- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
17- بَاب النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
۱۷- باب: پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے
۱۷- باب: پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے
317- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَاللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ جَزْئٍ الزُّبَيْدِيَّ، يَقُولُ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: <لايَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ > وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذَلِكَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۳۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۷)، حم (۴/۱۹۰، ۱۹۱) (صحیح)
۳۱۷- عبد اللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے نبی اکرمﷺ کو یہ فرماتے سنا: ''کوئی شخص قبلہ رو ہو کر ہرگز پیشاب نہ کرے '' اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جس نے لوگوں سے یہ حدیث بیان کی۔
318- حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَة، وَقَالَ: < شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا>۔
* تخريج: خ/الوضوء ۱۱(۱۴۴)، الصلاۃ ۲۹ (۳۹۴)، م/الطہارۃ ۱۷ (۲۶۴)، د/الطہارۃ ۴ (۹)، ت/الطہارۃ ۶ (۸)، ن/الطہارۃ ۲۰ (۲۱)، ۲۱ (۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۷۸)، وقد أخرجہ: ط/القبلۃ ۱ (۱)، حم (۵/۴۱۶، ۴۱۷، ۴۲۱)، دي/الطہارۃ ۶ (۶۹۱) (صحیح)
۳۱۸- ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا، اور فرمایا: ''مشرق (پورب) کی طرف منہ کرو، یا پچھم کی طرف''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان اہل مدینہ یا ان لوگوں کے لئے تھا، جن کا قبلہ اتر یا دکھن کو تھا، مسلمان کو قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کے لئے نہ بیٹھنا چاہئے۔
319- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى الْمَازِنِيُّ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى الثَّعْلَبِيِّينَ، عَن مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الأَسَدِيِّ -وَقَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ ﷺ- قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَيْنِ بِغَائِطٍ أَوْ بِبَوْلٍ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۴ (۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۱۰) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی ''أبو زید'' مجہول ہیں)
۳۱۹- معقل بن ابو معقل اسدی رضی اللہ عنہ (جن کو نبی اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پیشاب اور پاخانے کے وقت دونوں قبلوں (مسجد حرام اور بیت المقدس) کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
320- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ نَهَى أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۸۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۱۲، ۱۵) (صحیح) (حدیث کی سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۱۰)
۳۲۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںانہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ رو ہو کر پاخانہ اور پیشاب کرنے سے منع فرمایاہے ۔
[ز] 321- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنَاهُ أَبُوْ سَعْدِ عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ الدَّوْنَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْبَصْرِيّ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَانِي أَنْ أَشْرَبَ قَائِمًا، وَأَنْ أَبُولَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۸۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۹) (صحیح)
(سند میں ابن لہیعہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۱۰)
۳۲۱- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: بیشک رسول اللہ ﷺ نے مجھے کھڑے ہو کر پانی پینے سے، اور قبلہ رو ہو کر پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔