• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
۱۷- باب: پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے​

317- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَاللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَيْدِيَّ، يَقُولُ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: <لايَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ > وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِكَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۳۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۷)، حم (۴/۱۹۰، ۱۹۱) (صحیح)

۳۱۷- عبد اللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرمﷺ کو یہ فرماتے سنا: ''کوئی شخص قبلہ رو ہو کر ہرگز پیشاب نہ کرے '' اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی۔

318- حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَة، وَقَالَ: < شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا>۔
* تخريج: خ/الوضوء ۱۱(۱۴۴)، الصلاۃ ۲۹ (۳۹۴)، م/الطہارۃ ۱۷ (۲۶۴)، د/الطہارۃ ۴ (۹)، ت/الطہارۃ ۶ (۸)، ن/الطہارۃ ۲۰ (۲۱)، ۲۱ (۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۷۸)، وقد أخرجہ: ط/القبلۃ ۱ (۱)، حم (۵/۴۱۶، ۴۱۷، ۴۲۱)، دي/الطہارۃ ۶ (۶۹۱) (صحیح)

۳۱۸- ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ''مشرق (پورب) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان اہل مدینہ یا ان لوگوں کے لئے تھا، جن کا قبلہ اتر یا دکھن کو تھا، مسلمان کو قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کے لئے نہ بیٹھنا چاہئے۔

319- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى الثَّعْلَبِيِّينَ، عَن مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الأَسَدِيِّ -وَقَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ ﷺ- قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۴ (۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۱۰) (ضعیف)
(حدیث کی سند میں مذکور راوی ''أبو زید'' مجہول ہیں)
۳۱۹- معقل بن ابو معقل اسدی رضی اللہ عنہ (جن کو نبی اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں (مسجد حرام اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔

320- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۸۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۱۲، ۱۵) (صحیح)
(حدیث کی سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۱۰)
۳۲۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںانہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایاہے ۔

[ز] 321- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنَاهُ أَبُوْ سَعْدِ عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ الدَّوْنَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْبَصْرِيّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَانِي أَنْ أَشْرَبَ قَائِمًا، وَأَنْ أَبُولَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۸۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۹) (صحیح)
(سند میں ابن لہیعہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۱۰)
۳۲۱- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكَنِيفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارِي
۱۸- باب: صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان​

322- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ، (ح) وَحدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمرَ قَالَ: يَقُولُ أُنَاسٌ: إِذَا قَعَدْتَ لِلْغَائِطِ فَلا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَلَقَدْ ظَهَرْتُ، ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الأَيَّامِ، عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَاعِدًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ، مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، هَذَا حَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ۔
* تخريج: خ/الوضوء ۱۲ (۱۴۵)، ۱۴ (۱۴۸)، م/الطہارۃ ۱۷ (۲۶۶)، د/الطہارۃ ۵ (۱۲)، ت/الطہارۃ ۷ (۱۱)، ن/الطہارۃ ۲۲ (۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۵۲)، وقد أخرجہ: ط/القبلۃ ۲ (۳)، حم (۲/۱۲، ۱۳)، دي/الطہارۃ ۸ (۶۹۴) (صحیح)

۳۲۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب تم قضائے حاجت کے لئے بیٹھو تو قبلہ رو ہو کر نہ بیٹھو، حالاں کہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لئے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے بیٹھے ہیں۔
ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ یزید بن ہارون کی حدیث ہے۔


323- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ، عَنْ نَافِعٍ، عن ابْنِ عُمَر، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ.
قَالَ عِيسَى: فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: فِي الصَّحْرَائِ لا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلا يَسْتَدْبِرْهَا، وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ، فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ، اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۷، ۹۹، ۱۱۴) (ضعیف جدًا)
(سند میں عیسیٰ بن أبی عیسیٰ الحناط متروک الحدیث ہے)
۳۲۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کرکے بیٹھے ہوئے ہیں۔
عیسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث شعبی سے بیان کی تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سچ کہا، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی سچ کہا، لیکن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول یہ ہے کہ صحراء میں نہ تو قبلہ کی جانب منہ کرو نہ پیٹھ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کا اعتبار نہیں، جدھر چاہو منہ کرو۔


[ز] 323/أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۳۲۳/أ- اس سند سے بھی عبید اللہ بن موسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔

324- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَوْمٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا بِفُرُوجِهِمُ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ: <أُرَاهُمْ قَدْ فَعَلُوهَا، اسْتَقْبِلُوا بِمَقْعَدَتِي الْقِبْلَةَ >.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۳۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۱۲۷، ۱۳۷، ۱۸۳، ۲۱۹، ۲۲۷، ۲۳۹) (ضعیف)
(سند میں خالد بن ابو صلت مجہول ہیں، نیز عراک بن مالک کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان کا سماع نہیں ہے)
۳۲۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو اپنی شرم گاہوں کو قبلہ کی جانب کرنے میں کراہت محسوس کرتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''شاید وہ ایسا کر رہے ہیں، لہٰذا میرے قضائے حاجت کی جگہ کو قبلہ کی طرف کر دو''۔

[ز] 324/أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ، مِثْلَهُ۔
۳۲۴/أ- اس سند سے بھی خالد بن ابی الصلت سے اسی کے مثل مروی ہے۔

325- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، فَرَأَيْتُهُ، قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ، يَسْتَقْبِلُهَا۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۵ (۱۳)، ت/الطہارۃ ۷ (۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۷۴)، حم (۳/۳۶۰) (حسن)

۳۲۵- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کرنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر آپ کے انتقال سے ایک سال پہلے میں نے دیکھا قضائے حاجت کے وقت آپ ﷺ کا منہ قبلہ کی طرف ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جابر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ممانعت صحراء اور بنیان (آبادی) دونوں کو عام تھی، اسی وجہ سے انہوں نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اکرم ﷺ کے آخری فعل سے ممانعت منسوخ ہو گئی، اگر ممانعت کو صحراء و میدان کے ساتھ خاص مان لیا جائے تو نہ دونوں فعلوں میں تعارض ہو گا، اور نہ ہی ناسخ منسوخ ماننے کی ضرورت پڑے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب الاسْتِبْرَاءِ بَعْدَ الْبَوْلِ
۱۹- باب: پیشاب کے بعد طہارت کا بیان​

326- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُونُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزْدَادَ الْيَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْتُرْ " - ذَكَرَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ-.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۷) (ضعیف)
(سند میں زمعہ بن صالح ضعیف اور عیسیٰ بن زیاد الیمانی مجہول الحال ہیں، نیز یزداد کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۶۲۱)
۳۲۶- یزداد یمانی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل کو تین مرتبہ جھاڑے''۔

[ز] 326/أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ،حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
۳۲۶/أ - اس سند سے بھی زمعہ نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب مَنْ بَالَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
۲۰- باب: پیشاب کر کے پانی استعمال نہ کرنے کا بیان​

327- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ، عَنِ ابْنِ أبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ ﷺ يَبُولُ، فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ، فَقَالَ: < مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟! > قَالَ: مَاءٌ، قَالَ: < مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ، وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۲۲ (۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۹۵) (ضعیف)
(تراجع الألبانی، رقم: ۲۹۶، حدیث کی سند میں عبد اللہ بن یحییٰ التوام ضعیف ہیں)
۳۲۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پیشاب کے لئے گئے، اور عمر رضی اللہ عنہ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے، آپ ﷺ نے پوچھا: عمر یہ کیا ہے؟ کہا: پانی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں، تو وضو کروں، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں، لیکن باوضو رہنا بہتر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب النَّهْيِ عَنِ الْخَلائِ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ
۲۱- باب: راستہ میں پیشاب و پاخانہ کرنا منع ہے​

328- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْحِمْيَرِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَتَحَدَّثُ بِمَا لَمْ يَسْمَعْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَيَسْكُتُ عَمَّا سَمِعُوا، فَبَلَغَ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ! مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ هَذَا، وَأَوْشَكَ مُعَاذٌ أَنْ يَفْتِنَكُمْ فِي الْخَلاءِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا، فَلَقِيَهُ، فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو! إِنَّ التَّكْذِيبَ بِحَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ نِفَاقٌ، وَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ قَالَهُ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < اتَّقُوا الْمَلاعِنَ الثَّلاثَ: الْبَرَازَ فِي الْمَوَارِدِ، وَالظِّلِّ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۴ (۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۴) (حسن)
(سند میں ابو سعید الحمیری کا سماع معاذ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن کے درجہ میں ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۶۲)
۳۲۸- ابو سعید حمیری بیان کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ایسی احادیث بیان کرتے تھے، جو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے نہیں سنی ہوتی تھیں، چنانچہ جو حدیثیں سنی ہوئی ہوتیں ان کے بیان سے خاموش رہتے، عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو ان کی یہ حالت اور بیان کردہ روایات پہنچیں تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا فرماتے ہوئے نہیں سنا، قریب ہے کہ معاذ تم کو قضائے حاجت کے مسئلے میں فتنے میں مبتلا کر دیں، یہ خبر معاذ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ ان سے جا کر ملے اور کہا: اے عبد اللہ بن عمرو! رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث کو جھٹلانا نفاق ہے، اگر کہنے والے نے کوئی بات جھوٹ کہی تو اس کا گناہ اسی پر ہو گا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو واقعی یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ''تین ایسی چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں: مسافروں کے وارد ہونے کی جگہوں پر، سائے دار درختوں کے نیچے، اور عام راستوں پر قضائے حاجت کرنے سے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جن مقامات پر لوگ اپنے یا جانوروں کے پانی کے لئے جاتے ہوں، جہاں آرام کے لئے سایہ میں بیٹھتے ہوں، یا جس راستہ پر چلتے ہوں اس پر پاخانہ کرنا لعنت کا سبب ہے، کیونکہ اس سے لوگوں کو ایذاء پہنچتی ہے، اور لوگ لعن و طعن کرتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔

329- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زُهَيْرٍ قَالَ: قَالَ سَالِمٌ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ َ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ، وَالصَّلاةَ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مَأْوَى الْحَيَّاتِ وَالسِّبَاعِ، وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلاعِنِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۲۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۵ ۳۰) (حسن)
(اس سند میں سالم بن عبد اللہ الخیاط البصری ہیں، حافظ ابن حجر نے انہیں صدوق سئی الحفظ کہا ہے، مگر زہیر بن محمد التمیمی اور عمرو بن أبی سلمہ دونوں ضعیف ہیں، اور حسن بصری اور جابر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز اس حدیث میں ''وَالصَّلاةَ عَلَيْهَا'' کا لفظ ثابت نہیں ہے، لیکن حدیث کے جملے متفرق طور پر صحیح ہیں، پہلا جملہ ''إِيَّاكُمْ وَالتَّعْرِيسَ'' صحیح مسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور آخری ٹکڑے:''وَقَضَاءَ الْحَاجَةِ عَلَيْهَا، فَإِنَّهَا مِنَ الْمَلاعِنِ'' کے کافی شواہد ہیں: ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱/ ۱۰۱، والصحیحہ: ۲۴۳۳)
۳۲۹- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بیچ راستے میں رات کو پڑاؤ ڈالنے اور صلاۃ پڑھنے سے بچو، اس لئے کہ وہ سانپوں اور درندوں کے بار بار آنے اورجانے کا راستہ ہے، اور وہاں قضاء حاجت سے بھی بچو اس لئے کہ یہ لعنت کے اسباب میں سے ہے''۔

330- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ، أَوْ يُضْرَبَ الْخَلائُ عَلَيْهَا، أَوْ يُبَالَ فِيهَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۰۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۶) (ضعیف)
(سند میں ابن لہیعہ اور عمرو بن خالد ضعیف ہیں، لیکن متن صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإراوء : ۱/۱۰۱ - ۱۰۲ - ۳۱۹)
۳۳۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے راستے میں صلاۃ پڑھنے یا پاخانہ پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَائِ
۲۲ - باب: قضائے حاجت کے لئے میدان میں دور جانے کا بیان​

331- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا ذَهَبَ الْمَذْهَبَ أَبْعَدَ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱ (۱)، ت/الطہارۃ ۱۶ (۲۰)، ن/الطہارۃ ۱۶ (۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۴)، دي/الطہارۃ ۴ (۶۸۶) (حسن صحیح)

۳۳۱- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو دور جاتے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: مقصود اس سے پردہ ہے، جہاں سے اور جیسے بھی حاصل ہو جائے کافی ہے۔

332- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرَ بْنُ عُبَيْدٍ،عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ؛ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَائَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۷) (صحیح)
(سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور اور عطاء خراسانی تدلیس و ارسال کرنے والے ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کا سماع انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ۳۳)
۳۳۲- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کے لئے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے، وضو کے لئے پانی مانگا اور وضو کیا۔

333- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ إِذَا ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ أَبْعَدَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۵۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۸) (صحیح)
(یونس بن خباب ضعیف ہیں لیکن حدیث مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے آئی ہے، اس لئے صحیح ہے، کما تقدم (۳۳۱) نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۱۵۹)
۳۳۳- یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تو دور نکل جاتے۔

334- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ -قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ- عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ؛ وَالْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَبْعَدَ۔
* تخريج: ن/الطہارۃ ۱۶(۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۴۴۳، ۴/۲۲۴)(صحیح)

۳۳۴- عبد الرحمن بن ابوقُراد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حج کیا، آپ قضائے حاجت کے لئے دور نکل گئے۔

335- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عَبْدِالْمَلِكِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لا يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلا يُرَى۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱ (۲)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۵۹)، وقد أخرجہ: دي/المقدمۃ ۴ (۱۷) (صحیح)

۳۳۵- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، آپ ﷺ قضائے حاجت کے لئے اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتے۔

336- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ كَثِيرِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ بِلالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ أَبْعَدَ.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۲۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۹) (صحیح)
(سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
۳۳۶- بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کے لئے جاتے تو دور نکل جاتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب الارْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
۲۳- باب: پاخانہ اور پیشاب کے لئے مناسب جگہ ڈھونڈنے کا بیان​

337- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُصَيْنٍ الْحِمْيَرِيّ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَحْسَن، وَمَنْ لا فَلا حَرَجَ، وَمَنْ تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ، وَمَنْ لاكَ فَلْيَبْتَلِعْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لا فَلا حَرَجَ، وَمَنْ أَتَى الْخَلائَ فَلْيَسْتَتِرْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلا كَثِيبًا مِنْ رَمْلٍ فَلْيَمْدُدْهُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ ابْنِ آدَمَ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لا فَلا حَرَجَ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۹(۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۷۱)، دي/الطہارۃ ۵ (۶۸۹) (ضعیف)
(سند میں حصین حمیری اور ابو سعد الخیر مجہول ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن ''مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ'' کا جملہ صحیح ہے، یہ حدیث آگے (۳۴۹۸) پر بھی آرہی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۰۲۸)
۳۳۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو طاق استعمال کرے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہ کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو خلال کرے (اور دانتوں سے کچھ نکلے) تو اسے تھوک دے، اور جو چیز زبان کی حرکت سے نکلے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص قضائے حاجت کے لئے باہر میدان میں جائے تو آڑ میں ہو جائے، اگر آڑ کی جگہ نہ پائے اور ریت کا کوئی تو دہ ہو تو اسی کی آڑ میں ہو جائے، اس لئے کہ شیطان انسانوں کی شرمگاہوں سے کھیل کرتا ہے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں۔

338- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ: "وَمَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لا فَلا حَرَجَ، وَمَنْ لاكَ فَلْيَبْتَلِعْ"۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (ضعیف)
(سابقہ علت کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن ''مَنِ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ'' کا جملہ شواہد صحیحہ کی وجہ سے صحیح ہے)
۳۳۸- اس سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اور اس میں اتنا اضافہ ہے: ''جو سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ زبان کی حرکت سے نکلے اُسے نگل جائے''۔

339- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ؛ فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ؛ فَقَالَ لِي: <ائْتِ تِلْكَ الأَشَائَتَيْنِ> -قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ۱؎ - <فَقُلْ لَهُمَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا>، فَاجْتَمَعَتَا، فَاسْتَتَرَ بِهِمَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ قَالَ لِي: <ائْتِهِمَا فَقُلْ لَهُمَا: لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا> فَقُلْتُ لَهُمَا، فَرَجَعَتَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۴۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۷۲) (صحیح)
(سند میں ضعف ہے اس لئے کہ منہال کا سماع یعلی بن مرہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے شواہد اور طرق سے یہ صحیح ہے، (ملاحظہ ہو: زہد وکیع (۵۰۹) تحقیق د/عبد الرحمن الفریوائی)۔
۳۳۹- مرہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا اور مجھ سے کہا: ''تم کھجور کے ان دونوں چھوٹے درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں باہم مل جانے کا حکم دے رہے ہیں''، چنانچہ حکم پاتے ہی وہ دونوں درخت باہم مل گئے۲؎، آپ ﷺ نے ان کی آڑ میں قضائے حاجت کی اور پھر مجھ سے فرمایا: ''ان دونوں کے پاس جاؤ اور کہو کہ اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ جائیں''۔
مرہ کہتے ہیں: میں نے جا کر ان سے یہ کہا تو وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئے۔

وضاحت۱؎: مصباح الزجاجہ (۱۳۸) میں اس کے بعد: ''قَاْلَ أَبُوْ بَكْرٍ القَصَّاْرُ'' کا اضافہ کیا ہے، اور ایسے ہی مشہور حسن کے یہاں ہے، لیکن سند میں ''أبو بكر'' کا ذکر نہیں ہے)
وضاحت۲؎: درخت کا نبی اکرم ﷺ کے حکم سے چلے آنا آپ کا معجزہ تھا۔

340- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ النَّبِيُّ ﷺ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ۔
* تخريج: م/الحیض ۷۹ (۳۴۲)، الفضائل ۱۱ (۲۴۲۹)، د/الجہاد ۴۷ (۲۵۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۰۴، ۲۰۵)، دي/الطہارۃ ۵ (۶۹۰) (صحیح)

۳۴۰- عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو قضائے حاجت کے وقت آڑ کے لئے ٹیلے یا کھجوروں کے جھنڈ سب سے زیادہ پسندیدہ تھے۔

341- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى الشِّعْبِ فَبَالَ، حَتَّى إنِّي آوِي لَهُ مِنْ فَكِّ وَرِكَيْهِ حِينَ بَالَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱) (ضعیف)
(سند میں'' محمد بن ذکوان'' ضعیف ومنکرالحدیث ہیں)
۳۴۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ راستہ چھوڑ کر ایک گھاٹی کی جانب مڑے اور پیشاب کیا، یہاں تک کہ مجھے ترس آتا تھا کہ آپﷺ پیروں کو پیشاب کے وقت بہت زیادہ کشادہ کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب النَّهْيِ عَنِ الاجْتِمَاعِ عَلَى الْخَلاءِ وَالْحَدِيثِ عِنْدَهُ
۲۴- باب: ایک ساتھ بیٹھ کر پاخانہ کرنا اور اس میں بات چیت کرنی منع ہے​

342- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ رَجَائٍ، أَنْبَأَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَتَنَاجَى اثْنَانِ عَلَى غَائِطِهِمَا، يَنْظُرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى عَوْرَةِ صَاحِبِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ -عَزَّ وَجَلَّ- يَمْقُتُ عَلَى ذَلِكَ >.
* تخريج: د/الطہارۃ ۷ (۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۱۶، ۳۶) (صحیح)
(اس کی سند میں کلام ہے، کیونکہ ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، اور عکرمہ بن عمار سے اس حدیث کی روایت میں سخت اضطراب کاشکار ہوئے، لیکن متابعت اور شاہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۳۱۲۰، وصحیح ابی داود: ۱۱/م، و تراجع الالبانی، رقم : ۷)
۳۴۲- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قضائے حاجت کے وقت دو آدمی آپس میں کانا پھوسی نہ کریں کہ آپس میں ہر ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھ رہا ہو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس سے سخت ناراض ہوتا ہے''۔

342/أ- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ هِلالٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَهُوَ الصَّوَابُ.
۳۴۲/أ - اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، اس میں ہلال بن عیاض کے بجائے عیاض بن ہلال ہے، محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: یہی صحیح ہے۔

342/ب- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، نَحْوَهُ۔
۳۴۲/ب - اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے لیکن اس سند میں عیاض بن عبد اللہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب النَّهْيِ عَنِ الْبَوْلِ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ
۲۵- باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے​

343- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ،أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ نَهَى عَنْ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۲۸ (۲۸۱)، ن/ الطہا رۃ ۳۱ (۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۹۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۳۴۱، ۳۵۰) (صحیح)

۳۴۳- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ٹھہرے ہوئے پانی سے مراد وہ پانی ہے جو نہر اور دریا کے پانی کی طرح جاری نہ ہو، جیسے گڑھا، جھیل اور تالاب وغیرہ کا پانی ان میں پیشاب کرنا منع ہے، تو پاخانہ کرنا بدرجہ اولیٰ منع ہو گا۔
ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں ویسے ہی سڑاند پیدا ہو جاتی ہے اور وہ بدبودار ہو جاتا ہے، اگر اس میں مزید نجاست اور گندگی ڈال دی جائے، تو یہ پانی مزید بد بودار ہو جائے گا، اور اس کی سڑاند سے قرب و جوار کے لوگوں کو تکلیف پہنچے گی، اور صحت عامہ میں خلل پیدا ہو گا، اور ماحول آلودہ ہو گا۔

344- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الرَّاكِدِ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۳۶ (۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۳۷)، وقد أخرجہ: خ/الوضو ۶۹ (۲۳۹)، م/الطہارۃ ۲۸ (۲۸۲)، ن/الطہارۃ ۴۶ (۵۸)، حم (۲/۳۱۶، ۳۴۶، ۳۶۲، ۴۶۴)، دي/الطہارۃ ۵۴ (۷۵۷) (حسن صحیح)

۳۴۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے''۔

345- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ النَّاقِعِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۹۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۲) (ضعیف)
(سند میں اسحاق بن عبد اللہ أبی فروہ متروک ہیں، لیکن ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ''الماء الدائم'' کے لفظ سے صحیح اور متفق علیہ ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو : سنن ابی داود: ۶۹-۷۰)
۳۴۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی شخص ہرگز پیشاب نہ کرے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب التَّشْدِيدِ فِي الْبَوْلِ
۲۶- باب: پیشاب کی چھینٹ سے نہ بچنے پر وارد وعید کا بیان​

346- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ؛ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَفِي يَدِهِ الدَّرَقَةُ، فَوَضَعَهَا، ثُمَّ جَلَسَ فَبَالَ إِلَيْهَا، فَقَالَ بَعْضُهُمُ: انْظُرُوا إِلَيْهِ، يَبُولُ كَمَا تَبُولُ الْمَرْأَةُ، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: < وَيْحَكَ! أَمَا عَلِمْتَ مَا أَصَابَ صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ كَانُوا إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَوْلُ قَرَضُوهُ بِالْمَقَارِيضِ، فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ، فَعُذِّبَ فِي قَبْرِهِ >.
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۱ (۲۲)، ن/الطہارۃ ۲۶ (۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۹۳)، حم (۴/ ۱۹۶) (صحیح)

۳۴۶- عبد الرحمن بن حسنہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی، آپ ﷺ نے اسے رکھا اور اس کی آڑ میں بیٹھ کر پیشاب کیا، کچھ لوگوں نے (بطور استہزاء) کہا کہ انہیں دیکھو ایسے پیشاب کرتے ہیں جیسے عورت پیشاب کرتی ہے، نبی اکرم ﷺ نے سنا اور فرمایا: ''افسوس ہے تم پر، بنی اسرائیل کے ایک شخص کو جو مصیبت پہنچی، تمہیں اس کی خبر نہیں؟ ان کے کپڑوں میں پیشاب لگ جاتا تو اسے قینچی سے کاٹتے تھے، ایک شخص نے انہیں اس عمل سے روک دیا، تو اسے اس کی قبر میں عذاب دیا گیا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگرچہ یہ بات بنی اسرائیل کی شریعت میں ناپسندیدہ تھی مگر بظاہر یہ خلاف عقل معلوم ہوتی تھی کیونکہ اس میں جان و مال دونوں کا نقصان ہے، پھر جب ایسی بات کے منع کرنے پر عذاب دیا گیا تو یہ حیاء سے منع کرنے میں بطریق اولیٰ عذاب کے لائق ہیں کیونکہ حیاء اور پردہ شریعت اور عقل دونوں کی روسے بہتر ہے۔

[ز] 346/أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ،حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الأَعْمَشُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
۳۴۶/أ- اس سند سے بھی اعمش نے ایسی ہی حدیث ذکر کی ہے۔

347- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِقَبْرَيْنِ جَدِيدَيْنِ، فَقَالَ: < إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لا يَسْتَنْزِهُ مِنْ بَوْلِهِ، واَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ >۔
* تخريج: خ/الوضوء ۵۶ (۲۱۶)، ۵۷ (۲۱۸)، الجنائز۸۱ (۱۳۶۱)، ۸۸ (۱۳۷۸)، الأدب ۴۶ (۶۵۵۲)، ۴۹ (۶۰۵۵)، م/الطہارۃ ۳۴ (۲۹۲)، د/الطہارۃ ۱۱ (۲۰)، ت/الطہارۃ ۵۳ (۷۰)، ن/الطہارۃ ۲۷ (۳۱)، الجنائز ۱۱۶ (۲۰۷۰، ۲۰۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۴۷)، وقد أخرجہ: حم (۱ /۲۲۵)، دي/الطہارۃ ۶۱ (۷۶۶) (صحیح)

۳۴۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر دو نئی قبروں کے پاس سے ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہورہا ہے۱؎ (کہ جس سے بچنا مشکل تھا)، ایک شخص تو پیشاب (کی چھینٹوں) سے نہیں بچتا تھا، اور دوسرا غیبت (چغلی) کیا کرتا تھا''۔
وضاحت۱؎: یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے کا مطلب ہے کہ ان کے خیال میں یہ کوئی بڑا گناہ نہیں تھا، ورنہ شریعت کی نگاہ میں تو وہ بڑا گناہ ہی تھا، اگر بڑا نہ ہوتا تو انہیں عذاب کیوں دیا جاتا، مطلب یہ ہے کہ ان سے بچنا کوئی بہت مشکل مسئلہ نہ تھا وہ چاہتے تو آسانی سے اس سے بچ سکتے تھے۔

348- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۰۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۲۶، ۳۸۸، ۳۸۹) (صحیح)

۳۴۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''زیادہ تر قبر کا عذاب پیشاب کی وجہ سے ہے''۔

349- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنِي بَحْرُ بْنُ مَرَّارٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بَكْرَةَ؛ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: <إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَيُعَذَّبُ فِي الْبَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَيُعَذَّبُ فِي الْغِيْبَةِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۵۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵، ۳۹) (حسن صحیح)

۳۴۹- ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ''ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ عذاب کسی بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے (جس سے بچنا مشکل تھا) ایک شخص کو تو پیشاب کی چھینٹے سے نہ بچنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے، اور دوسرا غیبت (چغلی) کرنے کی وجہ سے''۔
 
Top