- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
{ 17-كِتَابُ الشُّفْعَةِ }
۱۷- کتاب: شفعہ کے احکام و مسائل۱؎
1- بَاب مَنْ بَاعَ رُبَاعًا فَلْيُؤْذِنْ شَرِيكَهُ
۱- باب: جائداد بیچتے وقت اپنے شریک کو خبر دینے کا بیان
وضاحت۱؎: شفعہ اس حق کو کہتے ہیں جو جائداد بیچتے وقت شریک یا پڑوسی کو حاصل ہوتا ہے، اور وہ حق یہ ہے کہ جو قیمت دوسرا خریدار دیتا ہے وہ قیمت دے کر اس جائداد کو خود خرید لے۔۱۷- کتاب: شفعہ کے احکام و مسائل۱؎
1- بَاب مَنْ بَاعَ رُبَاعًا فَلْيُؤْذِنْ شَرِيكَهُ
۱- باب: جائداد بیچتے وقت اپنے شریک کو خبر دینے کا بیان
2492- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ نَخْلٌ أَوْ أَرْضٌ فَلا يَبِيعُهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ >۔
* تخريج: ن/البیوع ۷۸ (۴۶۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۶۵)، وقد أخرجہ: م/المساقاۃ ۲۸ (۱۶۰۸)، د/البیوع ۷۵ (۳۵۱۳)، حم (۳/۳۱۲، ۳۱۶، ۳۵۷) (صحیح)
۲۴۹۲- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس کے پاس کھجور کے درخت ہوں یا زمین ہو تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے، جب تک کہ اسے اپنے شریک پر پیش نہ کر دے۔
2493- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانَ وَالْعَلاءُ بْنُ سَالِمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَأَرَادَ بَيْعَهَا، فَلْيَعْرِضْهَا عَلَى جَارِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۳۱، ومصباح الزجاجۃ: ۸۸۳) (صحیح) (سند میں سماک ہیں، جن کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن سابق شواہد سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے)
۲۴۹۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس کے پاس زمین ہو اور وہ اس کو بیچنا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے اپنے پڑوسی پر پیش کرے۔"۱؎
وضاحت۱؎: باب کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی یا شریک نہ خریدنا چاہے تب دوسروں کے ہاتھ بیچے۔