خوف اور بارش میں تو بالاولیٰ جمع ہو گی. اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان امور میں نمازوں کو جمع کرنا بالاولیٰ جائز ہے۔ یہ تنبیہ بالفعل کی قبیل سے ہے . جب خوف، بارش اور سفر کے بغیر جو مشقت ہوتی ہے، اس مشقت کو ختم کرنے کے لیے دو نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے، تو ان اسباب کی مشقت کو ختم کرنا تو بالاولیٰ جائز ہو گا، لہٰذا خوف، بارش اور سفر کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنا دیگر امور کی بنا پر جمع کی نسبت زیادہ جائز ہو گا۔
[مجموع الفتاوي: 76/24 ]
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
43
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
16
پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر نبی کریم نے ایسی نماز پڑھائی ہو تو کیا اکیلے حضرت ابن عباس نے پڑھی تھی کسی اور نے یہ بیان نہیں کیا نہ تصدیق کی
ایمانیات میں کم ازکم دو گواہ ہوں تو بات قابل قبول ہوتی ہے

جبکہ حضرت ابن عباس اکیلے گواہ ہیں اسلئے انکی گواہی رد ہے
دوسری بات یہ ہے کہ وہ نبی کریم کی وفات کے وقت تقریبا بارہ سال کے نابالغ بچے تھے اور انکے والد حضرت عباس نے تو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا تھا اسلئے انہیں نبی کریم کی صحبت کا بہت کم وقت ملا اور وہ بھی بچپن ہی تھا جب کوئ خاص سمجھ نہیں ہوتی

نبی کریم کا طریقہ تھا کہ کسی سفر پر نکلنا ہو تو نمازیں مدینہ میں بھی جمع کرلیتے تھے پھر سفر پر نکلتے تھے
ہوسکتا ہے سفر کا ارادہ ہو مگر پھر ارادہ بدل گیا ہو
لیکن پھر بھی نبی کریم کے پیچھے پورا مدینہ نمازیں پڑھتا تھا تو اکیلے حضرت ابن عباس کی روایت قابل قبول کیسے ہوسکتی ہے جبکہ کسی اور نے اسے روایت نہیں کیا کم ازکم ایک دو بندے اور بھی اسے بیان کردیتے کیونکہ یہ کوئ عام معمول والی بات تو نہیں تھی

یہ اکیلی روایت عدالت میں گواہی کی شرائط پر پوری نہیں اترتی کم ازکم دو گواہ لائیں جبکہ گواہ بھی اس وقت نابالغ تھا
 

Abu Hashir

مبتدی
شمولیت
فروری 06، 2025
پیغامات
43
ری ایکشن اسکور
6
پوائنٹ
16
افسوس صد افسوس کی ساتھ ابن داود صاحب کو السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ قابل صد احترام ابن داود صاحب آپ علماء کی دفاع کی فکر میں مصروف ھوگیے مجھے حدیث میں ّعذ ر کا لفظ دکھادو اور بس
عذر پہلی احناف نے نکالا تھا اب ھمارے علماء نے نکالا نبی مھربان صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث میں عذر کا لفظ دکھادو پھر میں ایک لفظ بھی نھی بولونگا آپ کی بات مانونگا

پہلی بات تو یہ ہے کہ ایمانیات میں کم ازکم دو گواہ ہوں تو وہ قابل قبول ہوتی ہے جبکہ یہاں صرف ایک ہی گواہ ہے حضرت ابن عباس

لیکن یہ تو نبی کریم کی وفات کے وقت بھی بارہ سال کے نابالغ بچے تھے اور انکے والد حضرت عباس نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا تھا تو یہ فتح مکہ کے بعد مدینہ شفٹ ہوئے
اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابن عباس ایک تو نابالغ تھے اور دوسرا انہیں نبی کریم کی صحبت کا بہت تھوڑا وقت ہے

مدینہ میں تمام صحابہ نبی کریم کے ساتھ نمازیں ادا کرتے تھے کیا وجہ ہے کہ کسی اور نے یہ بات بیان نہیں کی سب صحابہ نے یہ نمازیں پڑھیں ہوں گیں لیکن انکے علاؤہ کسی نے بیان نہیں کیا

حضرت ابن عباس کا نابالغ ہونا اور اکیلے گواہ ہونا اس کو رد کرنے کے لئے کافی ہے یہ کوئ ایسا کام تو نہیں تھا کہ خفیہ ہوا ہو

حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم کا سفر کا ارادہ ہوتا تھا تو وہ کوچ سے پہلے مدینہ میں بھی نمازیں جمع کرلیا کرتے تھے تو ممکن ہے کوئ ایسا معاملہ ہی ہو نبی کریم کسی سفر پر جانے کا ارادہ رکھتے ہوں مگر بعد میں کینسل ہوگیا ہو

اکیلی اور نابالغ بچے کی گواہی عدالت میں اہم معاملات میں قابل قبول نہیں
 
Top