• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب صَدَقَةِ الْغَنَمِ
۱۳- باب: بکریوں کی زکاۃ کا بیان​

1805- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، فَوَجَدْتُ فِيهِ < فِي أَرْبَعِينَ شَاةً، شَاةٌ، إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ، إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاهٍ، إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، فَإِذَا كَثُرَتْ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ، شَاةٌ >، وَوَجَدْتُ فِيهِ < لا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلايُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ >، وَوَجَدْتُ فِيهِ < لا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ وَلا هَرِمَةٌ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ >۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۴ (۱۵۶۸)، ت/الزکاۃ ۴ (۶۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۳۷)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۱۱ (۲۳)، حم (۲/۱۴، ۱۵)، دي/الزکاۃ ۴ (۱۶۶۶) (صحیح)

۱۸۰۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا:''چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: ''متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے، ''اور اس میں یہ بھی پایا: ''زکاۃ میں جفتی کے لئے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے''۔

1806- حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۳۴، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۴) (حسن صحیح)
( ملاحظہ ہو: الصحیحہ : ۱۷۷۹)
۱۸۰۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مسلمانوں کی زکاۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں میں لی جائے گی'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: ہر ایک اپنے جانوروں کو اپنی بستی میں پانی پلاتا ہے تو مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے والا ان کی بستیوں میں جا کر زکاۃ وصول کرے گا یہ نہ ہو گا کہ وہ اپنی بستیوں کے باہر زکاۃ دینے کے لئے بلائے جائیں، یہ بھی رعایا پر ایک شفقت ہے، پانی کے گھاٹ پر جانوروں کے زکاۃ اصول کرنے کا محصل کو فائدہ یہ بھی ہو گا کہ وہاں تمام ریوڑ اور ہر ریوڑ کے تمام جانور پانی پینے کے لیے جمع ہوتے ہیں، گنتی میں آسانی رہتی ہے، جب کہ چراگاہوں میں جانور بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور وہاں ان کا شمارکرنا مشکل ہوتا ہے۔

1807- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالسَّلامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ < فِي أَرْبَعِينَ شَاةً، شَاةٌ، إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ، إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ثَلاثُ شِيَاهٍ، إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ، شَاةٌ، لايُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَكُلُّ خَلِيطَيْنِ يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، وَلَيْسَ لِلْمُصَدِّقِ هَرِمَةٌ وَلا ذَاتُ عَوَارٍ وَلاتَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۴۵) (صحیح)

۱۸۰۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''چالیس سے لے کر ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر دو سو سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، اور اگر تین سو سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے، اور جو جانور اکٹھے ہوں انہیں زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ نہ کیا جائے، اورنہ ہی جو الگ الگ ہوں انہیں اکٹھا کیا جائے، اور اگر مال میں دو شخص شریک ہوں تو دونوں اپنے اپنے حصہ کے موافق زکاۃ پوری کریں ۱؎، اور زکاۃ میں عامل زکاۃ کو بوڑھا، عیب دار اور جفتی کا مخصوص بکرا نہ دیا جائے، الا یہ کہ عامل زکاۃ خود ہی لینا چاہے۲؎۔
وضاحت۱؎: مثلاً دو شریک ہیں ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں، اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں ہیں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں، زکاۃ وصول کرنے والا آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجیے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے، اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں، اور دو سو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالیسے بنتے ہیں جن میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہو گی اور ۲۵ چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر ہو گی، اب اگر زکاۃ وصول کرنے والا نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپئے واپس کرے گا، اور اگر زکاۃ وصول کرنے والے نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے دس بکریاں لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ ادا کرے گا۔
وضاحت۲؎: یعنی جب کسی مصلحت کی وجہ سے محصل (زکاۃ وصول کرنے والا) کسی عیب دار یا بوڑھے یا نر جانور کو لینا چاہے تو صاحب مال پر کوئی زور نہیں کہ وہ دے ہی دے اور محصل کی مرضی کے بغیر اس قسم کے جانور کو زکاۃ میں دینا منع ہے، مصلحت یہ ہے کہ مثلاً عیب دار جانور قوی اورموٹا ہو، دودھ کی زیادہ توقع ہو، یا زکاۃ کے جانور سب مادہ ہوں، ان میں نر کی ضرورت ہو تو نر قبول کرے یا بوڑھا جانور ہو لیکن عمدہ نسل کا ہو تو اس کو قبول کرے ۔ واللہ اعلم ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب مَا جَاءَ فِي عُمَّالِ الصَّدَقَةِ
۱۴- باب: زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان​

1808- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا >۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۴ (۱۵۸۵)، ت/الزکاۃ ۱۹ (۶۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۷) (حسن)
(ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ۱۴۱۳)۔
۱۸۰۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے''۔

1809- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ >۔
* تخريج: د/الخراج والإمارۃ ۷ (۲۹۳۶)، ت/الزکاۃ ۱۸ (۶۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۴۳، ۴۶۵، ۴/۱۴۳) (حسن صحیح)
( ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ۲۶۰۴)
۱۸۰۹- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''حق و انصاف کے ساتھ زکاۃ وصول کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، جب تک کہ لوٹ کر اپنے گھر واپس نہ آجائے''۱؎۔
وضاحت۱؎: حق و انصاف سے کام لے یعنی شرع کے موافق رحم، شفقت اور رضا مندی کے ساتھ زکاۃ کی وصولی کرے۔

1810- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ تَذَاكَرَ هُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، يَوْمًا، الصَّدَقَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ حِينَ يَذْكُرُ غُلُولَ الصَّدَقَةِ < أَنَّهُ مَنْ غَلَّ مِنْهَا بَعِيرًا أَوْ شَاةً أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ؟ > قَالَ: فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ: بَلَى۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۸۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۶)، وقد أخرجہ: حم ۳/۴۹۸) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۳۵۴)
۱۸۱۰- عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن زکاۃ کے بارے میں آپس میں بات کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے جس وقت آپ زکاۃ میں خیانت کا ذکر کر رہے تھے یہ نہیں سنا: ''جس نے زکاۃ کے مال سے ایک اونٹ یا ایک بکری چرالی تو وہ قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے لے کر آئے گا''؟ عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں (ہاں، میں نے سنا ہے)۔

1811- حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَائٍ، مَوْلَى عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ اسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ قِيلَ لَهُ: أَيْنَ الْمَالُ؟ قَالَ: وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتَنِي أَخَذْنَاهُ مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَوَضَعْنَاهُ حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهُ۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۲۲ (۱۶۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۳۴) (صحیح)

۱۸۱۱- عمران رضی اللہ عنہ کے غلام عطا بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ زکاۃ پہ عامل بنائے گئے، جب لوٹ کر آئے تو ان سے پوچھا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے زکاۃ ان لوگوں سے لی جن سے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لیا کرتے تھے، اور پھر اس کو ان مقامات میں خرچ ڈالا جہاں ہم خرچ کیا کرتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرکے آپ کے پاس لانا ضروری نہ تھا، بلکہ زکاۃ جن لوگوں سے لی جائے انہی کے فقراء و مساکین میں بانٹ دینا بہتر ہے، البتہ اگر دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند اور محتاج ہوں تو ان کو دینا چاہئے، پس میں نے سنت کے موافق جن لوگوں سے زکاۃ لینی چاہی تھی، ان سے لی اور وہیں فقیروں اور محتاجوں کو بانٹ دی، آپ کے پاس کیا لاتا؟ کیا آپ نے مجھ کو مال کے یہاں اپنے پاس لانے پر مقرر کیا تھا؟
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ
۱۵- باب: گھوڑے اور غلام کی زکاۃ کا بیان​

1812- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ وَلا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۴۵ (۱۴۶۳)، ۴۶ (۱۴۶۴)، م/الزکاۃ ۲ (۹۸۲)، د/الزکاۃ ۱۱ (۱۵۹۴،۱۵۹۵)، ت/الزکاۃ ۸ (۶۲۸)، ن/الزکاۃ ۱۶ (۲۳۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۵۳)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۲۳ (۳۷)، حم (۲/۲۴۲، ۲۴۹، ۲۵۴، ۲۷۹، ۴۱۰، ۴۲۰، ۴۳۲، ۴۵۴، ۴۶۹، ۴۷۰)، دي/الزکاۃ ۱۰ (۱۶۷۲) (صحیح)

۱۸۱۲- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مسلمان پہ اس کے گھوڑے اور غلام میں زکاۃ نہیں ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو غلام، لونڈی اور گھوڑوں میں زکاۃ کو واجب نہیں کہتے، اور بعضوں نے کہا: اس حدیث میں گھوڑوں سے مراد غازی اور مجاہد کا گھوڑا ہے، جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور بعض نے کہا: اگر گھوڑے جنگل میں چرتے ہوں اور ان میں نر اور مادہ دونوں ہوں تو ان کے مالک کو اختیار ہے خواہ ہر گھوڑے کے بدلے ایک دینار زکاۃ دے یا جملہ گھوڑوں کی قیمت لگا کر اس کا چالیسواں حصہ دے، ایسا ہی عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، امام ابو حنیفہ کا بھی یہی قول ہے، لیکن صاحبین اور جمہور علماء اور ائمہ اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ گھوڑے، غلام اور لونڈی میں مطلقاً زکاۃ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔

1813- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < تَجَوَّزْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۵۵) (صحیح)

۱۸۱۳- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''میں نے تم سے گھوڑوں، غلام اور لونڈیوں کی زکاۃ معاف کر دی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب مَا تَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ مِنَ الأَمْوَالِ
۱۶- باب: جن مالوں میں زکا ۃ واجب ہے اس کا بیان​

1814- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، وَقَالَ لَهُ: < خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ، وَالْبَعِيرَ مِنَ الإِبِلِ، وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ >۔
* تخريج:د/الزکاۃ ۱۱ (۱۵۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۴۸) (ضعیف)
(عطاء بن یسار اور معاذ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۳۵۴۴)
۱۸۱۴- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن بھیجا اور فرمایا: ''(زکاۃ میں) غلہ میں سے غلہ، بکریوں میں سے بکری، اونٹوں میں سے اونٹ، اور گایوں میں سے گائے لو''۔

1815- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: إِنَّمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الزَّكَاةَ فِي هَذِهِ الْخَمْسَةِ: فِي الْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ، وَالذُّرَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۷) (ضعیف جدا)
(محمد بن عبید اللہ متروک ہے، لیکن لفظ ''الأربعۃ'' کے ساتھ یہ صحیح ہے، ہاں ''الذُّرَةِ'' کا ذکر منکر ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۸۰۱)
۱۸۱۵- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان پانچ چیزوں میں زکاۃ مقرر کی ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی میں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب صَدَقَةِ الزُّرُوعِ وَالثِّمَارِ
۱۷- باب: غلّوں اور پھلوں کی زکاۃ کا بیان​

1816- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى، أَبُو مُوسَى الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ يَسَارٍ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ، نِصْفُ الْعُشْرِ >۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۱۴ (۶۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۰۸، ۱۳۴۸۳) (صحیح)

۱۸۱۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو غلہ بارش یا چشمہ کے پانی سے پیدا ہوتا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ کا ہے، اور جو غلہ پانی سینچ کر پیدا ہو اس میں بیسواں حصہ زکاۃ ہے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: اوپر کی حدیث میں آیا ہے کہ زکاۃ پانچ چیزوں میں ہے: گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی، اس میں مزید آسانی یہ ہے کہ یہ (عشر اور نصف عشر) دسواں اور بیسواں حصہ بھی صرف انہیں پانچ چیزوں سے لیا جائے گا جن کا ذکر اوپر ہوا، باقی تمام غلے اور میوہ جات، پھل پھول اور سبزیاں و ترکاریاں وغیرہ وغیرہ میں زکاۃ معاف ہے، اور ایک شرط یہ بھی ہے یہ پانچ چیزیں بھی پانچ وسق یعنی (۷۵۰) کلو گرام اور بقول شیخ عبد اللہ البسام (۹۰۰کلوگرام) سے کم نہ ہوں، ورنہ ان میں بھی زکاۃ معاف ہو گی، لیکن امام ابو حنیفہ اس حدیث سے یہ دلیل لیتے ہیں کہ جملہ پیداوار میں دسواں اور بیسواں حصہ ہے کیونکہ (ماسقت السماء) کا لفظ عام ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: احادیث میں تطبیق دینا ضروری ہے اور جب غور سے دیکھو تو کوئی تعارض نہیں ہے، اس حدیث میں مقصود یہ ہے کہ بارش سے ہونے والی زراعت (کھیتی) میں دسواں حصہ ہے، کنویں اور نہر سے سینچی جانے والی زراعت میں بیسواں حصہ، (اس لیے کہ اس میں آدمی کو پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور محنت بھی) لیکن اس میں اموال زکاۃ اور مقدار نصاب کی تصریح نہیں ہے، یہ تصریح دوسری احادیث میں وارد ہے کہ زکاۃ صرف پانچ چیزوں میں ہے اور پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے تو یہ عام اسی خاص پر محمول ہو گا۔

1817- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ، أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ، وَالْعُيُونُ، أَوْ كَانَ بَعْلا، الْعُشْرُ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّوَانِي، نِصْفُ الْعُشْرِ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۵۵ (۱۴۸۳)، د/الزکا ۃ ۱۱ (۱۵۹۶)، ت/الزکاۃ ۱۴ (۶۴۰)، ن/الزکاۃ ۲۵ (۲۴۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۷۷) (صحیح)

۱۸۱۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جو غلہ اور پھل بارش، نہر، چشمہ یا زمین کی تری (سیرابی) سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے، اور جسے جانوروں کے ذریعہ سینچا گیا ہو اس میں بیسواں حصہ ہے''۔

1818- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ؛ قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى الْيَمَنِ، وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِمَّا سَقَتِ السَّمَاءُ، وَمَا سُقِيَ بَعْلا، الْعُشْرَ، وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي، نِصْفَ الْعُشْرِ، قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: الْبَعْلُ وَالْعَثَرِيُّ وَالْعَذْيُ هُوَ الَّذِي يُسْقَى بِمَاءِ السَّمَاءِ، وَالْعَثَرِيُّ مَا يُزْرَعُ بِالسَّحَابِ وَالْمَطَرِ خَاصَّةً، لَيْسَ يُصِيبُهُ إِلا مَاءُ الْمَطَرِ، وَالْبَعْلُ مَا كَانَ مِنَ الْكُرُومِ قَدْ ذَهَبَتْ عُرُوقُهُ فِي الأَرْضِ إِلَى الْمَاءِ، فَلا يَحْتَاجُ إِلَى السَّقْيِ، الْخَمْسَ سِنِينَ وَالسِّتَّ، يَحْتَمِلُ تَرْكَ السَّقْيِ، فَهَذَا الْبَعْلُ، وَالسَّيْلُ مَاءُ الْوَادِي إِذَا سَالَ، وَالْغَيْلُ سَيْلٌ دُونَ سَيْلٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۶۴)، وقد أخرجہ: ن/الزکاۃ ۲۵ (۲۴۹۲)، حم (۵/۲۳۳)، دي/الزکاۃ ۲۹ (۱۷۰۹) (حسن صحیح)

۱۸۱۸- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ جو پیدا وار بارش کے پانی سے ہو اور جو زمین کی تری سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ لوں، اور جو چرخی کے پانی سے ہو اس میں بیسواں حصہ لوں۔
یحیی بن آدم کہتے ہیں: بعل ،عثری اورعذی وہ زراعت (کھیتی) ہے جو بارش کے پانی سے سیراب کی جائے، اور عثری اس زراعت کو کہتے ہیں: جو خاص بارش کے پانی سے ہی بوئی جائے اور دوسرا پانی اسے نہ پہنچے، اور بعل وہ انگور ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر پانی تک چلی گئی ہوں اور اوپر سے پانچ چھ سال تک پانی دینے کی حاجت نہ ہو، بغیر سینچائی کے کام چل جائے، اور سیل کہتے ہیں وادی کے بہتے پانی کو، اور غیل کہتے ہیں چھوٹے سیل کو۱؎۔

وضاحت۱؎: سیل اور غیل دونوں کو اسی لئے بیان کیا کہ بعض روایتوں میں غیل کی جگہ سیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جو زراعت سیل (سیلاب) کے پانی سے پیدا ہو اس میں دسواں حصہ لازم ہو گا کیونکہ وہ بارش والے پانی کی زراعت کے مثل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب خَرْصِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ
۱۸- باب: (زکاۃ میں) کھجور اور انگور کا اندازہ لگانا​

1819- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَالزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ التَّمَّارُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَبْعَثُ عَلَى النَّاسِ مَنْ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۱۳ (۱۶۰۳، ۱۶۰۴)، ت/الزکاۃ ۱۷ (۶۴۴)، ن/الزکاۃ ۱۰۰ (۲۶۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۴۸) (ضعیف)
(سعید بن مسیب اور عتاب رضی اللہ عنہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے)
۱۸۱۹- عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں کے پاس ایک شخص کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: خرص: کا مطلب تخمینہ اور اندازہ لگانے کے ہیں یعنی کھجور وغیرہ کے درخت پر پھلوں کا اندازہ کرنا کہ اس درخت میں اتنا پھل نکلے گا، اور اندازے کے بعد رعایا کو اجازت دے دی جاتی ہے کہ وہ پھل توڑ لیں، پھر اندازہ کے موافق ان سے دسواں یا بیسواں حصہ لے لیا جاتا ہے۔

1820- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ، حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنَّ لَهُ الأَرْضَ، وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، يَعْنِي الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، وَقَالَ لَهُ أَهْلُ خَيْبَرَ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِالأَرْضِ، فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنْ نَعْمَلَهَا وَيَكُونَ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَةِ وَلَكُمْ نِصْفُهَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ، بَعَثَ إِلَيْهِمُ ابْنَ رَوَاحَةَ، فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَهُوَ الَّذِي يَدْعُونَهُ، أَهْلُ الْمَدِينَةِ، الْخَرْصَ فَقَالَ: فِي ذَا، كَذَا وَكَذَا، فَقَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ! فَقَالَ: فَأَنَا أَحْزِرُ النَّخْلَ وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالَ، فَقَالُوا: هَذَا الْحَقُّ، وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ، فَقَالُوا: قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَ بِالَّذِي قُلْتَ۔
* تخريج: د/البیوع ۳۵ (۳۴۱۰،۳۴۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۹۴) (حسن)

۱۸۲۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب خیبر فتح کیا، تو آپ نے ان سے شرط لے لی کہ زمین آپ کی ہو گی، اور ہر صفراء اور بیضاء یعنی سونا و چاندی بھی آپ ہی کا ہو گا، اور آپ سے خیبر والوں نے کہا: ہم یہاں کی زمین کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے ہیں، لہٰذا آپ ﷺ ہمیں یہ دے دیجیے، ہم اس میں کھیتی کریں گے، اور جو پھل پیدا ہو گا وہ آدھا آدھا کر لیں گے، اسی شرط پہ آپ ﷺ نے خیبر کی زمین ان کے حوالے کر دی، جب کھجور توڑنے کا وقت آیا، تو آپ ﷺ نے عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے کھجور کا تخمینہ لگایا، جس کو اہل مدینہ خرص کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اس میں اتنا اور اتنا پھل ہے، یہودی یہ سن کر بولے: اے ابن رواحہ! آپ نے تو بہت بڑھا کر بتایا، ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے میں کھجوریں اتروا کر انہیں جمع کر لیتا ہوں اور جو اندازہ میں نے کیا ہے اس کا آدھا تم کو دے دیتا ہوں، یہودی کہنے لگے: یہی حق ہے، اور اسی کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں، ہم آپ کے اندازے کے مطابق حصہ لینے پر راضی ہیں۱؎۔
وضاحت۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ یہودیوں نے عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو رشوت دینا اور اپنے سے ملانا چاہا کہ کھجورکا تخمینہ کمی کے ساتھ لگا دیں، لیکن وہ نہ مانے اور ٹھیک ٹھیک تخمینہ لگایا، اس وقت یہودیوں نے کہا: ایسے ہی لوگوں سے آسمان اور زمین قائم ہے، سبحان اللہ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ حال تھا کہ غربت و افلاس اور پریشانی و مصیبت کی حالت میں بھی سچائی اور ایمان داری کو نہیں چھوڑتے تھے، جب ہی تو اسلام کو یہ ترقی حاصل ہوئی، اور آج اسلامی عقائد و اقدار اور تعلیمات کو چھوڑ کر مسلمان دنیا میں ذلیل و خوار ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب النَّهْيِ أَنْ يُخْرِجَ فِي الصَّدَقَةِ شَرَّ مَالِهِ
۱۹- باب: زکاۃ میں خراب مال نکالنا منع ہے​

1821- حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ؛ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ أَقْنَائً أَوْ قِنْوًا، وَبِيَدِهِ عَصًا، فَجَعَلَ يَطْعَنُ يُدَقْدِقُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ وَيَقُولُ: < لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ، مِنْهَا،إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۱۶ (۱۶۰۸)، ن/الزکاۃ ۲۷ (۲۴۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۳، ۲۸) (حسن)

۱۸۲۱- عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ ﷺ اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے، اور فرماتے: ''اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جیسا دیا ویسا پائے گا، اللہ تعالی غنی و بے پرواہ ہے ، اس کے نام پر تو بہت عمدہ مال دینا چاہئے، وہ نیت کو دیکھتا ہے۔

1822- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، فِي قَوْلِهِ سُبْحَانَهُ: {وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} قَالَ: نَزَلَتْ فِي الأَنْصَارِ، كَانَتِ الأَنْصَارُ تُخْرِجُ، إِذَا كَانَ جِدَادُ النَّخْلِ مِنْ حِيطَانِهَا، أَقْنَاءَ الْبُسْرِ، فَيُعَلِّقُونَهُ عَلَى حَبْلٍ بَيْنَ أُسْطُوَانَتَيْنِ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَيَأْكُلُ مِنْهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، فَيَعْمِدُ أَحَدُهُمْ فَيُدْخِلُ قِنْوًا فِيهِ الْحَشَفُ يَظُنُّ أَنَّهُ جَائِزٌ فِي كَثْرَةِ مَا يُوضَعُ مِنَ الأَقْنَاءِ، فَنَزَلَ فِيمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ: {وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} يَقُولُ: لا تَعْمِدُوا لِلْحَشَفِ مِنْهُ تُنْفِقُونَ، {وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ} يَقُولُ: لَوْ أُهْدِيَ لَكُمْ مَا قَبِلْتُمُوهُ إِلا عَلَى اسْتِحْيَائٍ مِنْ صَاحِبِهِ، غَيْظًا أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْكُمْ مَا لَمْ يَكُنْ لَكُمْ فِيهِ حَاجَةٌ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْ صَدَقَاتِكُمْ۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۸، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۸)، وقد أخرجہ: ت/تفسیر القرآن ۳ (۲۹۸۷) (صحیح)

۱۸۲۲- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آیت کریمہ: { وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأَرْضِ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ}[سورة التوبة: ۲۶۷] انصار کے بارے میں نازل ہوئی، جب باغات سے کھجور توڑنے کا وقت آتا تو وہ اپنے باغات سے کھجور کے چند خوشے (صدقے کے طور پر) نکالتے، اور مسجد نبوی میں دونوں ستونوں کے درمیان رسی باندھ کر لٹکا دیتے، پھر فقراء مہاجرین اس میں سے کھاتے، انصار میں سے کوئی یہ کرتا کہ ان خوشوں میں خراب کھجور کا خوشہ شامل کر دیتا، اور یہ سمجھتا کہ بہت سارے خوشوں میں ایک خراب خوشہ رکھ دینا جائز ہے، تو انہیں لوگوں کے سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} (قصد نہ کرو خراب کا اس میں سے کہ اسے خرچ کرو) اور تم اسے خود ہرگز لینے والے نہیں ہو، الا یہ کہ چشم پوشی سے کام لو)، اگر تمہیں کوئی ایسے خراب مال سے تحفہ بھیجے تو تم کبھی بھی اس کو قبول نہ کرو گے مگر شرم کی وجہ سے، اور دل میں غصہ ہو کر کہ اس نے تمہارے پاس ایسی چیز بھیجی ہے جو تمہارے کام کی نہیں ہے، اور تم جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب زَكَاةِ الْعَسَلِ
۲۰- باب: شہد کی زکاۃ کا بیان​

1823- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَّقِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي نَحْلا قَالَ: < أَدِّ الْعُشْرَ > قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! احْمِهَا لِي، فَحَمَاهَا لِي۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۳۶) (حسن)
(سند میں سلیمان بن موسیٰ ضعیف ہے، سلیمان کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں ہے، موت سے کچھ پہلے مختلط ہو گئے تھے، لیکن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، کماسیأتی )
۱۸۲۳- ابو سیا رہ متقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کا دسواں حصہ بطور زکاۃ ادا کرو''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جگہ میرے لیے خاص کر دیجئے، چنانچہ آپ نے وہ جگہ میرے لیے خاص کر دی۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی بطور حفاظت و نگرانی اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے جاگیر میں دے دی۔

1824- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ أَخَذَ مِنَ الْعَسَلِ الْعُشْرَ۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۱۲ (۱۶۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۵۷)، ن/الزکاۃ ۲۹ (۲۵۰۱) (حسن صحیح)

۱۸۲۴- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے شہد سے دسواں حصہ زکاۃ لی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب صَدَقَةِ الْفِطْرِ
۲۱- باب: صد قۂ فطر کا بیان​

1825- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ،أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ،صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، قَالَ عَبْدُاللَّهِ: فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۰ (۱۵۰۳)، ۷۱ (۱۵۰۴)، ۷۴ (۱۵۰۷)، ۷۷ (۱۵۱۱)، ۷۸ (۱۵۱۲)، م/الزکاۃ ۴ (۹۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۷۰)، وقد أخرجہ: د/الزکاۃ ۱۹ (۱۶۱۵)، ت/الزکاۃ ۳۵ (۶۷۶)، ۳۶ (۶۷۷)، ن/الزکاۃ ۳۰ (۲۵۰۲)، ط/الزکاۃ ۲۸ (۵۲)، حم (۲/۵، ۵۵، ۶۳، ۶۶، ۱۰۲، ۱۱۴، ۱۳۷)، دي/الزکاۃ ۲۷ (۱۷۰۲) (صحیح)

۱۸۲۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور اور جو سے ایک ایک صاع صدقۂ فطر۱؎ ادا کرنے کا حکم دیا۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر لوگوں نے دو مد گیہوں کو ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کے برابر کر لیا ۱؎ ۔

وضاحت۱؎: صدقہ فطر وہ صدقہ ہے جو عید الفطر کے دن صلاۃ عید سے پہلے دیا جاتا ہے، اہل حدیث کے نزدیک ہر قسم میں سے کھجور یا غلہ سے ایک صاع، حجازی صاع سے دینا چاہئے جو پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہوتا ہے، اور موجودہ وزن کے حساب سے تقریباً ڈھائی کلو ہوتا ہے۔

1826- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ، أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ، أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۱ (۱۵۰۶)، م/الزکاۃ ۴ (۹۸۴)، د/الزکاۃ ۱۹ (۱۶۱۱)، ت/الزکاۃ ۳۵ (۶۷۶)، ن/الزکاۃ ۳۲ (۲۵۰۴)، ۳۳ (۲۵۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۲۱)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۲۸ (۵۲)، حم (۲/۵،۵۵،۶۳،۶۶، ۱۰۲،۱۱۴،۱۳۷)،دي/الزکاۃ ۲۷ (۱۷۰۲) (صحیح)

۱۸۲۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صد قۂ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مسلمانوں میں سے ہر ایک پر فرض کیا، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت ۱؎۔
وضاحت۱؎: ''فَرَضَ'' معنی میں ''وَجَبَ'' کے ہے، صدقہ فطر کے وجوب کی یہ حدیث واضح دلیل ہے، امام اسحاق بن راہویہ نے اس کے وجوب پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، ایک قول یہ بھی ہے کہ ''فرض'' قدر کے معنی میں ہے لیکن یہ ظاہر کے خلاف ہے، ''من المسلمین'' سے معلوم ہوا کہ کافرغلام کا صدقۂ فطر نہیں نکالا جائے گا۔

1827- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، قَالا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْخَوْلانِيُّ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، فَمَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلاةِ، فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلاةِ، فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۱۷ (۱۶۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۳۳) (حسن)

۱۸۲۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقۂ فطر صائم کوفحش اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے، اور مسکینوں کی خوراک کے لئے فرض قرار دیا، لہٰذا جس نے اسے صلاۃ عید سے پہلے ادا کر دیا، تو یہ مقبول زکاۃ ہے اور جس نے صلاۃ کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: لیکن صدقہ فطر نہ ہوا، صحیحین میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عید کی صلاۃ کے لئے نکلنے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، سنت یہی ہے کہ صدقہ فطر صلاۃ کے لئے جانے سے پہلے دے دے، اور اگر رمضان کے اندر ہی عید سے پہلے دے دے تو بھی جائز ہے، لیکن عید کی صبح سے زیادہ اس میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔

1828- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ؛ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ، لَمْ يَأْمُرْنَا، وَلَمْ يَنْهَنَا، وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۳۵ (۲۵۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۴۲،۶/۶) (صحیح)

۱۸۲۸- قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زکاۃ کا حکم نازل ہو نے سے پہلے ہمیں صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن جب زکاۃ کا حکم نازل ہو گیا تو نہ تو ہمیں صدقۂ فطر دینے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع کیا، اور ہم اسے دیتے رہے ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی آپ ﷺ نے نیا حکم نہیں دیا، پہلا حکم ہی کافی تھا، زکاۃ کا حکم اترنے سے صدقۂ فطر موقوف نہیں ہوا، بلکہ اس کی فرضیت اپنے حال پر باقی رہی۔

1829- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ الْفَرَّاءِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، فَلَمْ نَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ أَنْ قَالَ: لا أُرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ هَذَا، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: لا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، أَبَدًا، مَا عِشْتُ۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۷۲ (۱۵۰۵)، ۷۳ (۱۵۰۶)، ۷۵ (۱۵۰۸)، ۷۶ (۱۵۱۰)، م/الزکاۃ ۴ (۹۸۵)، د/الزکاۃ ۱۹ (۱۶۱۶، ۱۶۱۷)، ت/الزکاۃ ۳۵ (۶۷۳)، ن/الزکاۃ ۳۷ (۲۵۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۶۹)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۲۸ (۵۳)، حم (۳/۲۳، ۷۳، ۹۸)، دي/الزکاۃ ۲۷ (۱۷۰۴) (صحیح)

۱۸۲۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم میں رسول اللہ ﷺ موجود تھے ہم تو صدقۂ فطر میں ایک صاع گیہوں، ایک صاع کھجور، ایک صاع جو، ایک صاع پنیر، اور ایک صاع کشمش نکالتے تھے، ہم ایسے ہی برابر نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مدینہ آئے، تو انہوں نے جو باتیں لوگوں سے کیں ان میں یہ بھی تھی کہ میں شام کے گیہوں کا دو مد تمہارے غلوں کی ایک صاع کے برابر پاتا ہوں، تو لوگوں نے اسی پر عمل شروع کر دیا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جب تک زندہ رہوں گا اسی طرح ایک صاع نکالتا رہوں گا جس طرح رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا ۱؎۔

وضاحت۱؎: ''صاعاً من طعام'' میں طعام سے گیہوں مراد ہے طعام کا لفظ بعد میں ذکر کی گئی اشیاء کے ساتھ بولا گیا ہے تاکہ طعام اور دوسری اجناس کے درمیان فرق و تغایر واضح ہو جائے، طعام بول کر اہل عرب عموماً گیہوں ہی مراد لیتے ہیں، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ طعام میں اجمال ہے اور مابعد اس کی تفصیل ہے، ایک صاع پانچ رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، جدید حساب کے مطابق ایک صاع کا وزن ڈھائی کلوگرام کے قریب ہوتا ہے، لیکن شیخ عبد اللہ البسام نے توضیح الأحکام میں صاع کا وزن تین کلو گرام بیان کیا ہے۔

1830- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ۱؎ ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ الْمُؤَذِّنِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ عَمار بْنِ سَعْدٍ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، عَنْ اَبِيْهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۴۵، ومصباح الزجاجۃ:۶۵۰) (صحیح)
(اس سند میں عمار بن سعد تابعی ہیں ،اس لئے یہ روایت مرسل ہے، نیز عبد الرحمن بن سعد ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
۱۸۳۰- مؤذن رسول سعدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع کھجور، ایک صاع جو اور ایک صاع سلت (بے چھلکے کا ج) صدقۂ فطر میں دینے کا حکم دیا۔
وضاحت۱؎: تحفۃ الأشراف میں مزی نے سند میں ''عمار بن سعد'' ذکر کیا ہے، پھر کہا: (ز): هكذا وقع في روايتنا، وفي رواية ابراهيم بن دينار: "عمر بن سعيد" بدل "عمار بن سعد" وكلاهما تابعى)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب الْعُشْرِ وَالْخَرَاجِ
۲۲- باب: عشر اور خراج کا بیان​

1831- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جُنَيْدٍ الدَّامَغَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ الْمُرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُوحَمْزَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مُغِيرَةَ الأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ حَيَّانَ الأَعْرَجِ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى الْبَحْرَيْنِ أَوْ إِلَى هَجَرَ، فَكُنْتُ آتِي الْحَائِطَ يَكُونُ بَيْنَ الإِخْوَةِ، يُسْلِمُ أَحَدُهُمْ، فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْمُشْرِكِ الْخَرَاجَ۔
* تخريج: تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۱۰۱۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۵۲) (ضعیف)
(مغیرہ الأزدی اور محمد بن زید مجہول ہیں، اور حیان کی علاء سے روایت مرسل ہے)
۱۸۳۱- علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مجھے بحرین ہجر ۱؎ بھیجا، میں ایک باغ میں جاتا جو کئی بھائیوں میں مشترک ہوتا، اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا، تو میں مسلمان سے عشر (دسواں) حصہ لیتا، اور کافر سے خراج (محصول) لیتا ۲؎۔
وضاحت۱؎: بحرین یا ہجر سے مراد سعودی عرب کے مشرقی زون کا علاقہ احساء ہے۔
وضاحت۲؎: عشر کا معنی دسواں حصہ ہے، یہ مسلمانوں سے لیا جاتا ہے، اور خراج وہ محصول ہے جو کفار سے لیا جاتا ہے، اس میں اسلامی حکمراں کو اختیار ہے کہ جس قدر مناسب سمجھے ان کی زراعت سے محصول لے لے لیکن نصف سے زیادہ لینا کسی طرح درست نہیں، واضح رہے کہ یہ کافروں کے مسلمان ہونے کے لئے نہایت عمدہ حکمت عملی تھی کہ دنیا میں مال سب کو عزیز ہے خصوصاً دنیا داروں کو تو جب کافر دیکھیں گے کہ ان کو جزیہ دینا پڑتا ہے، اور زراعت میں سے صرف دسواں یا بیسواں حصہ لیا جائے گا، تو بہت سے کافر مسلمان ہو جائیں گے، گو دنیاوی طمع و لالچ ہی سے سہی، لیکن ان کی اولاد پھر سچی مسلمان ہو گی، اور کیا عجب ہے کہ ان کو بھی مسلمانوں کی صحبت سے سچا ایمان نصیب ہو۔
 
Top