• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکمران بیورو کریسی اور عوام ۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب السیاسۃ الشرعیہ کی تفہیم

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
قانون
ہجرت نبوی ﷺ کے بعد مسلمانوں کی آبادی و کالونی میں سب سے پہلا کام جو کرنے کا تھا وہ قانون کا مرحلہ تھا۔ قربان جائیے محمد رسول اللہ ﷺ کی فراست پر کہ آپ ﷺ نے نہ صرف اسلامی قانون مسلمانوں پر نافذ کرنے کی راہ ہموار کی بلکہ یہود و نصاری اور دیگر کافروں سے بھی یہ منوا لیا کہ ’’مسلمانوں کی آبادی‘‘ میں رہنے والے تمام لوگ فیصلہ کروائیں گے تو محمد رسول اللہﷺ سے اور آپ ﷺ فیصلہ جو فیصلہ کریں گے وہ آسمانی ہدایت یعنی اسلام کے مطابق کریں گے۔ ملاحظہ ہو میثاقِ مدینہ کی آخری شق جس میں تمام کافر اور مسلمان اللہ کے قانون کے پابند بنا دیئے گئے۔ کیا آج ’’اہل حق‘‘ نے ایسی کوئی کوشش کی ہے؟ کیا انہوں نے آج اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا اور کروانا دیگر مذاہب کے لوگوں سے منوا لیا ہے؟ یا کم از کم اپنے تنازعات کا فیصلہ اسلامی قانون کے مطابق کروا رہے ہیں؟ جواب نفی میں ہے بلکہ فیصلہ کروانے کے لئے اُن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں طاغوت کہا ہے۔ اس ضمن میں سورہ نساء کی آیات 58 تا 60کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
سیکورٹی اور انٹیلی جنس​

سیکورٹی اور انٹلیجنس کی مختلف تعریفات کا لب لباب اور مفہوم یہ ہے کہ سیکورٹی اور انٹلیجنس ایسے قواعد و ضوابط اور اسالیب کا مجموعہ ہے جو کسی جماعت کے مخفی /چھپے ہوئے رموز و اسرار، منصوبوں اور عملیات (کاروائیوں) کی دشمن سے حفاظت کی ضامن بن سکیں۔ اور جن کو ملحوظ خاطر رکھنے سے جماعت کے منصوبوں اور کاروائیوں میں نقصان کم سے کم ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے جس انداز سے اسلام کو اس دنیا میں نافذ کیا، اس طریقہء کار کی پانچویں چیز سیکورٹی اور انٹیلی جنس ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو اچھی طرح علم تھا کہ جس قوم یا تنظیم کی اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس نہیں ہوتی اس قوم یا تنظیم کو بہت جلد مختلف حصوں میں بڑی آسانی سے توڑا جا سکتا ہے۔ اس کے لوگوں کو منحرف کیا جا سکتا ہے، ان کے اندر ہی سے ان کے قائد/ لیڈر وغیرہ کے مخالف لوگ تیار کیے جا سکتے ہیں جو آگے چل کر اس کام کرنے والے شخص کے ’’ہاتھ پاؤں‘‘ کاٹ ڈالتے ہیں۔ اور مقصد ادھورے کا ادھورہ رہ جاتا ہے۔ آج جہاد کا کام کرنی والی جماعتوں کی سب سے بڑی غلطی ہی یہ ہے کہ انہوں نے نعرئہ اسلام کو بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کے قیمتی خون کو مختلف جگہوں پر شہادت کے نام پر بہا تو دیا لیکن رسول اللہ ﷺ کی اختیار کی ہوئی حکمت عملی کو اختیار نہ کیا حتی کہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کا شعبہ بھی ’’ان دیکھے ہاتھوں‘‘ میں دے رکھا ہے۔ جب صورتِ حال ایسی ہو تو لاکھوں ’’شہادتیں‘‘ حاصل کرنے کے بعد بھی ’’اسلام‘‘ بلند نہیں ہوا کرتا۔ اسی لئے تو رسول اکرم ﷺ نے اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس بنائی۔

رسول اللہ ﷺ مدینہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں لیکن باخبر ہیں کہ مکہ سے شام جانے والے قافلے اس وقت کہاں کہاں سے گذر رہے ہیں؟ قافلوں میں کتنے افراد ہیں؟ کتنی سواریاں ہیں؟ حفاظت کے کیا کیا سامان ہیں؟ ان کا لیڈر کون ہے؟ کیا کیا مال و دولت ان کے پاس ہے؟ واپس کب آنا ہے؟ کس راستے سے آنا ہے؟ کیا کیا چیزیںلے کر واپس آنا ہے؟ اسی طرح مکہ اور طائف کے درمیان میں کیا کیا نقل و حمل ہے؟ کیا کیا معاہدات ہو رہے ہیں؟ کیا کیا چیزیں رصد کے طور پر پہنچائی جا رہی ہیں؟ اور جب مکہ والوں نے یہ دونوں راستے غیر محفوظ سمجھ کر اپنے قافلے شام پہنچانے کے لیے ’’شام براستہ عراق‘‘ کا سفر اختیار کیا تو وہاں بھی رسول اللہ ﷺ کی سیکورٹی اور انٹیلی جنس حرکت میں تھی۔

یہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس ہی کا کمال تھا کہ پورا عرب لاکھوں کروڑوں کی آبادی مل کر بھی ’’ریاست مدینہ‘‘ کی چھوٹی سی آبادی پر شب خون مار کر اسے تاخت و تاراج نہیں کر سکی۔ حالانکہ یہ ریاست اندرونی سازشوں سے بھی گھری ہوئی تھی۔ کیا آج اہل حق کسی تنظیم، جماعت یا قوم میں اسلامی طرزِ سیکورٹی اور انٹیلی جنس موجود ہے؟
یاد رکھیے! جو قوم اپنی سیکورٹی اور انٹیلی جنس قائم کر لیتی ہے درحقیقت وہ اپنی ’’حکومت‘‘ کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
اہل حق کے ’’اہل علم‘‘ جب تک رسول اللہ ﷺ کے اُسوئہ حسنہ سے سیکورٹی اور انٹیلی جنس کا مطالعہ کر کے اس پر عمل نہیں کریں گے، ’’حق‘‘ اس دنیا میں بیان بھی نہیں کر سکیں گے۔

جن لوگوں کو ’’کافر‘‘ کہا جاتا ہے، یا جنہیں ’’کافر‘‘ قرار دلوانے کے لئے منظم تحریک چلائی گئی اور قانوناً انہیں ’’کافر‘‘ قرار دلوایا گیا، آج تمام کی تمام سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے مالک یہی لوگ ہیں۔ ایک طرف حال یہ ہے کہ ہر ’’کافر‘‘ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی خدمات انجام دے رہا ہے جبکہ دوسری طرف ’’اہل حق‘‘ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کے اداروں مثلاً پولیس، فوج وغیرہ وغیرہ کی نوکری ہی کے مخالف ہیں۔ اور جو لوگ اتفاقاً ایسے اداروں میں موجود ہیں اُنہیں اپنے آپ کو ’’اہل حق‘‘ کہلوانا بھی کسی اذیت سے کم نہیں، نہ تو وہ ’’بیچارے‘‘ اپنے پلیٹ فارم پر حق بات کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی ’’اہل حق‘‘ کی مدد کر سکتے ہیں۔

کیا آج کوئی اہل حق ’’اہل علم‘‘ ایسا کام کرنے کے لئے تیار ہے؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر انتظار کیجئے کہ چند اسلامی آداب پر عمل کرنے سے بھی عنقریب آپ کو روک دیا جائے گا۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
قوت و جہاد فی سبیل اللہ

رسول اکرم ﷺ نے چھٹی نمبر پر جو چیز حاصل کی تھی وہ ’’قوت اور جہاد فی سبیل اللہ‘‘ تھی۔ اپنی بنائی ہوئی ’’قوت‘‘ ہی ’’قوت‘‘ ہوتی ہے، مستعار لی ہوئی ’’قوت‘‘ قوت نہیں ہوا کرتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ میں کلاشنکوف رکھتا ہے تو بہت سے لوگ اس سے اُس وقت تک خوف کھاتے رہیں گے جب تک اُس کے ہاتھ میں کلاشنکوف کے اندر گولی موجود ہے۔ لیکن جونہی اُس کی کلاشنکوف کی گولیاں ختم ہوئیں، اُس کی ساری کی ساری ’’قوت‘‘ ختم ہو گئی۔ بس یہی نقطہ اللہ رب العزت نے کچھ یوں سمجھایا ہے:

وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَ عَدُوَّکُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ لَا تَعْلَمُوْنَھُمُ اَللہُ یَعْلَمُھُمْ
اور جہاں تک ہو سکے قوت (ونشانہ بازی)سے اور گھوڑوں کے تیار رکھنے سے اُن کے (مقابلے کے) لئے مستعد رہو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور ان کے سوا اور لوگوں پر جن کو تم نہیں جانتے اور اللہ جانتا ہے ہیبت بیٹھی رہے گی۔ (الانفال:60)

یعنی جتنی بھی زیادہ سے زیادہ تم اپنی قوت و طاقت تیار کر سکتے ہو وہ ضرور کرو۔ کیونکہ مستعار لی ہوئی قوت ’’قوت‘‘ نہیں ہوا کرتی۔

اگر ’’اہل حق‘‘ کا ہر شخص دوپہر کا کھانا نہ کھائے اور یہی پیسہ ’’قوت‘‘ کے حصول اور تیاری میں صرف کر دے تو اللہ رحمن و رحیم چند ہی دنوں میں انہیں اس قابل بنا دے گا کہ یہ دنیا میں اسلام نافذ کر سکیں۔ کیا آج اہل حق اس کام کے لئے تیار ہیں؟ اگر تیار ہیں تو پھر دیر کس بات کی؟ اللہ پر بھروسہ کریں۔ کیونکہ جو شخص اور قوم اللہ پر بھروسہ کرتی ہے، اللہ تعالیٰ اُسے بہت پسند کرتا ہے۔ اور اُس کی ہر حاجت پوری فرما دیتا ہے۔

اب جب اپنی قوت بنا لی جائے تو اُسے اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے استعمال کرنا ہی دراصل ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے۔ اور جس قوم کی اپنی بنائی ہوئی ’’قوت‘‘ موجود نہیں ہوتی تو ازروئے قرآن وہ قوم ذلت اور معاشی تنگدستی میں گھر جایا کرتی ہے۔ اور اپنی شناخت بھی کھو دیتی ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
دولت کی منصفانہ تقسیم​

اب ساتویں چیز جو کہ اَمارتِ اسلامیہ قائم ہونے کے بعد سب سے زیادہ توجہ کی مستحق ہے وہ دولت کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اس کے متعلق شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ a نے اپنی اسی کتاب میں بہت ہی عمدہ اور مفصل بحث کی ہے۔

چنانچہ اسی پر اکتفا کرتے ہوئے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ مالک الملک، ذوالجلال والاکرام ہماری اس سعی کو مقبول و منظور فرمائے اور اسے ہر خاص و عام کے لیے نفع مند اور توشہء آخرت بنائے آمین۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعا ہے کہ اللہ احکم الحاکمین اس کتاب کو میٹرک و کالج کے طلبہ و طالبات کے نصاب میں شامل کروا دے تاکہ اُن کی ذہنی صلاحیتوں کو جلا مل سکے اور اُن کی تمام تر سعی و کوشش اِسلام کو دُنیا میں نافذ کرنے میں صرف ہو سکے۔ اُن کے ہر اُٹھنے والے قدم سے دین اسلام دنیا میں مضبوط ہو اور کفر نیچا ہو جائے۔ ہم یہ بھی دُعا کرتے ہیں کہ اے حیات و موت کے پیدا کرنے والے! تو ہمیں اُس وقت تک ’’شہادت‘‘ کی بھی موت نہ دے جب تک تیرا دین ہمارے ہاتھوں تیری دُنیا میں نافذ نہ ہو جائے۔ اور جب دین نافذ ہو جائے تو ہمیں اس دُنیا میں رہنے کی کوئی خواہش نہیں۔ بس اُسی لمحے ’’شہادتِ حمزہ رضی اللہ عنہ ‘‘ جیسی شہادت کی موت عطا فرما دے۔ آمین یارب العالمین۔

ابن ابراہیم (ابوعبداللہ محمد آصف مغل)​
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
مقدمہ ازمصنف​

ہمارے شیخ ہمارے قائد و راہنما، ہمارے امام، عالم وعامل، صدر کامل، بیشمار فضائل کے حامل، کہ جن کے حصرواحصاء اور شمار کرنے سے بڑے بڑے علمائ، فضلاء قاصر ہیں اور دشمن بھی اس کی شہادت دیتے ہیں۔ اور وہ ابوالعباس احمد ابن علامہ شہاب الدین عبدالحلیم ابن علامہ امام ابوالبرکات عبدالسلام بن عبداللہ بن ابوالقاسم ابن تیمیہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے، زندگی میں برکت عطا فرمائے اور مسلمانوں کو ان کے علمی فیوض سے مستفیض فرمائے، فرماتے ہیں:

الحمدللہ! کہ جس نے اپنے رسولوں، پیغمبروںکو واضح بینات دے کر بھیجا، اور ان رسولوں، پیغمبروں کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری، تاکہ لوگ سیدھی، مستقیم اور عدل وانصاف کی راہ پر لگ جائیں، اور لوہا اتاراجس میں بأس شدید، سخت ترین خوف، اور لوگوں کے لیے بے شمار منافع موجود ہیں، اور اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ کس کی نصرت و امداد کرنی چاہئیے، اور کس کو رسالت وپیغمبری دینا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ ہی قوی، عزیز اور غالب ہے اور اسی نے نبی کریم محمدﷺ پر رسالت و نبوت ختم کر دی۔ نبی کریمﷺ کی ذات گرامی کو رشدو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ تمام ادیان ومذاہب پر اس دین کو غالب کر کے چھوڑیں۔ اور اس کی تائید و نصرت کے لیے ایک ایسا سلطان و نصیر،علم و قلم، رشد و ہدایت، حجت و دلیل، قدرت و قوت اور اقتدار و سطوت اور شمشیر و تلوار دی جو عزت و غلبہ کی کفیل ہے۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جو وحدہ لاشریک ہے، اس کا کوئی شریک و حصہ دار نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ رحمت اتارے اللہ تعالیٰ ان پر، ان کے صحابہ ] پر، اور سلامتی ان پر بے حدوبے شمار، یہ ایسی شہادت ہے کہ شہادت دینے والا ہمیشہ ہمیش کے لیے اللہ کی حرز و حفاظت میں ہو جاتا ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
وجہ تصنیف
اما بعد! یہ مختصر سا رسالہ ہے جو سیاست الٰہیہ، نیابت نبوت کا جامع ہے، جس سے راعی و رعیت، حاکم و محکوم کسی حال میں مستغنی اور بے پرواہ نہیں ہو سکتا۔ مقصد یہ ہے کہ وُلاۃِ امور {حکام} والیانِ ملک کو جو نصیحت اللہ تعا لیٰ نے واجب لازم اور ضروری قرار دی ہے وہ کی جائے جیسا کہ رسول اللہ ﷺکا ارشاد ہے جو بیشمار طریقوں سے مروی اور ثابت ہے ،اور وہ یہ ہے:

اِنَّ اللہَ یَرْضٰی لَکُمْ ثَلَاثَۃً اَنْ تَعْبُدُوْہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئًا وَاَنْ تَعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَاتَفَرَّ قُوْا. وَاَنْ تَنَا صَحُوْامَنْ وَّلَاہُ اللہُ اَمْرَکُمْ1
اللہ تعالیٰ تین چیزوں سے تم سے راضی ہے ایک یہ کہ اللہ تعا لیٰ ہی کی عبادت کیا کرو، اور کسی کو اس کا شریک نہ بنا ؤ۔ اور سب مل کر حبل اللہ کو مضبو ط تھامے رہو اور گروہ گروہ نہ بن جاؤ، اور ان لوگوں کو نصیحت کرتے رہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہا رے امور کا والی اور حاکم بنایا ہے۔

اس رسالہ (کتاب) کی بنیاد کتاب اللہ کی اس آیت پر ہے :

اِنَّ اللہَ یَأ مُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمَانَاتِ اِلٰٓی اَھْلِھَاط وَاِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بہٖ اِنَّ اللہَ کَانَ سَمِیْعًا بَصِیْرًاo یَٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْل وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیٍٔ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللہِ وَا لرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْم الْاٰخِرِذَالِکَ خَیْرٌوَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلاً(النساء:9-8)

مسلمانو! اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کر دیا کرو، اور جب لوگوں کے جھگڑوں کے فیصلے کرنے لگو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، اللہ جو تم کو نصیحت کرتا ہے تمہارے حق میں بہت اچھی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یقینا اللہ سب کی سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے، مسلما نو! اللہ کا حکم ما نو، اور رسول کا حکم ما نو، اور جو تم میں سے صاحب ِ اختیار ہیں انکا بھی، پھر اگر کسی معاملہ میں تم آپس میں اختلاف میں پڑ جاؤ تواللہ اور روزِ آخرت پر ایما ن لانے کی شرط یہ ہے کہ اس امر میں اللہ اور رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو، یہ تمہارے اپنے حق میں بہتر ہے اور نتیجہ کے اعتبار سے تو ہے ہی بہت اچھا۔

علما ء شریعت کا قول ہے کہ پہلی آیت یعنی اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ … الخ ولاۃ امور، والیانِ ملک امراء وحکام کے متعلق نا زل ہوئی ہے، کہ یہ لوگ اما نتیں ان کے اہل اور حقداروں تک پہنچائیں جب کوئی حکم کریں اور فیصلہ دیں تو عدل و انصاف کریں۔ دوسری آیت یعنی:

اَطِیْعُوااللہَ وَاَطِیْعُوا الرَّ سُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ …(الخ)
عوام اور عوام الناس کے مختلف شعبوں وغیرہ کے متعلق ہے کہ وہ اپنے اولی الامر (افسرانِ بالا) کی اطاعت کریں جو اس کا م کو انجام دے رہے ہیں۔ اور تقسیم اور جنگ کے احکامات جاری کر رہے ہیں۔ اور غزوات {جہاد و قتال} وغیرہ میں کام کر رہے ہیں۔ ہاں اس حکم کی پیروی نہ کریں جس میں اللہ تعا لیٰ کی نافرمانی ہوتی ہو۔ جب کبھی معصیت ِالٰہی اور اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو قطعاً اطاعت و پیروی نہ کریں کیونکہ اس بارے میں حدیث ِنبوی وارد ہے:

لاَ طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ.
جس معاملہ میں خالق کی معصیت و نا فر ما نی ہوتی ہو اس میں مخلوق کی اطا عت جائزنہیں۔

پس جب کسی معا ملہ میں آ پس میں تنازع ہو جائے، تو کتا ب و سنت کی طرف لوٹا دیں، اگر یہ لوگ ایسا نہیں کرتے کہ باہمی تنازع کو کتا ب وسنت کی طرف لوٹائیں تو والیانِ ملک {حاکم وقت} کا فرض ہے کہ وہ اس آیت کے مطا بق عمل کریں، اور حکم الٰہی کی تعمیل کریں۔ کیونکہ اللہ کا فرما ن ہے:

وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ (المائدۃ:2)
اور نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کے مددگار ہو جایا کرو اور گنا ہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کے مددگار نہ بنو ۔

اس آیت پر عمل کرنے سے اطاعت الٰہی اور اطاعت ِ رسول ﷺ ہو گی۔ اور ان کے حقوق بھی پوری طرح ادا ہو جا ئیں گے۔

آیت بالا کے اندر امانت کی ادائیگی اور حق داروں کے حقوق ان تک پہنچانے کا حکم کیا گیا ہے، تو اداء ِامانت اور ادائِ امانت میں عدل و انصاف یہی دو چیزیں، سیاست عادلہ (یعنی شرعی اصولوں پر مبنی سیاست) اور ولایت صالحہ (نیک حکمران) اور (اللہ کے ہاں قابل قبول) اسلامی حکو مت کا اصل مقصد ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
نوٹ:

امانت کی دو قسمیں ہیں، ایک تو لوگوں پر (سول ، پولیس، اور فوجی) حکام مقرر کرتے وقت بہترین صلاحیتوں (مثلاً: اللہ سے ڈرنے والے اور انتظامی اُمور کو سمجھنے اور بہترین طریقے سے انہیں ادا کرنے) کے حامل افراد کو (اقرباء پروری سے بچتے ہوئے) عدل و انصاف کے ساتھ مقرر کرنا اور دوسرا لوگوں تک ان کی معیشت یعنی مال و دولت کی منصفانہ تقسیم کرنا۔ چنانچہ کتاب کے پہلے چار ابواب (Chapters) میں لوگوں پر حکام و عُمال (مثلاً: پولیس افسران، فوجی افسران، بینک افسران، ریلوے افسران، ہوائی جہازوں کے افسران، جج یعنی قاضی، اور ان کے ماتحت عملہ، اسی طرح اسکول ٹیچر، لیکچرار، پروفیسرز، اور ان کا ماتحت عملہ، مؤذن، امام، خطیب اور خادمِ مسجد وغیرہ) مقرر کرنے کے سلسلے میں رقم کئے گئے ہیں۔ جبکہ بعد میں مال و دولت کی تقسیم والی امانت کے متعلق بحث کی گئی ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
بِسْمِ اللّٰہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط



باب:1
حاکم وغیرہ کی پہچان اور حاکم بننے کا مستحق کون ہے؟

حاکم (مثلاً صدر، وزیر اعظم، وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ، چیف جسٹس، آئی جی پولیس، چیف آف آرمی، نیوی اور ائیر اسٹاف، جوائنٹ چیف آف اسٹاف) بننے کا مستحق کون ہے؟ نا ئبین (مثلاً نائب صدر، نائب وزیر اعظم، ڈی آئی جی پولیس، اور سیکرٹری (خارجہ و داخلہ، مالیات، ہوم سیکرٹری)، نائبین سلطان (صوبائی گورنرز، وزیر اعلیٰ، گورنر بینک دولت، وزراء اعلیٰ اور محکمہ جاتی وزراء) عدلیہ اور جج (ہائی کورٹس کے چیف جسٹس، ماتحت عدالتوں کے جج اور جج ریڈرز) سپہ سالار فوج (وائس چیف آف آرمی، نیوی اور ائیر اسٹاف) چھوٹے بڑے حکام (مثلاً ڈی،سی۔ اے،سی، مجسٹریٹ، کمشنر، کسٹم حکام اور ٹیکس افسران)۔ والیان اموال (صنعت و تجارت کے وزراء، بینک افسران) منشیان (گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین) وزارتِ خراج (جو پاکستان میں نہیں) صدقات وزکاۃ وصول کرنے والے (جو پاکستان میں ناقابل عمل ہے) نقیب (ناظمین اور ناظمین اعلیٰ) اور دیگر منتخب نمائندے وغیرہ بنائے جانے کے مستحق کون ہیں۔

امانتیں ادا کرنے کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ’’حکومت‘‘ اور ’’حاکم وقت‘‘ ہے، آیت مذکورہ کے نزول کا یہی سبب ہے، ر سول اللہ ﷺ نے جب مکہ فتح کیا تو کعبۃ اللہ کی چابیاں آپ نے بنی شیبہ سے لے لیں۔ آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے طلب کیں کہ یہ چابیاں مجھے دے دی جائیں تاکہ حاجیوں کو پانی پلوانے کیساتھ ساتھ خانہ کعبہ کی خدمت بھی اپنے لیے مخصوص کر لیں، اللہ تعالیٰ کو یہ ناگوار ہوا اور یہ آیت نازل فرمائی اور کعبۃ اللہ کی چابیاں بنی شیبہ کو واپس دینے کا حکم ہوا۔ پس حاکم وقت کا یہ فرض ہے کہ مسلمانوں کا ہر کام اُنہی کو سپرد کریں جو اُس کام کے لیے اصلح یعنی {اللہ سے ڈرنے والے اور انتظامی اُمور کو سمجھنے اور بہترین طریقے سے اُنہیں ادا کرنے والے} ہوں۔ اور وہ زیادہ سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہوں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

مَنْ وُلِیَ مِنْ اَمْرِ الْمُسْلِمِیْنَ شَیْئًا فَوَلّٰی رَجُلًا. وَ ھُوَ یَجِدُ مَنْ ھُوَ اَصْلَحُ لِلْمُسْلِمِیْنَ فَقَدْ خَانَ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ.
جس نے مسلمانوں کی کسی چیز پر بھی کسی ایسے شخص کو والی، حاکم یا افسر بنا دیا کہ اس سے بہتر اور اصلح للمسلمین موجود ہے تو اس نے اللہ اور اللہ کے رسول (ﷺ) سے خیانت کی۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
ایک دوسر ی روایت ہے :

مَنْ قَلَّدَ رَجُلًا عَمَلًا عَلٰی عَصَا بَۃٍ وَ ھُوَ یَجِدُ فِیْ تِلْکَ الْعَصَابَۃِ اَرْضٰی مِنْہُ فَقَدْ خَانَ اللہَ وَ خَانَ رَسُوْلَہٗ وَخَانَ الْمُؤْمِنِیْنَ. (رواہ الحاکم فی صحیحہ)
جس نے ’’عصابہ‘‘ {یعنی} فوج کے دستہ پر کسی ایسے آدمی کو فوج میں افسر مقرر {Select} کیا کہ اس سے بہتر آدمی اس ’’قومی عصابہ‘‘ {یعنی} قومی فوجی دستے میں کام کرنے کے لیے موجود ہے، تو یہ اللہ تعالیٰ سے خیانت کر تا ہے، اسکے رسول (ﷺ) سے خیانت کرتا ہے اور اہل ایمان سے خیانت کرتا ہے۔

بعض علماء اسے سیدنا عمرص کا قول بتلاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ سیدنا عمرص نے یہ اپنے بیٹے کو کہا تھا۔ اور سیدنا ابن عمر صہی اس کے راوی ہیں اور سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَنْ وُ لِیَ مِنْ اَمْرِ الْمُسْلِمِیْنَ شَیْئًا فَوَلَّی رَجُلًا لِمَوَدَّۃٍ. اَوْ قَرَابَۃٍ بَیْنَہَا فَقَدْ خَانَ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَالْمُسْلِمْینَ
جس نے مسلمانوں کی کسی چیز پر کسی ایسے آدمی کو والی، حاکم یا افسر بنایا جو اس سے محبت اور دوستی رکھتا ہے، یا قربت دار اور رشتہ دار کو والی، حاکم یا افسر بنایا تو وہ اﷲ اور اس کے رسول (ﷺ) اور عام مسلمانوں سے خیانت کر تا ہے۔

اس مسئلہ پر غور و فکر کرنا حاکم وقت، شعبہ جاتی وزیر، مشیر اور مجاز افسران کا اولین فرض ہے۔ اور اس لیے فرض ہے کہ سیادت، ولایت اور حکومت کے اصل مستحق اور حقدار لوگوں سے بحث کی جائے کہ شہروں پر کیسے کمشنر، ڈپٹی کمشنر، تحصیلدار، آئی۔جی، ڈی۔آئی۔ جی اور انکے نا ئب ایس۔پی۔ ڈی۔ایس۔پی، فوڈ اور کسٹم انسپکٹرز وغیرہ، ایس۔ایچ۔او، پولیس کے چھوٹے بڑے عہدے دار اور حاکم {یعنی} گورنر، وزیر، مشیر، ناظم الامور اور ان کے نائب مقرر کئے جائیں۔ اور یہ لوگ فوج کے اعلیٰ و ادنیٰ افسران، لشکر اسلام (اسلامی فوج) کے سردار چھوٹے بڑے، مسلمانوں کا مال وصول کرنے والے وزراء، منشی، کاتب، جزیہ، خراج و صدقات، زمین کا محصول اور زکاۃو صول کرنے والے اور اس میں کوشش کرنے والے وغیرہ جو مسلمانوں سے مال اور پیسہ وصول کرتے ہیں، سب شامل ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنے نائب اور ماتحت ایسے افسران مقرر کریں جو مسلمانوں کے لیے بہتر اور اصلاح کرنے والے ہوں۔ اور کوشش کریں کہ اصلح {متقی اور زیادہ صلاحیتوں کے حامل} کے ہوتے ہوئے غیر اصلح {یعنی فاسق و فاجر اور کم صلاحیتوں کے حامل} کو مقرر نہ کریں۔ اور یہ سلسلہ نماز کے اماموں مؤذنوں، خطیبوں، قاریوں، معلّموں اور امیر الحاج، کنوؤں چشموں کی دیکھ بھال کرنے والوں،مال کے محافظوں قلعوں کی حراست{یعنی استقبالیہ کلرک (Receptionest) ٹیلی فون آپریٹرز اور چوکیداری(Gate Keeping etc.)} کرنے والوں اور لوہار {یعنی اسلحہ، گولہ و بارود بنانے والے}جو قلعوں {یعنی فیکٹریوں} پر مامور ہوتے ہیں، قلعوں کے دربانوں، فوج و لشکر کے افسروں، قبائل کے شرفاء {یعنی عمائدین و سردار} اور ٹریڈ یونین کے عہدیداروں، دیہات اور بستیوں کے دیہاتی روساء {یعنی چوہدریوں، وڈیروں، جاگیرداروں اور خان زادوں} وغیرہ پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
 

محمد آصف مغل

سینئر رکن
شمولیت
اپریل 29، 2013
پیغامات
2,677
ری ایکشن اسکور
4,008
پوائنٹ
436
ان لوگوں کا اولین فرض ہے کہ جب کبھی مسلمانوں کے کسی کام میں والی، حاکم یا افسر مقرر کریں، اپنے ماتحت ایسے لوگو ں کو کام سپرد کریں جو اصلح {زیادہ لائق اور بہتر منتظم} ہوں، اور کام پر کافی قدرت و دسترس رکھتے ہوں۔ اور ان آدمیوں کو مقدم نہ رکھیں جو خود حاکم بننے اور حکومت لینے اور افسر بننا چاہتے ہوں یا اس کی طلب میں درخواست دی ہو (جیسے آج کا ووٹنگ سسٹم ہے) بلکہ طلب کرنا اور درخواست دینا تو اُسے جگہ نہ دینے کا ایک بہت بڑا سبب ہے کیونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے:

عَنِ النَّبِیِّﷺ اِنَّ قَوْمًا دَخَلُوْا عَلَیْہِ سَئَلُوْہُ وَلَایَۃً فَقَالَ اِنَّا لَا نُوَلِّیْ اَمَرَنَا ھٰذَا مَنْ طَلَبہٗ. (بخاری و مسلم)
رسو ل اللہ ﷺ سے مروی ہے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے ولایت {یعنی کسی شعبہ میں افسربننے} اور حکومت {یعنی گورنری} طلب کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ہم ایسے لوگو ں کو گورنری یا افسری نہیں دیں گے جو خود {یہ چیزیں} مانگتے ہیں (اور اہل بھی نہیں ہیں)۔

اور عبدالرحمن بن سمرۃ سے نبی کریم ﷺ نے فرما یا :

یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ لَا تَسْئَلِ الْاَمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِن اُعْطِیْتَھَا مِنْ غَیْرِ مَسْئَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلَیْھَا وَاِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ مَسْئَلَۃٍ وُکِلْتَ اِلَیْھَا.
اے عبدالرحمن! تم امارت {یعنی گورنری اور افسری} نہ مانگوـ۔ اگر بغیر مانگے تم کو امارت {و حکومت} مل جائے تو تم کو اللہ کی جانب سے مدد ملے گی۔ اگر مانگنے سے ملی تو تمہیں خود اس کا وکیل {یعنی ذمہ دار} بننا پڑے گا۔ {اللہ کی امداد نہیں ملے گی}۔ (بخاری و مسلم)۔

اور نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

مَنْ طَلَبَ الْقَضَائَ وَ اسْتَعَانَ عَلَیْہِ وُکِّلَ اِلَیْہِ وَمَنْ لَمْ یَطْلُبِ الْقَضائَ وَ لَمْ یَسْتَعِنْ عَلَیْہِ اَنْزَلَ اللہُ اِلَیْہِ مَلَکًا یُسَدِّدُہٗ ۔ (رواہ اہل السنن)
جس نے قضاء طلب کی، (یعنی جسٹس یا قاضی وغیرہ بننے کے لیے درخواست دی) اور اس کے لیے کسی کی مدد (یعنی سفارش) چاہی تو یہ کام اسی کے سپرد ہو گا۔ اور جس نے قضا {یعنی جسٹسی} طلب نہیں کی اور اس کے لیے کسی کی مدد (یعنی سفارش) نہیں چاہی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرشتہ بھیجے گا جو اس کو صحیح راستہ پر چلاتا رہے گا۔

پس اگر والی {حاکمِ وقت، گورنر، یا کوئی بھی مجاز افسر} جادۂ استقامت سے ہٹ گیایا زیادہ حقدار اور اصلح کو چھوڑ کر کسی قرابت یا ولاء عتاقتہ {یعنی کسی شخص کیساتھ ناراضگی و دشمنی کی وجہ سے اُسے محروم رکھنے} یا ولاء صداقتہ {یعنی کسی شخص کیساتھ دوستی کی وجہ سے نوازنے} کی وجہ سے یا کسی آبادی میں موافقت اور دوستی ہو گئی ہے اس لئے، یا مذہبی موافقت {یعنی ہم مسلک ہونے} کی وجہ سے، یا کسی اور طریقے سے، یا باہم ایک قومیت ہو نے کی وجہ سے، مثلاً ایرانی، ترکی، رومی ہونے کی وجہ سے، یا رشوت کی وجہ سے، یا کسی دوسری سیاسی و سماجی اور معاشرتی منفعت کی وجہ سے، یا اس قسم کے دوسرے اسباب کی وجہ سے، یا {زیادہ} حقدار اور اصلح {یعنی بہتر منتظم} سے کینہ و عداوت رکھتا ہے، اس لیے مستحق، حقدار اور زیادہ اصلاح کرنے والے کو چھوڑ کر غیر حقدار، غیر مستحق اور غیر اصلح کو مقرر کیا تو یقینا وہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ اور عام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کر رہا ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما یا ہے:
 
Top