محمد آصف مغل
سینئر رکن
- شمولیت
- اپریل 29، 2013
- پیغامات
- 2,677
- ری ایکشن اسکور
- 4,008
- پوائنٹ
- 436
قانون
رسول اللہ ﷺ نے جس انداز سے اسلام کو اس دنیا میں نافذ کیا، اس طریقہء کار کی پانچویں چیز سیکورٹی اور انٹیلی جنس ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو اچھی طرح علم تھا کہ جس قوم یا تنظیم کی اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس نہیں ہوتی اس قوم یا تنظیم کو بہت جلد مختلف حصوں میں بڑی آسانی سے توڑا جا سکتا ہے۔ اس کے لوگوں کو منحرف کیا جا سکتا ہے، ان کے اندر ہی سے ان کے قائد/ لیڈر وغیرہ کے مخالف لوگ تیار کیے جا سکتے ہیں جو آگے چل کر اس کام کرنے والے شخص کے ’’ہاتھ پاؤں‘‘ کاٹ ڈالتے ہیں۔ اور مقصد ادھورے کا ادھورہ رہ جاتا ہے۔ آج جہاد کا کام کرنی والی جماعتوں کی سب سے بڑی غلطی ہی یہ ہے کہ انہوں نے نعرئہ اسلام کو بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کے قیمتی خون کو مختلف جگہوں پر شہادت کے نام پر بہا تو دیا لیکن رسول اللہ ﷺ کی اختیار کی ہوئی حکمت عملی کو اختیار نہ کیا حتی کہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کا شعبہ بھی ’’ان دیکھے ہاتھوں‘‘ میں دے رکھا ہے۔ جب صورتِ حال ایسی ہو تو لاکھوں ’’شہادتیں‘‘ حاصل کرنے کے بعد بھی ’’اسلام‘‘ بلند نہیں ہوا کرتا۔ اسی لئے تو رسول اکرم ﷺ نے اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس بنائی۔سیکورٹی اور انٹلیجنس کی مختلف تعریفات کا لب لباب اور مفہوم یہ ہے کہ سیکورٹی اور انٹلیجنس ایسے قواعد و ضوابط اور اسالیب کا مجموعہ ہے جو کسی جماعت کے مخفی /چھپے ہوئے رموز و اسرار، منصوبوں اور عملیات (کاروائیوں) کی دشمن سے حفاظت کی ضامن بن سکیں۔ اور جن کو ملحوظ خاطر رکھنے سے جماعت کے منصوبوں اور کاروائیوں میں نقصان کم سے کم ہو۔
یہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس ہی کا کمال تھا کہ پورا عرب لاکھوں کروڑوں کی آبادی مل کر بھی ’’ریاست مدینہ‘‘ کی چھوٹی سی آبادی پر شب خون مار کر اسے تاخت و تاراج نہیں کر سکی۔ حالانکہ یہ ریاست اندرونی سازشوں سے بھی گھری ہوئی تھی۔ کیا آج اہل حق کسی تنظیم، جماعت یا قوم میں اسلامی طرزِ سیکورٹی اور انٹیلی جنس موجود ہے؟
اہل حق کے ’’اہل علم‘‘ جب تک رسول اللہ ﷺ کے اُسوئہ حسنہ سے سیکورٹی اور انٹیلی جنس کا مطالعہ کر کے اس پر عمل نہیں کریں گے، ’’حق‘‘ اس دنیا میں بیان بھی نہیں کر سکیں گے۔یاد رکھیے! جو قوم اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس قائم کر لیتی ہے درحقیقت وہ اپنی ’’حکومت‘‘ کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار