• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
149- بَاب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاةِ بِمَكَّةَ فِي كُلِّ وَقْتٍ
۱۴۹- باب: مکہ میں ہر وقت صلاۃ پڑھنے کی رخصت کا بیان​

1254- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ! لا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى، أَيَّةَ سَاعَةٍ شَاءَ مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ >۔
* تخريج: د/المناسک ۵۳ (۱۸۹۴)، ت/الحج ۴۲ (۸۶۸)، ن/المواقیت ۴۰ (۵۸۶)، المناسک والحج ۱۳۷ (۲۹۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۰، ۸۱)، ۸۴، دي/المناسک ۷۹ (۱۹۶۷) (صحیح)

۱۲۵۴- جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اے بنی عبد مناف! دن و رات کے جس وقت میں جو کوئی خانہ کعبہ کا طواف کرنا یا صلاۃ پڑھنا چاہے اسے نہ روکو'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے اہل حدیث اور شافعی اور احمد اور اسحاق نے مکہ کو ممانعت کی حدیثوں سے مستثنی کیا ہے، اور مسجد حرام میں ہر وقت طواف اور صلاۃ کو جائز رکھا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
150- بَاب مَا جَاءَ فِي مَا إِذَا أَخَّرُوا الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا؟
۱۵۰- باب: جب ائمہ و حکمران صلاۃ میں تاخیر کریں تو کیا کرنا چاہئے؟​

1255- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَعَلَّكُمْ سَتُدْرِكُونَ أَقْوَامًا يُصَلُّونَ الصَّلاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ لِلْوَقْتِ الَّذِي تَعْرِفُونَ، ثُمَّ صَلُّوا مَعَهُمْ وَاجْعَلُوهَا سُبْحَةً >۔
* تخريج: ن/الإمامۃ ۲ (۷۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۱۱)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۵ (۵۳۴)، نحوہ، د/الصلاۃ ۱۰ (۴۳۲)، حم (۱/۳۷۹، ۴۵۵، ۴۵۹) (حسن صحیح)

۱۲۵۵- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شاید تم لوگ ایسے لوگوں کو پاؤ گے، جو صلاۃ بے وقت پڑھیں گے، اگر تم ایسے لوگوں کو پاؤ تو صلاۃ اپنے گھر ہی میں وقت مقررہ پر پڑھ لو، پھر ان کے ساتھ بھی پڑھ لو اور اسے نفل (سنت) بنا لو'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی دوسری صلاۃ کو کیونکہ وہ بے وقت ہے گو جماعت سے ہے، اور بعضوں نے کہا ہے کہ اول صلاۃ نفل ہو جائے گی اور یہ فرض، اور بعضوں نے کہا اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے اور جس کو چاہے نفل کر دے ۔ اب یہ حدیث عام ہے اور ہر ایک صلاۃ کو شامل ہے کہ جماعت کے ساتھ اس کو دوبارہ پڑھ سکتے ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ صرف ظہر اور عشاء کو دوبارہ پڑھے، بقیہ کو دوبارہ نہ پڑھے۔ واللہ اعلم۔

1256- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عبْدِاللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ الإِمَامَ يُصَلِّي بِهِمْ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلاتَكَ، وَإِلا فَهِيَ نَافِلَةٌ لَكَ >۔
* تخريج: م/المساجد ۴۱ (۶۴۸)، د/الصلاۃ ۱۰ (۴۳۱)، ت/الصلاۃ ۱۵ (۱۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۵۰)، وقد أخرجہ: ن/الإمامۃ ۲ (۷۷۹، ۷۸۰)، ۵۵ (۸۶۰)، حم (۵/۱۶۸، ۱۶۹، ۱۴۹، ۱۵۶، ۱۶۳)، دي/الصلاۃ ۲۵ (۹۱۲۶۴) (صحیح)

۱۲۵۶- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''صلاۃ اس کے وقت پر پڑھو، اگر امام کو پاؤ کہ وہ لوگوں کو صلاۃ پڑھا رہا ہے تو ان کے ساتھ صلاۃ پڑھ لو، اگر تم نے صلاۃ نہیں پڑھی ہے تو یہ تمہاری فرض صلاۃ ہو گئی، ورنہ پھر یہ تمہارے لئے نفل (سنت) ہو جائے گی''۔

1257- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي أُبَيٍّ، ابْنِ امْرَأَةِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَعْنِي عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < سَيَكُونُ أُمَرَاءُ تَشْغَلُهُمْ أَشْيَاءُ، يُؤَخِّرُونَ الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَاجْعَلُوا صَلاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۰ (۴۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۴، ۳۸۷، ۲/۹۵، ۳/۲۴، ۲۸، ۵/۳۱۵، ۳۲۹) (صحیح)

۱۲۵۷- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عنقریب کچھ ایسے حکمراں ہوں گے جو کاموں میں مشغول رہیں گے، اور وہ صلاۃ کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے (تو تم وقت پہ صلاۃ پڑھ لو) اور ان کے ساتھ اپنی صلاۃ کو نفل بنا لو (سنت)''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
151- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ
۱۵۱- باب: ڈر کی حالت میں صلاۃ پڑھنے کا بیان​

1258- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ: < أَنْ يَكُونَ الإِمَامُ يُصَلِّي بِطَائِفَةٍ مَعَهُ، فَيَسْجُدُونَ سَجْدَةً وَاحِدَةً، وَتَكُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ الَّذِينَ سَجَدُوا السَّجْدَةَ مَعَ أَمِيرِهِمْ، ثُمَّ يَكُونُونَ مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّوا مَعَ أَمِيرِهِمْ سَجْدَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ يَنْصَرِفُ أَمِيرُهُمْ وَقَدْ صَلَّى صَلاتَهُ، وَيُصَلِّي كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ بِصَلاتِهِ سَجْدَةً لِنَفْسِهِ، فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ، فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا >. قَالَ: يَعْنِي بِالسَّجْدَةِ الرَّكْعَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۱۹) وقد أخرجہ: خ/الخوف ۱ (۹۴۳)، م/المسافرین ۵۷ (۸۳۹)، د/الصلاۃ ۲۸۵ (۱۲۴۳)، ت/الصلاۃ ۲۸۱ (الجمعۃ ۴۶) (۵۶۴)، ن/الخوف (۱۵۳۹)، حم (۲/۱۴۷) (صحیح)

۱۲۵۸- عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صلاۃِ خوف کی (کیفیت) کے بارے میں فرمایا: ''امام اپنے ساتھ مجاہدین کی ایک جماعت کو صلاۃ پڑھائے، اور وہ ایک رکعت ادا کریں، اور دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان متعین رہے، پھر جس گروہ نے ایک رکعت اپنے امام کے ساتھ پڑھی وہ ہٹ کر اس جماعت کی جگہ چلی جائے جس نے صلاۃ نہیں پڑھی، اور جنہوں نے صلاۃ نہیں پڑھی ہے وہ آئیں، اور اپنے اما م کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں، اب امام تو اپنی صلاۃ سے فارغ ہو جائے گا، اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک اپنی ایک ایک رکعت پڑھیں، اگر خوف و دہشت اس سے بھی زیادہ ہو، (صف بندی نہ کر سکتے ہوں) تو ہر شخص پیدل یا سواری پر صلاۃ پڑھ لے'' ۱؎۔ راوی نے کہا کہ ''سجدہ'' سے مراد ''رکعت'' ہے۔
وضاحت۱؎: گو منہ قبلہ کی طرف نہ ہو اور سجدہ اور رکوع اشارے سے کرے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے معلوم ہوا کہ منہ قبلہ کی طرف ہو یا نہ ہو، جاننا چاہئے کہ خوف کی صلاۃ کا ذکر قرآن مجید میں ہے پر وہ مجمل ہے، اور احادیث میں اس کی تفصیل کئی طرح سے وارد ہے، صحیحین میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر گروہ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھے، تو امام کی چار رکعتیں ہوں گی اور مقتدیوں کی دو دو رکعتیں۔

1259- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍالْقَطَّانُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍالأَنْصَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ،عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ قَالَ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ، قَالَ: يَقُومُ الإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَتَقُومُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ. وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ، وَوُجُوهُهُمْ إِلَى الصَّفِّ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً، وَيَرْكَعُونَ لأَنْفُسِهِمْ وَيَسْجُدُونَ لأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ، ثُمَّ يَذْهَبُونَ إِلَى مُقَامِ أُولَئِكَ، وَيَجِيئُ أُولَئِكَ، فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً، وَيَسْجُدُ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، فَهِيَ لَهُ ثِنْتَانِ وَلَهُمْ وَاحِدَةٌ، ثُمَّ يَرْكَعُونَ رَكْعَةً وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: فَسَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.قَالَ: قَالَ لِي يَحْيَى: اكْتُبْهُ إِلَى جَنْبِهِ، وَلَسْتُ أَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَلَكِنْ مِثْلُ حَدِيثِ يَحْيَى۔
* تخريج: خ/المغازي ۳۲ (۴۱۳۱)، م/المسافرین ۵۷ (۸۴۱)، د/الصلاۃ ۲۸۲ (۱۲۳۷)، ۲۸۳، (۱۲۳۹)، ت/الصلاۃ ۲۸۱ (الجمعۃ ۴۶) (۵۶۶)، ن/الخوف (۱۵۳۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۴۵)، وقد أخرجہ: ط/صلاۃ الخوف ۱ (۲)، حم (۳/۴۴۸)، دي/الصلاۃ ۱۸۵ (۱۵۶۳) (صحیح)

۱۲۵۹- سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے صلاۃِ خوف کے بارے میں کہا: امام قبلہ رو کھڑا ہو، اور ایک جماعت اس کے ساتھ کھڑی ہو، اور ایک جماعت دشمن کے سامنے اس طرح کھڑی ہو کہ ان کے رخ صف کی جانب ہوں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ اسی جگہ میں امام سے علیحدہ اپنے لئے ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کرکے دوسری رکعت پوری کریں، پھر یہ لوگ دوسری جماعت کی جگہ چلے جائیں، اب وہ جماعت آئے اور امام ان کو ایک رکوع اور دو سجدے سے صلاۃ پڑھائے، امام کی صلاۃ دو رکعت ہوئی، اور دوسری جماعت کی ابھی ایک ہی رکعت ہوئی، لہٰذا وہ لوگ ایک رکوع اور دو سجدے الگ الگ کرکے صلاۃ پوری کر لیں ۱؎۔
محمد بن بشار کہتے ہیں کہ میں نے یحیی بن سعید القطان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے ''شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ'' کے طریق سے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعا ً یحیی بن سعید کی روایت کے مثل بیان کیا۔
محمد بن بشار کہتے ہیں کہ یحیی القطان نے مجھ سے کہا کہ اسے بھی اس کے پاس ہی لکھ لو اور مجھے تو حدیث یاد نہیں، لیکن یہ یحیی کی حدیث کے ہم مثل ہے۔

وضاحت۱؎: اور اتنی دیر تک کہ دوسرا گروہ اس رکعت سے فارغ ہو امام خاموش بیٹھا رہے، جب یہ دوسری رکعت سے فارغ ہوں تو امام سلام پھیرے اور دونوں گروہ سلام پھیر دیں، کیونکہ دونوں کی صلاۃ ختم ہو گئی، اور پہلے گروہ کو لازم ہے کہ چپکے سے دشمن کے سامنے کھڑے رہیں بات نہ کریں یہاں تک کہ سلام پھیر دیں۔

1260- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلاةَ الْخَوْفِ، فَرَكَعَ بِهِمْ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، وَالصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ،حَتَّى إِذَا نَهَضَ سجَدَ أُولَئِكَ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ، حَتَّى قَامُوا مُقَامَ أُولَئِكَ، وَتَخَلَّلَ أُولَئِكَ حَتَّى قَامُوا مُقَامَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، فَرَكَعَ بِهِمُ النَّبِيُّ ﷺ جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلُونَهُ، فَلَمَّا رَفَعُوا رُئُوسَهُمْ سَجَدَ أُولَئِكَ سَجْدَتَيْنِ، وَكُلُّهُمْ قَدْ ركَعَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ ، وَسَجَدَ طَائِفَةٌ بِأَنْفُسِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، وَكَانَ الْعَدُوُّ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۷۳، ومصباح الزجاجۃ:۴۴۰)، وقد أخرجہ: خ/ المغازي ۳۱ (۴۱۳۰)، م/المسافرین ۵۷ (۸۴۰)، د/الصلاۃ (تعلیقا) ۲۸۱ (۱۲۸۶)، ن/صلاۃ الخوف (۱۹۳۶)، حم (۳/۲۹۸) (صحیح)

۱۲۶۰- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کو صلاۃ خوف پڑھائی، آپ ﷺ نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، اور اُس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کھڑے ہو گئے تو ان لوگوں نے اپنے طور سے دو سجدے کئے، پھر پہلی صف پیچھے آگئی اور وہاں جا کر کھڑی ہو گئی، جہاں یہ لوگ تھے، اور درمیان ہی سے یہ لوگ آگے بڑھ گئے اور ان لوگوں کی جگہ کھڑے ہو گئے، اور پچھلی صف ہٹ کر اگلی کی جگہ کھڑی ہو گئی، اب پھر نبی اکرم ﷺ نے ان سب لوگوں کے ساتھ رکوع کیا، اور آپ نے اور آپ سے قریبی صف نے سجدہ کیا، جب یہ صف سجدے سے فارغ ہو گئی تو دوسری صف نے اپنے دو سجدے کئے، اس طرح سب نے ایک رکوع اور دو سجدے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کئے، اور ہر جماعت نے دو سجدے اپنے اپنے طور پر کئے، اور دشمن قبلہ کے سامنے تھا ۱؎۔
وضاحت۱؎: پس یہاں اس کی ضرورت نہ تھی کہ ایک گروہ جائے اور دوسرا آئے صرف یہ ضروری تھا کہ سب لوگ ایک ساتھ سجدہ نہ کریں ورنہ احتمال ہے کہ دشمن غفلت میں کچھ کر بیٹھے، لہذا سجدہ میں تفریق ہوئی، باقی ارکان سب نے ایک ساتھ ادا کئے، اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ جیسا موقع ہو اسی طرح سے صلاۃِ خوف پڑھنا اولیٰ ہے، اور ہر ایک صورت جائز ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
152- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ
۱۵۲- باب: سورج اور چاند گرہن کی صلاۃ کا بیان​

1261- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لايَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَقُومُوا فَصَلُّوا >۔
* تخريج: خ/الکسوف ۱ (۱۰۴۱)، ۱۲ (۱۰۵۷)، بدأالخلق ۴ (۳۲۰۴)، م/الکسوف ۵ (۹۱۱)، ن/الکسوف ۴ (۱۴۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۲۲)، دي/الصلاۃ ۱۸۷ (۱۵۶۶) (صحیح)

۱۲۶۱- ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بیشک سورج و چاند کسی کے موت کی وجہ سے نہیں گہناتے ۱؎، لہٰذا جب تم اسے گہن میں دیکھو تو اٹھو، اور صلاۃ پڑھو'' ۲؎۔
وضاحت۱؎: بلکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، یعنی اس کی قدرت کی نشانی ہے، اور سچی حکمت تھی جو آپ ﷺ نے لوگوں کو بتائی، اور ان کے غلط خیال کی تردید کہ گرہن کسی بڑے کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، اگر ایسا ہو تو گرہن سورج اور چاند کا اپنے مقررہ اوقات پر نہ ہوتا بلکہ جب دنیا میں کسی بڑے کی موت کا حادثہ پیش آتا اس وقت گرہن لگتا حالانکہ اب علمائے ہئیت نے سورج اور چاند کے گرہن کے اوقات ایسے معلوم کر لیے ہیں کہ ایک منٹ بھی ان سے آ گے پیچھے نہیں ہوتا، اور سال بھر سے پہلے یہ لکھ دیتے ہیں کہ ایک سال میں سورج گرہن فلاں تاریخ اور فلاں وقت میں ہو گا، اور چاند گرہن فلاں تاریخ اور فلاں وقت میں، اور یہ بھی بتلا دیتے ہیں کہ سورج یا چاند کا قرص گرہن سے کل چھپ جائے گا یا اس قدر حصہ، اور یہ بھی دکھلا دیتے ہیں کہ کس میں کتنا گرہن ہو گا، ان کے نزدیک زمین اور چاند کے گرہن کی علت حرکت ہے اور زمین کا سورج اور چاند کے درمیان حائل ہونا ہے۔ واللہ اعلم۔
وضاحت۲؎: اہل حدیث نے کہا ہے کہ یہ نفل صلاۃ ہے کیونکہ وجوب کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور ہم کہتے ہیں کہ ''قوموا فصلوا'' اور ''فصلوا وادعوا'' اور ''فافزعوا'' یہ الفاظ بظاہر وجوب پر دلالت کرتے ہیں، اور مختار یہ ہے کہ ان کو جہری پڑھے کیونکہ صحیح بخاری میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے جہر منقول ہے، اور اہل حدیث، صاحبین، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، اور بعضوں نے کہا کہ دھیرے سے پڑھے، اور ابو حنیفہ اور شافعی کا یہ مذہب ہے، اور دلیل ان کی آگے آنے والی حدیث ہے، لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اس سے زیادہ صحیح ہے۔

1262- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُلْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَخَرَجَ فَزِعًا يَجُرُّ ثَوْبَهُ، حَتَّى أَتَى الْمُسْجِدَ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى انْجَلَتْ، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ أُنَاسًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ إِلا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ، وَلَيْسَ كذَلِكَ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلالِحَيَاتِهِ، فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْئٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۶۸ (۱۱۹۳)، ن/الکسوف ۱۶ (۱۴۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۶۷، ۲۶۹، ۲۷۱، ۲۷۷) (منکر)
(''اس میں فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ لِشَيْئٍ مِنْ خَلْقِهِ خَشَعَ لَهُ'' کا ٹکڑا منکر ہے، سابقہ حدیث ملاحظہ ہو جو کافی ہے)
۱۲۶۲- نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج میں گہن لگا تو آپ گھبرا کر اپنا کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں آئے اور سورج روشن ہونے تک برابر صلاۃ پڑھتے رہے، پھر فرمایا: ''کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سورج اور چاند کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے گہن لگتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، بیشک سورج اور چاند کو کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے، بلکہ اللہ تعالی جب کسی چیز پر اپنی تجلی کرتا ہے تو وہ عاجزی سے جھک جاتی ہے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: اور دوسری حدیثوں میں دعا اور تکبیر اور صدقہ اور استغفار بھی وارد ہے، جب تک گرہن ختم نہ ہو جائے۔

1263- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ فَكَبَّرَ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَائَهُ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قِرَائَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ، فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: <سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ >، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ قِرَائَةً طَوِيلَةً، هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَائَةِ الأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: < سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ > ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاةِ >۔
* تخريج: خ/الکسوف ۴ (۱۰۴۶)، ۵ (۱۰۴۷)، ۱۳ (۱۰۵۸)، العمل في الصلاۃ ۱۱ (۱۲۱۲)، بدأالخلق ۴ (۳۲۰۳)، م/الکسوف ۱ (۹۰۱)، د/الصلاۃ ۲۶۲ (۱۱۸۰)، ن/الکسوف ۱۱ (۱۴۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۹۲)، وقد أخرجہ: ط/الکسوف ۱ (۱)، حم (۶/۷۶، ۸۷، ۱۶۴، ۱۶۸)، دي/الصلاۃ ۱۸۷ (۱۵۷۰) (صحیح)

۱۲۶۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ ﷺ مسجد گئے، اور کھڑے ہو کر''الله أكبرُ'' کہا، لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صف لگائی، آپ نے لمبی قراءت کی، پھر''الله أكبرُ'' کہا، اور دیر تک رکوع کیا، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور ''سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ'' کہا، پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قراءت کی جو پہلی قراءت سے کم تھی، پھر''الله أكبر'' کہا، اور لمبارکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر''سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ'' کہا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا، اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کئے، آپ ﷺ کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو چکا تھا، پھر آپ کھڑے ہوئے، خطبہ دیا، اور اللہ تعالی کی تعریف بیان کی جس کا وہ مستحق ہے، پھر فرمایا: ''بیشک سورج اور چاند اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ کسی کی موت و پیدائش کی وجہ سے نہیں گہناتے، لہٰذا جب تم ان کو گہن میں دیکھو تو صلاۃ کی طرف دوڑ پڑو'' ۱؎۔
وضاحت۱ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ گرہن کی دو رکعتیں ہیں، اور ان کو جماعت سے ادا کرنا چاہئے، اور ہر رکعت میں دو رکوع ہیں، اور یہ روایت سب سے زیادہ صحیح ہے، اور بعض روایتوں میں ہر رکعت میں تین رکوع وارد ہیں، بعضوں میں چار، بعضوں میں پانچ، امام ابن القیم نے فرمایا کہ صحیح حدیثوں سے گرہن کی صلاۃ میں متعدد رکوع ثابت ہیں، جو ابن عمر، عائشہ، ابن عباس، جابر، ابی بن کعب، اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص، اسماء، اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم اجمعین سے منقول ہے، جیسے صحیح مسلم میں سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں، اور نعمان بن بشیر اور قبیصہ رضی اللہ عنہما سے ابو داود، نسائی، اور حاکم میں ایک رکعت آیا ہے، اور ان سب حدیثوں سے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث زیادہ صحیح ہے، جو صحیحین میں ہے، اور اس میں رکوع کی تعداد مذکور ہے، اور تعداد رکوع کے راوی صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے بڑے درجے کے ہیں، بہ نسبت نعمان، سمرہ اور قبیصہ کے، اور سابقہ احادیث میں ایک زیادتی ہے جس کا قبول کرنا واجب ہے، اہل حدیث، شافعی اور احمد کا یہی قول ہے کہ ہر رکعت میں دو رکوع کرنا بہتر ہے، اور اہل حدیث کے نزدیک ہر رکعت میں تین اور چار اور پانچ رکوع بھی جائز ہیں، اور ایک رکوع بھی جائز ہے، اور بہتر یہ ہے کہ جماعت کے ساتھ ادا کریں اگر جماعت نہ ملے تو اکیلے پڑھ لیں۔

1264- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الْكُسُوفِ، فَلا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۶۲ (۱۱۸۴)، ت/الصلاۃ ۲۸۰ (۵۶۲) ن/الکسوف ۱۹ (۱۴۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۴، ۱۶، ۱۷، ۱۹، ۲۳) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں راوی ثعلبہ بن عباد مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود : ۲۱۶)
۱۲۶۴- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں گہن کی صلاۃ پڑھائی، تو ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ کسوف کی صلاۃ میں جہر نہ کرے، جب کہ یہ حدیث ضعیف ہے، اور ضعیف حدیث قابل استدلال نہیں۔

1265- حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ الْكُسُوفِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: <لَقَدْ دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوِ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ: أَيْ رَبِّ ! وَأَنَا فِيهِمْ >.
قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: < وَرَأَيْتُ امْرَأَةً تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ لَهَا، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، لا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الأَرْضِ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۹۰ (۷۴۹)، ن/الکسوف ۲۱ (۱۴۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۱۷)، وقد أخرجہ: ط/الکسوف ۲ (۴)، حم (۶/۳۱۵) (صحیح)

۱۲۶۵- اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گہن کی صلاۃ پڑھائی، اور کافی لمبا قیام کیا، پھر کافی لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا تو کافی لمبا قیام کیا، پھر کافی لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا تو کافی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا، اور کافی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا پھر رکوع سے سراٹھایا اور لمبا سجدہ کیا، پھر سجدہ سے سر اٹھایا اور لمبا سجدہ کیا، جب آپ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ''جنت مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ اگر میں جرأت کرتا تو تمہارے پاس اس کے خوشوں (گچھوں) میں سے کوئی خوشہ (گچھا) لے کر آتا، اور جہنم بھی مجھ سے اتنی قریب ہو گئی کہ میں نے کہا: اے رب! کیا میں بھی جہنم والوں میں سے ہوں''۔
نافع کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ''میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس کو اس کی بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا: اس کا سبب کیا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ اس عورت نے اسے باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی، نہ اس نے اسے کھلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی'' ۱؎۔

وضاحت۱؎: حدیث میں خشاش کا لفظ ہے خائے معجمہ سے یعنی زمین کے کیڑے مکوڑے اور بعضوں نے حشاش کہا ہے حائے حطی سے، اور یہ سہو ہے کیونکہ حشاش سوکھی گھاس کو کہتے ہیں، اسی سے حشیش ہے، اور وہ بلی کی غذا نہیں ہے، اس حدیث سے بھی ہر رکعت میں دو رکوع ثابت ہوتے ہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جاندار کو قید میں رکھنا اور اس کو خوراک نہ دینا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو جائے بہت بڑا گناہ ہے، جس کی وجہ سے آدمی جہنم میں جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
153- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ الاسْتِسْقَاءِ
۱۵۳- باب: صلاۃِ استسقا کا بیان​

1266- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ ابْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَمِيرٌ مِنَ الأُمَرَاءِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الصَّلاةِ فِي الاسْتِسْقَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَا مَنَعَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي؟ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُتَوَاضِعًا مُتَبَذِّلا مُتَخَشِّعًا مُتَرَسِّلا مُتَضَرِّعًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْعِيدِ، وَلَمْ يَخْطُبْ خُطْبَتَكُمْ هَذِهِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۵۸ (۱۱۶۵)، ت/الصلاۃ ۲۷۸ (الجمعۃ۴۳) (۵۵۸، ۵۵۹)، ن/الاستسقاء ۳ (۱۵۰۷)، ۴ (۱۵۰۹)، ۱۳ (۱۵۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۰، ۲۶۰، ۳۵۵) (حسن)
(تراجع الألبانی: رقم: ۵۳۴)
۱۲۶۶ - اسحاق بن بد اللہ بن کنانہ کہتے ہیں کہ امراء میں سے کسی امیر نے مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس صلاۃ استسقا کے متعلق پوچھنے کے لئے بھیجا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر نے مجھ سے خود کیوں نہیں پوچھ لیا؟ پھر بتایا کہ رسول اللہ ﷺ عاجز و خستہ بھیس میں خاکساری اور خشوع و خضوع کے ساتھ آہستہ آہستہ چلے، پھر صلاۃ عید کی طرح دو رکعت صلاۃ پڑھائی، اور اس طرح خطبہ نہیں دیا جیسے تم دیتے ہو ۱؎۔
وضاحت۱؎: حجۃ اللہ البالغۃ میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کے لئے استسقاء کئی بار مختلف طریقوں سے کیا لیکن جو طریقہ سنت کا اپنی امت کے لئے اختیار کیا وہ یہ ہے کہ لوگوں سمیت نہایت عاجزی کے ساتھ عید گاہ تشریف لے گئے، اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں زور سے قراءت کی، پھر خطبہ پڑھا، اور قبلے کی طرف منہ کیا، خطبہ میں دعا مانگی، اور دونوں ہاتھ اٹھائے، اور اپنی چادر پلٹی، استسقاء کی صلاۃ دو رکعت مسنون ہے، ان کے بعد خطبہ ہے، اس کے وجوب کی کوئی دلیل نہیں ہے، اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک استسقاء میں صرف دعا اور استغفار کافی ہے، جب کہ متعدد احادیث میں صلاۃ وارد ہے، اور جن حدیثوں میں صلاۃ کا ذکر نہیں ان سے صلاۃ کی نفی لازم نہیں آتی، اور ابن ابی شیبہ نے جو عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ استسقاء کو نکلے پھر نہ زیادہ کیا استغفار پر، یہ ایک صحابی کا موقوف اثر ہے، قطع نظر اس کے سنت کے ترک سے اس کی سنیت باطل نہیں ہوتی، اور اسی پر وہ مرفوع حدیث بھی محمول ہو گی جس میں صلاۃ کا ذکر نہیں ہے، اور صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں آپ کا وسیلہ لیتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ کا وسیلہ لیا، اس معنی میں کہ نبی اکرم ﷺ نے خود استسقاء کی صلاۃ ادا فرمائی، اور بارش کی دعا کی، آپ سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے یہاں اور کون تھا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے چچا عباس کو صلاۃ استسقاء کے لیے آگے بڑھایا کیونکہ آپ کی بزرگی، صالحیت اور اللہ کے رسول سے تعلق کی وجہ سے اس بات کی توقع کی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں آپ کی دعا قبول ہو گی، اور بعض روایتوں میں صلاۃ سے پہلے خطبہ وارد ہے، اور دونوں طرح صحیح ہے، (ملاحظہ ہو: الروضہ الندیہ)۔

1267- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يُحَدِّثُ أَبِي، عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، فاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَلَبَ رِدَائَهُ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
* تخريج: خ/الاستسقاء ۱ (۱۰۰۵)، ۴ (۱۰۱۱)، ۱۵ (۱۰۲۳)، ۱۶ (۱۰۲۴)، ۱۷ (۱۰۲۵)، ۱۸ (۱۰۲۶)، ۱۹ (۱۰۲۷)، ۲۰ (۱۰۲۸)، الدعوات ۲۵ (۶۳۴۳)، م/الاستسقاء ۱ (۸۹۴)، د/الصلاۃ ۲۵۸ (۱۱۶۱)، ۲۵۹ (۱۱۶۶)، ت/الصلاۃ ۲۷۸ (الجمعۃ ۴۳) (۵۵۶)، ن/الاستسقاء ۲ (۱۵۰۶)، ۳ (۱۵۰۸)، ۵ (۱۵۱۰)، ۶ (۱۵۱۱)، ۷ (۱۵۱۲)، ۸ (۱۵۱۳)، ۱۲ (۱۵۲۱)، ۱۴ (۱۵۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۹۷)، وقد أخرجہ: ط/ صلاۃالإستسقاء ۱ (۱) حم (۴/۳۹، ۴۰، ۴۱، ۴۲)، دي/الصلاۃ ۱۸۸ (۱۵۷۴) (صحیح)

۱۲۶۷- عبد اللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ عید گاہ کی جانب صلاۃ استسقا کے لئے نکلے، آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا، اپنی چادر کو پلٹا، اور دو رکعت صلاۃ پڑھائی ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی چادر کو اس طرح پلٹا کہ اوپر کا حصہ نیچے ہو گیا، اور نیچے کا اوپر، اور داہنا کنارہ بائیں طرف ہو گیا، اور بایاں کنارہ داہنی طرف اس کا طریقہ یہ ہے کہ داہنے ہاتھ سے چادر کا نیچے کا بایاں کونہ اور بائیں ہاتھ سے نیچے کا داہنا کونہ پکڑ کر پیٹھ کے پیچھے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھرا دے اس طرح سے کہ جو کونہ داہنے ہاتھ سے پکڑا ہے وہ داہنے کندھے پر آجائے، اور جو بائیں ہاتھ سے پکڑا ہے وہ بائیں کندھے پر آجائے۔

1267/ م - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبَّادِ ابْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمِثْلِهِ.
قَالَ سُفْيَانُ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو: أَجَعَلَ أَعْلاهُ أَسْفَلَهُ، أَوِ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ؟ قَالَ: لا، بَلِ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ۔

اس سند سے بھی عبادبن تمیم نے اپنے چچا (عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سفیان ثوری نے مسعودی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو بکر بن محمد بن عمرو سے پوچھا کہ چادر کو کیسے پلٹا، کیا اوپر کا حصہ نیچے کر دیا، یا دائیں کو بائیں جانب کر دیا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ دائیں کو بائیں جانب کر لیا۔

1268- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ قَالا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ رسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلا أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّهَ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَيْهِ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَائَهُ فَجَعَلَ الأَيْمَنَ عَلَى الأَيْسَرِ وَالأَيْسَرَ عَلَى الأَيْمَنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۹۱، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۲۶) (ضعیف)
(بوصیری نے اسناد کو صحیح کہا اور رجال کو ثقات بتایا، جب کہ سند میں نعمان بن راشد صدوق سئی الحفظ ہیں، ابن خزیمہ فرماتے ہیں کہ نعمان کی توثیق کے سلسلہ میں دل میں کچھ شک ہے، اس لئے کہ ان کی زہری سے روایت میں بہت خلط ملط ہے، اگر یہ خبر ثابت ہو جائے، تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا اور دعا کی، اور دو مرتبہ اپنی چادر پلٹی، ایک بار صلا ۃ سے پہلے ایک بار اس کے بعد صحیح ابن خزیمہ: ۲/۳۳۸، لیکن البانی صاحب نے حدیث کی تضعیف کی)
۱۲۶۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن صلاۃِ استسقا پڑھنے کے لئے نکلے، تو بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعت صلاۃ پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اور اللہ تعالی سے دعا کی، اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنا منہ قبلہ کی طرف کیا، پھر اپنی چادر پلٹی تو دایاں جانب بائیں کندھے پر اور بایاں جانب دائیں کندھے پر کرلیا ۱؎۔
وضاحت۱؎: استسقا (بارش طلب کرنے) میں جہاں تک ہو سکے امام کو اور رعایا کو اللہ تعالی سے گڑگڑا کر رو رو کر دعائیں مانگنی چاہئے، اور سب لوگوں کو اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کرنا چاہئے، کیونکہ پانی گناہوں کی نحوست سے رک جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
154- بَاب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الاسْتِسْقَاءِ
۱۵۴- باب: استسقاکی دعا کا بیان​

1269- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ قَالَ لِكَعْبٍ: يَا كَعْبُ بْنَ مُرَّةَ! حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَاحْذَرْ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَسْقِ اللَّهَ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدَيْهِ فَقَالَ: < اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مَرِيئًا مَرِيعًا طَبَقًا عَاجِلاً غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ > قَالَ فَمَا جَمَّعُوا حَتَّى أُحْيُوا، قَالَ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا إِلَيْهِ الْمَطَرَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ،فَقَالَ: < اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا >، قَالَ: فَجَعَلَ السَّحَابُ يَنْقَطِعُ يَمِينًا وَشِمَالا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۶۵، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴۱، ۴۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۳۵، ۲۳۶) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲/۱۴۵)
۱۲۶۹- شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: کعب بن مرہ! آپ ہم سے رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان کیجیے اور احتیاط برتئے، تو انہوں نے کہا: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر عرض کیا : اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے بارش مانگئے، آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر فرمایا: اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مَرِيئًا مَرِيعًا طَبَقًا عَاجِلاً غَيْرَ رَائِثٍ، نَافِعًا غَيْرَ ضَارّ(اے اللہ! ہم پر اچھے انجام والی، سبزہ اگانے والی، زمین کو بھر دینے والی، جلد برسنے والی، تھم کر نہ برسنے والی، فائدہ دینے والی اور نقصان نہ پہنچانے والی بارش برسا) کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ابھی صلاۃ جمعہ سے ہم فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ بارش ہونے لگی اور مسلسل ہوتی رہی، بالآخر پھر لوگ آپ کے پاس آئے، اور بارش کی کثرت کی شکایت کی اور کہا اللہ کے رسول! مکانات گر گئے، پھر آپ ﷺ نے یوں دعا فرمائی ''اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا'' (اے اللہ! بارش ہمارے اردگرد میں ہو ہم پر نہ ہو)، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ ﷺ کا یہ فرمانا تھا کہ بادل دائیں اور بائیں پھٹنے لگا ۱؎۔

1270- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْقَاسِمِ أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا عَبْداللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَتَزَوَّدُ لَهُمْ رَاعٍ، وَلايَخْطِرُ لَهُمْ فَحْلٌ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ قَالَ: < اللَّهُمَّ! اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا طَبَقًا مَرِيعًا غَدَقًا عَاجِلا غَيْرَ رَائِثٍ > ثُمَّ نَزَلَ، فَمَا يَأْتِيهِ أَحَدٌ مِنْ وَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ إِلا قَالُوا: قَدْ أُحْيِينَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۹۲، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴۴) (صحیح)
(بوصیری نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اور رجال کو ثقات لیکن اس حدیث کی سند میں حبیب بن ابی ثابت مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲؍۱۴۶، اسی کے ہم مثل اوپر صحیح حدیث گذری، اور بعض اجزاء حدیث کو اصحاب سنن اربعہ نے روایت کیا ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجہ بتحقیق الشہری : ۴۴۸)
۱۲۷۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس ایک ایسی قوم کے پاس سے آیا ہوں جس کے کسی چرواہے کے پاس توشہ (کھانے پینے کی چیزیں) نہیں، اور کوئی بھی نر جانور (کمزوری اور دبلے پن کی وجہ سے) دم تک نہیں ہلاتا، تو آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر یوں دعا فرمائی: ''اللَّهُمَّ! اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا طَبَقًا مَرِيعًا غَدَقًا عَاجِلا غَيْرَ رَائِثٍ'' (اے اللہ ! ہمیں سیراب کر دینے والا، فائدہ دینے والا، ساری زمین پر برسنے والا، سبزہ اگانے والا، زور کا برسنے والا، جلد برسنے والا اور تھم کر نہ برسنے والا پانی نازل فرما)، پھر آپ ﷺ منبر سے اتر گئے، اس کے بعد جو بھی جس کسی سمت سے آتا وہ یہی کہتا کہ ہمیں زندگی عطا ہو گئی۔

1271- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَرَكَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اسْتَسْقَى حَتَّى رَأَيْتُ، (أَوْ رُؤِيَ) بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.
قَالَ مُعْتَمِرٌ: أُرَاهُ فِي الاسْتِسْقَاءِ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۲۲، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴۵)، وقد أخرجہ: حم ۲/۲۳۵، ۳۷۰) (صحیح)

۱۲۷۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بارش کی دعا مانگی یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، یا یوں کہا کہ یہاں تک کہ آپ کی بغل کی سفیدی دکھائی دی۔
معتمر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ استسقا کے بارے میں ہے۔

1272- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَمَا نَزَلَ حَتَّى جَيَّشَ كُلُّ مِيزَابٍ بِالْمَدِينَةِ، فَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ:
وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ
ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ ۔
* تخريج: خ/الاستسقاء ۳ تعلیقاً وموصولا (۱۰۰۹عقیب حدیث عبد اللہ بن دینار)، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۳) (حسن)

۱۲۷۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب میں رسول اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک کو منبر پہ دیکھتا تھا، تو اکثر مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آجاتا تھا، آپ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں کہ مدینہ کے ہر پرنالہ میں پانی زور سے بہنے لگا، وہ شعر یہ ہے :
وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ
ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ

(نبی اکرم ﷺ گورے چٹے ہیں، آپ کے مبارک چہرہ سے لوگ بارش کی دعا مانگتے ہیں، آپ یتیموں کے مددگار اور بیواؤں کے محافظ ہیں) ۱؎۔ یہ ابو طالب کا شعر ہے۔
وضاحت۱؎: سبحان اللہ آپ کا حسن ظاہری اس درجہ تھا کہ جو کوئی آپ کے جمال و کمال کو دیکھتا، دیکھتا ہی رہ جاتا، اور باطنی حسن اس درجہ تھا کہ تمام یتیموں، بیواؤں اور بیکسوں کے آپ غم گسار تھے، ایسی جامع کمالات شخصیت دنیا میں سوا آپ کے کس کی ہے، قصیدے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کا رنگ سفید تھا، دوسری حدیث میں: ''هذا الأبيض المتكئ'' اور ایک حدیث میں ہے کہ گونہ سرخی بھی اس سفیدی میں ملی تھی، بلکہ غالب تھی، ہمیشہ سے سرداروں اور بادشاہوں کا رنگ یہی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
155- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ الْعِيدَيْنِ
۱۵۵- باب: عیدین کی صلاۃ کا بیان​

1273- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَطَائٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَبِلالٌ قَائِلٌ بِيَدَيْهِ هَكَذَا، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْئَ۔
* تخريج: خ/العیدین ۱۶ (۹۷۵)، ۱۸ (۹۷۷)، الزکاۃ ۳۳ (۱۴۴۹)، النکاح ۱۲۵ (۵۲۴۹)، اللباس ۵۶ (۵۸۸۰)، الاعتصام ۱۶ (۷۳۲۵)، م/العیدین (۸۸۴)، د/الصلاۃ ۲۴۸ (۱۱۴۲)، ن/العیدین ۱۳ (۱۵۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۰، ۲۲۶، ۲۴۲، ۳۴۵، ۳۴۶، ۳۵۷، ۳۶۸)، دي/الصلاۃ ۲۱۸ (۱۶۴۴) (صحیح)

۱۲۷۳- عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہﷺ نے خطبے سے پہلے صلاۃ ادا کی، پھر خطبہ دیا، آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ عورتوں تک آواز نہیں پہنچ سکی ہے لہٰذا آپ ان کے پاس آئے، ان کو (بھی) وعظ و نصیحت کی، اور انہیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دیگر سامان ڈالنے لگیں ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو صلاۃ عید کے لئے عید گاہ جانا صحیح ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے باپردہ اور کنواری عورتوں کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا یہاں تک کہ حائضہ عورتوں کو بھی، اور فرمایا: وہ مسجد کے باہر رہ کردعا میں شریک رہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے عیدگاہ میں صلاۃ عید پڑھے اس کے بعد خطبہ دے، اور صلاۃ عیدین کے بارے میں اختلاف ہے کہ واجب ہے یا سنت، اور حق یہ ہے کہ واجب ہے اور بعضوں نے کہا آیت: "فصل لربك وانحر" سے عید کی صلاۃ مراد ہے اور جب عید کے دن جمعہ آجائے تو عید کی صلاۃ پڑھنے سے جمعہ واجب نہیں رہتا یعنی جمعہ کا وجوب ساقط ہو جاتا ہے۔

1274- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلاإِقَامَةٍ۔
* تخريج: خ/العیدین ۸ (۹۶۲)، م/العیدین (۸۸۴)، د/الصلاۃ ۲۵۰ (۱۱۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۷، ۲۴۲، ۲۸۵، ۳۳۱، ۳۴۵، ۳۴۶) (صحیح)

۱۲۷۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے صلاۃ پڑھی ۔
وضاحت۱؎: اس پر سب کا اتفاق ہے اور صحیح میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت ہے، اس لئے صلاۃ عید میں اذان یا اقامت کہنا بدعت ہے۔

1275- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سعِيدٍ، و عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ! خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ بِهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ، فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۲۰ (۴۹)، د/الصلاۃ ۲۴۸ (۱۱۴۰)، ت/الفتن ۱۱ (۷۱۷۲)، ن/الإیمان ۱۷ (۵۰۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۸۵)، وقد أخرجہ: خ/العیدین ۶ (۹۵۶)، حم (۳/۱۰، ۴۹، ۵۲، ۵۳، ۵۴، ۹۲) (صحیح)

۱۲۷۵- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (گورنر) مروان عید کے دن (عیدگاہ) منبر لے گئے، اور صلاۃ سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت عمل کیا، عید کے دن منبر لے آئے، جب کہ پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا، اور آپ نے صلاۃ سے پہلے خطبہ شروع کر دیا جب کہ صلاۃ سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا تھا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ''جو شخص خلاف شرع کام ہوتے ہوئے دیکھے اور اپنے ہاتھ سے اسے بدلنے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر زبان سے بھی کچھ نہ کہہ سکتا ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی ایمان کا اخیر درجہ ہے اگر خلاف شرع کام کو دل سے بھی برا نہ جانے بلکہ ایسے کاموں پر چپ رہے اور دل میں بھی نفرت نہ لائے تو اس شخص میں ذرا بھی ایمان نہیں ہے، اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے۔

1276- حَدَّثَنَا حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، يُصَلُّونَ الْعِيدَ قَبْلَ الْخُطْبَةِ۔
* تخريج: خ/العیدین ۸ (۹۶۳)، ۱۹ (۹۷۹)، م/العیدین (۸۸۸)، ت/الصلاۃ ۲۶۶ (الجمعۃ ۳۱) (۵۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۲۳)، وقد أخرجہ: ن/العیدین ۸ (۱۵۶۵)، حم (۲/۱۲، ۳۸) (صحیح)

۱۲۷۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما عید کی صلاۃ خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
156- بَاب مَا جَاءَ فِي كَمْ يُكَبِّرُ الإِمَامُ فِي صَلاةِ الْعِيدَيْنِ؟
۱۵۶- باب: عیدین کی صلاۃ میں تکبیرات کی تعداد کتنی ہو گی؟​

1277- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُكَبِّرُ فِي الْعِيدَيْنِ، فِي الأُولَى سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَائَةِ، وَفِي الآخِرَةِ خَمْسًا قَبْلَ الْقِرَائَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۲۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴۶)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۲۲۰ (۱۶۴۷) (صحیح)
(عبد الرحمن بن سعد ضعیف اور ان کے والد مجہول الحال ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۳/۱۰۹)
۱۲۷۷ - رسول اللہﷺ کے مؤذن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کی پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراء ت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے ۱؎۔
وضاحت۱؎: سارے محدثین، مالک، احمد اور شافعی کا مذہب یہی ہے، لیکن مالک اور احمد کے نزدیک پہلی رکعت میں سات تکبیریں تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہیں، اور دوسری میں پانچ تکبیریں، قیام کی تکبیرکے علاوہ، اور شافعی کے نزدیک پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ سات تکبیریں اور دوسری میں قیام کی تکبیر علاوہ پانچ تکبیریں ہیں، (اور سبھی کے نزدیک یہ دونوں رکعتوں میں قرأت سے پہلے کہی جائیں گی) اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے تکبیر تحریمہ کے علاوہ تین تکبیریں ہیں، اور دوسری رکعت میں قراءت کے بعد رکوع کی تکبیر کے علاوہ تین تکبیریں ہیں، لیکن اس سلسلہ میں کوئی مرفوع صحیح حدیث نہیں ہے۔

1278- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَبَّرَ فِي صَلاةِ الْعِيْدِ سَبْعًا وَخَمْسًا۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۵۱، (۱۱۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۰) (صحیح)

۱۲۷۸- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صلاۃ عید میں سات اور پانچ تکبیریں کہیں ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی سات تکبیریں پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں جیسے اہل حدیث کا قول ہے، عراقی نے کہا اس حدیث کی سند اچھی ہے اور ترمذی نے بخاری سے نقل کیا کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ابو داود اور دار قطنی کی روایت میں یوں ہے کہ عید الفطر کی تکبیریں پہلی رکعت میں سات ہیں اور دوسری رکعت میں پانچ ہیں، اور دونوں رکعتوں میں تکبیروں کے بعد قرأت کرے ۔

1279- حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَبَّرَ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا، فِي الأُولَى، وَخَمْسًا، فِي الآخِرَةِ۔
* تخريج: ت/الجمعۃ ۳۴ (۵۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۷۴) (صحیح)
(اس سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث کثرت طرق کی وجہ سے صحیح ہے، جیسا کہ اس باب کی سابقہ اور آنے والی احادیث سے واضح ہے)
۱۲۷۹- عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدین کی پہلی رکعت میں سات تکبیریں، اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہیں۔

1280- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، وَعُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَبّرَ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى سَبْعًا وَخَمْسًا، سِوَى تَكْبِيرَتَيِ الرُّكُوعِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۵۱ (۱۱۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۲۵، ۱۶۵۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۵، ۷۰) (صحیح)

۱۲۸۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الاضحی اور عید الفطر میں رکوع کی تکبیروں کے علاوہ سات اور پانچ تکبیریں کہیں۔
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
157- بَاب مَا جَاءَ فِي الْقِرَائَةِ فِي صَلاةِ الْعِيدَيْنِ
۱۵۷- باب: صلاۃِ عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان​

1281- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ۔
* تخريج: م/الجمعۃ ۱۶ (۸۷۸)، د/الصلاۃ ۲۴۲ (۱۱۲۲)، ت/الصلاۃ۲۶۸ (الجمعۃ۳۳) (۵۳۳)، ن/الجمعۃ ۳۹ (۱۴۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۱۲)، وقد أخرجہ: ط/الجمعۃ ۹ (۱۹)، حم (۴/۲۷۱، ۲۷۳، ۲۷۶، ۲۷۷)، دي/الصلاۃ ۲۲۱ (۱۶۴۸) (صحیح)

۱۲۸۱- نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کی صلاۃ میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ پڑھتے تھے۔

1282- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ يَوْمَ عِيدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ: بِأَيِّ شَيْئٍ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقْرَأُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ؟ قَالَ: بِقَافْ وَاقْتَرَبَتْ۔
* تخريج: م/العیدین ۳ (۸۹۱)، د/الصلا ۃ ۲۵۲ (۱۱۵۴)، ت/الصلاۃ ۲۶۸ (الجمعۃ ۳۳)، ۵۳۴، ۵۳۵)، ن/العیدین ۱۱ (۱۵۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۱۳)، وقد أخرجہ: ط /العیدین ۴ (۸)، حم (۵/۲۱۷، ۲۱۸، ۲۱۹) (صحیح)

۱۲۸۲- عبید اللہ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ عید کے دن نکلے تو ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے انہوں نے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم ﷺ اس دن صلاۃ عید میں کون سی سورۃ پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا: سورہ قٓ اور ''اقتربت الساعۃ''۔

1283- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ بـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى} وَ {هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ}۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴۷) (صحیح)
(سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
۱۲۸۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عیدین میں: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى اور هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ پڑھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
158- بَاب مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ
۱۵۸- باب: عیدین میں خطبے کا بیان​

1284- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا كَاهِلٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، فَحَدَّثَنِي أَخِي عَنْهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ، وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا ۔
* تخريج: ن/العیدین ۱۶ (۱۵۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۰۶) (حسن)

۱۲۸۴- اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے ابو کاہل رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے، انہیں رسول اللہ ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا، میرے بھائی نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو کاہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوے دیکھا، اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے ۱؎۔
وضاحت۱؎: حبشی سے مراد بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔

1285- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاءِذٍ، هُوَ أَبُو كَاهِلٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَةٍ حَسْنَاءَ، وَحَبَشِيٌّ آخِذٌ بِخِطَامِهَا۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۴۲) (حسن)

۱۲۸۵- قیس بن عائذ رضی اللہ عنہ (ابوکاہل) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو ایک خوبصورت اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا اور ایک حبشی اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔

1286- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَجَّ فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَخْطُبُ عَلَى بَعِيرِهِ۔
* تخريج: د/الحج ۶۲ (۱۹۱۶)، ن/الحج ۱۹۸ (۳۰۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۳۰۵، ۳۰۶) (صحیح)

۱۲۸۶- نبیط رضی اللہ عنہ کہتے کہ ہیں انہوں نے حج کیا اور کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اونٹ پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔

1287- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍالْمُؤَذِّنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُكَبِّرُ بَيْنَ أَضْعَافِ الْخُطْبَةِ، يُكْثِرُ التَّكْبِيرَ فِي خُطْبَةِ الْعِيدَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴۸) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں عبد الرحمن ضعیف ہیں، اور ان کے والد اور دادا مجہول الحال ہیں)
۱۲۸۷- سعد مؤذن کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ کے درمیان تکبیر کہتے تھے، اور عیدین کے خطبہ کے دوران کثرت سے تکبیریں پڑھتے تھے۔

1288- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍالْخُدْرِيُّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ، فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقِفُ عَلَى رِجْلَيْهِ فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَيَقُولُ: <تَصَدَّقُوا، تَصَدَّقُوا > فَأَكْثَرُ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ، بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّيْئِ، فَإِنْ كَانَتْ حَاجَةٌ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ بَعْثًا يَذْكُرُهُ لَهُمْ، وَإِلا انْصَرَفَ۔
* تخريج: خ/الحیض ۶ (۳۰۴)، العیدین ۶ (۹۶۴، ۹۸۹)، الزکاۃ ۴۴ (۱۴۳۱)، م/الایمان ۳۴ (۷۹، ۸۰)، العیدین ۹ (۸۴۴)، ن/العیدین ۱۹ (۱۵۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۶، ۵۷) (صحیح)

۱۲۸۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت پڑھاتے، پھر سلام پھیرتے، اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر لوگوں کی جانب رخ کرتے، اور لوگ بیٹھے رہتے، اور آپ ﷺ فرماتے: ''لوگو! صدقہ کرو، صدقہ کرو، زیادہ صدقہ عورتیں دیتیں، کوئی بالی ڈالتی، کوئی انگوٹھی اور کوئی کچھ اور، اگر آپ کو لشکر بھیجنا ہوتا تو لوگوں سے اس کا ذکر کرتے، ورنہ تشریف لے جاتے''۔

1289- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَحْرٍ،(1) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُوالزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَخَطَبَ قَائِمًا ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً ثُمَّ قَامَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۶۱، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴۹) (منکر)
(سند میں اسماعیل بن مسلم اور ابو بحر ضعیف ہیں، نیز ابو الزبیر مدلس اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے یہ سنداً اور متناً ضعیف ہے، صحیح مسلم میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ خطبہ جمعہ میں محفوظ ہے)
۱۲۸۹- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر یا عید الاضحی میں گئے، تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہو گئے۔
وضاحت۱؎: یہاں پر فواد عبد الباقی اور مصباح الزجاجۃ کے مصری ایڈیشن میں ''حدثنا عبد الله بن عمرو الرقى'' ابو بحر اور اسماعیل الخولانی کے مابین ہے، جو مصباح الزجاجۃ ط: الشہری اور تحفۃ الاشراف، نیز مشہور حسن کے ایڈیشن میں نہیں ہے۔
 
Top