• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (قراءت)

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,715
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں نہیں جانتا کہ آپ کیا بات کہلوانا چاہ رہے ہیں
جناب، میں کچھ کہلوانا نہیں چاہ رہا تھا، آپ بتلا دیتے کہ آ پ کو میری بات سے اختلاف ہے یا نہیں!
نہ میں یہ جانتا ہوں کہ آپ کے نزدیک "لازم" کا کیا مطلب ہے۔
میرے بھائی! الفاظ کے معنی و مطلب ہوتے ہیں، اور وہ معروف بھی ہیں لغت میں بھی موجود ہیں، لازم کا وہی معنی ہے جو لغت میں ہے!
لیکن جو جان بوجھ کر انجان بننے والے کا کچھ نہیں کیا جاسکتا!

جو بات میں نے کہی ہے اسے اگر آپ اپنے خلاف سمجھتے ہیں تو وہ سہی اور اگر اپنے مطابق سمجھتے ہیں تو وہ سہی۔
میرے سمجھنے کی بات نہیں، سوال ميں نے آپ سے کیا تھا کہ میری بات سے آپ کو اختلاف ہے یا نہیں!
مزید بحث نہ میں کرنا چاہتا ہوں اور نہ اس کی فرصت ہے۔
یہ آپ کی مرضی ہے، مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ !
واجب کے بغیر احناف کے نزدیک نماز ہو جاتی ہے لیکن ناقص ہوتی ہے اور اس کا اعادہ کرنا لازم ہوتا ہے۔
بالکل درست فقہ حنفی میں احناف کے نزدیک نماز ہو جاتی ہے، گو نقص کے ساتھ ہی سہی،
فقہ حنفی میں اس اعادہ کے بغیر بھی نماز ادا ہو گئی، اس کا فرض ادا ہو گیا، اب یہ اعادہ صرف نفل کی طرح ہے!
ایک حوالہ پیش کردیتا ہوں:

والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر وغيره
صفحه 248 حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح - دار الكتب العلمية بيروت

اسی لیے فرض و واجب میں عملا کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اعادہ دونوں کے چھوڑنے پر ہی لازم ہوتا ہے
بھائی معاملہ یہ ہے کہ فقہ حنفی میں فرض کے ترک پر نماز ادا نہ ہو گی لیکن واجب کے ترک پر ، جیسے سورۃ فاتحہ کے ترک پر نماز ادا ہو جائے گی!! خواہ وہ امام ہو ، مقتدی ہو یا منفرد
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
میرے بھائی! الفاظ کے معنی و مطلب ہوتے ہیں، اور وہ معروف بھی ہیں لغت میں بھی موجود ہیں، لازم کا وہی معنی ہے جو لغت میں ہے!
لیکن جو جان بوجھ کر انجان بننے والے کا کچھ نہیں کیا جاسکتا!
آپ لغت کے حوالے سے بتا دیجیے کہ کون سی لغت کے کون سے معنی مراد ہیں؟ لازم سے مراد آپ کے نزدیک فرض کی طرح لازم ہے یا واجب کی طرح؟

الکل درست فقہ حنفی میں احناف کے نزدیک نماز ہو جاتی ہے، گو نقص کے ساتھ ہی سہی،
فقہ حنفی میں اس اعادہ کے بغیر بھی نماز ادا ہو گئی، اس کا فرض ادا ہو گیا، اب یہ اعادہ صرف نفل کی طرح ہے!
ایک حوالہ پیش کردیتا ہوں:

والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر وغيره
صفحه 248 حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح - دار الكتب العلمية بيروت

جزاک اللہ خیرا
آپ نے میرے علم میں اضافہ فرمایا۔
طحطاویؒ نے در (الدر المختار) کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن یہاں ذرا غلطی ہے۔ در المختار کی عبارت یہ ہے:
وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها. والمختار أنه جابر للأول لأن الفرض لا يتكرر
الدر المختار 1۔458، ط دار الفکر

یہاں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اعادہ واجب ہے (یعنی نفل نہیں ہے) اور آگے جو مختار قول لکھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعادہ پچھلے فرض کو پورا کرنے والا ہے کیوں کہ فرض دو بار نہیں ہوتا۔ چنانچہ پچھلا جو فرض ترک واجب کے ساتھ ادا کیا تھا وہ ادا ہو گیا اور یہ اعادہ اسی کو کامل کر دےگا۔ اگر اعادہ نہ کیا جائے تو انسان فاسق و گناہ گار ہوگا۔ یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نفل ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
(ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما
ایضا

بھائی معاملہ یہ ہے کہ فقہ حنفی میں فرض کے ترک پر نماز ادا نہ ہو گی لیکن واجب کے ترک پر ، جیسے سورۃ فاتحہ کے ترک پر نماز ادا ہو جائے گی!! خواہ وہ امام ہو ، مقتدی ہو یا منفرد
جی اسی لیے میں نے عرض کیا ہے کہ فقہ حنفی میں واجب اور فرض میں فرق علم کے اعتبار سے ہوتا ہے۔
باقی عمل کے اعتبار سے اگر فرض ترک کرے گا تو بھی نماز دہرانی ہوگی اور اگر واجب ترک کرے گا تو بھی دہرانی ہوگی۔
علم کے اعتبار سے فرق یہ ہے کہ اگر فرض ادا نہیں کرے گا تو نماز ادا نہ ہونے کی وجہ سے دہرانی ہوگی اور اگر واجب ادا نہیں کرے گا تو ترک واجب کی وجہ سے دہرانی ہوگی۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,715
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آپ لغت کے حوالے سے بتا دیجیے کہ کون سی لغت کے کون سے معنی مراد ہیں؟ لازم سے مراد آپ کے نزدیک فرض کی طرح لازم ہے یا واجب کی طرح؟
ایک بار پھر فرہنگ آصفیہ کا لنک پیش کروں کیا؟ اشماریہ بھائی!
طحطاویؒ نے در (الدر المختار) کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن یہاں ذرا غلطی ہے۔ در المختار کی عبارت یہ ہے:
وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها. والمختار أنه جابر للأول لأن الفرض لا يتكرر
الدر المختار 1۔458، ط دار الفکر

یہاں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اعادہ واجب ہے (یعنی نفل نہیں ہے) اور آگے جو مختار قول لکھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعادہ پچھلے فرض کو پورا کرنے والا ہے کیوں کہ فرض دو بار نہیں ہوتا۔ چنانچہ پچھلا جو فرض ترک واجب کے ساتھ ادا کیا تھا وہ ادا ہو گیا اور یہ اعادہ اسی کو کامل کر دےگا۔ اگر اعادہ نہ کیا جائے تو انسان فاسق و گناہ گار ہوگا۔ یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ نفل ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
(ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما
جی بلکل غلطی ہے اور وہ میرے بیان میں نہيں آپ کے سمجھنے میں ہے۔
ایک حوالہ اور پیش کر دیتا ہوں؛ مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب ترک واجب کے معاملہ میں فرماتے ہیں:
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ صورتِ مسئولہ میں فریضہ تو پہلی نماز سے ساقط ہو گیا اور اعادہ والی نماز جابر ہے اور طحطاوی شرح مراقی الفلاح میں تصریح ہے کہ یہ دوسری نماز نفل ہے،
صفحہ 445 جلد 06 فتاوی محمودیہ - مفتی محمود حسن گنگوہی

ی اسی لیے میں نے عرض کیا ہے کہ فقہ حنفی میں واجب اور فرض میں فرق علم کے اعتبار سے ہوتا ہے۔
باقی عمل کے اعتبار سے اگر فرض ترک کرے گا تو بھی نماز دہرانی ہوگی اور اگر واجب ترک کرے گا تو بھی دہرانی ہوگی۔
علم کے اعتبار سے فرق یہ ہے کہ اگر فرض ادا نہیں کرے گا تو نماز ادا نہ ہونے کی وجہ سے دہرانی ہوگی اور اگر واجب ادا نہیں کرے گا تو ترک واجب کی وجہ سے دہرانی ہوگی۔
میرے بھائی! آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ میرا مدعا ہے کہ فقہ حنفی میں ترک فرض پر نماز دہرائے بغیر کے بغیر نماز نہیں ادا نہیں ہو گی، اور ترک واجب پر نماز دہرائے بغیر نماز ہو جاتی ہے،اس بات میں تو ہم متفق ہیں کہ یہ فقہ حنفی میں ہے، آگے ہمارا اختلاف ہے کہ فقہ حنفی میں ترک واجب پر اعادہ نماز نفل ہے یا لازم۔۔۔ جس پر میں نے دو حوالہ پیش کئے ہیں! کہ وہ نفل ہے!
 
Last edited:

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
فقہ حنفی میں نہ امام پر، نہ مقتدی پر اور نہ منفرد پر، کسی پر بھی صورہ فاتحہ پڑھنا لازم نہیں! کسی کی بھی نماز صورہ فاتحہ کے بغیر ادا ہو جاتی ہے!
فقہ حنفی میں فرض کے ترک پر نماز ادا نہ ہو گی لیکن واجب کے ترک پر ، جیسے سورۃ فاتحہ کے ترک پر نماز ادا ہو جائے گی!! خواہ وہ امام ہو ، مقتدی ہو یا منفرد
یہ جو آپ نے ملون فقرات لکھے ہیں یہ فقہ حنفی نہیں بلکہ آپ کا اپنا (یا کسی دوسرے معترض کا) فہم ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ
فرض، چھوٹنے سے نماز نہیں ہوتی (بلا تخصیص امام، منفرد یا مقتدی کے)۔
واجب عمداً چھوڑنے سے نماز نہیں ہوتی۔
واجب خطاً چھوٹنے سے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے جسے کر لینے سے نماز صحیح ہو جاتی ہے۔

مقتدی کا فرض یا واجب چھوڑنا بے معنیٰ ہے کہ اس سے یہ امکان شاذ ہے۔
 

عبدالرحمن بھٹی

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 13، 2015
پیغامات
2,435
ری ایکشن اسکور
287
پوائنٹ
165
فقہ حنفی میں اس اعادہ کے بغیر بھی نماز ادا ہو گئی، اس کا فرض ادا ہو گیا، اب یہ اعادہ صرف نفل کی طرح ہے!
ایک حوالہ اور پیش کر دیتا ہوں؛ مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب ترک واجب کے معاملہ میں فرماتے ہیں:
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ صورتِ مسئولہ میں فریضہ تو پہلی نماز سے ساقط ہو گیا اور اعادہ والی نماز جابر ہے
یہ اصل مسئلہ نہیں بلکہ ان امور پر بحث ہے کہ کون سی نماز اصل ہوگی پہلی یا بعد والی۔ جبکہ اصل مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ؛
فرض چھوٹنے سے نماز نہیں ہوگی (بلا تخصیص عمداً یا خطاً کے)۔
واجب اگر عمدا چھوڑا تو نماز نہیں ہوگی نماز لوٹانا ہوگی اس پر اتفاق ہے۔ اصل پہلی کہلائے گی یا بعد والی یہ جھگڑا ہی لاحاصل ہے کہ نماز کو قبول اللہ تعالیٰ نے کرناہے۔
واجب اگر خطاً چھوٹا ہے تو سجدہ سہو کی ادائیگی سے نماز صحیح ہوگئی۔
واللہ اعلم بالصواب
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
جی بلکل غلطی ہے اور وہ میرے بیان میں نہيں آپ کے سمجھنے میں ہے۔
ایک حوالہ اور پیش کر دیتا ہوں؛ مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب ترک واجب کے معاملہ میں فرماتے ہیں:
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ صورتِ مسئولہ میں فریضہ تو پہلی نماز سے ساقط ہو گیا اور اعادہ والی نماز جابر ہے اور طحطاوی شرح مراقی الفلاح میں تصریح ہے کہ یہ دوسری نماز نفل ہے،
صفحہ 444 جلد 06 فتاوی محمودیہ - مفتی محمود حسن گنگوہی
اس سے پانچ صفحے آگے اس پیرا گراف کو بھی ملاحظہ فرمائیے اور صفحہ نمبر 448 کے آخری پیراگراف کو بھی دیکھیے گا۔ جواب دیتے وقت اول الذکر تطبیق والے پیرا گراف پر کوئی نقد نہیں کیا گیا۔
http://archive.org/stream/FATAWAMAHMOODIAHVOL06/FATAWA_MAHMOODIAH_VOL_06#page/n449/mode/1up
پھر یہ پڑھنے کے بعد اوپر جو میں نے حوالہ دیا تھا اسی کے حاشیہ میں شامیہ میں آپ قول بالوجوب کی ترجیح دیکھ سکتے ہیں۔

اضافہ: یہ بھی دیکھ لیجیے گا:

س… بندے نے آج عصر کی نماز قریبی مسجد میں ادا کی جماعت کے ساتھ، جب امام صاحب چوتھی رکعت کے سجدے میں گئے تو بجائے دو سجدوں کے تین سجدے کئے، کیا اس طرح یہ نماز ہوگئی؟ جبکہ ایک سجدہ زائد ہے۔
ج… اگر کسی رکعت میں بھول کر دو کے بجائے تین سجدے کرے تو اس سے سجدہٴ سہو واجب ہوجاتا ہے، پس اگر آپ کے امام صاحب نے سجدہٴ سہو کرلیا تھا تو نماز ہوگئی، اور اگر سجدہٴ سہو نہیں کیا تھا تو اس نماز کا لوٹانا واجب ہے۔
http://shaheedeislam.com/aap-k-masaul-or-un-ka-hal/ap-k-masail-or-unka-hal-jild-2/1295-sajda-e-sahav

یاد رہے کہ احناف کے نزدیک تاخیر فرض، تکرار فرض، ترک واجب، تاخیر واجب اور تکرار واجب کا حکم ایک ہی ہوتا ہے۔


ویسے میں نے عرض کیا تھا کہ میں اس بحث میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔ آپ کسی معتبر دار الافتاء سے فتوی لے کر معلوم کر سکتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کو اس سے کیا مانع ہے اور آپ بحث ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
چونکہ میں اس بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتا اس لیے میں مزید جواب نہیں دوں گا۔ مہربانی فرما کر مجھے ٹیگ نہیں کیجیے گا۔
 
Last edited:
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,675
ری ایکشن اسکور
749
پوائنٹ
290
" ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢﻧﻤﺎﺯﺁﺋﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﻣﻨﺸﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﯿﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﮍﮬﯿﮟ-"

اس تمہید کے بعد تمام باتیں صرف اور صرف اقوال اصحاب ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے پیش کی گئیں ۔ تو سوال یہ ہیکہ وہ تمام طریقے جو سنت سے ثابت ہیں اور اصحاب ابو حنیفہ سے ہٹ کر ہیں تو ان طریقوں کو کیا کہا جائیگا؟ سنت طریقہ نماز ؟ یا اور کوئی نام؟
میری ناقص رائے سے اس تمہید کو حذف کیا جائے اور عنوان یہ رکہا جائے کہ آئیے نماز سیکہیں اصحاب ابو حنیفہ کے طریقہ سے!
بأي حال من اﻷحوال اس تمہید کو حذف کیا جائے ۔ یا تو تمام طریقے بیان کئیے جائیں جو سنت سے ثابت ہیں بهلے اس سے اصحاب ابو حنیفہ کے طریقہ والوں کو صد ہزار اختلاف ہوں ۔
آپ سب کی رائے ۔ یہ تو کوئی اختلافی بات ہی نہیں ۔ بات سنت کی اور وہ بهی نماز کی ہے ۔
یہ فرض اور واجب میں غوطہ زنی کرنے سے تو اچہا ہیکہ تمام ثابت طریقہ بیان ہوں ۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,715
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس سے پانچ صفحے آگے اس پیرا گراف کو بھی ملاحظہ فرمائیے اور صفحہ نمبر 448 کے آخری پیراگراف کو بھی دیکھیے گا۔ جواب دیتے وقت اول الذکر تطبیق والے پیرا گراف پر کوئی نقد نہیں کیا گیا۔
http://archive.org/stream/FATAWAMAHMOODIAHVOL06/FATAWA_MAHMOODIAH_VOL_06#page/n449/mode/1up
پھر یہ پڑھنے کے بعد اوپر جو میں نے حوالہ دیا تھا اسی کے حاشیہ میں شامیہ میں آپ قول بالوجوب کی ترجیح دیکھ سکتے ہیں۔
ضافہ: یہ بھی دیکھ لیجیے گا:
س… بندے نے آج عصر کی نماز قریبی مسجد میں ادا کی جماعت کے ساتھ، جب امام صاحب چوتھی رکعت کے سجدے میں گئے تو بجائے دو سجدوں کے تین سجدے کئے، کیا اس طرح یہ نماز ہوگئی؟ جبکہ ایک سجدہ زائد ہے۔
ج… اگر کسی رکعت میں بھول کر دو کے بجائے تین سجدے کرے تو اس سے سجدہٴ سہو واجب ہوجاتا ہے، پس اگر آپ کے امام صاحب نے سجدہٴ سہو کرلیا تھا تو نماز ہوگئی، اور اگر سجدہٴ سہو نہیں کیا تھا تو اس نماز کا لوٹانا واجب ہے۔
http://shaheedeislam.com/aap-k-masaul-or-un-ka-hal/ap-k-masail-or-unka-hal-jild-2/1295-sajda-e-sahav
میں اس بات سے واقف ہوں، میں نے جو مدعا بیان کیا ہے وہ یہاں سے غلط قرار نہیں پاتا!یہ جو آپ نے شامی سے تحریر فرمایا تھا:
(ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقا آثما
اس عبارت کو بھی سامنے رکھ کر مفتی محمود حسن گنگوہی نے فرمایا ہےکہ ترک واجب کے اعادہ کی نماز نفل ہے۔ مکلمل فتوی بمع سوال نقل کرتا ہوں:
امام صاحب سے کوئی واجب ترک ہوگیا جس کی وجہ سے دوبارہ نماز لوٹائی گئی جس کے اندر کوئی نیا نمازی آکر شامل ہو گیا تو اس شخص کی نماز صحیح ہوئی یا نہیں؟ جواب بحوالہ کتب بقید صفحہ و جلد و مطبع کے مع عربی عبارت کے جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب حامداً و مصلياً:
''ولها واجبات لا تفسد بتركها، وتعاد وجوباً في العمد والسهو إن لم يسجدو، وإن لم يعد يكون فاسقاً آثماً، وكذا كل صلوٰة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها، والمختار أنه جابر للأول؛ لأن الفرض لا يتكرر، ''در مختار۔ ''قوله: والمختار أنه: أي الفصل الثاني جابر للأول بمنزلة الجبر بسجود السهو، والأول يخرج عن العهدة وإن كان علی وجه الكراهة علی الأصح، ''شامي مكتبة نعمانية دیوبند۔

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ صورت مسئولہ میں فریضہ تو پہلی نماز سے ساقط ہوگیا اور اعادہ والی نماز جابر ہے اور طحطاوی شرح مراقی الفلاح میں تصریح ہے کہ یہ دوسری نماز نفل ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ نئے آدمی کو اس ميں شرکت کرنے کی اجازت نہ ہو، شیخ ابن ہمام نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم۔
حرره العبد محمود غفرلہ، دارالعلوم دیوبند،

صفحہ 445 جلد 06 فتاوی محمودیہ - مفتی محمود حسن گنگوہی
ویسے میں نے عرض کیا تھا کہ میں اس بحث میں شریک نہیں ہونا چاہتا۔ آپ کسی معتبر دار الافتاء سے فتوی لے کر معلوم کر سکتے ہیں۔
اشماریہ بھائی! اول تو جب مجھے معلوم ہے کہ فقہ حنفی کا مسئلہ کیا ہے، تو میں کیوں کسی دارلافتاء سے معلوم کروں، دوم کہ میں نے آپ کو دارالافتاء کا فتوی بھی پیش کیا ہے۔
میں آپ کو دالعلوم دیوبند کے دارالافتاء کا فتوی بھی پیش کر رہا ہوں ، وہ بھی مفتی محمود حسن گنگوہی کا ، آپ کے نزدیک کیا یہ معتبر دار الإفتاء نہیں ہے؟
دیکھیں میرے بھائی! ان اختلافی مسائل میں، جیسے نماز میں فاتحہ سے متعلق حنفی اپنے اصل موقف کو چھپاتے ہیں، اور ہم فقہ حنفی کے اصل چہرے کو سامنے لا کر رکھ دیتے ہیں، جس سے بہت سے حنفیوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے! اس کا ہمیں اندازہ ہے ، لیکن اس کی ہمیں پرواہ نہیں!
میں نہیں جانتا کہ آپ کو اس سے کیا مانع ہے اور آپ بحث ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں۔
مجھے مانع کیا ہو! مجھے اس کی حاجت نہیں، اور بحث اس لئے ہو رہی ہے کہ آپ فقہ حنفی کی حقیقت کو چھپانے کو سعی کر رہے ہیں، اور میں حقیقت سامنے لا رہا ہوں۔
چونکہ میں اس بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتا اس لیے میں مزید جواب نہیں دوں گا۔ مہربانی فرما کر مجھے ٹیگ نہیں کیجیے گا۔
کیوں یہاں میں نے آپ کو ٹیگ کر کے بلایا تھا؟ آپ خود ہی فقہ حنفی کےدفاع میں بیچ میں کود پڑے تھے! جب آپ ان بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتے، تو آپ قارئین کی طرح مطالعہ فرمائیں، کیوں کہ جب آپ کسی مسئلہ میں بھی کچھ تحریر فرمائیں گے، اختلاف کرنے واے کا حق ہے کہ وہ آپ کی تحریر کا نقد لکھے۔
۔۔۔
۔۔۔
مفتی رشید احمد فریدی تحقیق جو دارالعلوم دیوبند کے ماہنامہ میں شائع ہوئی ، کا مطالعہ بھی سود مند رہے گا؛

اعادہٴ صلاة بہ ترکِ واجب میں نووارد مُفْتَرِض کی اقتداء - ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 4 ‏، جلد: 97 ‏، جمادی الثانیہ 1434 ہجری مطابق اپریل 2013ء
 
Last edited by a moderator:

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
کیوں یہاں میں نے آپ کو ٹیگ کر کے بلایا تھا؟ آپ خود ہی فقہ حنفی کےدفاع میں بیچ میں کود پڑے تھے! جب آپ ان بحث میں شامل نہیں ہونا چاہتے، تو آپ قارئین کی طرح مطالعہ فرمائیں، کیوں کہ جب آپ کسی مسئلہ میں بھی کچھ تحریر فرمائیں گے، اختلاف کرنے واے کا حق ہے کہ وہ آپ کی تحریر کا نقد لکھے۔
میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں ہی عرض کیا تھا:
معذرت چاہتا ہوں۔
میں اس بحث میں شرکت کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن اتنی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ بھٹی بھائی کی یہ بات درست ہے:
آپ یقینا میری تحریر کا نقد لکھ سکتے ہیں اور آپ کو اس کا حق ہے۔ اگر میرے پاس وقت ہوتا اور مجھے اس میں کوئی فائدہ نظر آتا تو شاید یہاں کچھ اور ماحول ہوتا۔
بہر حال۔۔۔۔۔۔
 
Last edited:
Top