1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (صلاۃ الوتر)

'نماز کا طریقہ کار' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن بھٹی, ‏مارچ 13، 2016۔

  1. ‏جون 11، 2016 #41
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    آپ کی ان دونوں مطلوب باتوں کے جواب میں میں نے صحیح بخاری کی حدیث لکھی تھی جس سے ثابت ہؤا کہ صلاۃ الوتر پہلے نفل عبادت تھی اور یہ بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام اس وقت تک اسے ہر طرح پڑھتے رہے۔ موصوف مذکورہ روایت سے کچھ اور ہی اخذ کرنا شروع ہو گئے۔

    جناب یہ روایت آپ کی خوہش پر ہی پیش کی تھی اور اسی بات کو ثابت کرنے کے لئے لکھی تھی کہ پہلے وتر نفل تھے بعد میں واجب ہوئے۔ اور واجب ہونے کے بعد عبد اللہ ابن عمر کا عمل بطور دلیل لکھا تھا جس کی طرف آپ نے التفات نہیں کیا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 11، 2016 #42
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
    سچ یہ ہے کہ ایک کی تقلید چھوڑ کر در در کے مقلد بن گئے ہو اور آپ کو ”مجتہد“ باور کرایا جارہا ہے اور آپ ”مجتہد“ ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں (فوا اسفا)۔۔۔ ابتسامہ!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 11، 2016 #43
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اندھا یہ سمجھے کہ کسی اور کو بھی نظر نہیں آتا، تو یہ اس کی خوش فہمی ہو گی، اب جاہل مقلد سمجھتا ہے کہ سب اسی کی طرح ہیں! ایسا نہیں ہوتا میاں!
    ایک بات اور بتلا دوں کہ اس بات کو ذہن میں رکھئے گا کہ :
    جو میں مسکرایا تو کیا کرو گے!
     
    • ناپسند ناپسند x 3
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 11، 2016 #44
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    آپ کی پیش کردہ روایات میں صرف ایک ہی بات ثابت ہوتی ہے ،اور وہ یہ کہ نبی اکرم ﷺ نماز وتر سواری پر پڑھ لیتے تھے ،
    اس میں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پہلے ایسا کرتے تھے ،بعد میں نہیں ،
    اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل مجھے نظر نہیں آیا ، جو موجود ہے وہ تو نبی کریم ﷺ کا عمل مبارک ہے ،
    اس کا ترجمہ میں پیش کئے دیتا ہوں ، جس سے سواری پر وتر پڑھنا ثابت ہوتا ہے ، جسے حنفی نہیں مانتے ؛
    امام ترمذی نقل کرتے ہیں کہ :
    المحدث الإمام الثقة الجوال راوية الإسلام شيخ الإسلام، قتیبہ بن سعید امام مالک سے نقل کرتے ہیں ،اور وہ ابوبکر بن عبد الرحمن سے روایت کرتے ہیں
    کہ مدینہ شریف کے جلیل القدر عالم مشہور تابعی ،اور ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام جناب سعیدبن یسار فرماتے ہیں :
    میں ایک سفر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا ، تو دوران سفر میں ان سے پیچھے رہ گیا، تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں رہ گئے تھے؟
    میں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں تمہارے لیے اسوہ نہیں؟
    میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اپنی سواری ہی پر وتر پڑھتے دیکھا ہے۔
    امام ترمذیؒ کہتے ہیں: ۱-جناب ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے
     
    Last edited: ‏جون 11، 2016
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 11، 2016 #45
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,394
    موصول شکریہ جات:
    1,086
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 12، 2016 #46
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اس حدیث کے ان الفاظ (قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ قِبَلَ أَيِّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا غَيْرَ أَنَّهُ لَا يُصَلِّي عَلَيْهَا الْمَكْتُوبَةَ) سے ثابت ہؤا کہ وتر پہلے نفل تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر صرف نفل ہی پڑھا کرتے تھے۔
    وتر کے واجب ہونے کی روایات اوپر غزر چکیں پھر سے ملاحظہ فرمالیں؛
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 12، 2016 #47
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    جناب نے ”وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ“ سے لے کر ”وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ“ تک کے حصہ کا ترجمہ نہیں کیا۔
    امام ترمذی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ ”بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ وتر سواری پر مت پڑھو بلکہ سواری سے اتر کر زمین پر پڑھو“۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جون 12، 2016 #48
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    تهذيب الآثار للطبري - (ج 6 / ص 397)
    2882 - حدثنا ابن حميد ، قال : حدثنا الصباح ، عن الفضيل بن غزوان ، عن نافع ، قال : كان ابن عمر « يصلى أينما توجهت به راحلته عليها ، وكان إذا أراد أن يوتر نزل فأوتر على الأرض »
    تهذيب الآثار للطبري - (ج 6 / ص 400)
    2885 - حدثنا ابن حميد ، قال : حدثنا جرير ، عن منصور ، عن إبراهيم ، قال : « كانوا يصلون على إبلهم حيث كانت وجوههم ، إلا المكتوبة والوتر »
    تهذيب الآثار للطبري - (ج 6 / ص 401)
    2886 - حدثنا ابن بشار ، قال : حدثنا يحيى ، قال : حدثنا سفيان ، قال : حدثني منصور ، عن إبراهيم ، قال : « كانوا يصلون على ظهور رواحلهم أينما توجهت ، إلا الفريضة والوتر » وقال هذا ابن عمر وإبراهيم ينكران أن يصلى الوتر على ظهور الرواحل مع من قال في ذلك مثل قولهما من أهل العراق ، اعتلالا منهم بقول النبي صلى الله عليه وسلم : « إن الله زادكم صلاة ، وهي الوتر ، فأوتروا » ، وأن ذلك فرض كسائر الصلوات المكتوبات وأن المكتوبة من الصلاة ، لما كان غير جائز أداؤها على ظهور الرواحل في غير حال العذر ، وكان الوتر صلاة مكتوبة عندهم كان مثلها في أنه غير جائز أداؤه على الظهر في غير حال العذر . قيل له : أما اعتلال من اعتل بأن الوتر فرض ، وأن سبيله سبيل سائر الصلوات المكتوبات ، في أنه غير جائز أداؤه على ظهر ، فقد أتينا على البيان عن فساده في كتابنا هذا وغيره ، بما أغنى عن إعادته أو الزيادة فيه لمن وفق لفهمه وأما ما روي في ذلك عن ابن عمر : أنه كان يصلي التطوع على راحلته بالليل ، فإذا أراد أن يوتر نزل فأوتر على الأرض ، فإنه لا حجة فيه لمحتج بأن ابن عمر كان يفعل ذلك من أجل أنه كان لا يرى جائزا للمرء أن يوتر راكبا ، وأنه كان يرى أن الوتر فرض كسائر الصلوات المكتوبات وذلك أنه جائز أن يكون نزوله للوتر إلى الأرض ، كان اختيارا منه ذلك لنفسه ، وطلبا للفضل لا على أن ذلك كان عنده الواجب عليه الذي لا يجوز غيره ، هذا لو لم يكن ورد عن ابن عمر بخلاف ذلك خبر ، فكيف والأخبار عنه بخلاف ذلك من الفعل متظاهرة ؟ فإن قال : فاذكر لنا الأخبار الواردة عن ابن عمر بخلاف ذلك
     
  9. ‏جون 12، 2016 #49
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,366
    موصول شکریہ جات:
    2,657
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
     
  10. ‏جون 12، 2016 #50
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر صرف نفل ادا فرماتے تھے۔ کیا اس پر کوئی دلیل ہے؟ اس سے یہ بات پوری ہو جائے گی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں