• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنت طریقہ نماز (قراءت)

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,714
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
رپورٹ کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کی تفصیل کیا ہے! پنجابی(پنجابی زبان) کی گستاخی ہو گئی ہے کیا؟
 
Last edited:

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

رپورٹ کی تفصیل کیا ہے! پنجابی کی گستاخی ہو گئی ہے کیا؟
جی نہیں۔ نہ میں یہاں سے بھاگ رہا ہوں اور نہ یہ کوئی مناظرہ ہو رہا ہے کہ آپ مجھے ایسے مشتعل کرنے والے یا چڑانے والے یا تاؤ دلانے والے الفاظ کہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہیے۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
اس سوال کو دار العلوم دیوبند اور جامعہ بنوریہ کی آن لائن فتاوی سروسز پر پوسٹ کر دیا گیا ہے۔ جو جواب جہاں سے آئے گا اسے یہاں لگا دوں گا۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,714
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اشماریہ بھائی! ہمارا ایک جملہ آپ کی نازک طبعیت پر گراں گذرا ہے، ہم نے تو محاورتاً لکھا تھا، آپ کی خوشی کی خاطر اسے حذف کر دیتا ہوں!
اس سوال کو دار العلوم دیوبند اور جامعہ بنوریہ کی آن لائن فتاوی سروسز پر پوسٹ کر دیا گیا ہے۔ جو جواب جہاں سے آئے گا اسے یہاں لگا دوں گا۔
جامعہ بنوریہ یا دار العلوم دیوبند کا فتوی پر پھر نقد کیا جا سکتا ہے! درج ذیل مکالہ میں اسی طرح کے فتاوی کہ جس میں ترک واجب کے اعادہ کی نماز کو نفل نماز قرار دینے کے مؤقف پر فقہ حنفی کی رو سے رد کیا جا چکا ہے۔ ا ور اسی طرح مفتی محمود حسن ( دار العلوم دیوبند کے مفتی) نے بھی اسی طرح کے ایک فتوی کو فقہ حنفی کی رو سے غلط قرار دیا ہے۔
اعادہٴ صلاة بہ ترکِ واجب میں نووارد مُفْتَرِض کی اقتداء - ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 4 ‏، جلد: 97 ‏، جمادی الثانیہ 1434 ہجری مطابق اپریل 2013ء
 
Last edited:

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,774
ری ایکشن اسکور
8,441
پوائنٹ
964
جی نہیں۔ نہ میں یہاں سے بھاگ رہا ہوں اور نہ یہ کوئی مناظرہ ہو رہا ہے کہ آپ مجھے ایسے مشتعل کرنے والے یا چڑانے والے یا تاؤ دلانے والے الفاظ کہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کو الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کرنی چاہیے۔
متفق
اشماریہ بھائی! ہمارا ایک جملہ آپ کی نازک طبعیت پر گراں گذرا ہے، ہم نے تو محاورتاً لکھا تھا، آپ کی خوشی کی خاطر اسے حذف کر دیتا ہوں!
جزاکم اللہ خیرا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,565
ری ایکشن اسکور
6,719
پوائنٹ
1,207
محترم! آپ ابتداء سے شروع ہو جائیں اور جس جس پر اشکال ہو پوچھتے جائیں ان شاء اللہ حوالہ جات دیتا چلا جاؤں گا۔ ساتھ ساتھ تصحیح بھی ہوتی جائے گی۔ شکریہ
آپ سے جو درخواست کی گئی ہے اس پر عمل کریں۔۔۔ اشکالات بعد کی بات ہے۔
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,672
ری ایکشن اسکور
748
پوائنٹ
290

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,714
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
یہ اصل مسئلہ نہیں بلکہ ان امور پر بحث ہے کہ کون سی نماز اصل ہوگی پہلی یا بعد والی۔ جبکہ اصل مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ؛
فرض چھوٹنے سے نماز نہیں ہوگی (بلا تخصیص عمداً یا خطاً کے)۔
واجب اگر عمدا چھوڑا تو نماز نہیں ہوگی نماز لوٹانا ہوگی اس پر اتفاق ہے۔ اصل پہلی کہلائے گی یا بعد والی یہ جھگڑا ہی لاحاصل ہے کہ نماز کو قبول اللہ تعالیٰ نے کرناہے۔
واجب اگر خطاً چھوٹا ہے تو سجدہ سہو کی ادائیگی سے نماز صحیح ہوگئی۔
واللہ اعلم بالصواب
بھٹی صاحب! میرا پیش کئے گئے حوالہ کا مکمل اقتباس لیا کرو، میرے ہی سامنے میرے پیش کردہ حوالہ میں ڈنڈی!!
ایک حوالہ اور پیش کر دیتا ہوں؛ مفتی محمود حسن گنگوہی صاحب ترک واجب کے معاملہ میں فرماتے ہیں:
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ صورتِ مسئولہ میں فریضہ تو پہلی نماز سے ساقط ہو گیا اور اعادہ والی نماز جابر ہے اور طحطاوی شرح مراقی الفلاح میں تصریح ہے کہ یہ دوسری نماز نفل ہے،
صفحہ 445 جلد 06 فتاوی محمودیہ - مفتی محمود حسن گنگوہی
اور آپ کوغالباً مسئلہ ہی سمجھ نہیں آیا! ایسا کریں اس پورے تھریڈ کا 99 بارمطالعہ فرمائیں!
 
Last edited:

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اشماریہ بھائی! ہمارا ایک جملہ آپ کی نازک طبعیت پر گراں گذرا ہے، ہم نے تو محاورتاً لکھا تھا، آپ کی خوشی کی خاطر اسے حذف کر دیتا ہوں!
جزاکم اللہ خیرا

جامعہ بنوریہ یا دار العلوم دیوبند کا فتوی پر پھر نقد کیا جا سکتا ہے!
جی نقد تو یقینا کیا جا سکتا ہے۔ ہر کسی کی بات پر کیا جا سکتا ہے علماء میں سے۔
 

ابن داود

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 08، 2011
پیغامات
3,392
ری ایکشن اسکور
2,714
پوائنٹ
556
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
یہ جو آپ نے ملون فقرات لکھے ہیں یہ فقہ حنفی نہیں بلکہ آپ کا اپنا (یا کسی دوسرے معترض کا) فہم ہے۔
میرے بھائی، میں نے فقہ حنفی ہی بیان کی ہے، ابھی آپ فقہ حنفی کی بنیادی تعلیم حاصل فرمارہے ہیں، اس لئے آپ کو فقہ حنفی کی گہرائیوں کا اور اس کی معراج کا علم نہیں۔ آپ کو ابھی یہ جاننے کے لئے کافی وقت درکار ہے!

فرض، چھوٹنے سے نماز نہیں ہوتی (بلا تخصیص امام، منفرد یا مقتدی کے)۔
واجب عمداً چھوڑنے سے نماز نہیں ہوتی۔
واجب خطاً چھوٹنے سے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے جسے کر لینے سے نماز صحیح ہو جاتی ہے۔
سرخ رنگ والی آپ کی بات فقہ حنفی کی رو سے غلط ہے۔
اور اگر سلام کے بعد یاد آئے کہ واجب چھوٹ گیا ہے تو؟
فقہ حنفی میں عمداً واجب چھوڑ دینے سے بھی نماز ہو جاتی ہے۔ ابھی ایک ثبوت اور پیش کرتا ہوں۔
مقتدی کا فرض یا واجب چھوڑنا بے معنیٰ ہے کہ اس سے یہ امکان شاذ ہے۔
بھٹی صاحب! فقہ حنفی کا یہ مسئلہ کہ واجب کے عمداً ترک کرنے سے بھی نماز ہو جاتی ہے، یہ تمام کے لئے ہے، امام کے لئے بھی مقتدی کے لئے بھی اور منفرد کے لئے بھی!
بھٹی صاحب! آپ کی تسلی قلب کی خاطر آپ کو حنفی فقیہ بننے کا گُر بتلا دیتے ہیں۔


كما روي عن أبي يوسف رحمه الله تعالیٰ أنه كان مع شيخه أبي حنيفة رحمه الله تعالیٰ في السفر، ولم يجد أول وقت صلاة الفجر لعارض، وكانت الشمس كادت أن تطلع، فقدم أبو حنيفة أبا يوسف رحمهما الله تعالیٰ، وصار لأبي يوسف رحمه الله تعالیٰ تلميذه مقتديا به، فصلی أبو يوسف رحمه الله تعالیٰ ركعتي الفجر من غير رعاية تعديل الأركان، وإقامة الحدود، ورعاية الأدب، والسنن والواجبات؛ بل أدي الفرائض فقط علی سبيل التعجيل مخالفة طلوع الشمس في الصلاة، ثم أبا حنيفة أعاد الصلاة بنية النفل في وقت آخر لترك الواجبات والسنن وغيرها من الآداب إلا أنه لم يترك هيئتها أيضا ابتغاء للثواب، ومن هنا قال أبو حنيفة رحمه الله تعالیٰ: صاريعقوبنا فقيها.

قاضی ابو یوسف ؒسے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں امام ابو حنیفہ ؒکے ساتھ تھے۔ نماز فجر پہلا وقت کسی وجہ سے فوت ہو گیا پس سورج طلوع ہونے کے بالکل قریب تھا۔ امام ابو حنیفہ ؒنے قاضی ابو یوسف ؒ کو امام بنایا اور خود مقتدی بن گئے۔ قاضی ابو یوسف ؒنے تعدیل ارکان، آداب شرعی، سنن و واجبات کا لحاظ کئے بغیر نماز پڑھائی۔ جلدی جلدی فرائض نماز ادا کئے تا کہ سورج طلوع نہ ہو۔ پھر امام ابو حنیفہ ؒنے دوسرے وقت میں واجبات اور سنن نماز کے آداب شرعی ترک کی وجہ سے نفل کی نیت سے دہرائی۔ اس موقع پر امام ابو حنیفہ ؒنے کہا کہ آج کے دن ابو یوسف ؒفقیہ بن گئے۔
ملاحظہ فرمائیں: صفحه 33 جلد 01 تقرير الترمذي مع جامع الترمذي- محمود الحسن ديوبندي - الطاف ایند سنز، كراتشي


مزید کچھ کہنے کی حاجت تو نہیں ہونی چاہئے کہ دانستہ سنن و واجبات کے بغیر اور آداب شرعی کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر نماز پڑھانے پر امام صاحب نے قاضی ابو یوسف کو فقاہت کی ڈگری عنایت فرمائی تھی۔
جب آپ بھی فقہ حنفی کی اس گہرائی کو حاصل کر لو گے، تو فقہ نہ سہی، حنفی عالم یا حنفی مفتی کی سند ضرور پا لو گے!


نوٹ: غور کریں امام صاحب بھی ترک واجب کی صورت میں نفل اعادہ فرما رہے ہیں!
 
Last edited:
Top