• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
55- بَاب مَا يَكُونُ فِيهِ الْيُمْنُ وَالشُّؤْمُ
۵۵- باب: جن چیزوں میں برکت اور نحوست کی بات کہی جاتی ہے ان کا بیان​

1993- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ مِخْمَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا شُؤْمَ، وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِي ثَلاثَةٍ: فِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۴۳، ومصباح الزجاجۃ: ۷۰۷) (صحیح)

۱۹۹۳- مخمر بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''نحوست کوئی چیز نہیں، تین چیزوں میں برکت ہوتی ہے: عورت، گھوڑا اور گھر میں''۱؎۔
وضاحت۱؎: تمام چیزیں اللہ تعالی کی مشیت اور تقدیر سے ہوتی ہیں، تو نحوست اور برکت کی کوئی شے نہیں ہے، لیکن اگر کسی چیز میں اس کا اعتبار ہوتا تو ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی، جن کو آپ ﷺ نے ذکر فرمایا ہے، اور اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان چیزوں کا انسان پر کچھ برا یا بھلا اثر ہوتا ہے، بلکہ ان کے بابرکت ہونے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی مکان عمدہ نکلتا ہے لوگ اس میں صحیح و سالم رہتے ہیں، اولاد پیدا ہوتی ہے، اسی طرح کوئی گھوڑا کم خوراک، تابعدار، چست و چالاک اور محنتی ہوتا ہے، کوئی عورت غریب اور اطاعت گذار نیک ہوتی ہے بس یہی ان چیزوں کی برکت ہے، اور اس کے برعکس اگر نحوست کی بات کہی جائے، تو مکان کی نحوست یہ ہے کہ تنگ و تاریک، وحشت ناک اور گندہ ہو جس کے رہنے والے بیماریوں میں مبتلا ہوا کریں، گھوڑا منحوس وہ ہے جو سرکش اور سوار کا دشمن ہو، کام نہ کرے اور کھائے بہت، عورت کی نحوست یہ ہے کہ بدکار، فاجر، بدمعاش ہو، شوہر کی اطاعت نہ کرے، بانجھ اور بد زبان ہو، ہمارے زمانہ کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ بعض چیزیں خود منحوس ہوتی ہیں یعنی صاحب خانہ پر بلا لاتی ہیں، یہ خیال بالکل غلط اور بے بنیاد ہے، اور رسول اکرم ﷺ نے اس کی تردید پہلے ہی کر دی کہ نحوست کوئی چیز نہیں، جو آفت آئے، اس کو تقدیر الہی سمجھنا چاہئے، اور صبر اور دعا کرنا چاہئے، کسی آدمی کا دل دکھانا، یا کسی حیوان کو بے فائدہ اور منحوس سمجھنا بے وقوفی اور حماقت ہے۔حدیث میں صرف اتنا ہے کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو ان چیزوں میں ہوتی، اور ان کا منحوس ہونا لوگوں کے تجربے کے اعتبار سے ان کی افادیت و عدم افادیت ہے، نہ کہ کوئی بد اعتقادی اور گمراہی کی چیز۔

1994- حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِنْ كَانَ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ >، يَعْنِي الشُّؤْمَ۔
* تخريج: خ/الجہاد ۴۷ (۲۸۶۰)، النکاح ۱۸ (۵۰۹۵)، م/السلام ۳۴ (۲۲۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۴۵)، وقد أخرجہ: ط/الإستئذان ۸ (۲۱)، حم (۵/۳۳۵، ۳۳۸) (صحیح)

۱۹۹۴- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر وہ (یعنی نحوست) ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی''۔

1995- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <الشُّؤْمُ فِي ثَلاثٍ: فِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ>، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَحَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ أَنَّ جَدَّتَهُ، زَيْنَبَ حَدَّثَتْهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَعُدُّ هَؤُلاءِ الثَّلاثَةَ، وَتَزِيدُ مَعَهُنَّ السَّيْفَ۔
* تخريج: حدیث عبد اللہ بن عمر أخرجہ: م/الطب ۳۴ (۲۲۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۶۴)، وحدیث أم سلمۃٰ، تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۷۶)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۴۷ (۲۸۵۸)، النکاح ۱۷ (۵۰۹۳)، الطب ۴۳ (۵۷۵۳)، د/الطب ۲۴ (۳۹۲۲)، ن/الخیل ۵ (۳۵۹۹)، ت/الادب ۵۸ (۲۸۲۴)، ط/الإستئذان ۸ (۲۲)، حم (۲/۸، ۳۶، ۱۱۵، ۱۲۶) (صحیح)

۱۹۹۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''نحوست تین چیزوں میں ہے: گھوڑے، عورت اور گھر میں''۱؎۔
زہری کہتے ہیں: مجھ سے ابو عبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا، اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اوران کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں۔

وضاحت۱؎: الشوم فى ثلاث: (نحوست کے تین چیزوں میں متحقق ہونے) سے متعلق احادیث کے مقابلہ میں ''إن كان الشؤم...'' (اگر نحوست ہوتی تو تین چیزوں میں ہوتی) کا لفظ کثرت روایت اور معنی کے اعتبار سے زیادہ قوی ہے، اس لئے کہ اسلام میں کوئی چیز شؤم و نحوست کی نہیں، اس لئے البانی صاحب نے''الشؤم فى ثلاثة ......'' والی احادیث کو شاذ قرار دیا ہے، اور شرط کے ساتھ وارد متعدد احادیث کو روایت اور معنی کے اعتبار سے صحیح قرار دیا ہے: ( ملاحظہ ہو: الصحیحۃ: ۴/۴۵۰-۴۵۱)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
56- بَاب الْغَيْرَةِ
۵۶- باب: غیرت کا بیان​

1996- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَيْبَانَ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَهْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ، فَأَمَّا مَا يُحِبُّ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا مَا يَكْرَهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۳۸، ومصباح الزجاجۃ: ۷۰۹) (صحیح)
(اس کی سند میں أبی سھم مجہول ہے لیکن یہ حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: ابوداود: ۲۶۵۹ و نسائی و احمد: ۵ /۴۴۵ - ۴۴۶ و الإرواء: ۱۹۹۹)
۱۹۹۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بعض غیرت اللہ کو پسند ہے اور بعض ناپسند، جو غیرت اللہ کو پسند ہے وہ یہ ہے کہ شک و تہمت کے مقام میں غیرت کرے، اور جو غیرت ناپسند ہے وہ غیر تہمت و شک کے مقام میں غیرت کرنا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ وقت ایسا ہے کہ اللہ کی پناہ، بد معاش لوگ کسی نیک بخت عورت کی نسبت ایک جھوٹی تہمت لگا دیتے ہیں تاکہ اس کا شوہر غیرت میں آکر کوئی کام کر بیٹھے، اس کا گھر تباہ و برباد ہو، حسد کرنے والوں کو اس میں خوشی ہوتی ہے، یہ وقت بڑے تحمل اور استقلال کا ہے، انسان کو اس میں سوچ سمجھ کر کام کرنا چاہئے، جلدی ہرگز نہ کرنی چاہئے، اور شریعت کے مطابق گواہی لینی چاہئے، اگر ایسے سچے اور نیک گواہوں کی گواہی نہ ملے تو سمجھ لے کہ یہ حاسدوں اور دشمنوں کا فریب ہے، جو اس کا گھر تباہ کرنا چاہتے تھے، اللہ پاک حاسدوں اور دشمنوں کے شر سے بچائے، نبی اکرم ﷺ کو بھی ایذا دہی سے نہ چھوڑا، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹی تہمت باندھی، طوفان اٹھایا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی براءت ان کے سامنے نازل کی جس کی تلاوت قیامت تک کی جاتی رہے گی۔

1997- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَقَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ قَطُّ، مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ، مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَهَا، وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ، قَالَهُ ابْن مَاجَهَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۹۶)، وقد أخر جہ: خ/المناقب ۲۰ (۳۸۱۶)، م/فضائل الصحابۃ ۱۲ (۲۴۳۴)، ت/البروالصلۃ ۷۰ (۲۰۱۷)، المناقب ۶۲ (۳۸۷۵) (صحیح)

۱۹۹۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے، اور آپ ﷺ کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں، یعنی سونے کے مکان کی، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: نہ اس میں غل ہے نہ شور، جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی سب سے پہلی بیوی تھیں، آپ ﷺ کی تمام اولاد سوائے ابراہیم کے انہی کے مبارک بطن سے ہوئی، اور انہوں نے اپنا سارا مال و اسباب آپ ﷺ پر نثار کیا، اور سب سے پہلے آپ ﷺ پر ایمان لائیں، ان کے فضائل بہت ہیں، وہ آپ ﷺ کی ساری بیویوں میں سب سے افضل ہیں، اور سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں۔

1998- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: < إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لا آذَنُ لَهُمْ، ثُمَّ لا آذَنُ لَهُمْ، إِلا أَنْ يُرِيدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا >۔
* تخريج: خ/فرض الخمس ۵ (۳۱۱۱)، المناقب ۱۲ (۳۷۱۴)، النکاح ۱۰۹ (۵۲۳۰)، الطلاق ۱۳ (۵۲۷۸) م/فضائل الصحابۃ ۱۷ (۲۴۴۹)، د/النکاح ۱۳ (۲۰۷۱)، ت /المناقب ۶۱ (۳۸۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۲۳، ۳۲۸) (صحیح)

۱۹۹۸- مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ''ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کر دیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا، سوائے اس کے کہ علی بن ابی طالب میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے موجود ہوتے ہوئے، ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنی چاہی تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا ، دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''قسم اللہ کی، رسول اللہ ﷺ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ نہیں رہ سکتیں'' یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ نے یہ شادی نہیں کی، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی تک کسی اور عورت سے شادی نہیں کی، ان کی وفات کے بعد ابو جہل کی بیٹی سے اور دوسری کئی عورتوں سے شادی کی۔

1999- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ ابْنُ الْحُسَيْنِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ ﷺ، فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: < أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا، وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا> قَالَ: فَنَزَلَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۷۸) (صحیح)

۱۹۹۹- مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کو پیغام دیا جب کہ ان کے عقد میں نبی اکرم ﷺ کی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر کہا: آپ کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا، اب علی ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔
مسور کہتے ہیں: یہ خبر سن کر نبی اکرم ﷺ (منبر پر) کھڑے ہوئے، جس وقت آپ نے خطبہ پڑھا میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: ''اما بعد، میں نے اپنی بیٹی زینب کا نکاح ابو العاص بن ربیع سے کیا، انہوں نے جو بات کہی تھی اس کو سچ کر دکھایا ۱؎ میری بیٹی فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے، اور مجھے ناپسند ہے کہ تم لوگ اسے فتنے میں ڈالو، قسم اللہ کی، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی دونوں ایک شخص کے نکاح میں کبھی اکٹھی نہ ہوں گی، یہ سن کرعلی رضی اللہ عنہ شادی کے پیغام سے باز آگئے۲؎۔

وضاحت۱؎: کفر کے باوجود انہوں نے زینب رضی اللہ عنہا کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا پھر بھیج دیا۔
وضاحت۲؎: یعنی علی رضی اللہ عنہ نے یہ شادی نہیں کی، اور شادی کیوں کرتے آپ تو نبی اکرم ﷺ کے جاں نثار اور آپ کی مرضی کے تابع تھے، اس واقعہ کی وجہ سے علی رضی اللہ عنہ پر کوئی طعن نہیں ہو سکتا جیسے خوارج کیا کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے لا علمی میں یہ خیال کرکے کہ ہر مرد کو چار شادی کا حق ہے، یہ پیغام دیا تھا، جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ یہ رسول اکرم ﷺ کی مرضی کے خلاف ہے تو فوراً اس سے رُک گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
57- بَاب الَّتِي وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ ﷺ
۵۷- باب: جس عورت نے اپنے آپ کو نبی اکرم ﷺ کے لیے ہبہ کیا اس کا بیان​

2000- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ ﷺ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} قَالَتْ: فَقُلْتُ: إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ فِي هَوَاكَ۔
* تخريج: خ/تفسیر سورۃ الأحزاب (۴۷۸۸)، النکاح ۲۹ (۵۱۱۳)تعلیقاً، م/الرضاع ۱۴ (۱۴۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۴۹)، وقد أخرجہ: ن/النکاح ۶۹ (۳۳۶۱)، حم (۶/۱۵۸) (صحیح)

۲۰۰۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: کیا عورت اس بات سے نہیں شرماتی کہ وہ اپنے آپ کو نبی اکرم ﷺ کے لیے ہبہ کر دے ؟ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری :{تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} (جس کو تو چاہے اپنی عورتوں میں سے اپنے سے جدا کر دے اور جس کو چاہے اپنے پاس رکھے) (سورة الأحزاب: ۵۱) تب میں نے کہا: آپ کا رب آپ کی خواہش پر حکم نازل کرنے میں جلدی کرتا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ عورتیں شرم کریں، اور اپنے آپ کو رسول اکرم ﷺ کو ہبہ نہ کریں اس لئے کہ آپ ﷺ کی بیویاں بہت ہو جائیں گی تو باری ہر ایک کی دیر میں آئے گی، اب اختلاف ہے کہ جس عورت نے اپنے آپ کو آپ ﷺ پر ہبہ کر دیا تھا، اس کا نام کیا تھا، بعض کہتے ہیں میمونہ، بعض ام شریک، بعض زینب بنت خزیمہ، بعض خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہن، واللہ اعلم۔

2001- حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالا: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ؛ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ أَنَسٌ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ: مَا أَقَلَّ حَيَائَهَا، قَالَ: هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ۔
* تخريج: خ/النکاح ۳۲ (۵۱۲۰)، الأدب ۷۹ (۶۱۲۳)، ن/النکاح ۲۵ (۳۲۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۸) (صحیح)

۲۰۰۱- ثابت کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی: کیا آپ کو میری حاجت ہے؟ یہ سن کر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولی: اس کو کتنی کم حیا ہے! اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تجھ سے بہتر ہے، اس نے رسول اللہ ﷺ میں رغبت کی، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
58- بَاب الرَّجُلُ يَشُكُّ فِي وَلَدِهِ
۵۸- باب: آدمی کا اپنے لڑکے میں شک کرنے کا بیان​

2002- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < فَمَا أَلْوَانُهَا؟ > قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: < هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ > قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: < فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ؟ > قَالَ: عَسَى عِرْقٌ نَزَعَهَا. قَالَ: <وَهَذَا، لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ >، وَاللَّفْظُ لابْنِ الصَّبَّاحِ۔
* تخريج: م/اللعان ۱ (۱۵۰۰)، د/الطلاق ۲۸ (۲۲۶۰)، ت/الولاء ۴ (۲۱۲۹)، ن/الطلاق ۴۶ (۳۵۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۹)، وقد أخرجہ: خ/الطلاق ۲۶ (۵۳۰۵)، الحدود ۴۱ (۶۸۴۷)، الاعتصام ۱۲ (۷۳۱۴)، حم (۲/۲۳۴، ۲۳۹،۴۰۹) (صحیح)

۲۰۰۲- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا بچہ جنا ہے! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں''؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان کے رنگ کیا ہیں''؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے''؟ اس نے کہا: ہاں، ان میں خاکی رنگ کے بھی ہیں، آپ ﷺنے فرمایا: ''ان میں خاکی رنگ کہاں سے آیا''؟ اس نے کہا: کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا، آپ ﷺ نے فر مایا: ''یہاں بھی (تیرے لڑکے میں) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا''۱؎۔
یہ الفاظ محمد بن صباح کے ہیں۔

وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ اونٹوں کی قدیم نسل میں کوئی دوسرے رنگ کا ہو گا، پھر یہی رنگ کئی پشت کے بعد ان کی نئی نسل میں ظاہر ہوا، اب موجودہ اونٹ جو پرانی نسل کے ہیں وہ خالص سرخ تھے، چت کبرے نہ تھے، پس اسی طرح ہو سکتا ہے کہ انسان کی اولاد میں بھی ماں باپ کے خلاف دوسرا رنگ ظاہر ہو، اور اس کی وجہ یہ ہو کہ ماں باپ کے دادا پردادا میں کوئی کالا بھی ہو اور وہ رنگ اب ظاہر ہوا ہو، حاصل یہ ہے کہ بچے کے گورے یا کالے رنگ یا نقشے کے اختلاف کی وجہ سے یہ شبہ نہ کرنا چاہئے۔

2003- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ، أَبُو غَسَّانَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ عَلَى فِرَاشِي غُلامًا أَسْوَدَ، وَإِنَّا، أَهْلُ بَيْتٍ، لَمْ يَكُنْ فِينَا أَسْوَدُ قَطّ، قَالَ: < هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < فَمَا أَلْوَانُهَا؟ > قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: <هَلْ فِيهَا أَسْوَدُ؟ > قَالَ: لا، قَالَ: < فِيهَا أَوْرَقُ؟ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ؟ > قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: < فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۷۶۴۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۷) (حسن صحیح)

۲۰۰۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روا یت ہے کہ ایک بدوی (دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا لڑکا جنا ہے، اور ہم ایک ایسے گھرانے کے ہیں جس میں کبھی کوئی کالا نہیں ہوا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں''؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ''ان کے رنگ کیا ہیں''؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان میں کوئی سیاہ بھی ہے''؟ اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا ہے''؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ رنگ کہاں سے آیا''؟ اس نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر شاید تمہارے اس بچے کا بھی یہی حال ہو کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
59- بَاب الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
۵۹- باب: بچے کا حق دار بستر والا (شوہر) ہے اور پتھر کا مستحق زانی​

2004- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوْصَانِي أَخِي، إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ، أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي: وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى النَّبِيُّ ﷺ شَبَهَهُ بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: < هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ ! >۔
* تخريج:خ/البیوع ۳ (۲۰۵۳)، ۱۰۰ (۲۲۱۸)، الخصومات ۶ (۲۴۲۱)، العتق ۸ (۲۵۳۳)، الوصایا ۴ (۲۷۴۵)، المغازي ۵۳ (۴۳۰۳)، الفرائض ۱۸ (۶۷۴۹)، ۲۸ (۶۷۶۵)، الحدود ۲۳ (۶۸۱۷)، الأحکام ۲۹ (۷۱۸۲)، م/الرضاع ۱۰ (۱۴۵۷)، د/الطلاق ۳۴ (۲۲۷۳)، ن/الطلاق ۴۹ (۳۵۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۳۵)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۲۱ (۲۰) حم (۶/۱۲۹، ۲۰۰، ۲۷۳)، دي/النکاح ۴۱ (۲۲۸۱) (صحیح)

۲۰۰۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے بھائی (عتبہ بن ابی وقاص) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جائوں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں، اور اس کو لے لوں، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا: ''عبد بن زمعہ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے (گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے) بچہ صاحب فراش (شوہر یا مالک) کا ہوتا ہے۱؎، سودہ تم اس سے پردہ کرو'' ۲؎۔
وضاحت۱؎: یعنی زانی کا بچہ نہیں کہلائے گا، گو اس کے نطفہ سے پیدا ہو، بلکہ بچہ عورت کے شوہر یا مالک کا ہو گا اگر عورت لونڈی ہو۔
وضاحت۲؎: ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا زمعہ کی بیٹی تھیں، تو یہ بچہ جب زمعہ کا ٹھہرا، تو سودہ کا بھائی ہوا، لیکن چونکہ اس کی مشابہت عتبہ سے پائی گئی، اس لیے احتیاطاً آپ ﷺ نے ام المومنین سودہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردہ کرنے کا حکم دیا۔

2005- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵) (صحیح)

۲۰۰۵- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صاحب فراش کے لئے بچے کا فیصلہ کیا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: فراش سے مراد صاحب فراش یعنی شوہر یا مولیٰ ہے کیونکہ یہ دونوں عورت کو بستر پر لٹاتے اور اس کے ساتھ سوتے ہیں، ''وللعاهرالحجر'' یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حجر (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جب بچے کو جنم دے گی تو وہ جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی اسی کی طرف بچے کے نسب کا الحاق ہو گا اور وہ اسی کا بچہ شمار کیا جائے گا، میراث اور ولادت کے دیگر احکام ان کے درمیان جاری ہوں گے خواہ کوئی دوسرا اس عورت کے ساتھ ارتکاب زنا کا دعویٰ کرے، اور یہ بھی دعوی کرے کہ یہ بچہ اس کے زنا سے پیدا ہوا ہے، اس بچے کی مشابہت بھی اسی کے ساتھ ہو، اور صاحب فراش کے مشابہ نہ ہو، اس ساری صورتحال کے باوجود بچے کا الحاق صاحب فراش کے ساتھ کیا جائے گا، اس میں زانی کا کوئی حق نہیں ہو گا، اور یہ اس صورت میں ہے جب صاحب فراش اس کی نفی نہ کرے اور اگر اس نے اس کی نفی کر دی تو پھر بچے کا الحاق ماں کے ساتھ ہو گا، اور وہ بچہ ماں کے ساتھ منسوب ہو گا، زانی سے منسوب نہیں ہو گا۔

2006- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ >۔
* تخريج: م/الرضاع ۱۰ (۱۴۵۸)، ت/الرضاع ۸ (۱۱۵۷)، ن/الطلاق ۴۸ (۳۵۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۳۴)، وقد أخرجہ: خ/الفرائض ۱۸ (۶۷۴۹)، حم (۲/۲۳۹، ۲۸۰، ۳۸۶، ۴۰۹، ۴۶۶، ۴۷۵، ۴۹۲)، دي/النکاح ۴۱ (۲۲۸۱) (صحیح)

۲۰۰۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے''۔

2007- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۴۸۸۵، ومصباح الزجاجۃ: ۷۱۳) (صحیح)
(سند میں سابقہ شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس میں اسماعیل بن عیاش اور شرجیل بن مسلم کی وجہ سے کچھ کلام ہے)
۲۰۰۷- ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''بچہ صاحب فراش کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: وللعاهرالحجر، یعنی زانی کے لیے ناکامی و نامرادی ہے، بچے میں اس کا کوئی حق نہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حجر (پتھر) سے مراد یہ ہے کہ اسے سنگسار کیا جائے گا، مگر یہ قول کمزور و ضعیف ہے کیونکہ سنگسار صرف شادی شدہ زانی کو کیا جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب الزَّوْجَيْنِ يُسْلِمُ أَحَدُهُمَا قَبْلَ الآخَرِ
۶۰- باب: میاں بیوی میں سے کوئی دوسرے سے پہلے مسلمان ہو تو اس کے حکم کا بیان​

2008- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَأَسْلَمَتْ فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، قَالَ: فَجَاءَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا، وَعَلِمَتْ بِإِسْلامِي، قَالَ: فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ زَوْجِهَا الآخَرِ، وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ۔
* تخريج: د/الطلاق ۲۳ (۲۲۳۸، ۲۲۳۹)، ت/النکاح ۴۲ (۱۱۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۲، ۳۲۳) (ضعیف)
(سند میں حفص بن جمیع ضعیف راوی ہیں، اور سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
۲۰۰۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر اسلام قبول کیا، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول!میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوا لے کر دیا۔

2009- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَدَّ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، بَعْدَ سَنَتَيْنِ، بِنِكَاحِهَا الأَوَّلِ۔
* تخريج: د/الطلاق ۲۴ (۲۲۴۰)، ت/النکاح ۴۲ (۱۱۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۷، ۲۶۱، ۳۵۱) (صحیح)

۲۰۰۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روا یت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابو لعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس دوسال کے بعد اسی پہلے نکاح پر بھیج دیا ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: چونکہ ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ (سن ۶ ہجری) سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا اس لیے زینب رضی اللہ عنہا کی واپسی کے لیے نئے نکاح کی ضرورت نہیں پڑی، مشرکین پر مسلمان عورتوں کو حرام قرار دینے کا ذکرصلح حدیبیہ کے مکمل ہو نے کے بعد نازل ہونے والی آیت میں کیا گیا ہے، لہذا اس مدت کے دوران نکاح فسخ نہیں ہوا کیو نکہ اس بارے میں کوئی شرعی حکم تھا ہی نہیں، اور جب نکاح فسخ نہیں ہوا تو نئے نکاح کی ضرورت پڑے گی ہی نہیں، رہی عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ والی روایت جو آگے آرہی ہے تو وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کا معارضہ نہیں کرسکتی کیونکہ وہ حجاج بن أرطاۃ کی وجہ سے ضعیف ہے، یہاں یہ واضح رہے کہ زینب رضی اللہ عنہا نے ۲ھ میں یا ۳ھ کی ابتداء میں ہجرت کی، اور ان کی وفات ۸ھ کے شروع میں ہوئی ہے، اس طرح ان کی ہجرت اور وفات کے درمیان کل پانچ برس چند ماہ کا وقفہ ہے، لہذا ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور زینب رضی اللہ عنہا کی ان کو واپسی اسی مدّت کے دوران عمل میں آئی، اور صحیح یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا قبول اسلام صلح حدیبیہ سے پہلے کا ہے، رہا یہ مسئلہ کہ زینب کی واپسی کتنے سال بعد ہوئی تو اس سلسلہ میں روایتیں مختلف ہیں، بعض میں دو سال، بعض میں تین سال اور بعض میں چھ سال کا ذکرہے، لیکن صحیح ترین روایت یہ ہے کہ ان کی واپسی تین سال بعد ہوئی تھی، تین سال مکمل تھے اور کچھ مہینے مزید گزرے تھے۔

2010- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، بِنِكَاحٍ جَدِيدٍ۔
* تخريج: ت/النکاح ۴۲ (۱۱۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۰۷) (ضعیف)
(سند میں حجاج بن ارطاۃ ضعیف اور مدلس راوی ہیں)
۲۰۱۰- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس نئے نکاح پر بھیج دیا۔
وضاحت۱؎: صحیح یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان دونوں کو پہلے نکاح پر برقرار رکھا، اور دار قطنی نے کہا کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے، اور صواب ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے پاس پہلے نکاح ہی سے لوٹا دیا۔
اور امام ترمذی کتاب العلم میں کہتے ہیں کہ میں نے بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا کہ اس باب میں ابن عباس کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: تعجب ہے کہ اس ضعیف حدیث کو اصل بنا دیں اور اس سے صحیح حدیث کو رد کر دیں اور کہیں کہ وہ اصول کے خلاف ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کی طرف صحابہ کی ایک جماعت گئی ہے ومن بعدہم، ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اسلام قبول کرنے والے آدمی اور اس کے ساتھ اس کی اسلام نہ لانے والی بیوی کے درمیان جدائی نہ کراتے، بلکہ جب دوسرا اسلام لاتا تو نکاح اپنے حال پر رہتا، جب تک وہ عورت دوسرا نکاح نہ کرلے، اور یہ سنت معلومہ اور مشہورہ ہے۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ ابو سفیان نے مرالظہران میں جو خزاعہ کا علاقہ ہے، اسلام قبول کیا، اور وہاں فتح مکہ سے پہلے مسلمان تھے، تو وہ دار الاسلام ٹھہرا، اور ابو سفیان مکہ واپس چلے گئے، اوران کی بیوی ہندہ جو مسلمان نہیں ہوئی تھی، مکہ میں تھی، اس نے ابو سفیان کی داڑھی پکڑ کر کہا اس بوڑھے گمراہ کو قتل کر دو، پھر اس کے کافی دنوں بعد ہندہ نے اسلام قبول کیا، وہ دار الحرب میں مقیم تھی، اور کافر تھی، جب کہ ابو سفیان مسلمان تھے، اور عدت گزر جانے کے بعد ہندہ مسلمان ہوئی، لیکن دونوں کا نکاح قائم رہا، کیونکہ درحقیقت اس کی عدت نہیں گزری، یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو گئی، اور اسی طرح حکیم بن حزام کا حال گزرا، صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابو جہل دونوں کی بیویاں مکہ میں مسلمان ہوئیں اور مکہ دارالاسلام ہو گیا، اور نبی کریم ﷺ کی حکومت وہاں قائم ہو گئی، اور عکرمہ یمن کی طرف بھاگے وہ دارالحرب تھا، اور صفوان بھی دارالحرب چل دیئے، پھر صفوان مکہ میں لوٹے تو وہ دارالاسلام تھا، اور جنگ حنین میں حاضر ہوئے، لیکن اس وقت تک کافر تھے، اس کے بعد مسلمان ہوئے اور ان کی بیوی پہلے ہی نکاح سے ان کے پاس رہیں، کیونکہ درحقیقت ان کی عدت نہیں گزری تھی، اور اہل مغازی نے لکھا ہے کہ ایک انصاری عورت مکہ میں ایک شخص کے پاس تھی، پھر وہ مسلمان ہو گئی اور اس نے مدینہ کی طرف ہجرت کی، اس کے بعد اس کا شوہر آیا وہ عدت میں تھی، تو اپنے پرانے نکاح ہی پر شوہر سے جا ملی۔ (الروضہ الندیہ)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
61- بَاب الْغَيْلِ
۶۱- باب: مدتِ رضاعت میں بیوی سے جماع کرنے کا بیان​

2011- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ جُدَامَةَ بِنْتِ وَهْبٍ الأَسَدِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْهَى عَنِ الْغِيَالِ، فَإِذَا فَارِسُ وَالرُّومُ يُغِيلُونَ فَلا يَقْتُلُونَ أَوْلادَهُمْ > وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ، وَسُئِلَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: < هُوَ الْوَأْدُ الْخَفِيُّ >۔
* تخريج: م/النکاح ۲۴ (۱۴۴۲)، د/الطب ۱۶ (۳۸۸۲)، ت/الطب ۲۷ (۲۰۷۶،۲۰۷۷)، ن/النکاح ۵۴ (۳۳۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۸۶)، وقد أخرجہ: ط/الرضاع ۳ (۱۶)، حم (/۳۶۱، ۴۳۴)، دي/النکاح ۳۳ (۲۲۶۳) (صحیح)

۲۰۱۱- جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''میں نے ارادہ کیا کہ بچّہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کررہے ہیں، اور ان کی اولاد نہیں مرتی'' اور جس وقت آپﷺ سے عزل کے متعلق پوچھا گیا تھا، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا: ''وہ تو وأدخفی (خفیہ طور زندہ گاڑ دینا) ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: زمانہء رضاعت میں بیوی سے جماع کر نے کا نام غیل ہے، عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ بچے کے لیے نقصان دہ ہے، اس سے اس کے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے، اور یہ نقص اس میں پوری زندگی رہتا ہے، جس کے نتیجہ میں بسا اوقات انسان گھوڑے سے نیچے گر پڑتا ہے، اور گھوڑے کی پیٹھ پر ثابت نہیں رہ پاتا، اس حدیث میں عربوں کے اسی عقیدے کا ابطال ہے۔
عزل یہ ہے مرد عورت سے جماع کرے اور جب انزال کے قریب پہنچے تو عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر انزال کرے۔
''وأدخفی'' کا مطلب یہ ہے کہ یہ حقیقۃً تو قبرمیں نہیں دفناتا لیکن اس کے مشابہ ہے کیونکہ اس میں بھی حمل کو روکنے اور ضائع کرنے کی کوشش ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ حقیقی زندہ بچے کو نہیں مارتا اس لیے یہ حقیقی طورپر زندہ گاڑنا نہیں ہے۔

2012- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍأَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُهَاجِرَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، وَكَانَتْ مَوْلاتَهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ سِرًّا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الْغَيْلَ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ حَتَّى يَصْرَعَهُ >۔
* تخريج: د/الطب ۱۶ (۳۸۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۵۳، ۴۵، ۴۵۸) (حسن) (المشکاۃ و تراجع الألبانی: رقم : ۳۹۷ و صحیح ابن ماجہ: ۱۶۴۸)

۲۰۱۲- اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے غیل سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب فِي الْمَرْأَةِ تُؤْذِي زَوْجَهَا
۶۲- باب: شوہر کو ستانے والی عورت کا بیان​

2013- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ؛ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا، قَدْ حَمَلَتْ أَحَدَهُمَا وَهِيَ تَقُودُ الآخَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < حَامِلاتٌ، وَالِدَاتٌ، رَحِيمَاتٌ، لَوْلا مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ، دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ >۔
* تخريج:: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۴۸۶۵، ومصباح الزجاجۃ: ۷۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۵۲، ۲۵۷، ۲۶۸) (ضعیف)
(سند میں انقطاع ہے کیونکہ سالم بن ابی جعد کا سماع أبی امامہ سے ثابت نہیں ہے )
۲۰۱۳- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی، اس کے ساتھ دو بچے تھے، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بچوں کو اٹھانے والی، انہیں جننے والی، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو اُن میں سے صلاۃ کی پابند ہیں جنت میں جاتیں''۔

2014- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا إِلا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: لا تُؤْذِيهِ، قَاتَلَكِ اللَّهُ! فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ أَوْشَكَ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا >۔
* تخريج: ت/الرضاع ۱۹ (۱۱۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۴۲) (صحیح)

۲۰۱۴- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حور عین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے، اسے تکلیف نہ دے، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آجائے گا'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: سچ ہے دنیا کی قرابت اور رشتہ داری سب چند روزہ ہے، حقیقت میں ہماری بیوی وہی ہے جو اللہ تعالی نے جنت میں ہمارے لئے رکھی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
63- بَاب لا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلالَ
۶۳-باب: حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا​

2015- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلالَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۳۶، ومصباح الزجاجۃ: ۷۱۵) (ضعیف)
(سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں،نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۳۸۵ - ۳۸۸)
۲۰۱۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''حرام کام حلال کو حرام نہیں کرتا''۔


***​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{10- كِتَاب الطَّلاقِ}
۱۰- کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

1- بَاب حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ
۱- باب: حدثنا سوید بن سعید​

2016- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَمَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا۔
* تخريج: د/الطلاق ۳۸ (۲۲۸۳)، ن/الطلاق ۷۶ (۳۵۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۹۳)، وقد أخرجہ: دي/الطلاق ۲ (۲۳۱۰) (صحیح)

۲۰۱۶- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا۔

2017- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَلْعَبُونَ بِحُدُودِ اللَّهِ، يَقُولُ أَحَدُهُمْ: قَدْ طَلَّقْتُكِ، قَدْ رَاجَعْتُكِ، قَدْ طَلَّقْتُكِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۷۱۶) (ضعیف)
(سند میں مؤمل بن اسماعیل مختلف فیہ راوی ہیں)
۲۰۱۷- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ان لوگوں کا کیا حال ہے جو اللہ کے حدود سے کھیل کرتے ہیں، ان میں سے ایک اپنی بیوی سے کہتا ہے: میں نے تجھے طلاق دے دی پھر تجھ سے رجعت کر لی، پھر تجھے طلاق دے دی''۔

2018- حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِالْوَصَّافِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَبْغَضُ الْحَلالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلاقُ >۔
* تخريج: د/الطلاق ۳ (۱۲۷۷، ۱۲۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۱۱) (ضعیف)
(سند میں عبید اللہ بن الولید ضعیف راوی ہیں، صواب اس حدیث کا مرسل ہونا ہے اور ثقات نے اسے مرسلاً ہی روایت کیا ہے)
۲۰۱۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مبغوض چیز طلاق ہے''۔
 
Top