• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب مَا جَاءَ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ
۳۵ - باب: جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کا بیان​

1542- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ (ح) وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ »۔
* تخريج: خ/الجنائز ۴۶ (۱۳۰۷)، ۴۷ (۱۳۰۸)، م/الجنائز۲۴ (۹۵۸)، د/الجنائز۴۷ (۳۱۷۲)، ت/الجنائز ۵۱ (۱۰۴۲)، ن/الجنائز ۴۵ (۱۹۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۴۱)، حم (۳/۴۴۵، ۴۴۶، ۴۴۷) (صحیح)

۱۵۴۲- عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے''۔

1543- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ بِجِنَازَةٍ، فَقَامَ، وَقَالَ: < قُومُوا فَإِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۶۶، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۷، ۳۴۳) (صحیح )

۱۵۴۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ''کھڑے ہو جاؤ! اس لئے کہ موت کی ایک گھبراہٹ اور دہشت ہے''۔

1544- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بنالْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؛ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِجِنَازَةٍ، فَقُمْنَا، حَتَّى جَلَسَ، فَجَلَسْنَا۔
* تخريج: م/الجنائز ۲۵ (۹۶۲)، د/الجنائز ۴۷ (۳۱۷۵)، ت/الجنائز ۵۲ (۱۰۴۴)، ن/الجنائز ۸۱ (۲۰۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۷۶)، وقد أخرجہ: ط/الجنائز ۱۱ (۳۳)، حم (۱/۸۲، ۸۳، ۱۳۱، ۱۳۸) (صحیح)

۱۵۴۴- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازہ کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوئے، پھر آپ بیٹھ گئے، تو ہم بھی بیٹھ گئے۔

1545- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا اتَّبَعَ جِنَازَةً، لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ، فَقَالَ: هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَقَالَ: <خَالِفُوهُمْ >۔
* تخريج: د/الجنائز ۴۷ (۳۱۷۶)، ت/الجنائز ۳۵ (۱۰۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۷۶) (حسن)(تراجع الألبانی: رقم: ۴۳۷)

۱۵۴۵- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا: اے محمد! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بیٹھنا شروع کر دیا، اور فرمایا: ''ان کی مخالفت کرو ''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ پہلے نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانے کا حکم دیا تھا، پھر جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہود بھی ایسا کرتے ہیں تو آپ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا جس سے سابق حکم منسوخ ہو گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُقَالُ إِذَا دَخَلَ الْمَقَابِرَ
۳۶- باب: قبرستان میں پہنچ کر کیا دعا پڑھے؟​

1546 - حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَقَدْتُهُ (تَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ) فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: < السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِكُمْ لاحِقُونَ، اللَّهُمَّ! لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلاتَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ >۔* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵۱)، حم (۶/ ۷۱،۱۸۰) (ضعیف)
۱۵۴۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے انہیں یعنی نبی اکرم ﷺ کو (ایک رات) غائب پایا، پھر دیکھا کہ آپ مقبرہ بقیع میں ہیں، اورآپ نے فرمایا: ''السَّلامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَإِنَّا بِكُمْ لاحِقُونَ، اللَّهُمَّ! لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلاتَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ '' (اے مومن گھر والو! تم پر سلام ہو، تم لوگ ہم سے پہلے جانے والے ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں، اے اللہ! ہمیں ان کے ثواب سے محروم نہ کرنا، اور ان کے بعد ہمیں فتنہ میں نہ ڈالنا)۔

1547 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ، كَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ۔
* تخريج: م/الجنائز ۳۵ (۹۷۵)، ن/الجنائز ۱۰۳ (۲۰۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۳۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۳،۳۶۰) (صحیح)

۱۵۴۷- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہیں: ''السَّلامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاحِقُونَ، نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ '' (اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلام ہو، ہم تم سے ان شاء اللہ ملنے والے ہیں، اور ہم اللہ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے عافیت کا سوال کرتے ہیں)۔
وضاحت۱؎: ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''السلام عليكم يا أهل القبور، يغفر الله لنا ولكم وأنتم سلفنا ونحن بالأثر'' یعنی سلام ہو تمہارے اوپر اے قبر والو! اللہ ہم کو اور تم کو بخشے، تم ہمارے اگلے ہو، اور ہم تمہارے پیچھے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
37- بَاب مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ فِي الْمَقَابِرِ
۳۷- باب: قبرستان میں بیٹھنے کا بیان​

1548 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جِنَازَةٍ، فَقَعَدَ حِيَالَ الْقِبْلَةِ۔
* تخريج: د/الجنائز ۶۸ (۳۲۱۲)، السنۃ ۲۷ (۴۷۵۳، ۳۷۵۴)، ن/الجنائز۸۱ (۲۰۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۷،۲۹۵، ۲۹۷) (صحیح)

۱۵۴۸- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ قبلہ کی طرف رخ کرکے بیٹھے۔

1549- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَجَلَسَ، وَجَلَسْنَا كَأَنَّ عَلَى رُئُوسِنَا الطَّيْرَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۹) (صحیح)

۱۵۴۹- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، جب قبر کے پاس پہنچے تو آپ بیٹھ گئے، اور ہم بھی بیٹھ گئے، گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی خاموش سر جھکا کر بیٹھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کے پاس ہمیشہ اسی طرح با ادب بیٹھتے تھے۔ اور قبرستان میں بھی بالکل خاموش اور چپ چاپ بیٹھ جاتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
38- بَاب مَا جَاءَ فِي إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ
۳۸- باب: میت کو قبر میں داخل کرنے کا بیان​

1550 - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ (ح) وحَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ، قَالَ: <بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ > وَقَالَ أَبُو خَالِدٍ مَرَّةً: إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي لَحْدِهِ قَالَ: <بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ > وَقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: < بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ >۔
* تخريج: حدیث ہشام بن عمار تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۱۹)، وحدیث عبد اللہ بن سعید أخرجہ: ت/الجنائز ۵۴ (۱۰۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۶۴۴)، وقد أخرجہ: د/الجنائز ۶۹ ( ۳۲۱۳)، حم (۲/۲۷، ۴۰، ۵۹، ۶۹، ۱۲۷) (صحیح)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی ''اسماعیل بن عیاش'' اور ''لیث بن أبی سلیم'' ضعیف ہیں)
۱۵۵۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب مردے کو قبر میں داخل کیا جاتا تو نبی اکرم ﷺ ''بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ'' کہتے تھے، اور ابو خالد نے اپنی روایت میں ایک بار یوں کہا: جب میت کو اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا تو آپ ''بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ'' کہتے، اور ہشام نے اپنی روایت میں ''بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ'' کہا ہے۔

1551- حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مَنْدَلُ ابْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَعْدًا وَرَشَّ عَلَى قَبْرِهِ مَائً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۱۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵۱) (ضعیف جدا)
(اس کی سند میں مندل بن علی اور محمد بن عبید اللہ بن أبی رافع بہت زیادہ منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاۃ : ۱۷۲۱۹)
۱۵۵۱- ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے سعد رضی اللہ عنہ کو ان کی قبر کے پائتانے سے سر کی طرف سے قبر میں اتارا ، اور ان کی قبر پہ پانی چھڑکا ۱؎۔
وضاحت۱؎: سنت یہی ہے کہ میت کو قبر کے پائتانے سے قبر کے اندر اس طرح کھینچا جائے کہ پہلے سر کا حصہ قبر میں داخل ہو، اور قبر میں اسے دائیں پہلو لٹایا جائے، اس طرح پر کہ چہرہ قبلہ کی طرف ہو اور سر قبلہ کے دائیں ہو، اور پیر اس کے بائیں۔

1552- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ، وَاسْتُقْبِلَ اسْتِقْبَالا (وَاسْتُلَّ اسْتِلالا)۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۱۸، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵۲) (منکر)
(اس کی سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: ۱۵۰)
۱۵۵۲- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو قبلہ کی طرف سے (قبر میں) اتارا گیا، اور کھینچ لیا گیا، آپ کا چہرہ قبلہ کی طرف کیا گیا۔

1553- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: حَضَرْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا وَضَعَهَا فِي اللَّحْدِ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، فَلَمَّا أُخِذَ فِي تَسْوِيَةِ اللَّبِنِ عَلَى اللَّحْدِ، قَالَ: اللَّهُمَّ! أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمّ ! جَافِ الأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا، وَصَعِّدْ رُوحَهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا، قُلْتُ: يَا ابْنَ عُمَرَ! أَشَيْئٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ أَمْ قُلْتَهُ بِرَأْيِكَ؟ قَالَ: إِنِّي إِذًا لَقَادِرٌ عَلَى الْقَوْلِ، بَلْ شَيْئٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۷۰۸۴، ومصباح الزجاجۃ : ۵۵۳) (ضعیف)
(اس کی سند میں حماد بن عبد الرحمن بالاتفاق ضعیف ہیں، ابتدائی حدیث صحیح ہے، کما تقدم: ۱۵۵۰)
۱۵۵۳- سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک جنازے میں آیا، جب انہوں نے اسے قبر میں رکھا تو کہا: ''بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ''، اور جب قبر پر اینٹیں برابر کرنے لگے تو کہا: ''اللَّهُمَّ! أَجِرْهَا مِنَ الشَّيْطَانِ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمّ! جَافِ الأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهَا، وَصَعِّدْ رُوحَهَا، وَلَقِّهَا مِنْكَ رِضْوَانًا'' (اے اللہ! تو اسے شیطان سے اور قبر کے عذاب سے بچا، اے اللہ! زمین کو اس کی پسلیوں سے کشادہ رکھ، اور اس کی روح کو اوپر چڑھا لے، اور اپنی رضا مندی اس کو نصیب فرما) میں نے کہا: اے ابن عمر! یہ دعا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، یا اپنی طرف سے پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر ایسا ہو۱؎ تو مجھے اختیار ہو گا، جو چاہوں کہوں (حالاں کہ ایسا نہیں ہے) بلکہ اسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
وضاحت۱؎: یعنی اپنی پسند سے کوئی دعا پڑھوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
39- بَاب مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ اللَّحْدِ
۳۹ - باب: بغلی قبر (لحد) کے مستحب ہونے کا بیان​

1554- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ ابْنَ عَبْدِالأَعْلَى يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ < اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا >۔
* تخريج: د/الجنائز ۶۵ (۳۲۰۸)، ت/الجنائز ۵۳ (۱۰۴۵)، ن/الجنائز۸۵ (۲۰۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۴۲) (صحیح)
(تراجع الألبانی: رقم: ۵۸۵)
۱۵۵۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بغلی قبر( لحد) ہمارے لئے ہے، اور صندوقی اوروں کے لئے ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: بغلی قبر کو لحد کہتے ہیں اور ضرح اور شق صندوقی قبر کو جو بہت مشہور ہے، اس حدیث سے لحد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس وجہ سے کہ اس میں مردے پر مٹی گرانی نہیں ہوتی، جو ادب و احترام کے خلاف ہے، نیز اس سے صندوقی قبر کی ممانعت مقصود نہیں ہے کیونکہ اگر صندوقی قبر منع ہوتی تو عبیدہ رضی اللہ عنہ جو جلیل القدر صحابہ میں سے تھے اس کو کیوں بنایا کرتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد انہیں بلانے کے واسطے نہ بھیجتے۔

1555- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْبَجَلِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۰۹، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۷، ۳۵۹، ۳۶۲) (صحیح)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو الیقظان عثمان بن عمیر ضعیف ہیں)
۱۵۵۵- جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بغلی قبر (لحد) ہمارے لئے ہے، اور صندوقی اوروں کے لئے ہے''۔

1556 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا، وَانْصِبُوا عَلَى اللَّبِنِ نُصْبًا، كَمَا فُعِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ۔
* تخريج: م/الجنائز ۲۹ (۹۶۶)، ن/الجنائز۸۵ (۲۰۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۶۹، ۱۷۳، ۱۸۴) (صحیح)

۱۵۵۶- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے انتقال کے وقت ) کہا: میرے لئے بغلی قبر (لحد) بنانا، اور کچی اینٹوں سے اس کو بند کر دینا، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کیا گیا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
40- بَاب مَا جَاءَ فِي الشَّقِّ
۴۰ - باب: صندوقی قبر کا بیان​

1557- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ ﷺ كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَلْحَدُ وَآخَرُ يَضْرَحُ، فَقَالُوا: نَسْتَخِيرُ رَبَّنَا وَنَبْعَثُ إِلَيْهِمَا، فَأَيُّهُمَا سُبِقَ تَرَكْنَاهُ فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمَا، فَسَبَقَ صَاحِبُ اللَّحْدِ فَلَحَدُوا لِلنَّبِيِّ ۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۹، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵۵)، وقد أخرجہ: حم ۳۰/۱۳۹) (حسن صحیح)

۱۵۵۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کا انتقال ہو گیا، تو مدینہ میں قبر بنانے والے دو شخص تھے، ایک بغلی قبر بناتا تھا، اور دوسرا صندوقی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم اللہ تعالی سے خیر طلب کرتے ہیں، اور دونوں کو بلا بھیجتے ہیں (پھر جو کوئی پہلے آئے گا، ہم اسے کام میں لگائیں گے) اور جو بعد میں آئے اسے چھوڑ دیں گے، ان دونوں کو بلوایا گیا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، لہٰذا آپ ﷺ کے لئے بغلی قبر بنائی گئی۔
وضاحت۱؎: ابو طلحہ رضی اللہ عنہ لحد بناتے تھے اور عبیدہ رضی اللہ عنہ صندوقی۔

1558- حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ وَالشَّقِّ، حَتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ، وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: لاتَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَيًّا وَلا مَيِّتًا، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشَّقَّاقِ وَاللاحِدِ جَمِيعًا، فَجَاءَ اللاحِدُ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، ثُمَّ دُفِنَ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۴۶، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵۶) (حسن)
(متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبید بن طفیل مجہول اورعبد الرحمن بن أبی ملیکہ ضعیف راوی ہیں) (تراجع الألبانی: رقم : ۵۹۰)
۱۵۵۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا، تو لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر کے سلسلے میں اختلاف کیا، یہاں تک کہ اس سلسلے میں باتیں بڑھیں، اور لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس زندگی میں یا موت کے بعد شور نہ کرو، یا ایسا ہی کچھ کہا، بالآخر لوگوں نے بغلی اور صندوقی قبر بنانے والے دونوں کو بلا بھیجا، تو بغلی قبر بنانے والا پہلے آگیا، اس نے بغلی قبر بنائی، پھر اس میں رسول اللہ ﷺ کو دفن کیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
41- بَاب مَا جَاءَ فِي حَفْرِ الْقَبْرِ
۴۱ - باب: قبر کھودنے کا بیان​

1559 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ الأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ قَالَ: جِئْتُ لَيْلَةً أَحْرُسُ النَّبِيَّ ﷺ، فَإِذَا رَجُلٌ قِرَائَتُهُ عَالِيَةٌ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ ﷺ . فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا مُرَائٍ، قَالَ فَمَاتَ بِالْمَدِينَةِ، فَفَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ، فَحَمَلُوا نَعْشَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < ارْفُقُوا بِهِ، رَفَقَ اللَّهُ بِهِ، إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ > قَالَ وَحَفَرَ حُفْرَتَهُ فَقَالَ: < أَوْسِعُوا لَهُ، أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْهِ > فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: < أَجَلْ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفۃ الأشراف : ۸۱، ومصباح الزجاجۃ : ۵۵۷) (ضعیف)
(موسیٰ بن عبیدۃ ضعیف راوی ہیں)۔
۱۵۵۹- ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات آیا، اور میں نبی اکرم ﷺ کی پہرہ داری کیا کرتا تھا، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا، نبی اکرم ﷺ باہر نکلے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اس کے ساتھ نرمی کرو ''، اللہ تعالی بھی اس کے ساتھ نرمی کرے، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اس کی قبر کشادہ کرو، اللہ اس پر کشادگی کرے ''، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا''۔

1560- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا >۔
* تخريج: د/الجنائز۷۱ (۳۲۱۵،۳۲۱۶، ت/الجہاد ۳۳ (۱۷۱۳)، ن/الجنائز ۸۶ (۲۰۱۲)، ۸۷ (۲۰۱۳)، ۹۰ (۲۰۱۷)، ۹۱ (۲۰۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۹،۲۰) (صحیح)

۱۵۶۰- ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قبر کو خوب کھودو، اسے کشادہ اور اچھی بناؤ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
42- بَاب مَا جَاءَ فِي الْعَلامَةِ فِي الْقَبْرِ
۴۲ - باب: قبر پر نشان رکھنے کا بیان​

1561- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هُرَيْرَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَعْلَمَ قَبْرَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ بِصَخْرَةٍ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۰، و مصباح الزجاجۃ: ۵۵۸) (حسن صحیح)

۱۵۶۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر کو ایک پتھر سے نشان زد کیا ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ قبر کی شناخت اور پہچان کے لیے اس کے پاس پتھر یا تختی نصب کرنا درست ہے، لیکن قبر کو زیادہ بلند کرنا یا اس پر عمارت یا گنبد بنوانا، اس کو سیمنٹ سے پختہ کرانا، یا اس پر کتبہ لگانا، یا اس پر چراغ جلانا، یا چادر چڑھانی، یا صندل چڑھانا، یہ سب بدعت کے کام ہیں، اور ان میں سے بعض کاموں کی ممانعت صاف احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، چنانچہ قبر کا ایک بالشت سے زیادہ اونچا کرنا حدیث کی رُو سے ناجائز ہے، نبی کریم ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو اس کام کے لئے بھیجا کہ جو کوئی مورت دیکھیں اس کو مٹا دیں اور جو قبر اونچی دیکھیں اس کو زمین کے برابر کر دیں، (صحیح مسلم)
اگر انصاف اور حق کی پیروی مطلوب ہو تو حق یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قبر کے پختہ بنانے، اس پر عمارت بنوانے اور اس پر چراغاں کرنے سے منع فرمایا ہے، اور اس ممانعت میں کسی کی تخصیص نہیں کہ صلحاء و اولیاء اور شہداء کی قبریں ہوں تو درست، اور کفار و مشرکین کی قبریں ہوں تو درست نہیں، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ کسی ولی کا درجہ نہیں ہو سکتا، اسی طرح عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ سے زیادہ جو مہاجرین اولین میں سے تھے مگر نبی اکرم ﷺ نے ان کی قبریں اونچی نہ رکھیں نہ ان کو پختہ بنایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی خود نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کو نہ اونچا کیا، نہ پختہ، لیکن بعد والوں نے جو کیا اس کا مواخذہ ان کی گردن پر ہے، جب نبی کریم ﷺ نے ہر اونچی قبر کو برابر کر دینے کا حکم فرما دیا ہے تو اگر ہم اس حدیث کے بموجب کسی بزرگ یا ولی یا شہید کی بھی قبر برابر کر دیں گے تو ہم کو اجر و ثواب حاصل ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
43- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَى الْقُبُورِ وَتَجْصِيصِهَا وَالْكِتَابَةِ عَلَيْهَا
۴۳- باب: قبروں پر عمارت بنانے، ان کو پختہ کرنے اور ان پر کتبہ لگانے کی ممانعت​

1562- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ تَجْصِيصِ الْقُبُورِ۔
* تخريج: م/الجنائز۳۲ (۹۷۰)، د/الجنائز ۷۶ (۳۲۲۵)، ت/الجنائز ۵۸ (۱۰۵۲)، ن/الجنائز ۹۶ (۲۰۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۹۵، ۳۳۲، ۳۹۹) (صحیح)

۱۵۶۲- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت۱؎: قبروں کے پختہ بنانے میں ایک تو فضول خرچی ہے اس سے مردے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا دوسرے اس میں مرنے والوں کی ایسی تعظیم ہے جو انسان کو شرک کی طرف لے جاتی ہے اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے۔

1563- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُكْتَبَ عَلَى الْقَبْرِ شَيْئٌ۔
* تخريج: ن/الجنائز ۹۶ (۲۰۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۷۴)، وقد أخرجہ: د/الجنائز ۷۶ (۳۲۲۶)، ت/الجنائز ۵۸ (۱۰۵۲) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ۱۹۶، ۵۸۶)

۱۵۶۳- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبر پر کچھ لکھنے سے منع کیا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: قبر پر لکھنے سے مراد وہ کتبہ ہے جو لوگ قبر پر لگاتے ہیں، جس میں میت کی تاریخ وفات اور اوصاف و فضائل درج کئے جاتے ہیں، بعض علماء نے کہا ہے کہ ممانعت سے مراد اللہ یا رسول اللہ کا نام لکھنا ہے، یا قرآن مجید کی آیتیں لکھنا ہے کیونکہ بسا اوقات کوئی جانور اس پر پاخانہ پیشاب وغیرہ کر دیتا ہے جس سے ان چیزوں کی توہین ہوتی ہے۔

1564- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۷۷، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵۹) (صحیح)(تر اجع الألبانی: رقم: ۱۹۶)

۱۵۶۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے قبر پر عمارت بنانے سے منع کیا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: قبروں پر قبہ اور گنبدکی تعمیر کا معاملہ بھی یہی ہے یہ بلا وجہ کا اسراف ہے جس سے مردوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، اور مرنے والوں کی ایسی تعظیم ہے جو شرک کی طرف لے جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
44- بَاب مَا جَاءَ فِي حَثْوِ التُّرَابِ فِي الْقَبْرِ
۴۴- باب: قبر پر مٹی ڈالنے کا بیان​

1565- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُلْثُومٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، ثُمَّ أَتَى قَبْرَ الْمَيِّتِ، فَحَثَى عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلاثًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۰۲، ومصباح الزجاجۃ:۵۶۰) (صحیح)

۱۵۶۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صلاۃِ جنازہ پڑھی، پھر میت کی قبر کے پاس تشریف لا کر اس پر سرہانے سے تین مٹھی مٹی ڈالی۔
 
Top