• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب الرَّجُلِ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا
۳۴- باب: شوہر بیوی کے ساتھ اجنبی مرد کو پائے تو کیا کرے؟​

2605- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ أَبُو عُبَيْدٍ قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الأَنْصَارِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا أَيَقْتُلُهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا> قَالَ سَعْدٌ: بَلَى، وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اسْمَعُوا مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ >۔
* تخريج: م/اللعان ۱ (۱۴۹۸)، د/الدیات ۱۲ (۴۵۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۹۹)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۱۹ (۱۷)، الحدود ۱(۷) (صحیح)

۲۶۰۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آدمی اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں'' سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کا اعزاز بخشا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگو! سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے''؟ ۱؎۔
وضاحت۱؎: دوسری روایت میں ہے: میں اس سے زیادہ غیرت رکھتا ہوں، اور اللہ تعالی مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے، آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ سعد کا یہ کہنا بظاہر غیرت کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے مگر مجھ کو اس سے زیادہ غیرت ہے، اور اللہ تعالی کو مجھ سے بھی زیادہ غیرت ہے، اس پر بھی اللہ نے جو شریعت کا حکم اتارا اسی پر چلنا بہتر ہے۔

2606- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ دَلْهَمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ: قِيلَ لأَبِي ثَابِتٍ، سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْحُدُودِ، وَكَانَ رَجُلا غَيُورًا: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّكَ وَجَدْتَ مَعَ امْرَأَتِكَ رَجُلا، أَيَّ شَيْئٍ كُنْتَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: كُنْتُ ضَارِبَهُمَا بِالسَّيْفِ، أَنْتَظِرُ حَتَّى أَجِيئَ بِأَرْبَعَةٍ؟ إِلَى مَا ذَاكَ قَدْ قَضَى حَاجَتَهُ وَذَهَبَ، أَوْ أَقُولُ: رَأَيْتُ كَذَا وَكَذَا، فَتَضْرِبُونِي الْحَدَّ وَلا تَقْبَلُوا لِي شَهَادَةً أَبَدًا، قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: < كَفَى بِالسَّيْفِ شَاهِدًا، ثُمَّ قَالَ: < لا، إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَتَابَعَ فِي ذَلِكَ السَّكْرَانُ وَالْغَيْرَانُ >.
قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّهِ، يَعْنِي ابْنَ مَاجَهْ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يَقُولُ: هَذَا حَدِيثُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيِّ، وَفَاتَنِي مِنْهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۶۲، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۱) (ضعیف)
(قبیصہ بن حریث ضعیف ہیں، نیزملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۹۱ ۴۰)
۲۶۰۶- سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب حدود کی آیت نازل ہوئی تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے جو ایک غیرت مند شخص تھے، پوچھا گیا: اگرآپ اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائیں تو اس وقت آپ کیا کریں گے؟ جواب دیا: میں تلوار سے ان دونوں کی گردن اڑا دوں گا، کیا میں چار گواہ ملنے کا انتظار کروں گا؟ اس وقت تک تو وہ اپنی ضرورت پوری کرکے چلا جائے گا، اور پھر میں لوگوں سے کہتا پھروں کہ فلاں شخص کو میں نے ایسا اور ایسا کرتے دیکھا ہے، اور وہ مجھے حد قذف لگا دیں، اور میری گواہی قبول نہ کریں، پھر سعد رضی اللہ عنہ کی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ''(غلط حالت میں)'' تلوار سے دونوں کو قتل کر دینا ہی سب سے بڑی گواہی ہے'' ، پھر فرمایا: ''نہیں'' میں اس کی اجازت نہیں دیتا، مجھے اندیشہ ہے کہ اس طرح غیرت مندوں کے ساتھ متوالے بھی ایسا کرنے لگیں گے۔
ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا ہے کہ یہ علی بن محمد طنافسی کی حدیث ہے، اور مجھے اس میں کا کچھ حصہ یاد نہیں رہا۔

وضاحت۱؎: عورت کے ساتھ غیر مرد کو برے کام میں دیکھنے پر نبی اکرم ﷺ نے اس کے قتل کی اجازت نہ دی ، پس اگر کوئی قتل کرے تو وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا، لیکن اگر اپنے بیان میں سچا ہو گا تو آخرت میں اس سے مواخذہ نہ ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ
۳۵- باب: جو کوئی باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی سے شادی کرے اس کے حکم کا بیان​

2607- حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، (ح) و حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، جَمِيعًا عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ؛ قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي سَمَّاهُ هُشَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ لِوَائً، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ فَقَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ.
* تخريج: د/الحدود ۲۷ (۴۴۵۶، ۴۴۵۷)، ت/الاحکام ۲۵ (۱۳۶۲)، ن/النکاح ۵۸ (۳۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۹۰،۲۹۲، ۲۹۵، ۲۹۷)، دي/النکاح ۴۳ (۲۲۸۵) (صحیح)

۲۶۰۷- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا (راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا) نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا، میں نے ان سے پوچھا: کہاں کا قصد ہے؟ انہوں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی (یعنی اپنی سوتیلی ماں) سے شادی کر لی ہے، اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔

2608 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، ابْنُ أَخِي الْحُسَيْنِ الْجُعْفِيِّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَأُصَفِّيَ مَالَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۸۲، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۲) (حسن صحیح)
(سند میں خالد بن أبی کریمہ صدوق ہیں، لیکن حدیث کی روایت میں خطا اور ارسال کرتے ہیں، لیکن حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے شاہد کی وجہ سے صحیح ہے)
۲۶۰۸- قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت میں مالی تعزیر درست ہے، اوپر سرقہ کے باب میں گزر چکا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اس سے دوگنی قیمت لی جائے گی''، اور بعضوں نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا تھا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا، اس لئے کہ حد زنا میں مال ضبط نہیں ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ
۳۶- باب: کسی اور کو باپ بتانے اور کسی اور کو مولی بنانے کیبرائی کا بیان​

2609- حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الضَّيْفِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <مَنِ انْتَسَبَ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۴۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۰۹،۳۱۷، ۳۲۸) (صحیح)
(سند میں محمد بن أبی الضیف مستور ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
۲۶۰۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو اپنے کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے، یا (کوئی غلام یا لونڈی) اپنے مالک کے بجائے کسی اور کو مالک بنائے تو اللہ تعالی کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی اس پر لعنت ہے''۔

2610- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ؛ قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَأَبَا بَكْرَةَ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَقُولُ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي مُحَمَّدًا ﷺ يَقُولُ: < مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ >۔
* تخريج: خ/المغازي ۵۶ ۴۳۲۶)، م/الایمان ۲۷ (۶۳)، د/الأدب ۱۱۹ (۵۱۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۶۹، ۱۷۴، ۱۷۹، ۵/۳۸، ۴۶)، دي/السیر ۸۳ (۲۵۷۲)، الفرائض ۲ (۲۹۰۲) (صحیح)

۲۶۱۰- سعد اور ابو بکرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے سنا، اور میرے دل نے یاد رکھا کہ محمد ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کی طرف منسوب کرے، جب کہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کا والد نہیں ہے، تو ایسے شخص پر جنت حرام ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ تشدیداً فرمایا، کیونکہ مسلمان ہمیشہ جہنم میں نہیں رہ سکتا، یا مراد وہ ہے جو اس کام کو درست سمجھے، وہ کافر ہو جائے گا۔

2611- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِالْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۲۲، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۱، ۹۴) (ضعیف)
(سند میں عبد الکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، اور ''سبعین عاماً'' کے لفظ سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: ۳۶۰)
۲۶۱۱- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اپنا والد کسی اور کو بتائے، وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گا، حالاں کہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت سے محسوس ہوتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
37- بَاب مَنْ نَفَى رَجُلا مِنْ قَبِيلَتِهِ
۳۷- باب: غیر خاندان کے آدمی کو خاندان سے نکالنے کا بیان​

2612- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ (ح) وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ حَيَّانَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ السُّلَمِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ هَيْضَمٍ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ؛ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ، وَلا يَرَوْنِي إِلا أَفْضَلَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَسْتُمْ مِنَّا؟ فَقَالَ: < نَحْنُ بَنُو النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ، لا نَقْفُو أُمَّنَا، وَلا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا >.
قَالَ: فَكَانَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ يَقُولُ: لا أُوتِي بِرَجُلٍ نَفَى رَجُلا مِنْ قُرَيْشٍ، مِنَ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ، إِلا جَلَدْتُهُ الْحَدّ۔
* تخريج: تفربہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۷۴، ۵/۲۱۱، ۲۱۲) (حسن)

۲۶۱۲- اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلۂ کندہ کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، وہ لوگ مجھے سب سے بہتر سمجھتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہم نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں، نہ ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں، اور نہ اپنے والد سے علیحدہ ہوتے ہیں''۔
راوی کہتے ہیں: اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ میرے پاس اگر کوئی ایسا شخص آئے جو کسی قریشی کے نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہونے کا انکار کرے، تو میں اسے حد قذف لگاؤں گا۔

وضاحت۱؎: اس لئے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قریش نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
38-بَاب الْمُخَنَّثِينَ
۳۸- باب: مخنثوں اور ہجڑوں کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: ہجڑے دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جن کے اعضاء میں قدرتی نرمی ہوتی ہے، اور نامرد ہوتے ہیں، ان پر کچھ ملامت نہیں ہے، دوسرے جو مرد سے ہجڑے بنائے جاتے ہیں۔ یعنی ان کے اعضاء تناسل کاٹے جاتے ہیں، یہ ملعون ہیں۔

2613- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ الْعَلاءِ أَنَّهُ سَمِعَ بِشْرَ بْنَ نُمَيْرٍأَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولا يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ عَلَيَّ الشِّقْوَةَ ، فَمَا أُرَانِي أُرْزَقُ إِلا مِنْ دُفِّي بِكَفِّي، فَأْذَنْ لِي فِي الْغِنَاءِ فِي غَيْرِ فَاحِشَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا آذَنُ لَكَ، وَلا كَرَامَةَ، وَلا نُعْمَةَ عَيْنٍ، كَذَبْتَ، أَيْ عَدُوَّ اللَّهِ! لَقَدْ رَزَقَكَ اللَّهُ طَيِّبًا حَلالا، فَاخْتَرْتَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْكَ مِنْ رِزْقِهِ مَكَانَ مَا أَحَلَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مِنْ حَلالِهِ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْكَ لَفَعَلْتُ بِكَ وَفَعَلْتُ، قُمْ عَنِّي، وَتُبْ إِلَى اللَّهِ، أَمَا إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ، بَعْدَ التَّقْدِمَةِ إِلَيْكَ، ضَرَبْتُكَ ضَرْبًا وَجِيعًا، وَحَلَقْتُ رَأْسَكَ مُثْلَةً، وَنَفَيْتُكَ مِنْ أَهْلِكَ، وَأَحْلَلْتُ سَلَبَكَ نُهْبَةً لِفِتْيَانِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ >.
فَقَامَ عَمْرٌو، وَبِهِ مِنَ الشَّرِّ وَالْخِزْيِ مَا لا يَعْلَمُهُ إِلا اللَّهُ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < هَؤُلاءِ الْعُصَاةُ، مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ بِغَيْرِ تَوْبَةٍ، حَشَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَمَا كَانَ فِي الدُّنْيَا مُخَنَّثًا عُرْيَانًا لا يَسْتَتِرُ مِنَ النَّاسِ بِهُدْبَةٍ، كُلَّمَا قَامَ صُرِعَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۶) (موضوع)
(بشر بن نمیر بصری ارکان کذب میں سے ہے)
۲۶۱۳- صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ عمرو بن مرہ نے آکر کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے میرے مقدر میں بد نصیبی لکھ دی ہے، اور میرے لئے سوائے اپنی ہتھیلی سے دف بجا کر روزی کمانے کا کوئی اور راستہ نہیں، لہٰذا آپ مجھے ایسا گانا گانے کی اجازت دیجیے جس میں فحش اور بے حیائی کی باتیں نہ ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں نہ تو تمہیں اس کی اجازت دوں گا، نہ تمہاری عزت کروں گا، اور نہ تمہاری آنکھ ہی ٹھنڈی کروں گا'' اے اللہ کے دشمن! تم نے جھوٹ کہا، اللہ تعالی نے تمہیں پاکیزہ حلال روزی عطا کی تھی، لیکن تم نے اللہ تعالی کی حلال کی ہوئی روزی کو چھوڑ کر اس کی حرام کی ہوئی روزی کو منتخب کیا، اگر میں نے تم کو اس سے پہلے منع کیا ہوتا تو (آج اجازت طلب کرنے پر) تجھے سزا دیتا، اور ضرور دیتا، میرے پاس سے اٹھو، اور اللہ تعالی سے توبہ کرو، سنو! اگرتم نے اب منع کرنے کے بعد ایسا کیا تو میں تمہاری سخت پٹائی کروں گا، تمہارے سر کو مثلہ کر کے منڈوا دوں گا، تمہیں تمہارے اہل و عیال سے الگ کر دوں گا، اور اہل مدینہ کے نوجوانوں کے لئے تمہارے مال و اسباب کو لوٹنا حلال کر دوں گا''۔
یہ سن کر عمرو اٹھا، اس کی ایسی ذلت و رسوائی ہوئی کہ اللہ تعالی ہی اسے جانتا ہے، جب وہ چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ گنہ گار ہیں، ان میں سے جو بلا توبہ کیے مر گیا، اللہ اسے قیامت کے روز اسی حالت میں اٹھائے گا جس حالت میں وہ دنیا میں مخنث اورعریاں تھا، اور وہ کپڑے کے کنارے سے بھی اپنا ستر نہیں چھپا سکے گا، جب جب کھڑا ہو گا گر پڑے گا۔


2614- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: إِنْ يَفْتَحِ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا، دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ >۔
* تخريج: خ/المغازي ۵۶ (۴۳۲۴)، م/السلام ۱۳ (۲۱۸۰)، د/الأدب ۶۱ (۴۹۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۰، ۳۱۸) (ہذا الحدیث وقد مضی برقم: (۱۹۰۳) (صحیح)

۲۶۱۴- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، تو ایک مخنث کو عبد اللہ بن ابی امیہ سے یہ کہتے سنا کہ اگر اللہ تعالی کل طائف فتح کرا دے، تو میں تمہیں ایسی عورت کے بارے میں بتاؤں گا جو آگے کی طرف مڑتی ہے تو چار سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، اور پیچھے کی جانب مڑتی ہے تو آٹھ سلوٹیں ہو جاتی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ان (مخنثوں) کو اپنے گھروں سے نکال دو''۱؎۔
وضاحت۱؎: پہلے اس مخنث کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ سمجھ کر اجازت دی ہو گی کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کو عورتوں کا خیال نہیں ہوتا جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ عورتوں کی خوبیوں اور خرابیوں کو سمجھتا ہے تو اس کے نکالنے کا حکم دیا، اس مخنث کا نام ہیت تھا، بعضوں نے کہا یہ مدینہ سے بھی نکال دیا گیا تھا، شہر کے باہر رہا کرتا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں سنا کہ وہ بہت بوڑھا ہو گیا ہے، اور روٹیوں کا محتاج ہے تو ہفتہ میں ایک بار اس کو شہر میں آنے کی اجازت دی کہ بھیک مانگ کر واپس چلا جایا کرے۔


* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{21- كِتَاب الدِّيَاتِ}
۲۱- کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل


1- بَاب التَّغْلِيظِ فِي قَتْلِ مُسْلِمٍ ظُلْمًا
۱- باب: مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان​

2615- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ. حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ >۔
* تخريج: خ/الرقاق ۴۸ (۶۵۳۳)، الدیات ۱ (۶۸۶۴)، م/القسامۃ ۸ (۱۶۷۸)، ت/الدیات ۸ (۱۳۹۶، ۱۳۹۷)، ن/تحریم الدم ۲ (۳۹۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۸، ۴۴۱، ۴۴۲) (صحیح)

۲۶۱۵- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اور جس نے کسی کو ظلم سے قتل کیا ہو گا، اس کو سزا دی جائے گی۔

2616- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ. حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ. حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا. إِلا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا. لأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ "۔
* تخريج : خ/الانبیاء ۱ (۳۳۳۵)، الدیات ۲ (۶۸۶۷)، الاعتصام ۱۵ (۷۳۲۱)، م/القسامۃ ۷ (۱۶۷۷)، ت/العلم ۱۴ (۲۶۷۳)، ن/تحریم الدم ۱ (۳۹۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۳، ۴۳۰، ۴۳۳) (صحیح)

۲۶۱۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب بھی کوئی شخص ناحق قتل کیا جاتا ہے، تو آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) پر بھی اس کے گناہ کا ایک حصہ ہوتا ہے، اس لئے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کی رسم نکالی''۔

2617- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الأَزْهَرِ الْوَاسِطِيّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، الأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ " أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ "۔
* تخريج : ن/تحریم الدم ۲ (۳۹۹۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۲۷۵)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۴۸ (۶۵۳۳)، الدیات ا (۶۸۶۴)، م/القسامۃ ۸ (۱۶۷۸)،ت /الدیات ۸ (۱۳۹۶، ۱۳۹۷)، حم (۲/۸۷۳) (صحیح)

۲۶۱۷- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا''۔

2618- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ؛ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ، دَخَلَ الْجَنَّةَ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۹۹۳۷، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۴۸، ۱۵۲) (صحیح)

۲۶۱۸- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اللہ تعالی سے اس حال میں ملے کہ وہ نہ تو شرک کرتا ہو اور نہ ہی اس نے خون ناحق کیا ہو تو وہ جنت میں جائے گا''۔

2619- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ الْجُوْزَجَانِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِغَيْرِ حَقٍّ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۷۶۷، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۸) (صحیح)

۲۶۱۹- براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی کے نزدیک کسی مومن کا ناحق قتل ساری دنیا کے زوال اور تباہی سے کہیں بڑھ کر ہے''۔

2620- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ : آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ "۔
* تخريج : تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۱۴، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲۹) (ضعیف جدا)
(سند میں یزید بن زیاد منکر الحدیث اور متروک الحدیث ہے)
۲۶۲۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کسی مومن کے قتل میں آدھی بات کہہ کر بھی مدد گار ہوا ہو، تو وہ اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی پیشانی پر ''آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ'' (اللہ کی رحمت سے مایوس بندہ) لکھا ہو گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب هَلْ لِقَاتِلِ مُؤْمِنٍ تَوْبَةٌ؟
۲- باب: کیا مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے؟​

2621- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ؛ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى؟ قَالَ: وَيْحَهُ! وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى؟ سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ ﷺ يَقُولُ: "يَجِيئُ الْقَاتِلُ، وَالْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقٌ بِرَأْسِ صَاحِبِهِ. يَقُولُ : رَبِّ ! سَلْ هَذَا، لِمَ قَتَلَنِي؟ " وَاللَّهِ ! لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ، ثُمَّ مَا نَسَخَهَا بَعْدَمَا أَنْزَلَهَا۔
* تخريج: ن/تحریم الدم ۲ (۴۰۰۴)، القسامۃ ۴۸ (۴۸۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۰، ۳۶۴۲۹۴) (صحیح)

۲۶۲۱- سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا، پھر توبہ کر لی، ایمان لے آیا، اور نیک عمل کیا، پھر ہدایت پائی؟! تو آپ نے جواب دیا: افسوس وہ کیسے ہدایت پا سکتا ہے؟ میں نے تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے: ''قیامت کے دن قاتل اور مقتول اس حال میں آئیں گے کہ مقتول قاتل کے سر سے لٹکا ہو گا، اور کہہ رہا ہو گا''، اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ اللہ کی قسم! اس نے تمہارے نبی پر اس (قتل ناحق کی آیت) کو نازل کر نے کے بعد منسوخ نہیں کیا۱؎۔
وضاحت۱؎: مراد اس آیت سے ہے: {وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} [سورة النساء: ۹۳] (یعنی جس شخص نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو اس کا بدلہ جہنم ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہے گا) ایک دوسری آیت جو بظاہر اس کے معارض ہے: {إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا} [سورة النساء: ۴۸] (یعنی اللہ تعالی اپنے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے شخص کو معاف نہیں کرے گا، اور جس کے لئے چاہے اس کے علاوہ گناہ کو معاف کر سکتا ہے)، دونوں آیتیں بظاہر متعارض ہیں، علماء نے تطبیق کی صورت یوں نکالی ہے کہ پہلی آیت کو اس صورت پر محمول کریں گے جب قتل کرنے والا مومن کے قتل کو مباح بھی سمجھتا ہو، تو اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی، اور وہ جہنمی ہو گا، ایک جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آیت میں خلود سے مراد زیاد ہ عرصہ تک ٹھہرنا ہے ایک نہ ایک دن اسے ضرور جہنم سے نجات ملے گی، یہ بھی جواب دیا جاتا سکتا ہے کہ آیت میں زجر و توبیخ مراد ہے۔

2622- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: أَلا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي: " إِنَّ عَبْدًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ، فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ: بَعْدَ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ نَفْسًا ! قَالَ: فَانْتَضَى سَيْفَهُ فَقَتَلَهُ، فَأَكْمَلَ بِهِ الْمِائَةَ، ثُمَّ عَرَضَتْ لَهُ التَّوْبَةُ فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الأَرْضِ، فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ، فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ: فَقَالَ: وَيْحَكَ ! وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ ؟ اخْرُجْ مِنَ الْقَرْيَةِ الْخَبِيثَةِ الَّتِي أَنْتَ فِيهَا إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ، قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا، فَاعْبُدْ رَبَّكَ فِيهَا، فَخَرَجَ يُرِيدُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ، فَعَرَضَ لَهُ أَجَلُهُ فِي الطَّرِيقِ، فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلائِكَةُ الْعَذَابِ، قَالَ إِبْلِيسُ : أَنَا أَوْلَى بِهِ، إِنَّهُ لَمْ يَعْصِنِي سَاعَةً قَطُّ قَالَ: فَقَالَتْ مَلائِكَةُ الرَّحْمَةِ : إِنَّهُ خَرَجَ تَائِبًا ".
قَالَ هَمَّامٌ: فَحَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: فَبَعَثَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَلَكًا، فَاخْتَصَمُوا إِلَيْهِ ثُمَّ رَجَعُوا. فَقَالَ: انْظُرُوا، أَيَّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَتْ أَقْرَبَ، فَأَلْحِقُوهُ بِأَهْلِهَا، قَالَ قَتَادَةُ : فَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ احْتَفَزَ بِنَفْسِهِ فَقَرُبَ مِنَ الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ، وَبَاعَدَ مِنْهُ الْقَرْيَةَ الْخَبِيثَةَ، فَأَلْحَقُوهُ بِأَهْلِ الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ.
* تخريج: حدیث أبي رافع تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۵۰۵)، وحدیث أبي بکر بن أبي شیبۃ أخرجہ خ/احادیث الانبیاء ۵۴ (۳۴۷۰)، م/التوبۃ ۸ (۶۷۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۰،۷۲) (صحیح)
(حسن کے قول ''لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ ......'' کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے)۔
۲۶۲۲- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتائوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سنی ہے، وہ بات میرے کان نے سنی، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا کہ ''ایک آدمی تھا جس نے ننانوے خون (ناحق) کئے تھے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اس نے روئے زمین پر سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا، تو اسے ایک آدمی کے بارے میں بتایا گیا، وہ اس کے پاس آیا، اور کہا: میں ننانوے آ دمیوں کو (ناحق) قتل کر چکا ہوں، کیا اب میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: (واہ) ننانوے آدمیوں کے (قتل کے) بعد بھی (توبہ کی امید رکھتا ہے)؟ اس شخص نے تلوار کھینچی اور اسے بھی قتل کر دیا، اور سو پورے کر دئیے، پھر اسے توبہ کا خیال آیا، اور روئے زمین پر سب سے بڑے عالم کے بارے میں سوال کیا، اسے جب ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا تو وہ وہاں گیا، اور اس سے کہا: میں سو خون (ناحق) کر چکا ہوں، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اس نے جواب دیا: تم پر افسوس ہے! بھلا تمہیں توبہ سے کون روک سکتا ہے؟ تم اس ناپاک اور خراب بستی۱؎ سے (جہاں تم نے اتنے بھاری گناہ کئے) نکل جاؤ، اور فلاں نیک اور اچھی بستی میں جاؤ، وہاں اپنے رب کی عبادت کرنا، وہ جب نیک بستی میں جانے کے ارادے سے نکلا، تو اسے راستے ہی میں موت آگئی، پھر رحمت و عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں جھگڑنے لگے، ابلیس نے کہا کہ میں اس کا زیادہ حق دار ہوں، اس نے ایک پل بھی میری نافرمانی نہیں کی، تو رحمت کے فرشتوں نے کہا: وہ توبہ کرکے نکلا تھا (لہذا وہ رحمت کا مستحق ہوا)۔
راوی حدیث ہمام کہتے ہیں کہ مجھ سے حمید طویل نے حدیث بیان کی، وہ بکر بن عبد اللہ سے اور وہ ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: (جب فرشتوں میں جھگڑا ہونے لگا تو) اللہ تعالی نے ایک فرشتہ (ان کے فیصلے کے لئے) بھیجا، دونوں قسم کے فرشتے اس کے پاس فیصلہ کے لئے آئے، تو اس نے کہا: دیکھو دونوں بستیوں میں سے وہ کس سے زیادہ قریب ہے؟ (فاصلہ ناپ لو) جس سے زیادہ قریب ہو وہیں کے لوگوں میں اسے شامل کر دو۔
راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے حسن بصری نے حدیث بیان کی، اس میں انہوں نے کہا: جب اس کی موت کا وقت قریب ہوا تو وہ گھسٹ کر نیک بستی سے قریب اور ناپاک بستی سے دور ہو گیا، آخر فرشتوں نے اسے نیک بستی والوں میں شامل کر دیا۲؎۔

وضاحت۱؎: ایسی بستی جس میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ،فتح الباری میں ہے کہ یہ کافروں کی بستی تھی۔
وضاحت۲؎: سبحان اللہ اگر مالک کے رحم و کرم کو سامنے رکھا جائے تو امید ایسی بندھ جاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی گناہ گار کو عذاب نہ ہو گا، اور اگر اس کے غضب اور عدل اور قہر کی طرف خیال کیا جائے، تو اپنے اعمال کا حال دیکھ کر ایسا خوف طاری ہوتا ہے کہ بس اللہ کی پناہ، ایمان اسی کا نام ہے کہ مومن خوف (ڈر) اور رجاء (امید) کے درمیان رہے، اگر خوف ایسا غالب ہوا کہ امید بالکل جاتی رہے تب بھی آدمی گمراہ ہو گیا، اور اگر امید ایسی غالب ہوئی کہ خوف جاتا رہا جب بھی اہل ہدایت اور اہل سنت سے باہر ہو گیا، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ گناہ خواہ کسی قدر ہوں پر آدمی کو توبہ کا خیال نہ چھوڑنا چاہئے اور گناہوں کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، وہ ارحم الراحمین بندہ نواز ہے اور اس کا ارشاد ہے: {رحمتى سبقت غضبى} (یعنی میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی) اور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں: ''مغفرتك أرجى عندي من عملي'' (یعنی اے رب اپنے عمل سے زیادہ مجھے تیری مغفرت کی امید ہے) اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمان قاتل کی توبہ قبول ہو سکتی ہے، گو اس میں شک نہیں کہ مومن کا قتل بہت بڑا گناہ ہے اور مومن قاتل کی جزا یہی ہے کہ اس پر عذاب الٰہی اترے دنیا یا آخرت یا دونوں میں، مگر اس حدیث اور ایسی حدیثوں کی وجہ سے جن سے امید کو ترقی ہوتی ہے یہ کوئی نہ سمجھے کہ گناہ ضرور بخش دیا جائے گا، پھر گناہ سے بچنا کیا ضروری ہے کیونکہ گناہ پر عذاب تو وعدہ الہی سے معلوم ہو چکا ہے اب مغفرت وہ مالک کے اختیار میں ہے بندے کو ہرگز معلوم نہیں ہو سکتا کہ اس کی توبہ قبول ہوئی یا نہیں، اور اس کی مغفرت ہو گی یا نہیں، پس ایسے موہوم خیال پر گناہ کا ارتکاب کر بیٹھنا اور اللہ تعالیٰ کی مغفرت پر تکیہ کر لینا بڑی حماقت اور نادانی ہے، ہر وقت گناہ سے بچتا رہے خصوصاً حقوق العباد سے، اور اگر بد قسمتی سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو دل و جان سے اس سے توبہ کرے، اور اپنے مالک کے سامنے گڑگڑائے روئے، اور عہد کرے کہ پھر ایسا گناہ نہ کروں گا تو کیا عجب ہے کہ مالک اس کا گناہ بخش دے وہ غفور اور رحیم ہے۔

[ز]2622/أ- قاَلَ ابوالحسن بن القطان: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْماعِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
۲۶۲۲/أ- اس سند سے بھی ہمام نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاثٍ
۳- باب: مقتول کے ورثاء کو تین باتوں میں سے کسی ایک بات کا اختیار ہے​

2623- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ (ح) و حَدَّثَنَا أبُو بَكْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ ( أَظُنُّهُ عَنِ ابْنِ أَبِي الْعَوْجَاءِ، وَاسْمُهُ سُفْيَانُ )، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ أُصِيبَ بِدَمٍ أَوْ خَبْلٍ (وَالْخَبْلُ الْجُرْحُ ) فَهُوَ بِالْخِيَارِ بَيْنَ إِحْدَى ثَلاثٍ، فَإِنْ أَرَادَ الرَّابِعَةَ، فَخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ : أَنْ يَقْتُلَ أَوْ يَعْفُوَ أَوْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ، فَمَنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَعَادَ، فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا "۔
* تخريج : د/الدیات ۳ (۴۴۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۱)، دي/الدیات ۱ (۲۳۹۶) (ضعیف)
(اس سند میں ابن أبی العوجاء ضعیف ہے)
۲۶۲۳- ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کا خون کر دیا جائے، یا اس کو زخمی کر دیا جائے، اسے (یا اس کے وارث کو) تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، اگر وہ چوتھی بات کرنا چاہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لو، تین باتیں یہ ہیں: یا تو قاتل کو قصاص میں قتل کرے، یا معاف کر دے، یا خون بہا (دیت) لے لے، پھر ان تین باتوں میں سے کسی ایک کو کرنے کے بعد اگر بدلہ لینے کی بات کرے، تو اس کے لئے جہنم کی آگ ہے، وہ اس میں ہمیشہ ہمیش رہے گا''۔

2624- حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى "۔
* تخريج : خ/العلم ۳۹ (۱۱۲)، اللقطۃ ۷ (۲۴۳۴)، الدیات ۸ (۶۸۸۰)، م/الحج ۸۲ (۱۳۵۵)، د/الدیات ۴ (۴۵۰۵)، ت/الدیات ۱۳ (۱۴۰۵)، ن/القسامۃ ۲۴ (۴۷۸۹، ۴۷۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۸) (صحیح)

۲۶۲۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس کا کوئی شخص قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، یا تو وہ قاتل کو قصاص میں قتل کر دے، یا فدیہ لے لے''۱؎۔
وضاحت۱؎: ایک تیسری بات یہ ہے کہ معاف کر دے، اور بخاری نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی اسرائیل میں قصاص تھا لیکن دیت نہ تھی، تو اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى} [سورة البقرة: ۱۷۸] (مسلمانوں قتل میں تمہارے اوپر قصاص فرض کیا گیا ہے) اور قصاص کے بارے میں فرمایا: {وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ} [سورة البقرة: ۱۷۹] (تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے) غرض ان آیات و احادیث سے قصاص ثابت ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب مَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَرَضُوا بِالدِّيَةِ
۴- باب: قتل عمد میں مقتول کے ورثاء دیت پر راضی ہو جائیں تواس کے حکم کا بیان​

2625- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ،عَنْ زَيْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي وَعَمِّي، وَكَانَا شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالا: صَلَّى النَّبِيُّ ﷺ الظُّهْرَ، ثُمَّ جَلَسَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَهُوَ سَيِّدُ خِنْدِفٍ، يَرُدُّ عَنْ دَمِ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، وَقَامَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ يَطْلُبُ بِدَمِ عَامِرِ بْنِ الأَضْبَطِ، وَكَانَ أَشْجَعِيًّا، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ: " تَقْبَلُونَ الدِّيَةَ ؟ " فَأَبَوْا فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ مُكَيْتِلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَاللَّهِ مَا شَبَّهْتُ هَذَا الْقَتِيلَ فِي غُرَّةِ الإِسْلامِ، إِلا كَغَنَمٍ وَرَدَتْ، فَرُمِيَتْ، فَنَفَرَ آخِرُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " لَكُمْ خَمْسُونَ فِي سَفَرِنَا وَخَمْسُونَ إِذَا رَجَعْنَا " فَقَبِلُوا الدِّيَةَ۔
* تخريج : د/الدیات ۳ (۴۵۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۱۲، ۶/۱۰) (ضعیف)
(سند میں زید بن ضمیرہ مقبول ہیں، لیکن متابعت نہ ہونے سے سند ضعیف ہے)
۲۶۲۵- زید بن ضمیرہ کہتے ہیں کہ میرے والد اور چچا دونوں جنگ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ہم راہ تھے، ان دونوں کا بیان ہے کہ آپ ﷺ نے ظہر پڑھی پھر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے، تو قبیلہ خندف کے سردار اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس گئے، وہ محلِّم بن جثامہ سے قصاص لینے کو روک رہے تھے، عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ اٹھے، وہ عامر بن اضبط اشجعی کے قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے۱؎، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ''کیا تم دیت (خون بہا) قبول کرتے ہو''؟ انہوں نے انکار کیا، پھر بنی لیث کا مکیتل نامی شخص کھڑا ہوا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! اسلام کے شروع زمانے میں یہ قتل میں ان بکریوں کے مشابہ سمجھتا تھا جو پانی پینے آتی ہیں، پھر جب آگے والی بکریوں کو تیر مارا جاتا ہے تو پیچھے والی اپنے آپ بھاگ جاتی ہیں،۲؎ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم پچاس اونٹ (دیت کے) ابھی لے لو، اور بقیہ پچاس مدینہ لوٹنے پر لے لینا، لہذا انہوں نے دیت قبول کرلی''۔
وضاحت۱؎: محلم بن جثامہ نے قبیلہ اشجع کے عامر بن اضبط کو مار ڈالا تھا، تو اقرع رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ محلم سے قصاص نہ لیا جائے اور عیینہ رضی اللہ عنہ قصاص پر زور دیتے تھے۔
وضاحت۲؎: اس تشبیہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر (بشرط صحت حدیث) آپ ﷺ اس مقدمہ کا بندوبست نہ کرتے تو اس سے بہت بڑا دوسرا فساد اٹھ کھڑا ہوتا، مسلمان آپس میں لڑنے لگتے تو اس کا بندوبست ایسا ہوا جیسے بکریوں کا گلہ پانی پینے کو چلا لیکن آگے کی بکریوں کو مار کر وہاں سے ہٹا دیا گیا تو پیچھے کی بھی بکریاں بھاگ گئیں، اگر نہ مارتا تو پھر سب چلی آتیں، اسی طرح اگر آپ اس مقدمہ کا بندوبست نہ کرتے تو دوسرے لوگ بھی اس میں شریک ہو جاتے اور فساد عظیم ہوتا۔

2626- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ قَتَلَ عَمْدًا، دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَائُوا قَتَلُوا، وَإِنْ شَائُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَذَلِكَ ثَلاثُونَ حِقَّةً وَثَلاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ، مَا صُولِحُوا عَلَيْهِ، فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ "۔
* تخريج : د/الدیات ۱۸ (۴۵۴۱)، ت/الدیات ۱ (۱۳۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۸، ۱۸۲، ۱۸۳، ۱۸۴، ۱۸۵، ۱۸۶) (حسن)

۲۶۲۶- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے قصدا کسی کو قتل کر دیا، تو قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کر دیا جائے گا، وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں، اور چاہیں تودیت لے لیں، دیت (خوں بہا) میں تیس حقہ۱؎، تیس جذعہ۲؎ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں، قتل عمد کی دیت یہی ہے، اور باہمی صلح سے جو بھی طے پائے وہ مقتول کے ورثاء کو ملے گا، اور سخت دیت یہی ہے۔
وضاحت۱؎: یعنی وہ اونٹنی جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں داخل ہو گئی ہو۔
وضاحت۲؎: یعنی وہ اونٹنی جو چار سال پورے کرکے پانچویں میں داخل ہو گئی ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب دِيَةِ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةً
۵- باب: قتل عمد کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل میں دیت سخت ہے۱؎
وضاحت۱؎: قتل کی تین قسمیں ہیں: قتل عمد: یعنی کوئی دوسرے کو جان بوجھ کر قتل کے ارادے سے کسی ہتھیار سے یا ایسے بھاری پتھر یا لکڑی سے مارے جس سے اکثر آدمی کی موت ہو جاتی ہے، اور قتل خطا یہ ہے کہ انسان مارنا کسی اور کو چاہتا تھا لیکن ہتھیار بلا ارادہ کسی دوسرے کو لگ گیا یا آدمی کو دور سے شکار سمجھ کر مارا یا کنواں کھودا اور اس میں گر کر کوئی مر گیا، تیسرے شبہ عمد جس کو قتل خطا بھی کہتے ہیں یہ ہے کہ انسان ایسی چھوٹی لکڑی یا چھوٹے پتھر سے کسی کو قصداً و عمداً مارے جس سے عام طور پر کوئی آدمی مرتا نہیں، لیکن وہ مر جائے، اسی کا بیان اس باب میں ہے اس میں دیت (خون بہا) مغلظہ واجب ہو گی۔

2627- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ، سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ رَبِيعَة َ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " قَتِيلُ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ، قَتِيلُ السَّوْطِ وَالْعَصَا،مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ، أَرْبَعُونَ مِنْهَا خَلِفَةً، فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا ".
* تخريج : ن/القسامۃ ۲۷ (۴۷۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۱۱)، وقد أخرجہ: د/الدیات ۱۹(۴۵۴۷، ۴۵۴۸)، حم (۱/۱۶۴، ۱۶۶)، دي/الدیات ۲۲ (۲۴۲۸) (صحیح)

۲۶۲۷- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عمداً و قصداً قتل کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل کیا جانے والا وہ ہے جو کوڑے یا ڈندے سے مر جائے، اس میں سو اونٹ دیت (خون بہا) کے ہیں جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی۱؎'' ۔
وضاحت۱؎: اصل دیت سو اونٹ، یا سو گائے، یا دو ہزار بکریاں، یا ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم، یا دو سو جوڑے کپڑے ہیں، لیکن بعض جرائم میں یہ دیت سخت کی جاتی ہے، اسی کو دیت مغلظہ کہتے ہیں، وہ یہ کہ مثلاً سو اونٹوں میں چالیس حاملہ اونٹیاں ہوں۔

2627/أ- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ۔
* تخريج : د/الدیات ۱۹(۴۵۴۷)، ن/القسامۃ ۲۷ (۴۷۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۸۹)

۲۶۲۷/أ- اس سند سے بھی عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اسی طرح مروی ہے۔

2628- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، سَمِعَهُ مِنَ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى دَرَجِ الْكَعْبَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَقَالَ: "الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلا إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ، قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا: فِيهِ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ خَلِفَةً، فِي بُطُونِهَا أَوْلادُهَا، أَلا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَدَمٍ، تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلا مَا كَانَ مِنْ سِدَانَةِ الْبَيْتِ وَسِقَايَةِ الْحَاجِّ، أَلا إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُهُمَا لأَهْلِهِمَا كَمَا كَانَا"۔
* تخريج : د/الدیات ۱۹ (۴۵۴۹)، ن/القسامۃ ۲۷ (۴۷۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۷۲) (حسن)
(ابن جدعان ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۷/۲۵۷)
۲۶۲۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ کعبہ کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوئے، اللہ کی تعریف کی، اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ''اللہ تعالی کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی، اور کفار کے گروہوں کو اس نے اکیلے ہی شکست دے دی، آگاہ رہو! غلطی سے قتل ہونے والا وہ ہے جو کوڑے اور لاٹھی سے مارا جائے، اس میں (دیت کے) سو اونٹ لازم ہیں، جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں ان کے پیٹ میں بچے ہوں، خبردار! زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور اس میں جو بھی خون ہوا ہو سب میرے ان پیروں کے تلے ہیں۱؎ سوائے بیت اللہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے کے، سن لو! میں نے ان دونوں چیزوں کو انہیں کے پاس رہنے دیا ہے جن کے پاس وہ پہلے تھے۲؎۔
وضاحت۱؎: یعنی لغو ہیں اور ان کا کوئی اعتبار نہیں۔
وضاحت۲؎: چنانچہ کعبہ کی کلید برداری بنی شیبہ کے پاس اور حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمے داری بنی عباس کے پاس حسب سابق رہے گی۔
 
Top