• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
{ 17-كِتَابُ الشُّفْعَةِ }
۱۷- کتاب: شفعہ کے احکام ومسائل ۱؎​
1- بَاب مَنْ بَاعَ رُبَاعًا فَلْيُؤْذِنْ شَرِيكَهُ
۱- باب: جائداد بیچتے وقت اپنے شریک کو خبردینے کا بیان​
وضاحت ۱؎ : شفعہ اس حق کو کہتے ہیں جو جائداد بیچتے وقت شریک یا پڑوسی کو حاصل ہوتا ہے، اور وہ حق یہ ہے کہ جو قیمت دوسرا خریدار دیتا ہے وہ قیمت دے کر اس جائداد کو خود خرید لے ۔


2492- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ نَخْلٌ أَوْ أَرْضٌ فَلا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ >۔
* تخريج: ن/البیوع ۷۸ (۴۶۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۶۵)، وقد أخرجہ: م/المساقاۃ ۲۸ (۱۶۰۸)، د/البیوع ۷۵ (۳۵۱۳)، حم (۳/۳۱۲، ۳۱۶، ۳۵۷) (صحیح)
۲۴۹۲- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: ''جس کے پاس کھجور کے درخت ہوں یا زمین ہو تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے، جب تک کہ اسے اپنے شریک پر پیش نہ کردے ۔


2493- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانَ وَالْعَلاءُ بْنُ سَالِمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَأَرَادَ بَيْعَهَا، فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى جَارِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۳۱، ومصباح الزجاجۃ: ۸۸۳) (صحیح)
(سندمیں سماک ہیں، جن کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن سابق شواہد سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے)
۲۴۹۳- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کو بیچنا چاہے تو اسے چا ہئے کہ وہ اسے اپنے پڑوسی پر پیش کرے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : باب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی یا شریک نہ خرید نا چا ہے تب دوسروں کے ہاتھ بیچے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
2- بَاب الشُّفْعَةِ بِالْجِوَارِ
۲- باب: پڑوس ہونے کی وجہ سے حق شفعہ کا بیان​


2494- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْمَلِكِ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَةِ جَارِهِ، يَنْتَظِرُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَائِبًا، إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا >۔
* تخريج: د/البیوع ۷۵ (۳۵۱۸)، ت/الأحکام ۳۲ (۱۳۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۳۴)، وقد أخرجہ: دي/البیوع ۸۳ (۲۶۶۹) (صحیح)
۲۴۹۴- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حق دار ہے، اس کا انتظار کیا جا ئے گاا گر وہ موجود نہ ہو جب دونو ں کا راستہ ۱؎ ایک ہو '' ۔
وضاحت ۱؎ : معلوم ہواکہ شفعہ کا حق صرف اسی پڑوسی کو حاصل ہے ، جو زمین میں یا راستہ میں شریک ہو ، صرف پڑوس میں رہنے سے حق شفعہ حاصل نہ ہوگا۔


2495- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ >۔
* تخريج: خ/الشفعۃ ۲ (۲۲۵۸)، الحیل ۱۴ (۶۹۷۷)، ۱۵ (۶۹۸۱، ۶۹۷۸)، د/البیوع ۷۵ (۳۵۱۶)، ن/البیوع ۱۰۷ (۴۷۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۸۹،۳۹۰، ۶/۱۰، ۳۹۰) (صحیح)
۲۴۹۵- ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''پڑوسی اپنے نزدیکی مکان کا زیادہ حق دار ہے ''۔


2496- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ؛ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا لأَحَدٍ قِسْمٌ، وَلا شِرْكٌ إِلا الْجِوَارُ؟ قَالَ: < الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ >۔
* تخريج: ن/البیوع ۱۰۷ (۴۷۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۴۰) (حسن صحیح)
۲۴۹۶- شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول !ایک زمین ہے جس میں کسی کا حصہ نہیں اور نہ کوئی شرکت ہے ،سوائے پڑوسی کے (تو اس کے بارے میں فرمائیے ؟!) آپﷺ نے فرمایا: ''پڑوسی اپنی نزدیکی زمین کا زیادہ حق دارہے ''۔
وضاحت ۱؎ : جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث اور اس حدیث میں بظاہر تعارض ہے،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان دونوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شفعہ کی دو قسمیں ہیں: ایک شعفہ یہ ہے کہ مالک کے لئے یہ ضروری ہے کہ و ہ شفیع پر پیش کرے ،اور دوسروں پر اسے ترجیح دے، اور اس شفعہ پر قضاء میں وہ مجبور نہ کیا جائے ، اور یہی اس پڑوسی کا حق ہے جو شریک نہیں ہے ،اور دوسری قسم یہ ہے کہ اس شفعہ پر اسے قضاء میں مجبور کیا جائے گا، اور یہ اس پڑوسی کے حق میں ہے جو شریک بھی ہے ، ( حجۃ اللہ البالغۃ ۲/۱۱۳) ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
3-بَاب إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلا شُفْعَةَ
۳- باب: جائداد کی حد بندی کے بعد حق شفعہ نہیں ہے​


2497- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ ابْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَضَى بِالشُّفْعَةِ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ، فَلا شُفْعَةَ.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۴۱، ۱۵۲۴۹)، مصباح الزجاجۃ: ۸۸۴)، وقد أخرجہ: د/البیوع ۷۵ (۳۵۱۵) (صحیح)
۲۴۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے ایسی جائیدادمیں شفعہ کا حکم دیاہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، لیکن جب تقسیم ہو جا ئے اور حد بندی ہوتو شفعہ نہیں ہے۔


2497/أ- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ.
قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلٌ، وَأَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُتَّصِلٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۴۱، ۱۵۲۴۹ ، ومصباح الزجاجۃ: ۸۸۵)
۲۴۹۷/أ- اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
ابو عاصم کہتے ہیں: سعید بن مسیب کی روایت مرسل ہے، اور ابو سلمہ کی روایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متصل ہے۔


2498- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الشَّرِيكُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ >۔
* تخريج: انظرحدیث رقم: (۲۴۹۵) (صحیح)
۲۴۹۸- ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: '' شریک (ساجھی دار) اپنی قریبی جائداد کا زیا دہ حق دار ہے، خواہ کوئی بھی چیز ہو ''۔


2499- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: إِنَّمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ، فَلا شُفْعَةَ۔
* تخريج: خ/البیوع ۹۶ ( ۲۲۱۳)، ۹۷ (۲۲۱۴)، الشفعۃ ۲ (۲۲۵۷)، الحیل ۱۴ (۷۶ ۶۹)، الشرکۃ ۸ (۹۵ ۲۴)، د/البیوع ۷۵ (۳۵۱۴)، ت/الأحکام ۳۳(۱۳۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۵۳)، وقد أخرجہ: ن/البیوع ۱۰۷(۴۷۰۸)، ط/الشفعۃ ۱ (۱)، حم (۳/۳۷۲، ۳۹۹)، دي/البیوع ۸۳ (۲۶۷۰) (صحیح)
۲۴۹۹- جا بربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے شفعہ ہر اس جا ئداد میں ٹھہرایاہے جو تقسیم نہ کی گئی ہو، اور جب حد بندی ہوجائے اور راستے جدا ہوجائیں تو اب شفعہ نہیں ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : معلوم ہو اکہ وہ جائداد جو تقسیم کے قابل نہ ہو، اس میں بھی شفعہ نہیں ہے، جیسے حمام اور کنواں وغیرہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
4-بَاب طَلَبِ الشُّفْعَةِ
۴- باب: شفعہ کا مطالبہ​


2500- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الشُّفْعَةُ كَحَلِّ الْعِقَالِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۹۲، ومصباح الزجاجۃ: ۸۸۶) (ضعیف جدا)
(سند میں محمد بن الحارث ضعیف ہے، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم بالکذب ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۱۵۴۲)
۲۵۰۰- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شفعہ اونٹ کی رسی کھولنے کے مانند ہے ۱؎ '' ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی جیسے اونٹ کے کھٹنے کی رسی کھول دی جائے تو اونٹ فوراً اٹھ کھڑا ہوتاہے اسی طرح بیع کی خبر ہوتے ہی اگر شفیع شفعہ لے تو ٹھیک ہے، اوراگردیر کر ے تو شفعہ کا حق باطل ہوگیا ، یہ حدیث حنفیہ کی دلیل ہے جن کے نزدیک شفیع کو جب بیع کی خبر پہنچے تو فوراً اس کو طلب کرنا چاہئے ، فقہ حنفی میں ہے کہ مجلس علم میں شفعہ طلب کرنا کافی ہے ، اگرچہ مجلس دیر تک رہے ، پس احناف کے نزدیک اگرشفیع فوراً یا اس مجلس میں شفعہ کا مطالبہ نہ کرے تو اس کا حق باطل ہوجاتاہے ۔اوراہل حدیث کے نزدیک دیر کرنے سے شفعہ کا حق باطل نہیں ہوتا کیونکہ شفعہ کی احادیث مطلق ہیں ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی یہ حدیث جس سے حنفیہ نے استدلال کیا ہے سخت ضعیف ہے ۔


2501- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا شُفْعَةَ لِشَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ وَلا لِصَغِيرٍ وَلا لِغَائِبٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۹۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۸۷) (ضعیف جدا)
(سند میں محمد بن الحارث ضعیف راوی ہیں ،اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم با لکذب راوی ہیں،نیز ملاحظہ ہو : الضعیفہ : ۴۸۰۴)
۲۵۰۱- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا: ''شریک کو شریک پر اس وقت شفعہ نہیں رہتاہے، جب وہ خریداری میں اس سے سبقت کر جا ئے، ۱؎ اسی طرح نہ کم سن(نا بالغ)کے لئے شفعہ ہے، اور نہ غائب کے لئے '' ۔
وضاحت ۱؎ : مثلاً کسی جائداد میں زید ، عمر اور بکر شریک ہیں ،بکر نے اپنا حصہ زید کے ہاتھ بیچ دیا، تو عمر کو زید پر شفعہ کے دعویٰ کاحق حاصل نہ ہوگا۔


***​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207

{ 18-كِتَابُ اللُّقْطَةِ }
۱۸-کتاب: لقطہ کے احکام ومسائل ۱؎


1-بَاب ضَالَّةِ الإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ
۱- باب: گم شدہ اونٹ، گا ئے اوربکری کے لقطہ کا بیان​
وضاحت ۱؎ : راستہ میں گری پڑی چیزیں جو مل جائیں توان کو لقطہ کہتے ہیں۔


2502- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۸۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۵) (صحیح)
(ملاحظہ ہو : الصحیحہ : ۶۲۰)
۲۵۰۲- عبداللہ بن شخیررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: '' مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی جو کوئی اس کی خبرنہ کرے بلکہ اسے ہضم کرنے کی نیت سے چھپا ر کھے تو اس کے بدلے میں یہ جہنم کی آگ کا مستحق ہے۔


2503- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ خَالُ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ؛ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْبَوَازِيجِ، فَرَاحَتِ الْبَقَرُ، فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ، قَالَ: فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <لايُؤْوِي الضَّالَّةَ إِلا ضَالٌّ >۔
* تخريج: د/اللقطۃ ۱ (۱۷۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۶۰، ۳۶۲) (صحیح)
(سند میں علت ہے کیونکہ ضحاک مجہول راوی ہیں، لیکن مرفوع حدیث ،شاہد کی بناء پر صحیح ہے ، قصہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۱۵۶۳، و صحیح أبی داود : ۱۵۱۳، تراجع الألبانی: رقم: ۵۱۵)
۲۵۰۳- منذ ر بن جریر کہتے ہیں کہ میںاپنے والد کے ساتھ بو ازیج ۱؎ میں تھاکہ گایوں کا ریوڑ نکلا، تو آپ نے ان میں ایک اجنبی قسم کی گائے دیکھی توپوچھا: یہ گائے کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا :کسی اور کی گائے ہے، جو ہماری گایوں کے ساتھ آگئی ہے، انہوں نے حکم دیا، اور وہ ہانک کر نکا ل دی گئی یہاں تک کہ وہ نظر سے اوجھل ہو گئی، پھرکہاکہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''گم شدہ چیز کو وہی اپنے پاس رکھتا ہے جو گمراہ ہو '' ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : بو ازیج : ایک شہر کا نام ہے ۔
وضاحت ۲؎ : صحیح مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے: "مَالم يُعَرِّفها" ''جب تک اس کا تعارف نہ کرائے'' ،اور مشہور کرنے والے کے لئے ہے کہ گم شدہ چیز لے تو برا نہیں ہے، اہل حدیث کے نزدیک اونٹ کے علاوہ ہر گم شدہ جانور لے لینا درست ہے کیونکہ اونٹ ضائع نہیں ہوتا ، وہ پھرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آئے تو وہ لے لے ۔


2504- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْعَلاءِ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، فَلَقِيتُ رَبِيعَةَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ فَقَالَ: < مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا > وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ: < خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ >، وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: < اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَائَهَا وَعَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنِ اعْتُرِفَتْ، وَإِلا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ >۔
* تخريج: خ/اللقطۃ ۱ (۲۴۲۶)، م/اللقطۃ ۱ (۱۷۲۲)، د/اللقطۃ ۱ (۱۷۰۴، ۱۷۰۵)، ت/الاحکام ۳۵ (۱۳۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۶۳)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۳۸ (۴۶، ۴۷)، حم (۴/۱۱۵، ۱۱۶، ۱۱۷) (صحیح)
۲۵۰۴- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے گم شدہ اونٹ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ غضب ناک ہوگئے، اور غصے سے آپ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے اور فرمایا : ''تم کو اس سے کیا سروکار، اس کے ساتھ اس کا جوتا اورمشکیزہ ہے، وہ خود پانی پر جا سکتا ہے اور درخت سے کھا سکتا ہے ،یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالیتا ہے'' پھر آپﷺ سے گمشدہ بکری کے بارے پوچھا گیا، تو آپﷺ نے فرمایا: '' اس کو لے لواس لئے کہ وہ یا توتمہاری ہے یاتمہا رے بھا ئی کی یا بھیڑیے کی'' ۱ ؎ پھر آپ سے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا گیا ، تو آپﷺ نے فر ما یا: '' اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو، اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، ۲؎ اگر اس کی شناخت پہچان ہوجائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلو ''۔
وضاحت ۱؎ : اگر کوئی اس کی حفاظت نہ کرے گا تو وہ اسے کھا جائے گا ۔
وضاحت ۲؎ : باز ار یا مسجد یا جہاں لوگ جمع ہوتے ہوں ، پکار کر کہے کہ مجھے ایک چیز ملی ہے، نشانی بتاکر جس کی ہو لے جائے ، اگر اس کا مالک اس کی شناخت کر لے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
2-بَاب اللُّقَطَةِ
۲- باب: راستہ سے اٹھائی ہوئی گری پڑی چیز کا بیان​


2505- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ، أَوْ ذَوَيْ عَدْلٍ ثُمَّ لا يُغَيِّرْهُ وَلا يَكْتُمْ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِلا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ >۔
* تخريج: د/اللقطۃ ۱ (۱۷۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۲، ۲۶۶) (صحیح)
۲۵۰۵- عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: '' جس کو کوئی گری پڑی چیز ملے تو وہ ایک یا دو معتبر شخص کو اس پر گواہ بنالے ، پھر وہ نہ اس میں تبدیلی کرے اور نہ چھپائے، اگر اس کا مالک آ جا ئے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، ورنہ وہ اللہ کا مال ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : صحیحین میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ سے چاندی اور سونے کے لقطہ کے بارے میں پوچھا گیا توآپﷺ نے فرمایا: '' اس کا تھیلا اور سربند پہچان لو ، پھر ایک سال تک اس کو پوچھتے رہو ، اگر کوئی اس کو نہ پہچانے تو خرچ کرڈالو ، لیکن وہ تمہارے پاس امانت ہوگی ، جب اس کامالک آئے ،گرچہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد تو تم اس کو دے دو ''۔


2506- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعُذَيْبِ، الْتَقَطْتُ سَوْطًا، فَقَالا لِي: أَلْقِهِ، فَأَبَيْتُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: أَصَبْتَ، الْتَقَطْتُ مِائَةَ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: < عَرِّفْهَا سَنَةً > فَعَرَّفْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: < عَرِّفْهَا > فَعَرَّفْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يَعْرِفُهَا، فَقَالَ: < اعْرِفْ وِعَائَهَا وَوِكَائَهَا وَعَدَدَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ مَنْ يَعْرِفُهَا، وَإِلا فَهِيَ كَسَبِيلِ مَالِكَ >۔
* تخريج: خ/اللقطۃ ۱ (۲۴۲۶)،م/اللقطۃ ۱ (۱۷۲۳)، د/اللقطۃ ۱ (۱۷۰۱،۱۷۰۲)، ت/الأحکام ۳۵ (۱۳۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۲۶، ۱۲۷) (صحیح)
۲۵۰۶- سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا، جب ہم عذیب پہنچے تومیں نے وہاں ایک کوڑا پڑاہوا پایا، ان دونوں نے مجھ سے کہا: اس کو اسی جگہ ڈال دو،لیکن میں نے ان کا کہا نہ مانا، پھر جب ہم مدینہ پہنچے، تو میںابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ،اور ان سے اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا : تم نے ٹھیک کیا،میں نے بھی رسول اللہﷺ کے عہد میں سو دینار پڑ ے پائے تھے تو میں نے آپﷺ سے اس کے متعلق پوچھا ،تو آپ ﷺنے فرمایا: ''سال بھر تک اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو''،میں پتا کرتا رہا،لیکن کسی کو نہ پایا جو انھیں پہچانتا ہو،پھر میں نے آپ ﷺسے پوچھا،تو آپ ﷺنے فرمایا : ''اس کاتھیلا ،بندھن اور اس کی تعداد یاد رکھو، پھر سال بھر اس کے مالک کا پتا کرتے رہو،اگر اس کا جا ننے والا آجائے تو خیر، ورنہ وہ تمہارے مال کی طرح ہے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : صحیح مسلم کی روایت میں ہے:"ثمَّ عرِّفها سنةً، فإن جاء صاحبُها وإلا فشأنكَ بها" سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو ، اگر اس کا جاننے والا آجائے تو خیر ورنہ اس سے فائدہ اٹھائو۔


2507- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ (ح) وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ فَقَالَ: < عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنِ اعْتُرِفَتْ، فَأَدِّهَا، فَإِنْ لَمْ تُعْتَرَفْ، فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِعَائَهَا ثُمَّ كُلْهَا، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، فَأَدِّهَا إِلَيْهِ >۔
* تخريج: م/اللقطۃ ۱ (۱۷۲۲)، د/اللقطۃ ۱ (۱۷۰۶)، ت/الأحکام ۳۵ (۱۳۷۲، ۱۳۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱۶، ۵/۱۹۳) (صحیح)
۲۵۰۷- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ سے لقطہ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپﷺ نے فرمایا: '' سال بھر اس کے مالک کا پتہ کرتے رہو،اگر کوئی اس کی (پہچان)کرلے تو اسے دے دو،ورنہ اس کی تھیلی اور اس کا بندھن یاد رکھو، پھر اس کو اپنے کھا نے میں استعمال کرلو، اگر اس کا مالک آ جا ئے تو اسے اداکردو '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مکہ میں جو لقطہ ( گری پڑی چیز )ملے اس کے مالک کے تلاش کرنے میں زیادہ کوشش کرنی چاہئے ، کیونکہ حدیث میں ہے کہ مکہ کا لقطہ جائز نہیں ، مگر اس کے لئے جو اس کو دریافت کرے، صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے راستہ میں ایک کھجور پائی تو فرمایا: '' اگر مجھ کو یہ ڈر نہ ہوتا کہ شاید یہ صدقہ کی ہو تو میں اسے کھالیتا ''، اور احمد و طبرانی اور بیہقی نے یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جس نے رسی یا درہم وغیرہ جیسا حقیرلقطہ اٹھایا تو وہ اس کے بارے میںتین دن تک پوچھے ، اگر اس سے زیادہ چاہے تو چھ دن تک پوچھے اور مصنف عبد الرزاق میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک دینار لائے جس کو انہوں نے بازار میں پایا تھا ، آپ ﷺنے فرمایا: ''تین دن اس کے مالک کو پوچھتے رہو '' ، انہوں نے پوچھا کوئی مالک نہیں پایا ،جو اس کو پہچانے تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''اب اس کو کھالو (یعنی خرچ کرلو) '' اگر لقطہ کھانے کی چیز ہو (جیسے روٹی پھل وغیرہ) تو اس کا پوچھنا ضروری نہیں فوراً اس کا کھالینا درست ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
3- بَاب الْتِقَاطِ مَا أَخْرَجَ الْجُرَذُ
۳- باب: چوہا جو مال سوراخ سے نکا لے اس کے لینے کا بیان​


2508- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قُرَيْبَةُ بِنْتُ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ أُمَّهَا كَرِيمَةَ بِنْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو؛ أَخْبَرَتْهَا عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍوأَنَّهُ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْبَقِيعِ، وَهُوَ الْمَقْبَرَةُ، لِحَاجَتِهِ، وَكَانَ النَّاسُ لا يَذْهَبُ أَحَدُهُمْ فِي حَاجَتِهِ إِلا فِي الْيَوْمَيْنِ وَالثَّلاثَةِ، فَإِنَّمَا يَبْعَرُ كَمَا تَبْعَرُ الإِبِلُ ثُمَّ دَخَلَ خَرِبَةً، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ لِحَاجَتِهِ، إِذْ رَأَى جُرَذًا أَخْرَجَ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ آخَرَ، حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ طَرَفَ خِرْقَةٍ حَمْرَاءَ.
قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَلَلْتُ الْخِرْقَةَ، فَوَجَدْتُ فِيهَا دِينَارًا، فَتَمَّتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَخَرَجْتُ بِهَا حَتَّى أَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرَهَا، فَقُلْتُ: خُذْ صَدَقَتَهَا، يَارَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < ارْجِعْ بِهَا، لا صَدَقَةَ فِيهَا، بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا > ثُمَّ قَالَ: < لَعَلَّكَ أَتْبَعْتَ يَدَكَ فِي الْجُحْرِ؟ > قُلْتُ: لا، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ.
قَالَ: فَلَمْ يَفْنَ آخِرُهَا حَتَّى مَاتَ۔
* تخريج: د/الخراج ۴۰ (۳۰۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۵۰) (ضعیف)
(سند میں موسیٰ بن یعقوب ضعیف اور '' قر یبۃ بنت عبد اللہ لین الحدیث ہیں)
۲۵۰۸- مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن وہ بقیع کے قبرستان کی طرف قضائے حاجت کے لئے نکلے، ان دنوں لوگ قضائے حاجت کے لئے دو دو تین تین دن بعد ہی جا یا کرتے تھے، اور مینگنیاں نکالتے تھے، خیر وہ ایک ویرانے میں گئے اور قضائے حاجت کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں ایک چوہے پر نظر پڑی جس نے سوراخ میں سے ایک دینار نکالا، پھر وہ اندر گھس گیا، اور پھر ایک دینار اور نکالا یہاں تک کہ اس نے سترہ دینا ر نکالے، پھر ایک سرخ کپڑے کے ٹکڑے کا کنا رہ نکالا۔
مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے وہ ٹکڑا کھینچا تو اس میں ایک دینار اور ملا اس طرح کل اٹھارہ دینار پورے ہو گئے، انہیں لے کر میں رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہو ا، اور آپ کو پورا واقعہ بتایا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسو ل! آپ اس کی زکاۃ لے لیجئے، آ پﷺ نے فرمایا: '' لے جا ئو، اس میں زکاۃ نہیں ،اللہ تعالی تمہیں اس میں برکت دے '' ،پھر آپ ﷺنے فرمایا: '' شاید تم نے سوراخ میں اپنا ہاتھ ڈالا؟ میں نے کہا:نہیں ،قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کی حق سے عزت فرمائی ''۔
راوی کہتے ہیں:ان دیناروںمیں اتنی برکت ہوئی کہ ان کی وفات تک آخری دینار ختم نہیں ہوا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
4- بَاب مَنْ أَصَابَ رِكَازًا
۴- باب: جس شخص کو دفینہ (رکاز) مل جائے اس کے حکم کا بیان​


2509- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ >۔
* تخريج: م/الحدود ۱۱ (۱۷۱۰)، د/الخراج ۴۰ (۳۰۸۵)، ت/الأحکام ۳۷ (۱۳۷۷)، ن/الزکاۃ ۲۸ (۲۴۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۸، ۱۵۱۴۷)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۶۶ (۱۴۹۹)، المساقاۃ ۳ (۲۳۵۵)، الدیات ۲۸ (۶۹۱۲)، ۲۹ (۶۹۱۳)، ط/ العقول ۱۸ (۱۲)، حم (۲/۲۲۸، ۲۲۹، ۲۵۴، ۲۷۴، ۲۸۵، ۳۱۹، ۳۸۲، ۳۸۶، ۴۰۶، ۴۱۱، ۴۱۴، ۴۵۴، ۴۵۶، ۴۶۷، ۴۷۵، ۴۸۲، ۴۸۲، ۴۹۵، ۴۹۹، ۵۰۱،۵۰۷)، دي/الزکاۃ ۳۰ (۱۷۱۰)، الدیات ۹ (۲۴۲۲) (صحیح)
۲۵۰۹- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رکاز ۱؎ میں پانچواں حصہ (بیت المال کا) ہے '' ۔
وضاحت ۱؎ : رکا ز کا ن کو کہتے ہیں، اور کچھ علماء کہتے ہیں کہ کافروں کے دفینہ یعنی خزانہ کور کا ز کہا جاتا ہے۔


2510- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۲۹،ومصباح الزجاجۃ: ۸۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۱۴، ۳/۱۸۰) (صحیح)
۲۵۱۰- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے فر ما یا: '' رکا ز میں پانچواںحصہ (بیت المال کا) ہے ''۔


2511- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ ابْنُ حَيَّانَ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ اشْتَرَى عَقَارًا، فَوَجَدَ فِيهَا جَرَّةً مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الأَرْضَ، وَلَمْ أَشْتَرِ مِنْكَ الذَّهَبَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ بِمَا فِيهَا، فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ: أَلَكُمَا وَلَدٌ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلامٌ، وَقَالَ الآخَرُ: لِي جَارِيَةٌ، قَالَ: فَأَنْكِحَا الْغُلامَ الْجَارِيَةَ، وَلْيُنْفِقَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ، وَلْيَتَصَدَّقَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۹۶)، وقد أخرجہ: خ/الأنبیاء ۵۴ (۳۴۷۲)، م/الأقضیۃ ۱۱ (۱۷۲۱)، حم (۲/۳۱۶) (صحیح)
۲۵۱۱- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تم سے پہلے لو گو ںمیں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خر یدا ر بائع (بیچنے والے )سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا ، اور با ئع کہہ رہا تھا : میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے ، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کو ئی بچّہ ہے ؟ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑ کا ہے اور دوسر ے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے ، تو اس شخص نے کہا: تم دو نو ں اس لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کردو ، اور چاہیے کہ اس سونے کو وہی دونوں اپنے اوپر خرچ کریں،اور اس میں سے صد قہ بھی دیں۔


* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207

{ 19-كِتَابُ الْعِتْقِ }
۱۹-کتاب: غلام کی آ زادی کے احکام ومسائل


1- بَاب الْمُدَبَّرِ
۱-باب: مدبّر غلام کا بیان​


2512- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَاعَ الْمُدَبَّرِ۔
* تخريج: خ/البیوع ۵۹ (۲۱۴۱)، ۱۱۰ (۲۲۳۰)، الإاستقراض ۱۶ ( ۲۴۰۳)، الخصومات ۳ (۲۴۱۵)، العقتق ۹ (۲۵۳۴)، کفارات الأیمان ۷ (۶۷۱۶)، الإکراہ ۴ (۶۹۴۷)، الأحکام ۳۲ (۷۱۸۶)، د/العتق ۹ (۳۹۵۵)، ن/البیوع ۸۳ (۴۶۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۱۶)، وقد أخرجہ: م/الزکاۃ ۱۳ (۹۹۷)، ت/البیوع ۱۱ (۱۲۱۹)، حم (۳/۳۰۱، ۳۰۸، ۳۶۵، ۳۹۰)، دي/البیوع ۳۷ (۲۶۱۵) (صحیح)
۲۵۱۲- جا بر رضی اللہ عنہ سے رو ا یت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مدبر ّغلام بیچا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : مدبر وہ غلام یا لونڈی ہے جس سے مالک نے یہ کہہ دیا ہو کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو۔


2513- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: دَبَّرَ رَجُلٌ مِنَّا غُلامًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَاعَهُ النَّبِيُّ ﷺ، فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ۔
* تخريج: خ/البیوع ۱۱۰ (۲۲۳۱)، م/الزکاۃ ۱۳ (۹۹۷)، ت/البیوع ۱۱ (۱۲۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۸) (صحیح)
۲۵۱۳- جا بربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے غلام کو مدبر بنادیا،اس کے پاس اس کے علاوہ اور کو ئی مال نہ تھا تونبی اکرمﷺنے اسے بیچ دیا ،اور قبیلہ بنی عدی کے شخص ابن نحام نے اسے خریدا۔


2514- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ظَبْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < الْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ >.
قَالَ ابْن مَاجَةَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، يَقُولُ: هَذَا خَطَأٌ، يَعْنِي:حَدِيثَ : < لْمُدَبَّرُ مِنَ الثُّلُثِ >. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَيْسَ لَهُ أَصْلٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۶۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۹۰) (موضوع)
(علی بن ظبیان کی ابن معین وغیرہ نے تکذیب کی ہے )
۲۵۱۴- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :''مدبر غلام میت کے تہائی مال میں سے شمار ہوگا ''۔
ابن ما جہ کہتے ہیں: میں نے عثمان یعنی ابن ابی شیبہ کو کہتے سنا کہ یہ روایت یعنی ''المد بر من الثلث'' کی حدیث صحیح نہیں ہے۔
ابو عبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں:اس کی کو ئی اصل نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,582
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,207
2- بَاب أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ
۲- باب: ام ولد (یعنی وہ لونڈی جس کی مالک سے اولادہو ) کا بیان​


2515- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إسمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَيُّمَا رَجُلٍ وَلَدَتْ أَمَتُهُ مِنْهُ، فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۲۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۰۳، ۳۱۷،۳۲۰)، دي/البیوع ۳۸ (۲۶۱۶) (ضعیف)
(سند میں حسین بن عبد اللہ متروک راوی ہیں،نیز ملاحظہ ہو: الإرواء : ۱۷۷۱)۔
۲۵۱۵- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا: '' جو لو نڈی اپنے مالک کا بچہ جنے، تو وہ مالک کے مرجانے کے بعد آزاد ہوجا ئے گی ''۔


2516- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، يَعْنِي النَّهْشَلِيَّ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ذُكِرَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ عِنْدَرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۰۲۴، ومصباح الزجاجۃ: ۸۹۴) (ضعیف)
(سند میں حسین بن عبداللہ متروک راوی ہیں،نیز ملاحظہ ہو: الإرواء : ۱۷۷۲)۔
۲۵۱۶- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے بیٹے ابراہیم کی ماں کا تذکرہ رسو ل اللہ ﷺ کے پاس کیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: ''اس کے بچے(ابراہیم) نے اسے آزادکردیا ''۔


2517- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ يَقُولُ: كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلادِنَا، وَالنَّبِيُّ ﷺ فِينَا حَيٌّ، لا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۳۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۹۳)، وقد أخرجہ: د/العتق ۸ (۳۹۵۴)، حم (۳/۳۲۱) (صحیح)
۲۵۱۷- جا بربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ اپنی لو نڈیاں اور امہات الاولاد ۱؎ بیچا کر تے تھے، اور نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان زندہ تھے، اور ہم اس میں کو ئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : امہات الاولاد : وہ لونڈیاں جن کے بطن سے آقا (مالک) کی اولاد ہوچکی ہو۔
وضاحت ۲؎ : ابو داود کی روایت میں یہ زیادتی موجود ہے کہ عمررضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ام ولد کے بیچنے سے منع فرمادیا ، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے رک گئے ، نیز اس حدیث کا جواب علماء نے یوں دیا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کو نسخ کی خبر نہیں ہوئی ، پہلے ام ولد کی بیع جائز رہی ہوگی پھر آپ ﷺ نے اس سے منع کیا ہوگا، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا ،جیسے جابر رضی اللہ عنہ نے متعہ کے باب میں بھی ایسی ہی روایت کی ہے کہ ہم متعہ کرتے رہے ، نبی کریم ﷺ اور ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے شروع خلافت میں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا ، حالانکہ متعہ کی حلت بالاجماع منسوخ ہے، اور جابر رضی اللہ عنہ کو اس کے نسخ کی اطلاع نہیں ہوئی ، اسی طرح اس ممانعت کی بھی ان کو خبر نہیں ہوئی ہوگی۔
 
Top