محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
یٰٓاَیُّھا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْا اَمَانَاتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (انفال:27)
اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی امانت میں خیانت نہ کرو۔ اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، اور تم تو خیانت کے وبال سے واقف ہو۔
اس کے بعد ہی فرمایا۔
وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا اَمْوالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاَنَّ اللہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
اور ذہن نشین رکھو کہ تمہارے مال، اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہے۔ اور نیز یہ کہ اللہ وہ ذات ہے کہ اس کے ہا ں بڑا اجر موجود ہے۔ (انفال:28)
اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے فرما یا کہ بسا اوقات آدمی اپنے بچے اور غلام سے محبت کی وجہ سے ملک کے کسی حصہ کی ولایت {یعنی گورنری اسے} دے دیتا ہے، اور غیر مستحق کو حکومت دے دیتا ہے تو یقینا وہ امانت ِ الٰہی میں خیانت کرتا ہے۔ اسی طرح وہ مال کی کثرت وفراوانی کو پسند کرتا ہے، اس کو محفوظ کرنے کے لیے غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیتا ہے اور وہ خواہ مخواہ {لوگوں سے بھتہ وغیرہ کی شکل میں} مال وصول کرتے ہیں۔ یا بعض اقلیموں {صوبوں، ریاستوں اور جاگیروں} کے والیوں {وزیروں} اور حاکموں کو وہ ایسا پاتا ہے کہ وہ مداہنت {سستی و کمزوری، بے عملی} اور چاپلوسی کرتے ہیں مگر یہ ان سے ڈرتا ہے اور ان کو اپنے سے دور رکھنا چاہتا ہے، اس لیے {ایسے} غیر مستحق کو حقدار {یعنی حاکم و افسر وغیرہ} بنا کر بھیج دیتا ہے، تویہ آدمی یقینا اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے خیانت کرتا ہے، اور اس امانت (یعنی حکومت) میں خیانت کرتا ہے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔
اور پھر یہ کہ امانتدار (یعنی بااختیار افسر یا حاکم) اگر اپنی خواہش اور ھواء {یعنی غلط چاہت} کی مخالفت کرے اور اللہ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اُسے ثابت قدم رکھتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کے اہل و عیال اور مال کی اس کے بعد بھی حفاظت کرتا ہے، اور جو آدمی اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے، اور اس کے مقصد اور ارادوں کو توڑ دیتا ہے، اسکی اہل و عیال کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیتا ہے، اور اس کا وہ سارا مال {ضائع} چلا جاتا ہے۔
اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی امانت میں خیانت نہ کرو۔ اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو، اور تم تو خیانت کے وبال سے واقف ہو۔
اس کے بعد ہی فرمایا۔
وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا اَمْوالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاَنَّ اللہَ عِنْدَہٗ اَجْرٌ عَظِیْمٌ
اور ذہن نشین رکھو کہ تمہارے مال، اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہے۔ اور نیز یہ کہ اللہ وہ ذات ہے کہ اس کے ہا ں بڑا اجر موجود ہے۔ (انفال:28)
اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے فرما یا کہ بسا اوقات آدمی اپنے بچے اور غلام سے محبت کی وجہ سے ملک کے کسی حصہ کی ولایت {یعنی گورنری اسے} دے دیتا ہے، اور غیر مستحق کو حکومت دے دیتا ہے تو یقینا وہ امانت ِ الٰہی میں خیانت کرتا ہے۔ اسی طرح وہ مال کی کثرت وفراوانی کو پسند کرتا ہے، اس کو محفوظ کرنے کے لیے غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیتا ہے اور وہ خواہ مخواہ {لوگوں سے بھتہ وغیرہ کی شکل میں} مال وصول کرتے ہیں۔ یا بعض اقلیموں {صوبوں، ریاستوں اور جاگیروں} کے والیوں {وزیروں} اور حاکموں کو وہ ایسا پاتا ہے کہ وہ مداہنت {سستی و کمزوری، بے عملی} اور چاپلوسی کرتے ہیں مگر یہ ان سے ڈرتا ہے اور ان کو اپنے سے دور رکھنا چاہتا ہے، اس لیے {ایسے} غیر مستحق کو حقدار {یعنی حاکم و افسر وغیرہ} بنا کر بھیج دیتا ہے، تویہ آدمی یقینا اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے خیانت کرتا ہے، اور اس امانت (یعنی حکومت) میں خیانت کرتا ہے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔
اور پھر یہ کہ امانتدار (یعنی بااختیار افسر یا حاکم) اگر اپنی خواہش اور ھواء {یعنی غلط چاہت} کی مخالفت کرے اور اللہ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اُسے ثابت قدم رکھتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کے اہل و عیال اور مال کی اس کے بعد بھی حفاظت کرتا ہے، اور جو آدمی اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے، اور اس کے مقصد اور ارادوں کو توڑ دیتا ہے، اسکی اہل و عیال کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیتا ہے، اور اس کا وہ سارا مال {ضائع} چلا جاتا ہے۔