18- بَاب مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ
۱۸- باب: صائم کے پچھنا لگوانے کا بیان
1679- حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍالرَّقِّيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ رَشِيدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۹) (صحیح) (عبد اللہ بن بشر کا سماع اعمش سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
۱۶۷۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ گیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث تواتر کے درجے کو پہنچی ہوئی ہے، اور اس بارے میں نص ہے کہ پچھنا (سینگی) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ جاتا ہے، اکثر فقہائے حدیث جیسے احمد، اسحاق بن راہویہ، ابن خزیمہ اور ابن المنذر کا یہی مذہب ہے، اور اسی کو محققین علماء جیسے شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم نے اختیار کیا ہے، اور یہ مذہب صحیح اور قیاس کے موافق ہے، حجامت قے کی طرح ہے، اور جب کوئی عمداً قے کرے تو قے سے صوم ٹوٹ جاتا ہے، لیکن مالک، ابو حنیفہ، شافعی اور جمہور علماء اس کے جواز کے قائل ہیں اور اس حدیث کی تاویل میں ان کے مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ
''أفطر الحاجم والمحجوم'' کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو افطار کے لیے پیش کر دیا ہے بلکہ قریب پہنچ گئے ہیں، جسے سینگی لگائی گئی وہ ضعف و کمزوری کی وجہ سے اور سینگی لگانے والا اس لیے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کہ جب وہ خون چوس رہا ہو تو خون کا قطرہ حلق میں چلا جائے اور صوم ٹوٹ جائے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور ناسخ انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جسے دارقطنی نے روایت کیا ہے :
''رخص النبي بعد في الحجامة للصائم وكان أنس يحتجم وهو صائم''۔
1680- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: <أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ >۔
* تخريج: د/الصوم ۲۸ (۲۳۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۷، ۲۸۰، ۲۸۲، ۲۸۳)، دي/الصیام ۳۶ (۱۷۷۴) (صحیح)
۱۶۸۰- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ گیا''۔
1681- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلابَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِالْبَقِيعِ، فَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ، بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ۔
* تخريج:د/الصوم ۲۸ (۲۳۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۲۳،۱۲۴،۱۲۵)، دي/الصوم ۲۶ (۱۷۷۱) (صحیح) (سند میں یحییٰ بن أبی کثیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن سابقہ حدیث تقویت پاکر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۴/۶۸/۷۰ و صحیح أبی داود: ۲۰۵۰- ۲۰۵۱ )
۱۶۸۱- ابو قلابہ سے روایت ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ گیا'' ۔
1682- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ۔
* تخريج: د/الحج ۳۶ (۱۸۳۵)، ت/الحج ۲۲ (۸۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۹۵)، وقد أخرجہ: خ/جزاء الصید ۱۱ (۱۸۳۵)، الصوم ۳۲ (۱۹۳۸)، الطب ۱۲ (۵۶۹۵)، ۱۵ (۵۷۰۰)، م/الحج ۱۱ (۱۲۰۲)، ن/الحج ۹۲ (۲۸۴۹)، حم (۱/۲۱۵، ۲۲۱، ۲۳۶، ۲۴۸، ۲۴۹، ۲۶۰، ۲۸۳، ۲۸۶، ۲۹۲، ۳۰۶، ۳۱۵، ۳۳۳، ۳۴۶، ۳۵۱، ۳۷۲،۳۷۴)، دي/المناسک ۲۰ (۱۸۶۰)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۳۰۸۱) (صحیح)
۱۶۸۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ صائم تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: صوم اور احرام دونوں حالتوں میں نبی اکرم ﷺ سے بچھنا لگوانا ثابت ہے، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں:
''احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ وَاحْتَجَمَ وَ هُوَ محْرِمٌ '' (نبی اکرم ﷺ نے صیام کی حالت میں پچھنا لگوایا اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی)۔