• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب مَا أُدِّيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ
۳- باب: زکاۃ ادا کیا ہوا مال کنز (خزانہ) نہیں ہے ۱؎​

وضاحت۱؎: یعنی وہ کنز (خزانہ) جس کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ اس کے مالک کو جہنم میں اس سے داغا جائے اور کہا جائے گا کہ یہ تیرا خزانہ ہے۔

1787- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَلَحِقَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ لَهُ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: مَنْ كَنَزَهَا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا، فَوَيْلٌ لَهُ، إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طَهُورًا لِلأَمْوَالِ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: مَا أُبَالِي لَوْ كَانَ لِي أُحُدٌ ذَهَبًا، أَعْلَمُ عَدَدَهُ وَأُزَكِّيهِ، وَأَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۳۹)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۴ (۱۴۰۴ تعلیقاً)، التفسیر (۴۶۶۱تعلیقاً) (صحیح)

۱۷۸۷- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام خا لد بن اسلم کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے ایک اعرابی (دیہاتی) ملا، اور آیت کریمہ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِِ}[سورة التوبة:۳۴] (جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں، اور اسے اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے) کے متعلق ان سے پوچھنے لگا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے اسے خزانہ بنا کر رکھا، اور اس کی زکاۃ ادا نہیں کی، تو اس کے لیے ہلا کت ہے، یہ آیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے کی ہے، پھر جب زکا ۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالی نے اسے مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنا دیا، پھر وہ دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کی تعداد مجھے معلوم ہو، اور اس کی زکاۃ ادا کرتا رہوں، اور اللہ کے حکم کے مطابق اس کو استعمال کرتا رہوں، تو مجھے کوئی پروا نہیں ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بہت مالدار آدمی تھے، اس اعرابی (دیہاتی) نے ان سے کچھ مانگا ہو گا، انہوں نے نہ دیا ہو گا تو یہ آیت ان کو شرمندہ کرنے کے لئے پڑھی، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی تفسیر بیان کی کہ یہ آیت اس وقت کی ہے جب زکاۃ کا حکم نہیں اترا تھا، اور مطلق مال کا حاصل کرنا اور اس سے محفوظ رکھنا منع تھا، اس کے بعد زکاۃ کا حکم اترا، اب جس مال حلال میں سے زکاۃ دی جائے وہ کنز (خزانہ) نہیں ہے، اگرچہ لاکھوں کروڑوں روپیہ ہو، بلکہ مال حلال اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ اور انسان جو عبادتیں مالداری کی حالت میں کر سکتا ہے جیسے صدقہ و خیرات، اسلامی لشکرکی تیاری، اور تعلیم دین وغیرہ میں مدد، مفلسی اور غریبی میں ہونا ناممکن ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جب مال حلال عنایت فرمائے تو اس کا شکریہ یہ ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کو خرچ کرے، آپ کھائے دوسروں کو کھلائے، صلہ رحمی کرے، مدرسے اور یتیم خانے، مسجدیں اور کنویں بنوا دے، مسافروں اور محتاجوں کی مدد کرے، اور جو مالدار اس طرح حلال مال کو اللہ کی رضا مندی میں صرف کرتا ہے اس کا درجہ بہت بڑا ہے۔
ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہزار غلام آزاد کئے اور ہزار گھوڑے اللہ کی راہ میں مجاہدین کو دیئے اور اس کے ساتھ وہ دنیا کی حکومت اور عہدے سے نفرت کرتے تھے۔ رضی اللہ عنہ۔

1788- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ >۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۲ (۶۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۹۱) (ضعیف)
(ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۲۱۸)
۱۷۸۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ''جب تم نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی، تو تم نے وہ حق ادا کر دیا جو تم پر تھا''۔

1789- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنْهَا سَمِعَتْهُ تَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: < لَيْسَ فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ >۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۲۷ (۶۵۹،۶۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۲۶)، وقد أخرجہ: دي/الزکاۃ ۱۳ (۱۶۷۷) (ضعیف منکر)
(سند میں درج ابو حمزہ میمون الٔاعور ضعیف راوی ہے، اور شریک القاضی بھی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۳۸۳)۔
۱۷۸۹- فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''مال میں زکاۃ کے علاوہ کوئی حق نہیں ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: امام ترمذی نے فاطمہ بنت قیس سے اس کے خلاف روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بے شک مال میں اور حق بھی ہیں، سوائے زکاۃ کے، تو یہ حدیث مضطرب ہوئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب زَكَاةِ الْوَرِقِ وَالذَّهَبِ
۴- باب: سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان​

1790- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنِّي قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ، وَلَكِنْ هَاتُوا رُبُعَ الْعُشْرِ، مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا >۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۴ (۱۵۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۳۹)، وقد أخرجہ: ت/الزکاۃ ۳ (۶۲۰)، ن/الزکاۃ ۱۸ (۲۴۷۹)، حم (۱/۱۲۱، ۱۳۲، ۱۴۶)، دي/الزکاۃ ۷ (۱۶۶۹) (صحیح)
(شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ۵/۲۹۵)
۱۷۹۰- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے، لیکن نقد پیسوں میں سے چالیسواں حصہ دو، ہر چالیس درہم میں ایک درہم کے حساب سے'' ۔

1791- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَأْخُذُ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا، فَصَاعِدًا، نِصْفَ دِينَارٍ، وَمِنَ الأَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۷۲۹۱، ۱۶۲۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴) (صحیح)
(ابراہیم بن اسماعیل ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۸۱۳)
۱۷۹۱- عبد اللہ بن عمر اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہر بیس دینار یا اس سے زیادہ میں آدھا دینار لیتے تھے، اور چالیس دینار میں ایک دینارکے حساب سے لیتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب مَنِ اسْتَفَادَ مَالا
۵- باب: جو شخص مال حاصل کرے اس کی زکاۃ کا بیان​

1792- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَارِثَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۱) (صحیح)
(حارثہ بن محمد بن أبی الرجال ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۸۱۳، الإرواء : ۷۸۷)
۱۷۹۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''کسی بھی مال پر اس وقت تک زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گذر جائے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اگر کسی کے پاس شروع سال میں دس دینار تھے، لیکن بیچ سال میں دس دینار اور ملے تو اس پر زکاۃ واجب نہ ہو گی جب تک بیس دینار پر پورا سال نہ گزرے، شافعی کا یہی قول ہے، اور ابو حنیفہ نے کہا کہ بیچ سال میں جو مال حاصل ہو وہ پہلے مال سے مل جائے گا اور سال پورا ہونے پر اس میں زکاۃ واجب ہو گی، یہ اختلاف اس صورت میں ہے، جب دوسرا مال الگ سے ہوا ہو، اور پہلے مال کا نفع ہو تو بالاتفاق اس سے مل جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ مِنَ الأَمْوَالِ
۶- باب: جن چیزوں میں زکاۃ واجب ہے ان کا بیان​

1793- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: < لا صَدَقَةَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلا فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۴ (۱۴۰۵)، ۳۲ (۱۴۴۷)، ۴۲ (۱۴۴۷)، ۵۶ (۱۴۸۴)، م/الزکاۃ ۱ (۹۷۹)، د/الزکاۃ ۱ (۱۵۵۸)، ت/الزکاۃ ۷ (۶۲۶،۶۲۷)، ن/الزکاۃ ۵ (۲۴۷۵)، ۱۸ (۲۴۷۸)، ۲۱ (۲۴۸۵)، ۲۴ (۲۴۸۶، ۲۴۸۹)، ط/الزکاۃ ۱ (۲)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۶،۳۰،۴۵، ۵۹، ۶۰، ۴۳)، دي/الزکاۃ ۱۱ (۱۶۷۳،۱۶۷۴) (صحیح)

۱۷۹۳- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''پانچ وسق ۱؎ سے کم کھجور میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ ۲؎ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے''۔
وضاحت۱؎: ایک وسق ۶۰ صاع کا ہوتا ہے، اور ایک صاع کا وزن ڈھائی کلوگرام ہوتا ہے، شیخ عبد اللہ البسام نے تین کلوگرام لکھا ہے، اس طرح سے ۵/ وسق کا وزن تقریباً ساڑھے (۷۵۰) کلو گرام ہوتا ہے، اور شیخ عبد اللہ البسام کے کہنے کے مطابق (۹۰۰) کلوگرام، اتنے غلہ پر جب کھیتی کو بارش اور چشمے کے پانی سے سینچا گیا ہو تو اس میں عشر یعنی دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جب سینچائی میں پیسہ خرچ گیا ہو جیسے آج کل سرکاری نہروں کے پانی پر محصول دینا پڑتا ہے، یا ٹیوب ویل کے ذریعہ سینچائی ہوتی ہے تو اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔) (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام للبسام حدیث نمبر:۵۰۴)
وضاحت۲؎: اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس حساب سے پانچ اوقیہ کے دو سو درہم ہوئے، موجودہ وزن کے حساب سے دو سو درہم کا وزن پانچ سو پچانوے (۵۹۵) گرام ہے یعنی اتنی چاندی پر اگر ایک سال گزر جائے تو اس پر ڈھائی فیصد زکاۃ ہے، اور جب بیس دینار سونا ہو جس کا وزن (۸۵) گرام ہوتا ہے تو اس میں ڈھائی فیصد زکاۃ ہے۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام للبسام حدیث نمبر: ۴۹۸ و ۵۰۴ ) شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے بیس مثقال سونے کا وزن (۹۲) گرام لکھا ہے، (مجموع فتاوی، شیخ ابن باز ۴/۹۱)

1794- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۶۶، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۲)، حم (۳/۲۹۶) (صحیح)

۱۷۹۴- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم اناج یا میوہ میں زکاۃ نہیں ہے'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ قَبْلَ مَحِلِّهَا
۷-باب: وقت سے پہلے زکاۃ نکالنے کا بیان​

1795- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۲۱ (۱۶۲۴)، ت/الزکاۃ ۳۷ (۶۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۰۴)، دي/الزکاۃ ۱۲ (۱۶۸۷) (حسن)

۱۷۹۵- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے اپنی زکاۃ پیشگی ادا کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ نے انہیں اس کی رخصت دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب مَا يُقَالُ عِنْدَ إِخْرَاجِ الزَّكَاةِ
۸- باب: زکاۃ نکالنے والے کو زکاۃ نکالنے پر کیا دعا دی جائے؟​

1796- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي فَقَالَ: < اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۶۴ (۱۴۹۷)، المغازي ۳۵ (۴۱۶۶)، الدعوات ۱۹ (۶۳۳۲)، ۳۳ (۶۳۵۹)، م/الزکاۃ ۵۴ (۱۰۷۸)، د/الزکاۃ ۶ (۱۵۹۰)، ن/الزکاۃ ۱۳ (۲۴۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۷۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۳، ۳۵۴، ۳۵۵، ۳۸۱،۳۸۳) (صحیح)

۱۷۹۶- عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اے اللہ! ابو اوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی زکاۃ خود لے کر آئے تو عامل (زکاۃ وصول کرنے والا) اُس کو دعائیں دے۔

1797- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَعْطَيْتُمُ الزَّكَاةَ فَلا تَنْسَوْا ثَوَابَهَا، أَنْ تَقُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مَغْنَمًا وَلا تَجْعَلْهَا مَغْرَمًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۲۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۳) (موضوع)

(بختری بن عبید ضعیف ، متروک راوی ہے، اور ولیدبن مسلم مدلس ، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ۸۵۲ ، الضعیفہ : ۱۰۹۶)
۱۷۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم زکاۃ دو اس کا ثواب نہ بھول جاؤ، بلکہ یوں کہو: ''اے اللہ! تو اسے ہمارے لیے مال غنیمت بنا دے، اسے تاوان نہ بنا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب صَدَقَةِ الإِبِلِ
۹- باب: اونٹ کی زکاۃ کا بیان​

1798- حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَجَدْتُ فِيهِ: < فِي خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ، إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ، ذَكَرٌ، فَإِنْ زَادَتْ، عَلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ، وَاحِدَةً، فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ، إِلَى خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ، عَلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، وَاحِدَةً، فَفِيهَا حِقَّةٌ، إِلَى سِتِّينَ، فَإِنْ زَادَتْ، عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً، فَفِيهَا جَذَعَةٌ، إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ، عَلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، وَاحِدَةً، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ، إِلَى تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ، عَلَى تِسْعِينَ، وَاحِدَةً، فَفِيهَا حِقَّتَانِ، إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ، فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ، حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ، بِنْتُ لَبُونٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۳۷)، وقد أخرجہ: د/الزکاۃ ۴ (۱۵۶۸)، ت/الزکاۃ ۴ (۶۲۱)، ط/الزکاۃ ۱۱ (۲۳)، حم (۲/۱۴، ۱۵)، دي/الزکاۃ ۶ (۱۶۶۶) (صحیح)

۱۷۹۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھوائی، جو رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کے بیان میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے یہ لکھا پایا: ''پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور دس اونٹ میں دو بکریاں ہیں، اور پندرہ اونٹ میں تین بکریاں ہیں، اور بیس اونٹ میں چار بکریاں ہیں، اور پچیس سے پینتیس اونٹوں تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون ۲؎ ہے، اور اگر پینتیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ۴۵ تک بنت لبون ۳؎ ہے، اور اگر ۴۵ سے بھی زیادہ ہو جائے تو ساٹھ تک ایک حقہ۴؎ ہے، اور اگر ساٹھ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے، تو ۷۵ تک ایک جذعہ ۵؎ اور اگر ۷۵ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو نوے تک دو بنت لبون ہیں، اور اگر نوے سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو ۱۲۰ تک دو حقے ہیں، اور اگر ۱۲۰ سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک حقہ، اور ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے''۔
وضاحت۱؎: بنت مخاض: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کا ایک سال پورا کر چکا ہو۔
وضاحت۲؎: ابن لبون: اونٹ کا وہ نر بچہ جو اپنی عمر کے دو سال پورے کر چکا ہو۔
وضاحت۳؎: بنت لبون: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کے دو سال پور ے کرچکا ہو۔
وضاحت۴؎: حقہ: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو اپنی عمر کے تین سال پورے کر چکا ہو۔
وضاحت۵؎: جذعہ: اونٹ کا وہ مادہ بچہ جو عمر کے چار سال پورے کر چکا ہو۔

1799- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلا فِي الأَرْبَعِ شَيْئٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا، فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعًا، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا، فَفِيهَا شَاتَانِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاهٍ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعَ عَشْرَةَ، فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ، فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ، فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ، إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ، فَإِذَا لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ، ذَكَرٌ، فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا، فَفِيهَا بِنْت لَبُونٍ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا، فَفِيهَا حِقَّةٌ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ،فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا، فَفِيهَا جَذَعَةٌ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا، فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ بَعِيرًا، فَفِيهَا حِقَّتَانِ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، ثُمَّ فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ، بِنْتُ لَبُونٍ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۰۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۶،۳۰،۷۳) (حسن)
(ملاحظہ ہو : الصحیحہ : ۲۱۹۲)
۱۷۹۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور چار میں کچھ نہیں ہے، جب پانچ اونٹ ہو جائیں تو نو تک ایک بکری ہے ، جب دس ہو جائیں تو چودہ تک دو بکریاں ہیں، اور جب پندرہ ہو جائیں تو ۱۹ تک تین بکریاں ہیں، اور جب بیس ہو جائیں تو ۲۴ تک چار بکریاں ہیں اور جب پچیس ہو جائیں تو ۳۵ تک بنت مخاض (ایک سال کی اونٹنی ) ہے اور اگر ایک سال کی اونٹنی نہ ہو تو ایک ابن لبون (دو سال کا ایک اونٹ) ہے اور اگر ۳۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۴۵ تک بنت لبون (دو سال کی ایک اونٹنی) ہے اور اگر ۴۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ساٹھ تک حقہ ( تین سال کی ایک اونٹنی ) ہے، اور اگر ۶۰ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۷۵ تک جذعہ (چار سال کی ایک اونٹنی) ہے، اور اگر ۷۵ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو ۹۰ تک دو بنت لبون (دو سال کی دو اونٹنیاں) ہیں، اور اگر۹۰ سے ایک اونٹ بھی زیادہ ہو جائے تو۱۲۰ تک دو حقہ (تین سال کی دو اونٹنیاں) ہیں، پھر ہر پچاس میں ایک حقہ (تین سال کی ایک اونٹنی)، اور ہر چالیس میں بنت لبون (دو سال کی ایک اونٹنی) ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب إِذَا أَخَذَ الْمُصَدِّقُ سِنًّا دُونَ سِنٍّ أَوْ فَوْقَ سِنٍّ
۱۰- باب: جب زکاۃ وصول کرنے والا زکاۃ دینے والے سے مقررہ عمر سے چھوٹا یا بڑا جانور لے تو اس کے حکم کا بیان​

1800- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَتَبَ لَهُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَإِنَّ مِنْ أَسْنَانِ الإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الْغَنَمِ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيَجْعَلُ مَكَانَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا بِنْتُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ، وَيُعْطِي مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ، وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا، أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ بِنْتُ لَبُونٍ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، أَوْ شَاتَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ، عَلَى وَجْهِهَا، وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْئٌ۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۳۳ (۱۴۴۸)، ۳۹ (۱۴۵۵)، الشرکۃ ۲ (۲۴۸۷)، فرض الخمس ۵ (۳۱۰۶) الحیل ۳ (۶۹۵۵)، د/الزکاۃ ۴ (۱۵۶۷)، ن/الزکاۃ ۵ (۲۴۴۹)، ۱۰ (۲۴۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۱،۱۳) (صحیح)

۱۸۰۰- انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ فریضہ زکاۃ کا نصاب ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے اور اللہ تعالی نے اپنے رسول کو اس کا حکم دیا، زکاۃ کے اونٹوں کی مقررہ عمروں میں کمی بیشی کی تلافی اس طرح ہو گی کہ جس کو زکاۃ میں جذعہ (چار سال کی اونٹنی) ادا کرنی ہو جو اس کے پاس نہ ہو بلکہ حقہ (تین سالہ اونٹنی) ہو تو وہی لے لی جائے گی، اور کمی کے بدلے دو بکریاں لی جائیں گی، اگر اس کے پاس ہوں، ورنہ بیس درہم لیا جائے گا اور جس شخص کو حقہ بطور زکاۃ ادا کرنا ہو اور اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون قبول کر لی جا ئے گی، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم دے گا، اور جس کو زکاۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو اس سے حقہ لیا جائے گا، اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے گا، اور جسے زکاۃ میں بنت لبون ادا کرنی ہو، اس کے پاس بنت لبون نہ ہو بلکہ بنت مخاض ہو تو اس سے بنت مخاض لی جائے گی، اور ساتھ میں زکاۃ دینے والا بیس درہم یا دو بکریاں دے گا، اور جس کو زکاۃ میں بنت مخاض ادا کرنی ہو اور اس کے پاس وہ نہ ہو بلکہ بنت لبون ہو تو اس سے بنت لبون لے لی جائے گی، اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا، اور جس کے پاس بنت مخاض نہ ہو بلکہ ابن لبون ہو تو اس سے وہی لے لیا جا ئے گا، اور اس کو اس کے ساتھ کچھ اور نہ دینا ہو گا۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ اگر پورے سن کی اونٹنی نہ ہو تو اس سے ایک سال زیادہ کا نر اونٹ اسی کے برابر سمجھا جائے گا، نہ صرف مال والے کو کچھ دینا ہو گا، نہ زکاۃ لینے والے کو کچھ پھیرنا پڑے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب مَا يَأْخُذُ الْمُصَدِّقُ مِنَ الإِبِلِ
۱۱- باب: محصل زکاۃ والے سے کس قسم کا اونٹ لے؟​

1801- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: جَاءَنَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ ﷺ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ: لا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، فَأَتَاهُ بِأُخْرَى دُونَهَا فَأَخَذَهَا، وَقَالَ: أَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي، وَأَيُّ سَمَائٍ تُظِلُّنِي، إِذَا أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَقَدْ أَخَذْتُ خِيَارَ إِبِلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۴ (۱۵۷۹)، ن/الزکاۃ ۱۲ (۲۴۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۱۵)، دي/الزکاۃ ۸ (۱۶۷۰) (صحیح)

۱۸۰۱- سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا عامل صدقہ (زکاۃ وصول کرنے والا) آیا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، اور اس کے میثاق (عہد نامہ) میں پڑھا کہ الگ الگ مالوں کو یکجا نہ کیا جائے، اور نہ مشترک مال کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ کیا جائے، ایک شخص ان کے پاس ایک بھاری اور موٹی سی اونٹنی لے کر آیا، عامل زکاۃ نے اس کو لینے سے انکار کر دیا، آخر وہ دوسری اونٹنی اس سے کم درجہ کی لایا، تو عامل نے اس کو لے لیا، اور کہا کہ کون سی زمین مجھے جگہ دے گی، اور کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا ؟ جب میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مسلمان کا بہترین مال لے کے جاؤں گا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی زکا ۃ زیادہ یا کم دینے کے ڈرسے زیادہ کا اندیشہ مالک کو ہو گا، اور کم کا خوف زکاۃ وصول کرنے والے کو ہو گا، یہ حکم زکاۃ دینے والے اور زکاۃ وصول کرنے والے دونوں کے لیے ہے۔
الگ الگ کو یکجا کرنے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً تین آدمی ہیں ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہیں، الگ الگ کی صورت میں ہر ایک کو ایک ایک بکری دینی پڑے گی اس طرح مجموعی طورپر تین بکریاں دینی پڑتی ہیں مگر جب زکاۃ وصول کر نے والا ان کے پاس پہنچتا ہے تو وہ سب بکریاں جمع کر لیتے ہیں اور تعداد ایک سو بیس بن جاتی ہے، اس طرح ان کو صرف ایک بکری دینی پڑتی ہے۔
اور اکٹھا بکریوں کو الگ الگ کرنے کی صورت یہ ہے کہ دو آدمی اکٹھے ہیں اور دو سو ایک بکریاں ان کی ملکیت میں ہیں اس طرح تین بکریاں زکاۃ میں دینا لازم آتا ہے مگر جب زکاۃ وصول کرنے والا ان کے پاس پہنچتا ہے تو دونوں اپنی اپنی بکریاں الگ کر لیتے ہیں اس طرح ان میں سے ہر ایک کے ذمہ ایک ایک ہی بکری لازم آتی ہے، خلاصہ یہ کہ اس طرح کی حیلہ سازی کر نے سے منع کیا گیا ہے۔
زکاۃ وصول کرنے والے کو منع کرنے کی صورت یہ ہے کہ دو آدمی ہیں جو نہ تو باہم شریک (ساجھی دار) ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ اپنا مال ملائے ہوئے ہیں ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس ایک سو بیس یا اس سے کم و زیادہ بکریاں ہیں تو اس صورت میں ہر ایک کو ایک بکری زکاۃ میں دینی پڑتی ہے، مگر زکاۃ وصول کرنے والا ان دونوں کی بکریاں ازخود جمع کر دیتا ہے، اور ان کی مجموعی تعداد دو سو سے زائد ہو جاتی ہے، اس طرح وہ تین بکریاں وصول کر لیتا ہے اور جمع شدہ کو الگ الگ کرنے کی صورت یہ ہے کہ مثلاً ایک سو بیس بکریاں تین آدمیوں کی ملکیت میں ہیں اس صورت میں صرف ایک ہی بکری زکاۃ میں دینی پڑتی ہے، مگر زکاۃ وصول کرنے والا اسے تین الگ الگ حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے اور اس طرح تین بکریاں وصول کر لیتا ہے۔

1802- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَرْجِعُ الْمُصَدِّقُ إِلا عَنْ رِضًا >۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۵۵ (۹۸۹)، ت/الزکاۃ ۲۰ (۶۴۷، ۶۴۸)، ن/الزکاۃ ۱۴ (۲۴۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۱۵)، وقد أخرجہ: د/الزکاۃ ۵ (۱۵۸۹)، حم (۴/۳۶۲)، دي/الزکاۃ ۳۲ (۱۷۱۲) (صحیح)

۱۸۰۲- جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عامل زکاۃ لوگوں کو خوش رکھ کر ہی واپس جائے''۱؎۔
وضاحت۱؎: سبحان اللہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایمان داری اور خوف الہی کو دیکھئے کہ ایک شخص نے خوشی سے اپنا عمدہ مال زکاۃ میں دیا تب بھی انہوں نے قبول نہ کیا، دو وجہ سے، ایک تو یہ کہ نبی کریم ﷺ نے عمدہ مال زکاۃ میں لینے سے منع کر دیا تھا، دوسرے اس وجہ سے کہ شاید دینے والے کے دل کو ناگوار ہو، گو وہ ظاہر میں خوشی سے دیتا ہے، اس ذرا سی حق تلفی اور ناراضی کو بھی اتنا بڑا گناہ سمجھا کہ یوں کہا: زمین مجھے کیسے اٹھائے گی اور آسمان میرے اوپر گر پڑے گا اگر میں ایسا کام کروں، جب اسلام میں ایسے متقی اور ایمان دار اللہ تعالی سے ڈرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے تھے تو اسلام کو اس قدر جلد ایسی ترقی ہوئی کہ اس کا پیغام دنیا کے چپہ چپہ میں پہنچ گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب صَدَقَةِ الْبَقَرِ
۱۲- باب: گائے بیل کی زکاۃ کا بیان​

1803- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ،عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ؛ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى الْيَمَنِ، وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ ثَلاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۴ (۱۵۷۷)، ت/الزکاۃ۵ (۶۲۳)، ن/الزکاۃ ۸ (۲۴۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۶۳)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۱۲ (۲۴)، حم (۵/۲۳۰، ۲۳۳، ۲۴۷)، دي/الزکاۃ ۵ (۱۶۶۳) (صحیح)

۱۸۰۳- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں ایک مُسنّۃ ۱؎ لوں، اور۳۰ تیس گائے میں ایک تبیع ۲؎ یا تبیعہ ۳؎ لوں۔
وضاحت۱؎: مُسِنّہ: ایسی گائے جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں داخل ہو گئی ہو۔ اور اس کے سامنے والے دانت گر کر دوبارہ نکل آئے ہوں۔
وضاحت۲؎: تبیع: گائے کا وہ بچھڑا جو ایک سال پورا کرکے دوسرے میں داخل ہو گیا ہو۔
وضاحت۳؎: تبیعہ: گائے کی وہ بچھڑی جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں داخل ہو گئی ہو۔

1804- حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ خَصِيفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < فِي ثَلاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ، تَبِيعٌ أَوْ تَبِيعَةٌ وَفِي أَرْبَعِينَ، مُسِنَّةٌ >۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۵ (۶۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۱۱) (صحیح)

۱۸۰۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تیس گائے میں ایک تبیع یا ایک تبیعہ اور چالیس میں ایک مسنہ ہے''۔
 
Top