• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
16- بَاب حُسْنِ الْقَضَاءِ
۱۶- باب: اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرنے کا بیان​


2423- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ خَيْرَكُمْ ( أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ ) أَحَاسِنُكُمْ قَضَائً >۔
* تخريج: خ/الوکالۃ ۵ (۲۳۰۵)، ۶ (۲۳۰۶)، الاستقراض ۴ (۲۳۹۰)، ۶ (۲۳۹۲)، ۷ (۲۳۹۳)، ۱۳ (۲۴۰۱)، الھبۃ ۲۳ (۲۶۰۶)، ۲۵(۲۶۰۹)، م/المساقاۃ ۲۲ (۱۶۰۱)، ت/البیوع ۷۵ (۱۳۱۶، ۱۳۱۷)، ن/البیوع ۶۲ (۴۶۲۲)، ۱۰۱ (۴۶۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/ ۳۷۳، ۳۹۳، ۴۱۶، ۴۳۱، ۴۵۶، ۴۷۶، ۵۰۹) (صحیح)
۲۴۲۳- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو'' ۔
وضاحت ۱؎ : قرض کا اچھی طرح ادا کرنا یہ ہے کہ قرض کے مال سے اچھا مال دے یا کچھ زائد دے یا قرض خواہ کا شکریہ ادا کرے ، قرض میں زائد ادا کرنا مستحب ہے اور یہ منع نہیں ہے ، منع وہ قرض ہے جس میں زیادہ دینے کی شرط ہو اور وہ سود ہے ۔


2424- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اسْتَلَفَ مِنْهُ، حِينَ غَزَا حُنَيْنًا، ثَلاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ أَلْفًا، فَلَمَّا قَدِمَ قَضَاهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: < بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، إِنَّمَا جَزَاءُ السَّلَفِ الْوَفَاءُ وَالْحَمْدُ >۔
* تخريج: ن/الإستقراض ۹۵ (۴۶۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۶) (حسن)
(سند میں ابراہیم بن عبد اللہ کے حالات غیر معروف ہیں، شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإراوء: ۱۳۸۸)
۲۴۲۴- عبداللہ بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا ،پھر جب حنین سے واپس آئے تو قرض ادا کیا،اور آپ ﷺنے ان سے فرمایا:'' اللہ تعالی تیرے اہل وعیال اور مال دولت میں برکت دے، قرض کا بدلہ اس کو پورا کا پورا چکانا، اور قرض دینے والے کا شکریہ ادا کرنا ہے '' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
17- بَاب لِصَاحِبِ الْحَقِّ سُلْطَانٌ
۱۷- باب: قرض خواہ کو یہ حق ہے کہ وہ مقروض کو سخت سست کہے​


2425- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ بِدَيْنٍ، أَوْ بِحَقٍّ، فَتَكَلَّمَ بِبَعْضِ الْكَلامِ، فَهَمَّ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَهْ إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى صَاحِبِهِ، حَتَّى يَقْضِيَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۳۱، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۱) (ضعیف جدا)
(حنش کے بار ے میں بخاری نے کہا کہ اس کی احادیث بہت زیادہ منکر ہیں، اس حدیث کو لکھا نہیں جائے گا، ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۳۱۸)
۲۴۲۵- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ سے اپنا قرض یا حق مانگنے آیا، اورکچھ سخت سست کہا،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی طرف بڑھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں، رہنے دو، قرض خواہ کو مقروض پر غلبہ اور برتری رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کردے '' ۔


2426- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ (أَظُنُّهُ قَالَ ) حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ يَتَقَاضَاهُ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، حَتَّى قَالَ لَهُ: أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِلا قَضَيْتَنِي، فَانْتَهَرَهُ أَصْحَابُهُ وَقَالُوا: وَيْحَكَ! تَدْرِي مَنْ تُكَلِّمُ؟ قَالَ: إِنِّي أَطْلُبُ حَقِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < هَلا مَعَ صَاحِبِ الْحَقِّ كُنْتُمْ؟ > ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَقَالَ لَهَا: < إِنْ كَانَ عِنْدَكِ تَمْرٌ فَأَقْرِضِينَا حَتَّى يَأْتِيَنَا تَمْرُنَا فَنَقْضِيَكِ > فَقَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي أَنْتَ يَارَسُولَ اللَّهِ! قَالَ فَأَقْرَضَتْهُ، فَقَضَى الأَعْرَابِيَّ وَأَطْعَمَهُ، فَقَالَ: أَوْفَيْتَ، أَوْفَى اللَّهُ لَكَ، فَقَالَ: < أُولَئِكَ خِيَارُ النَّاسِ، إِنَّهُ لا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهَا حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۲) (صحیح)
۲۴۲۶- ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ سے اپنے قرض کا مطالبہ کرنے کے لئے آیا ، اور اس نے آپ ﷺسے سختی سے مطالبہ کیا، اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں آپ کو تنگ کروں گا، نہیں تو میرا قرض ادا کردیجیے ( یہ سن کر ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو جھڑکا اور کہا: افسوس ہے تجھ پر، تجھے معلوم ہے کہ تو کس سے بات کررہا ہے ؟ وہ بولا: میں اپنے حق کا مطالبہ کر رہا ہوں ،نبی اکرم ﷺ نے (صحابہ کرام سے) فرمایا:'' تم صاحب حق کی طرف داری کیوں نہیں کرتے'' پھر آپﷺ نے خولہ بنت قیس کے پاس ایک آدمی بھیجا ،اور ان کو کہلوایا کہ'' اگر تمہارے پاس کھجوریں ہوں تو ہمیں اتنی مدت تک کے لئے قرض دے دو کہ ہماری کھجوریں آجائیں، تو ہم تمہیں ادا کردیں گے''، انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر قربان ہوں، اللہ کے رسول! میرے پا س ہے، اور انہوں نے آپ کو قرض دے دیا، آپﷺ نے ا س سے اعرابی کا قرض ادا کردیا، اور اس کو کھانا بھی کھلایا، وہ بولا: آپ نے میرا حق پورا ادا کردیا، اللہ تعالی آپ کو بھی پورا دے، آپﷺ نے فرمایا: ''یہی بہتر لوگ ہیں، اور کبھی وہ امت پاک اور مقدس نہ ہوگی جس میں کمزور بغیر پریشان ہوئے اپنا حق نہ لے سکے '' ۔
وضاحت ۱؎ : سبحان اللہ آپ ﷺ کا کیا عدل وانصاف تھا ،اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی یہ فرمایا کہ تم قرض خواہ کی مدد کرو، میری رعایت کیوں کرتے ہو ، حق کا خیال اس سے زیادہ کیا ہوگا، آپ ﷺ کی نبوت کی یہ ایک کھلی دلیل ہے ، نبی کے علاوہ دوسرے سے ایسا عدل وانصاف ہونا ممکن نہیں ہے، دوسری روایت میں ہے کہ پھر وہ گنوار جو کافر تھا مسلمان ہوگیا، اور کہنے لگا: میں نے آپ ﷺ سے زیادہ صابر نہیں دیکھا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
18- بَابُ الْحَبسِ فِي الدَّينِ وَالْمُلازَمَةِ
۱۸- باب: قرض کی وجہ سے قید کرنے اور قرض دار کو پکڑے رہنے کا بیان​


2427- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ ( قَالَ وَكِيعٌ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا) عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ < لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ >، قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ: يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ، وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۲۹ (۳۶۲۸)، ن/البیوع ۹۸ (۴۶۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۲، ۳۸۸، ۳۸۹) (حسن)
(سند میں محمد بن میمون مجہول راوی ہیں، جن سے وبر طائفی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے ، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۱۴۳۴)
۲۴۲۷- شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جو قرض ادا کرسکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کردیتا ہے ،اور اس کو سزا (عقوبت) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے '' ۔
علی طنافسی کہتے ہیں: عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خو اہ اس کے نادہندہونے کی شکایت لوگوں سے کرسکتا ہے، اورعقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں ۔


2428- حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِيَ: < الْزَمْهُ > ثُمَّ مَرَّ بِي آخِرَ النَّهَارِ فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ؟ >۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۲۹ (۳۶۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۴۴) (ضعیف)
(ہرماس بن حبیب اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں)۔
۲۴۲۸- ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ ﷺنے فرمایا: '' اس کے پیچھے لگے رہو''، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: ''اے بنی تمیم کے بھائی !تمہارا قیدی کہاں ہے '' ۔


2429- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا ، حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا، فَنَادَى كَعْبًا، فَقَالَ: لَبَّيْكَ يَارَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < دَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا >. وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّطْرِ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: < قُمْ فَاقْضِهِ >۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۷۱ (۴۵۷)، ۸۳ (۴۷۱)والخصومات ۴ (۲۴۱۸)، ۹ (۲۴۲۴)، الصلح ۱۰ (۲۷۰۶)، ۱۴ (۲۷۱۰)، م/المسافاۃ ۲۵ (۱۵۵۸)، د/الأقضیۃ ۱۲ (۳۵۹۵)، ن/آداب القضاۃ ۲۱ (۵۴۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۳۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۵۴، ۴۶۰، ۶/۳۸۶، ۳۹۰)، دي/البیوع ۴۹ (۲۶۲۹) (صحیح)
۲۴۲۹- کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد نبوی میں ابن ابی حدرد سے اپنے قرض کا مطالبہ کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں اونچی ہوگئیں، اور رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو آپ گھر سے نکل کر ان کے پاس آئے ،اور کعب رضی اللہ عنہ کو آواز دی، تو وہ بولے: حاضر ہوں، اللہ کے رسول ! آپﷺ نے فرمایا: ''اپنے قرض میں سے اتنا چھوڑ دو''، اور اپنے ہاتھ سے آدھے کا اشارہ کیا،تو وہ بولے: میں نے چھوڑ دیا، آپﷺ نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: '' اٹھو ، جاؤ ان کا قرض ادا کرو '' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
19-بَاب الْقَرْضِ
۱۹- باب: قرض دینے کا ثواب​


2430- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسِيرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ رُومِيٍّ قَالَ: كَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ أُذُنَانٍ يُقْرِضُ عَلْقَمَةَ أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِهِ، فَلَمَّا خَرَجَ عَطَاؤُهُ تَقَاضَاهَا مِنْهُ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، فَقَضَاهُ، فَكَأَنَّ عَلْقَمَةَ غَضِبَ، فَمَكَثَ أَشْهُرًا ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ : أَقْرِضْنِي أَلْفَ دِرْهَمٍ إِلَى عَطَائِي، قَالَ: نَعَمْ وَكَرَامَةً، يَا أُمَّ عُتْبَةَ! هَلُمِّي تِلْكَ الْخَرِيطَةَ الْمَخْتُومَةَ الَّتِي عِنْدَكِ، فَجَاءَتْ بِهَا، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ! إِنَّهَا لَدَرَاهِمُكَ الَّتِي قَضَيْتَنِي، مَا حَرَّكْتُ مِنْهَا دِرْهَمًا وَاحِدًا، قَالَ: فَلِلَّهِ أَبُوكَ! مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ بِي؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْكَ، قَالَ: مَا سَمِعْتَ مِنِّي؟ قَالَ سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: <مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُقْرِضُ مُسْلِمًا قَرْضًا مَرَّتَيْنِ إِلا كَانَ كَصَدَقَتِهَا مَرَّةً > قَالَ: كَذَلِكَ أَنْبَأَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۷۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۳) (ضعیف)
(سند میں قیس بن رومی مجہول ، اور سلیمان بن یسیر ضعیف ہیں، اس لئے یہ ضعیف ہے، مرفوع حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۱۳۸۹)
۲۴۳۰- قیس بن رومی کہتے ہیں کہ سلیمان بن اذنان نے علقمہ کو ان کی تنخواہ ملنے تک کے لئے ایک ہزار درہم قرض دے رکھا تھا، جب ان کی تنخواہ ملی تو سلیمان نے ان سے اپنے قرض کا تقاضا کیا، اور ان پر سختی کی، تو علقمہ نے اسے ادا کردیا، لیکن ایسا لگا کہ علقمہ ناراض ہیں، پھر کچھ مہینے گزرے تو پھر وہ سلیمان بن اذنان کے پاس آئے، اور کہا: میری تنخواہ ملنے تک مجھے ایک ہزار درہم کا پھر قرض دے دیجیے،وہ بولے: ہاں، لے لو، یہ میرے لئے عزت کی بات ہے ،اور ام عتبہ کو پکار کر کہا: وہ مہربند تھیلی لے آؤ جو تمہارے پاس ہے، وہ اسے لے آئیں، تو انہوں نے کہا: دیکھو اللہ کی قسم!یہ تو وہی درہم ہیں جو تم نے مجھے ادا کئے تھے، میں نے اس میں سے ایک درہم بھی ادھر ادھر نہیں کیا ہے ،علقمہ بولے: تمہارے باپ عظیم ہیں ۱؎ پھر تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا تھا؟ ۲؎ وہ بولے: اس حدیث کی وجہ سے جو میں نے آپ سے سنی تھی ،انہوں نے پوچھا: تم نے مجھ سے کیا سنا تھا؟ وہ بولے: میں نے آپ سے سنا تھا ،آپ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کررہے تھے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: '' کوئی مسلمان ایسا نہیں جو کسی مسلمان کو دوبار قرض دے، مگر اس کو ایک بار اتنے ہی مال کے صدقے کا ثواب ملے گا ''، علقمہ نے کہا: ہاں،مجھے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی خبر دی ہے ۳؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ تعریفی کلمہ ہے۔
وضاحت ۲؎ : یعنی جب تمہیں ان کی ضرورت نہیں تھی تو پھر تم نے مجھ سے اتنی سختی سے کیوں مطالبہ کیا تھا۔
وضاحت ۳؎ : تو ہر بار قرض میں آدھے صدقہ کا ثواب ہے، دوبارہ قرض دے تو گویا اتنا کل مال صدقہ دیا ۔ اسی وجہ سے سلیمان نے سخت تقاضا کرکے اپنا قرض وصول کرلیا تاکہ علقمہ کو دوبارہ قرض لینے کی ضرورت ہو اور ان کا ثواب زیادہ ہو ، سبحان اللہ ، اگلے لوگ ثواب کے کیسے حریص اور طالب تھے ، آگے حدیث میں ہے کہ قرض میں صدقہ سے زیادہ ثواب ہے ، یہ حدیث بظاہر اس کے مخالف ہے اور ممکن ہے کہ یہ حدیث مطلق قرض میں ہو اور وہ اس قرض میں جس میں مقروض سے تقاضا نہ کرے یا جو سخت ضرورت کے وقت دے ۔ واللہ اعلم ۔


2431- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، و حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا: الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ! مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ؟ قَالَ: لأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ، وَالْمُسْتَقْرِضُ لايَسْتَقْرِضُ إِلا مِنْ حَاجَةٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۴) (ضعیف جدا)
(خالد بن یزید متروک ہے ، یحییٰ بن معین نے تکذیب کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: ۳۶۳۷)
۲۴۳۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پرلکھا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا ہے، اور قرض کا اٹھارہ گنا، میں نے کہا: جبرئیل ! کیا بات ہے؟ قرض صدقہ سے افضل کیسے ہے؟ تو کہا : اس لئے کہ سائل سوال کرتا ہے حالانکہ اس کے پاس کھانے کو ہوتا ہے، اور قرض لینے والا قرض اس وقت تک نہیں مانگتا جب تک اس کو واقعی ضرورت نہ ہو '' ۔


2432- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسماَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْهُنَائِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي لَهُ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ، أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ، فَلا يَرْكَبْهَا وَلا يَقْبَلْهُ، إِلا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۵) (ضعیف)
(سند میں عتبہ بن حمید الضبی ضعیف ہیں، اور یحییٰ بن أبی اسحاق الہنائی مجہول الحال ، تراجع الألبانی: رقم: ۳۲۹)
۲۴۳۲- یحییٰ بن ابی اسحاق ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ہم میں سے ایک شخص اپنے مسلمان بھائی کومال قرض دیتا ہے، پھر قرض لینے والا اس کو تحفہ بھیجتا ہے تویہ عمل کیساہے؟ کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے: '' تم میں سے جب کوئی کسی کو قرض دے، پھر وہ اس کو تحفہ دے یا اسے اپنے جانور پر سوار کرے، تو وہ سوار نہ ہو اور نہ تحفہ قبول کرے، ہاں، اگر ان کے درمیان پہلے سے ایسا ہوتا رہا ہو تو ٹھیک ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی قرض دینے سے پہلے بھی اس کے پاس سے تحفہ آیا کرتا ہو ، یا وہ سواری دیا کرتا ہو تو اب بھی اس کا قبول کرنا درست ہے اور جو قرض سے پہلے اس کی عادت نہ تھی تو یقیناً اس کا سبب قرض ہوگا اور ہماری شریعت میں قرض دے کر منفعت اٹھانا درست نہیں ، اور بخاری نے تاریخ میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی کسی کو قرض دے تو اس کا تحفہ نہ لے ، اور بیہقی نے سنن کبری میں ابن مسعود ، ابی بن کعب ، عبد اللہ بن سلام اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ ان سبھوں نے کہا: جس قرض سے منفعت ہو وہ سود ہے یعنی سود کی قسموں میں سے ایک قسم ہے ، ان سب احادیث وآثار سے یہ معلوم ہوا کہ ہمارے زمانہ میں جو قرض دے کر اس پرشرح فیصدسے منفعت کی شرط ٹھہراتے ہیں مثلاً سات روپیہ فی صد یا دس روپیہ فی صد ،یہ ربا (سود)ہے اور حرام ہے، اور تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے اور اس صورت میں بینک اوردوسرے کاروباری ادارے جو سودی نظام چلا تے ہیں ان سے سودی تعامل اور کاروبار بالکل حرام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
20- بَاب أَدَاءِ الدَّيْنِ عَنِ الْمَيِّتِ
۲۰- باب: میت کی طرف سے قرض ادا کرنے کا بیان​


2433- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنِي عَبْدُالْمَلِكِ أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الأَطْوَلِ أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، وَتَرَكَ عِيَالا، فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < إِنَّ أَخَاكَ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ >، فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! قَدْ أَدَّيْتُ عَنْهُ إِلا دِينَارَيْنِ ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: < فَأَعْطِهَا فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۲۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۳۶،۵/۷) (صحیح)
۲۴۳۳- سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے بھائی وفات پاگئے، اور (ترکہ میں) تین سو درہم اور بال بچے چھوڑے، میں نے چاہا کہ ان درہموں کو ان کے بال بچوں پر صرف کروں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تمہارا بھائی اپنے قرض کے بدلے قید ہے، اس کا قرض ادا کرو''،انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے ان کی طرف سے سارے قرض ادا کر دئیے ہیں، سوائے ان دو درہموں کے جن کا دعویٰ ایک عورت نے کیا ہے، اور اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے، آپ ﷺنے فرمایا: '' اس کو بھی ادا کر دو اس لئے کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچی ہے '' ۔


2434- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ أَبَاهُ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَلَيْهِ ثَلاثِينَ وَسْقًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَاسْتَنْظَرَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ فَكَلَّمَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لِيَشْفَعَ لَهُ إِلَيْهِ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَكَلَّمَ الْيَهُودِيَّ لِيَأْخُذَ ثَمَرَ نَخْلِهِ بِالَّذِي لَهُ عَلَيْهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَكَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَأَبَى أَنْ يُنْظِرَهُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ النَّخْلَ، فَمَشَى فِيهَا، ثُمَّ قَالَ لِجَابِرٍ: < جُدَّ لَهُ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ >، فَجَدَّ لَهُ، بَعْدَ مَا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثَلاثِينَ وَسْقًا، وَفَضَلَ لَهُ اثْنَا عَشَرَ وَسْقًا، فَجَاءَ جَابِرٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لِيُخْبِرَهُ بِالَّذِي كَانَ، فَوَجَدَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ غَائِبًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ جَاءَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ أَوْفَاهُ، وَأَخْبَرَهُ بِالْفَضْلِ الَّذِي فَضَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَخْبِرْ بِذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ> فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ عَلِمْتُ حِينَ مَشَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، لَيُبَارِكَنَّ اللَّهُ فِيهَا۔
* تخريج: خ/البیوع ۵۱ (۲۱۲۷)، الاستقراض ۸ (۲۳۹۵)، ۹ (۲۳۹۶)، ۱۸ (۲۴۰۵)، الھبۃ ۲۱ (۲۶۰۱)، الصلح ۱۳ (۲۷۰۹)، الوصایا ۳۶ (۲۷۸۱)، المناقب ۲۵ (۳۵۸۰)، المغازي ۱۸ (۴۰۵۳)، د/الوصایا ۱۷ (۲۸۸۴)، ن/الوصایا ۴ (۳۶۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۲۶) (صحیح)
۲۴۳۴- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد وفات پاگئے، اور اپنے اوپر ایک یہودی کے تیس وسق کھجور قرض چھوڑ گئے، جابر رضی اللہ عنہ نے اس یہودی سے مہلت مانگی لیکن اس نے انہیں مہلت دینے سے انکارکر دیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیاکہ آپ اس سے اس کی سفارش کردیں ، رسول اللہﷺ اس کے پاس گئے اور آپ نے اس سے بات کی کہ وہ ان کھجوروں کو جو ان کے درخت پر ہیں اپنے قرض کے بدلہ لے لے، لیکن وہ نہیں مانا، پھر آپﷺ نے اس سے مہلت مانگی،لیکن وہ انہیں مہلت دینے پر بھی راضی نہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ ان درختوں کے پاس تشریف لے گئے، اور ان کے درمیان چلے پھر جابر رضی اللہ عنہ سے کہا: '' ان کھجوروں کو توڑ کر اس کا جو قرض ہے اسے پورا پورا ادا کر دو'' ، چنانچہ آپﷺ کے واپس چلے جانے کے بعد جابر رضی اللہ عنہ نے تیس وسق کھجور توڑی ( جس سے جابر رضی اللہ عنہ نے اس کا قرض چکایا ) اور بارہ وسق کھجور بچ بھی گئی، جابر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو رسول اللہ ﷺ کو بتانے آئے، لیکن آپ کو موجودنہیں پایا، جب آپ واپس تشریف لائے تو وہ پھر دوبارہ حاضر ہوئے ،اور آپ کو بتایا کہ اس کا قرض پورا پورا ادا کردیا ہے، اور جو زائدکھجور بچ گئی تھی اس کی بھی خبردی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جاؤ اسے عمر بن خطاب کو بھی بتا دو ''،چنانچہ جابر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور انہیں بھی اس کی خبردی ،یہ سن کر عمررضی اللہ عنہ بولے: میں اسی وقت سمجھ گیا تھا جب آپﷺ ان درختوں کے درمیان چلے تھے کہ اللہ تعالی ان میں ضرور برکت دے گا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ نبی کریم ﷺ کا ایک کھلا معجزہ تھا، عربوں کو کھجور کے تخمینہ میں بڑا تجربہ ہوتا ہے ،اگر وہ کھجور تیس وسق سے زیادہ بلکہ تیس وسق بھی ہوتی تو جابر رضی اللہ عنہ اتنا نہ گھبراتے، نہ نبی کریم ﷺ سے اس یہودی کے پاس سفارش کراتے ،نہ وہ یہودی سارے باغ کی کھجور اپنے قرضہ کے عوض میں لینے سے انکار کرتا، وہ کھجوریں تیس وسق سے بہت کم تھیں ، نبی کریم ﷺ کی دعا سے اس میں ایسی برکت ہوئی کہ سارا قرض ادا ہوگیا اور بارہ وسق کھجور بھی مزید بچ گئی،اس قسم کے معجزات نبی کریم ﷺکی دعاسے کئی مقامات پر ظاہر ہوئے ہیں کہ تھوڑا سا کھانا یا پانی بہت سے آدمیوں کے لیے کافی ہوگیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
21- بَاب ثَلاثٍ مَنِ ادَّانَ فِيهِنَّ قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ
۲۱- باب: جو کوئی تین چیزوں کی وجہ سے مقروض ہوجائے تو اللہ تعالی اس کا قرض اداکرادے گا​


2435- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ وَأَبُوأُسَامَةَ وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ أَنْعُمٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدٍ الْمَعَافِرِيِّ ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ الدَّيْنَ يُقْضَى مِنْ صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا مَاتَ، إِلا مَنْ يَدِينُ فِي ثَلاثِ خِلالٍ: الرَّجُلُ تَضْعُفُ قُوَّتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَسْتَدِينُ يَتَقَوَّى بِهِ لِعَدُوِّ اللَّهِ وَعَدُوِّهِ، وَرَجُلٌ يَمُوتُ عِنْدَهُ مُسْلِمٌ، لا يَجِدُ مَا يُكَفِّنُهُ وَيُوَارِيهِ إِلا بِدَيْنٍ، وَرَجُلٌ خَافَ اللَّهَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزْبَةَ، فَيَنْكِحُ خَشْيَةً عَلَى دِينِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْضِي عَنْ هَؤُلاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۰۴، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۷) (ضعیف)
(سند میں رشدین ضعیف ہیں لیکن ان کی متابعت کئی راویوں نے کی ہے ، اور ابن انعم (عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۵۴۸۳)
۲۴۳۵- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''قرض دار جب مقروض مر جائے تو قیامت کے دن اس کے قرض کی ادائیگی اس سے ضرور کرائی جا ئے گی ۱؎ سوائے اس کے کہ اس نے تین باتوں میں سے کسی کے لئے قرض لیا ہو، ایک وہ جس کی طاقت جہاد میں کمزور پڑ جائے تو وہ قرض لے کر اپنی طاقت بڑھائے تاکہ وہ اللہ تعالی کے اور اپنے دشمن سے جہاد کے قابل ہوجائے، دوسرا وہ شخص جس کے پاس کوئی مسلمان مرجائے اور اس کے پاس اس کے کفن دفن کے لئے سوائے قرض کے کوئی چارہ نہ ہو،تیسرا وہ شخص، جو تجرد(بغیر شادی کے رہنے) سے اپنے نفس پر ڈرے، اور اپنے دین کو مبتلائے آفت ہونے کے اندیشے سے قرض لے کر نکاح کرے، تو اللہ تعالیٰ ان تینوں کا قرض قیامت کے دن ادا کردے گا '' ۔



* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207

{ 16-كِتَابُ الرُّهُونِ }
۱۶-کتاب: رہن کے احکام ومسائل


1-بَابُ حَدَّثَنَا أَ بُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ
۱-باب: حدثنا ابوبکر بن أبی شیبہ: رہن کا بیان​


2436- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي الأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اشْتَرَى مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ۔
* تخريج: خ/البیوع ۱۴ (۲۰۶۸)، ۳۳ (۲۰۹۶)، ۸۸ (۲۲۰۰)، السلم ۵ (۲۲۵۱)، ۶ (۲۲۵۲)، الاستقراض ۱ (۲۳۸۶)، الرھن ۲ (۲۵۰۹)، ۵ (۲۵۱۳)، الجہاد ۸۹ (۲۹۱۶)، المغازي ۸۶ (۴۴۶۷)، م/البیوع ۴۵ (۱۶۰۳)، ن/البیوع ۵۶ (۴۶۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۲،۱۶۰،۲۳۷) (صحیح)
۲۴۳۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی سے ایک مقررہ مدت کے لئے غلّہ قرض پر خریدا ،اور اپنی زرہ اس کے پاس گرو ی رکھ دی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : رہن کہتے ہیں گروی رکھنے کو یعنی کوئی چیز کسی کے پاس بطور ضمانت رکھ کر اس سے قرض لینا ، گروی رکھنے والے کو راہن اور گروی رکھ کر قرض دینے والے کو مرتہن اور جو چیز گروی رکھی جائے اس کو رہن یا مرہون کہتے ہیں۔


2437- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ؛ قَالَ: لَقَدْ رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ دِرْعَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ، فَأَخَذَ لأَهْلِهِ مِنْهُ شَعِيرًا۔
* تخريج:خ/البیوع ۱۴ (۲۰۶۹)، الرھن ۱ (۲۵۰۸)، ت/البیوع ۷ (۱۲۱۵)، ن/البیوع ۵۷ (۴۶۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۳۳، ۲۰۸، ۲۳۲) (صحیح)
۲۴۳۷- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں اپنی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی رکھ دی ،اور اس سے اپنے گھروالوں کے لئے جو لیے ۔


2438- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ تُوُفِّيَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِطَعَامٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۷۴، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۵۳، ۴۵۷) (صحیح)
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
۲۴۳۸- اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس کچھ غلّے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی ۔


2439- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هِلالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَاتَ وَدِرْعُهُ رَهْنٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۳۹)، وقد أخرجہ: ت/البیوع ۷ (۱۲۱۴)، ن/البیوع ۸۱ (۴۶۵۵)، دي/البیوع ۴۴ (۲۶۲۴)، حم (۱/۲۳۶، ۳۰۰، ۳۰۱، ۳۶۱) (حسن صحیح)
۲۴۳۹- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
2- بَاب الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ
۲- باب: رہن کے جانور پر سواری کرنا اور اس کا دودھ دوہنا جائزہے​


2440- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الظَّهْرُ يُرْكَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ >۔
* تخريج: خ/الرہن ۴ (۲۵۱۱)، د/البیوع ۷۸ (۳۵۲۶)، ت/البیوع ۳۱ (۱۲۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۲۸، ۴۷۲) (صحیح)
۲۴۴۰- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جانور پر سواری کی جائے گی جب وہ اس کے ذمہ گروی ہو، اور دودھ والے جانور کا دودھ پیا جائے گا جب وہ گروی ہو، اور جو سواری کرے یا دودھ پیئے اس جانور کی خوراک کا خرچ ہوگا '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : حدیث سے معلوم ہوا کہ مرتہن کو شرعی طور پر گروی جانور کے دودھ پینے اور سواری کرنے کاحق حاصل ہے، راہن سے اس سلسلے میں اسے اجازت کی ضرورت نہیں، البتہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ جانور پرخرچ اور منافع کو سامنے رکھتے ہوئے انصاف سے کام لے، واضح رہے کہ اس قسم کے منافع کو سود سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک استثنائی شکل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
3- بَاب لا يَغْلَقُ الرَّهْنُ
۳- باب: رہن چھڑانے سے روکا نہیں جاسکتا​


2441- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لا يَغْلَقُ الرَّهْنُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۱۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵۹)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۱۰ (۱۳) (ضعیف)
(سند میں محمد بن حمید الرازی ضعیف راوی ہیں،نیز ملاحظہ ہو: الإرواء : ۵/ ۲۴۲ و ۱۴۰۸)
۲۴۴۱- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رہن روکا نہیں جاسکتا '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : زمانہ جاہلیت سے یہ دستور چلا آرہا تھا کہ راہن اگر وقت مقررہ پر قرض کی ادائیگی سے قاصر رہا،تو اس کا گروی مال ڈوب جاتا تھا، اسلام نے اس ظالمانہ نظام کی تردید کی، اور اسے مرتہن کے پاس امانت قرار دے کر راہن کی ملکیت میں برقرار رکھا ،اور راہن کو حکم دیاکہ قرض کی ادائیگی کے لئے بھر پور کو شش کرے ، کوشش کے باوجود اگر وہ قرض ادانہ کرسکے تو مرہون(رہن میں رکھی چیزکو) بیچ کر قرض پورا کرنے اور بقیہ مال راہن کو لوٹا دینے کا حکم دیا ۔
 
  • پسند
Reactions: Dua

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,718
پوائنٹ
1,207
4-بَاب أَجْرِ الأُجَرَاءِ
۴- باب: مزدور کی اجرت کا بیان​
وضاحت ۱؎ : اجارہ : یعنی کسی کو مزدوری پر یا محنت پر رکھنا درست ہے ، قرآن شریف سے اس کا جواز ثابت ہے : { يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الأَمِينُ }[ سورة القصص: 26] اور جو کام شرع کی رو سے جائز ہو اس پر اجارہ درست ہے، اور متعین اجرت دینا ہوگی ، اگر اجرت متعین نہ ہو تو اس عمل کے واقف کاروں کے نزدیک جو اجرت واجبی ہو وہ دینا ہوگی ۔


2442- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِبْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < ثَلاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي، ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِهِ أَجْرَهُ >۔
* تخريج: خ/البیوع ۱۰۶ (۲۲۲۷)، الإجارۃ ۱۰ (۲۲۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۸) (صحیح)
( ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ۲۸۷)
۲۴۴۲- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا مدمقابل میں ہوں گا، اور جس کا میں قیامت کے دن مدمقابل ہوں گا اس پر غالب آؤں گا، ایک وہ جو مجھ سے عہد کرے پھر بد عہدی کرے، دوسرے وہ جو کسی آزاد کو پکڑکر بیچ دے پھر اس کی قیمت کھائے، اور تیسرے وہ جو کسی کو مزدور رکھے اور اس سے پورا کام لے اور اس کی اجرت نہ دے '' ۔


2443- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ السَّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَعْطُوا الأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۳۶، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۰) (صحیح)
(سند میں عبد الرحمن بن زید ضعیف راوی ہیں ، اور وہب بن سعید یہ عبد الوہاب بن سعید صدوق ہیں ، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )
۲۴۴۳- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' مزدور کو اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری دے دو '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مطلب یہ ہے کہ کام ختم ہوتے ہی اس کی اجرت دے دو، یہ نہیں کہ اجرت دینے میں حیلہ کرو اور کام لے لو۔
 
Top