• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا
۲۳- باب: ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں​

1832- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍالطَّنَافِسِيُّ، عَنْ إِدْرِيسَ الأَوْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۱ (۱۵۵۹)، بلفظ ''مختوما'' بدل ''صاعا'' ن/الزکاۃ ۲۴ (۲۴۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۵۹،۸۳، ۹۷) (ضعیف)
(سند میں محمد بن عبید اللہ متروک الحدیث ہے)۔
۱۸۳۲- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے''۔

1833- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ،حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۸۴،۲۹۴۲، ومصباح الزجاجۃ: ۶۵۲) (ضعیف جدا)
(سند میں محمد بن عبید اللہ متروک الحدیث ہے)
۱۸۳۳- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب الصَّدَقَةِ عَلَى ذِي قَرَابَةٍ
۲۴- باب: رشتے دار کو صدقہ دینے کا بیان​

1834- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ، ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَيُجْزِءُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَهَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الصَّدَقَةِ، وَأَجْرُ الْقَرَابَةِ >.
* تخريج: خ/الزکاۃ ۴۸ (۱۴۶۶)، م/الزکاۃ ۱۴ (۱۰۰۰)، ت/الزکاۃ ۱۲ (۶۳۵،۶۳۶)، ن/الزکاۃ ۸۲ (۲۵۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۵۰۲، ۳۶۳)، دي/الزکاۃ ۲۳ (۱۶۹۴) (صحیح)

۱۸۳۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اگر میں اپنے شوہر اور زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کروں تو کیا زکاۃ ہو جائے گی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اس کو دہرا اجر ملے گا، ایک صدقے کا اجر، دوسرے رشتہ جوڑنے کا اجر''۱؎۔
وضاحت۱؎: معلوم ہوا کہ اگر زکاۃ اپنے غریب و مفلس فاقے والے رشتہ دار کو دے یا بیوی شوہر کو دے تو اور زیادہ ثواب ہے، اور زکاۃ بھی ادا ہو جائے گی۔

1834/أ- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، ابْن أَخِي زَيْنَبَ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ۔

۱۸۳۴/أ- اس سند سے بھی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔

1835- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ؛ قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِاللَّهِ: أَيُجْزِينِي مِنَ الصَّدَقَةِ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَلَى زَوْجِي وَهُوَ فَقِيرٌ، وَبَنِي أَخٍ لِي أَيْتَامٍ، وَأَنَا أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ؟ قَالَ: < نَعَمْ >، قَالَ: وَكَانَتْ صَنَاعَ الْيَدَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۶۸)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۴۸ (۱۴۶۷)، م/الزکاۃ ۴(۱۰۰۱) (صحیح)
(ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، جس میں یہ صراحت ہے کہ یہی سائلہ تھیں)
۱۸۳۵- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا، تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میری زکاۃ ادا ہو جائے گی اگر میں اپنے شوہر پہ جو محتاج ہیں، اور اپنے بھتیجوں پہ جو یتیم ہیں صدقہ کروں، اور میں ہر حال میں ان پر ایسے اور ایسے خرچ کرتی ہوں؟ ! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں''۔
راوی کہتے ہیں کہ وہ دست کاری کرتی تھیں (اور پیسے کماتی تھیں)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب كَرَاهِيَةِ الْمَسْأَلَةِ
۲۵- باب: سوال کرنا اور مانگنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے​

1836- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ الأَوْدِيُّ. قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ، فَيَجِئَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا، فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۵۰ (۱۴۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۳۳) (صحیح)

۱۸۳۶- زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور پہاڑ پر جا کر ایک گٹھا لکڑیوں کا اپنی پیٹھ پر لادے، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت پر قناعت کرے، تو یہ اس کے لیے لوگوں کے سامنے مانگنے سے بہتر ہے کہ لوگ دیں یا نہ دیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اگر مانگنے پر دیں تو مانگنے کی ایک ذلت ہوئی، اور نہ دیں تو دوہری ذلت مانگنے کی، اور مانگنے پر نہ ملنے کی، برخلاف اس کے اپنی محنت سے کمانے میں کوئی ذلت نہیں اگرچہ مٹی ڈھو کر یا لکڑیاں چن کر اپنی روزی حاصل کرے، یہ جو مسلمان خیال کرتے ہیں کہ پیشہ یا محنت کرنے میں ذلت اور ننگ وعار ہے، یہ سب شیطانی وسوسہ ہے، اس سے زیادہ ننگ وعار اور ذلت و رسوائی سوال کرنے اور ہاتھ پھیلانے میں ہے، بلکہ پیشے اور محنت میں گو وہ کتنا ہی حقیر ہو بشرطیکہ شرع کی رو سے منع نہ ہو کوئی ذلت نہیں ہے۔

1837- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ثَوْبَانَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ يَتَقَبَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَقَبَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ > قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: < لا تَسْأَلِ النَّاسَ شَيْئًا >، قَالَ: فَكَانَ ثَوْبَانُ يَقَعُ سَوْطُهُ، وَهُوَ رَاكِبٌ، فَلايَقُولُ لأَحَدٍ: نَاوِلْنِيهِ، حَتَّى يَنْزِلَ فَيَأْخُذَهُ۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۸۶ (۲۵۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۹۸)، وقد أخرجہ: د/الزکاۃ ۲۷ (۱۶۴۳)، حم (۵/۲۷۵، ۲۷۶،۲۷۹) (صحیح)

۱۸۳۷- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں''، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو''، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے۱؎۔
وضاحت۱؎ : یہ ایمان و توکل علی اللہ کا بڑا اعلیٰ درجہ ہے حالانکہ اس قسم کا سوال مباح اور جائز ہے، مگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان بڑی تھی انہوں نے مخلوق سے مطلقاً سوال ہی چھوڑ دیا، صرف خالق سے سوال کرنے ہی کو بہتر سمجھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى
۲۶- باب: مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان​

1838- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرَ جَهَنَّمَ فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيُكْثِرْ >۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۳۵ (۱۰۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۳۱) (صحیح)

۱۸۳۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے''۔

1839- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ >۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۹۰ (۲۵۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۷۷، ۳۸۹) (صحیح)

۱۸۳۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے''۔

1840- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَأَلَ، وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَتْ مَسْأَلَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُدُوشًا أَوْ خُمُوشًا أَوْ كُدُوحًا فِي وَجْهِهِ > قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: < خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ >.
فَقَالَ رَجُلٌ لِسُفْيَانَ: إِنَّ شُعْبَةَ لا يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ: قَدْ حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۲۳ (۱۶۲۶)، ت/الزکاۃ ۲۲ (۶۵۰)، ن/الزکاۃ ۸۷ (۲۵۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۸،۴۴۱)، دي/الزکاۃ ۵ ۱ (۱۶۸۰) (صحیح)

۱۸۴۰- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا ''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کتنا مال آدمی کو بے نیاز کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا''۱؎۔
ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا: شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبد الرحمن کے واسطے سے روایت کی ہے۔

وضاحت۱؎: ابو داود کی روایت میں ہے: غنا کی حد یہ ہے کہ آدمی کے پاس صبح و شام کا کھانا ہو، اور ایک روایت میں ہے کہ ایک اوقیہ کا مالک ہو، اور اس روایت میں پچاس درہم مذکور ہے، شافعی نے دوسرے قول کو لیا ہے اور احمد اور اسحاق اور ابن مبارک نے پہلے قول کو، بعض لوگوں نے تیسرے قول کو اور ابو حنیفہ نے کہا جو دو سو درہم کا مالک ہے یا اس قدر مالیت کا اسباب اس کے پاس ہے اس کے لیے سوال صحیح نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب مَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ
۲۷- باب: جن لوگوں کے لیے زکاۃ حلال ہے ان کا بیان​

1841- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لاتَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلا لِخَمْسَةٍ: لِعَامِلٍ عَلَيْهَا، أَوْ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ لِغَنِيٍّ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ، أَوْ فَقِيرٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَاهَا لِغَنِيٍّ أَوْ غَارِمٍ >۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۲۴ (۱۶۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۷۷)، وقد أخرجہ: ط/الزکاۃ ۱۷ (۲۹)، حم (۳/۴،۳۱، ۴۰، ۵۶،۹۷) (صحیح)

۱۸۴۱- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مالدار کے لئے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے: زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے، ( تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے) یا وہ جو مقروض ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب فَضْلِ الصَّدَقَةِ
۲۸- باب: صدقہ و خیرات کی فضیلت کا بیان​

1842- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلا الطَّيِّبَ، إِلا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، وَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فُلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ >۔
* تخريج:خ/الزکاۃ ۸ (۴۱۱۰تعلیقاَ)، التوحید ۲۳ (۷۴۳۰تعلیقاً)، م/الزکاۃ ۱۹ (۱۰۱۴)، ت/الزکاۃ ۲۸ (۶۶۱)، ن/الزکاۃ ۴۸ (۲۵۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۷۹)، وقد أخرجہ: ط/الصدقۃ ۱ (۱) حم (۲/۲۶۸، ۳۳۱، ۳۸۱،۴۱۸،۴۱۹،۲۳۱،۴۷۱، ۵۳۸،۵۴۱)، دي/الزکاۃ ۳۵ (۱۷۱۷) (صحیح)

۱۸۴۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ''جو شخص حلال مال سے صدقہ دے، اور اللہ تعالی تو حلال ہی قبول کرتا ہے، اس کے صدقہ کو دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، گرچہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو، پھر وہ صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالی اس کو ایسے ہی پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کے لئے یمین (داہنا ہاتھ) اور کف (یعنی مٹھی) ثابت کیا گیا ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ یمین (داہنے) ہیں، ایسی حدیثوں سے جہمیہ اور معتزلہ اور اہل کلام کی جان نکلتی ہے، جب کہ اہل حدیث ان کو اپنی آنکھوں پر رکھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ اللہ کا پہنچاننے والا اس کے رسول سے زیادہ کوئی نہ تھا، پس جو صفات اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے ثابت کیں یا اس کے رسول نے بیان کیں، ہم ان سب کو مانتے ہیں، لیکن ان کو مخلوقات کی صفات سے مشابہ نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات مشابہت سے پاک ہے،{لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ}[ سورة الشورى : ۱۱] یہی نجات کا راستہ ہے، محققین علمائے سلف اور ائمہ اسلام نے اسی کو اختیار کیا ہے، اہل تاویل کہتے ہیں کہ یہ مجازی ہے، مطلب یہ ہے کہ وہ صدقہ قبول ہو جاتا ہے، اور بڑھنے کا معنی یہ ہے کہ اس کا ثواب عظیم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم ۔

1843- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ ،عَنْ عَدِيِّ ابْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ فَيَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ،وَيَنْظُرُ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلا يَرَى إِلا شَيْئًا قَدَّمَهُ، وَيَنْظُرُ عَنْ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلا يَرَى إِلا شَيْئًا قَدَّمَهُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۹ (۱۴۱۳)، ۱۰ (۱۴۱۷)، المناقب ۲۵ (۳۵۹۵)، الأدب ۳۴ (۶۰۲۳)، الرقاق ۴۹ (۶۵۳۹)، ۵۱ (۶۵۶۳)،التوحید ۳۶ (۷۵۱۲)، م/الزکاۃ ۲۰ (۱۰۱۶)، ت/صفۃ القیامۃ ۱ (۲۴۱۵)، ن/الزکاۃ ۶۳ (۲۵۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۵۶، ۲۵۸، ۲۵۹، ۳۷۷) (صحیح)

۱۸۴۳- عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی تم میں سے ہر شخص سے قیامت کے دن کلام کرے گا، اور دونوں کے درمیان کوئی تر جمان نہ ہو گا، وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ ہو گی، دائیں جانب دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا کچھ نہ پائے گا، اور بائیں دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا ادھر بھی کچھ نہ دیکھے گا، لہٰذا تم میں سے جو جہنم سے بچ سکے تو اپنے بچاؤ کا سامان کرے، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کرکے''۔

1844- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الْقَرَابَةِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ >۔
* تخريج: ت/الزکاۃ ۲۶ (۶۵۸)، ن/الزکاۃ ۸۲ (۲۵۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۸، ۲۱۴)، دي/الزکاۃ ۳۸ (۱۷۲۲،۱۷۲۳) (صحیح )
(نیز ملاحظہ ہو: الإرواء : ۸۸۳)
۱۸۴۴- سلمان بن عامرضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مسکین و فقیر کو صدقہ دینا (صرف) صدقہ ہے، اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو چیز ہے، ایک صدقہ اور دوسری صلہ رحمی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{ 9- كِتَاب النِّكَاحِ }
۹- کتاب: نکاح کے احکام و مسائل

1- بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ
۱- باب: نکاح (شادی بیاہ) کی فضیلت کا بیان۱؎​

وضاحت۱؎: نکاح لغت میں جماع کو کہتے ہیں اور اصطلاح شرع میں ایک عقد (اتفاق) ہے جس سے آدمی عورت کی شرمگاہ کا مالک ہو جاتا ہے، اور جب تک یہ عورت عقد نکاح میں رہے غیر کے لئے حرام ہو جاتی ہے۔

1845- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ؛ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى، فَخَلا بِهِ عُثْمَانُ، فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: هَلْ لَكَ أَنْ أُزَوِّجَكَ جَارِيَةً بِكْرًا تُذَكِّرُكَ مِنْ نَفْسِكَ بَعْضَ مَا قَدْ مَضَى؟ فَلَمَّا رَأَى عَبْدُاللَّهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ سِوَى هَذِهِ، أَشَارَ إِلَيَّ بِيَدِهِ، فَجِئْتُ وَهُوَ يَقُولُ: لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَائَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَائٌ >۔
* تخريج:خ/الصوم ۱۰(۱۹۰۵)، النکاح ۲ (۵۰۶۵)، م/النکاح ۱(۱۴۰۰)، د/النکاح ۱ ( ۲۰۴۶)، ت/النکاح ۱ (۱۰۸۱تعلیقاً)، ن/الصیام ۴۳ (۲۲۴۱)، النکاح ۳ (۳۲۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۱۷)،وقد أخرجہ: حم (۱/۵۸،۳۷۸، ۴۲۴،۴۲۵،۴۳۲)، دي/النکاح ۲ (۲۲۱۲) (صحیح)

۱۸۴۵- علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں تھا، تو عثمان رضی اللہ عنہ انہیں لے کر تنہائی میں گئے، میں ان کے قریب بیٹھا تھا، عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ چاہتے ہیں آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے کرا دوں جو آپ کو ماضی کے حسین لمحات کی یاد دلا دے؟ جب عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ ان سے اس کے علاوہ کوئی راز کی بات نہیں کہنا چاہتے، تو انہوں نے مجھ کو قریب آنے کا اشارہ کیا، میں قریب آگیا، اس وقت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ایسا کہتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا ہے: ''اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شخص نان و نفقہ کی طاقت رکھے۱؎ تو وہ شادی کر لے، اس لئے کہ اس سے نگاہیں زیادہ نیچی رہتی ہیں، اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت ہوتی ہے، اور جو نان و نفقہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ صوم رکھے، اس لئے کہ یہ شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے۲؎۔
وضاحت۱؎: الباءۃ: (ہمزہ اور تا تانیث مدوّرۃ کے ساتھ) لغت میں اس کے اصلی معنی جماع کے ہیں، اور یہ مباءۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی منزل کے ہیں، اس لیے کہ جو آدمی کسی عورت سے شادی کرتا ہے تو وہ اسے اپنی جائے قیام بنا لیتا ہے، اور اپنی منزل قرار دے لیتا ہے، یہاں یہ لفظ یا تو جماع کے معنی میں ہے اس صورت میں عبارت یوں ہو گی ''من استطاع منكم الجماع وقدرته على مؤونة النكاح'' یعنی تم میں سے جو نکاح کے مصارف و اخراجات برداشت کر کے جماع کی طاقت رکھتا ہو، یا اس سے مراد نکاح کے مصارف و اخراجات یعنی مہر اور نان و نفقہ برداشت کرنے کی ہمت و طاقت ہے۔
وضاحت۲؎: یعنی شہوت کو کم کر دیتا ہے بلکہ ساری ہی خواہشات صوم سے ختم ہو جاتی ہیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے شاید عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو میلے کچیلے حال میں دیکھا تو یہ خیال کیا کہ ان کے پاس بیوی نہیں ہے جو ان کی خدمت کرے، اور ان کو نہلا دھلا کر صاف ستھرا رکھے، نکاح کی ترغیب میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے۔

1846- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، وَتَزَوَّجُوا، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الأُمَمَ، وَمَنْ كَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْيَنْكِحْ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصِّيَامِ فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَائٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۴۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۵۴) (حسن)
(سند میں عیسیٰ بن میمون منکر الحدیث ہے، بلکہ بعض لوگوں نے متروک الحدیث بھی کہا ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۳۸۳)
۱۸۴۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' نکاح میری سنت اور میرا طریقہ ہے، تو جو میری سنت پہ عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے، تم لوگ شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر (قیامت کے دن) فخر کروں گا، اور جو صاحب استطاعت ہوں شادی کریں، اور جس کو شادی کی استطاعت نہ ہو وہ صوم رکھے، اس لیے کہ صوم اس کی شہوت کو کچلنے کا ذریعہ ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں نکاح کا لفظ امر کے ساتھ وارد ہوا ہے، اور امر وجوب کے لیے آتا ہے، اسی لیے اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ جس کو نان و نفقہ اور مہر وغیرہ کی قدرت ہو اس کو نکاح کرنا سنت ہے، اور اگر اس کے ساتھ گناہ میں پڑنے کا ڈر ہو تو نکاح کرنا واجب ہے، صحیحین میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا میں نکاح نہیں کروں گا، بعض نے کہا میں ساری رات صلاۃ پڑھوں گا سوؤں گا نہیں، بعض نے کہا میں ہمیشہ صیام رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا، یہ خبر نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا حال ہے لوگوں کا ایسا ایسا کہتے ہیں، میں تو صیام بھی رکھتا ہوں، اور افطار بھی کرتا ہوں، سوتا بھی ہوں، عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، پھر جو کوئی میرے طریقے سے نفرت کرے وہ مجھ سے نہیں ہے''۔

1847- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَمْ يُرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۶۵۵) (صحیح)

۱۸۴۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ''دو شخص کے درمیان محبت کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اکثر دو قوموں میں یا دو شخص میں عداوت ہوتی ہے، جب نکاح کی وجہ سے باہمی رشتہ ہو جاتا ہے تو وہ عداوت جاتی رہتی ہے، اور کبھی محبت کم ہوتی ہے تو نکاح سے زیادہ ہو جاتی ہے، اور یہی سبب ہے کہ قرابت دو طرح کی ہو گئی ہے، ایک نسبی قرابت، دوسرے سببی قرابت، اور انسان کو اپنی بیوی کے بھائی بہن سے ایسی الفت ہوتی ہے جیسے اپنے سگے بھائی بہن سے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب النَّهْيِ عَنِ التَّبَتُّلِ
۲- باب: کنوارا رہنا منع ہے​

1848- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدٍ؛ قَالَ: لَقَدْ رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاخْتَصَيْنَا۔
* تخريج: خ/النکاح ۸ (۵۰۷۳، ۵۰۷۴)، م/النکاح ۱ (۱۴۰۲)، ت/النکاح ۲ (۱۰۸۳)، ن/النکاح ۴ (۳۲۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۵،۱۷۶،۱۸۳)، دي/ النکاح ۳ (۲۲۱۳) (صحیح)

۱۸۴۸- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی شادی کے بغیر زندگی گزارنے کی درخواست ردّ کر دی، اگر آپ ﷺ نے انہیں اجازت دی ہوتی تو ہم خصی ہو جاتے۱؎۔
وضاحت۱؎: تبتل کے معنی عورتوں سے الگ رہنے، نکاح نہ کرنے اور ازدواجی تعلق سے الگ تھلگ رہنے کے ہیں، نصاری کی اصطلاح میں اسے رہبانیت کہتے ہیں، تجرد کی زندگی گزارنا اور شادی کے بغیر رہنا شریعت اسلامیہ میں جائز نہیں ہے۔

1849- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ،عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ، زَادَ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ: وَقَرَأَ قَتَادَةُ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً}۔
* تخريج: ت/النکاح ۲ (۱۰۸۲)، ن/النکاح ۴ (۳۲۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۹۰)، حم (۵/۱۷) صحیح)

۱۸۴۹- سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تجرد والی زندگی (بے شادی شدہ رہنے) سے منع فرمایا۔
زید بن اخزم نے یہ اضافہ کیا ہے: اور قتادہ نے یہ آیت پڑھی، {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} [سورة الرعد: ۳۸] (ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ان کے لئے بیویاں اور اولاد بنائیں) ۱؎۔

وضاحت۱؎: اس آیت میں اللہ تعالی نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتا ہے یا کافروں کے اعتراض رد کرتا ہے کہ اگر آپ نے کئی شادیاں کیں تو اولاً یہ نبوت کے منافی نہیں ہے، اگلے بہت سے انبیاء ایسے گزرے ہیں جنہوں نے کئی کئی شادیاں کیں، ان کی اولاد بھی بہت تھی، بلکہ بنی اسرائیل تو سب یعقوب علیہ السلام کی اولاد ہیں جن کے بارہ بیٹے تھے، اور کئی بیویاں تھیں، اور ابراہیم علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں، ایک سارہ، دوسری ہاجرہ، اور سلیمان علیہ السلام کی (۹۹) بیویاں تھیں، الروضہ الندیہ میں ہے کہ مانویہ اور نصاری نکاح نہ کرنے کو عبادت سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین میں اس کو باطل کیا، فطرت اور عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان نکاح کرے، اور اپنے بنی نوع کی نسل کو قائم رکھے، اور بڑھائے، البتہ جس شخص کو بیوی رکھنے کی قدرت نہ ہو اس کو اکیلے رہنا درست ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب حَقِّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ
۳- باب: شوہر پر بیوی کے حقوق کا بیان​

1850- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ: مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟ قَالَ: < أَنْ يُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمَ، وَأَنْ يَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى، وَلا يَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلا يُقَبِّحْ وَلايَهْجُرْ إِلا فِي الْبَيْتِ >۔
* تخريج: د/النکاح ۴۲ (۲۱۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۴۷،۵/۳) (صحیح)

۱۸۵۰- معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: بیوی کا شوہر پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب کھائے تو اس کو کھلائے، جب خود پہنے تو اس کو بھی پہنا ئے، اس کے چہرہ پر نہ مارے، اس کو برا بھلا نہ کہے، اور اگر اس سے لاتعلقی اختیار کرے تو بھی اسے گھر ہی میں رکھے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی کسی بات پر ناراض ہو تو اسے گھر سے دوسری جگہ نہ بھگائے، گھر ہی میں رکھے، بطور تأدیب صرف بستر الگ کر دے، اس لئے کہ اس کو دوسرے گھر میں بھیج دینے سے اس کے پریشان اور آوارہ ہونے کا ڈر ہے، اور تعلقات بننے کی بجائے مزید بگڑنے کی راہ ہموار ہونے کا خطرہ ہے۔

1851- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ الْبَارِقِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَذَكَّرَ وَوَعَظَ، ثُمَّ قَالَ: <اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٍ، لَيْسَ تَمْلِكُونَ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَيْرَ ذَلِكَ، إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلا، إِنَّ لَكُمْ مِنْ نِسَائِكُمْ حَقًّا وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا، فَأَمَّا حَقُّكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ، فَلا يُوَطِّئَنَّ فُرُشَكُمْ مَنْ تَكْرَهُونَ، وَلايَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِمَنْ تَكْرَهُونَ،أَلا، وَحَقُّهُنَّ عَلَيْكُمْ أَنْ تُحْسِنُوا إِلَيْهِنَّ فِي كِسْوَتِهِنَّ وَطَعَامِهِنَّ >۔
* تخريج: ت/الرضاع ۱۱ (۱۱۶۳)، تفسیر ۱۰ (۳۰۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۹۲) (حسن)

۱۸۵۱- عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی، پھر فرمایا: ''عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو، اس لیے کہ عورتیں تمہاری ماتحت ہیں، لہٰذا تم ان سے اس (جماع) کے علاوہ کسی اور چیز کے مالک نہیں ہو، الا یہ کہ وہ کھلی بدکاری کریں، اگر وہ ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ سے جدا کر دو، ان کو مارو لیکن سخت مار نہ مارو، اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر زیادتی کے لیے کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو، تمہارا عورتوں پر حق ہے، اور ان کا حق تم پر ہے، عورتوں پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارا بستر ایسے شخص کو روندنے نہ دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو، ۱؎ اور وہ کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں، جسے تم ناپسند کرتے ہو۱؎، سنو! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم اچھی طرح ان کو کھانا اور کپڑا دو'' ۲؎۔
وضاحت۱؎: یعنی کسی مرد کو اس بات کی اجازت نہ دیں کہ وہ اندر آئے، اور اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرے، پہلے عربوں میں یہ چیز معیوب نہیں تھی لیکن جب آیت حجاب نازل ہوئی تو اس سے منع کر دیا گیا۔
وضاحت۲؎: ''لمن تكرهون'' میں غیر محرم مرد تو یقینی طور پر داخل ہیں، نیز وہ محرم مرد اور عورتیں بھی اس میں داخل ہیں جن کے آنے جانے کو شوہر پسند نہ کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ
۴- باب: بیوی پر شوہر کے حقوق کا بیان​

1852- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لأَحَدٍ لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَوْ أَنَّ رَجُلا أَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ تَنْقُلَ مِنْ جَبَلٍ أَحْمَرَ إِلَى جَبَلٍ أَسْوَدَ وَمِنْ جَبَلٍ أَسْوَدَ إِلَى جَبَلٍ أَحْمَرَ، لَكَانَ نَوْلُهَا أَنْ تَفْعَلَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۷،۷۶، ۹۷، ۱۱۲، ۱۳۵) (ضعیف)
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، صرف حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، الإرواء: ۱۹۹۸، ۷/۵۸، صحیح أبی داود: ۱۸۷۷)
۱۸۵۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اور اگر شوہر عورت کو جبل احمر سے جبل اسود تک، اور جبل اسود سے جبل احمر تک پتھر ڈھونے کا حکم دے تو عورت پر حق ہے کہ اس کو بجا لائے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، یعنی سجدہ تحیۃ و تعظیم نہ کہ سجدہ عبادت کیونکہ غیر اللہ کی عبادت شرک ہے، اور شرک کبھی جائز نہیں ہو سکتا، نہ رسول اس کا حکم دے سکتے ہیں، البتہ تعظیمی سجدہ ملاقات کے وقت اگلے دینوں میں جائز تھا، اور ملائکہ نے آدم علیہ السلام کو تعظیمی سجدہ ہی کیا تھا، اسی طرح یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں نے یوسف علیہ السلام کو تعظیمی سجدہ کیا تھا جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے، لیکن ہماری شریعت میں تعظیمی سجدہ بھی منع ہو گیا، اب مطلقاً سجدہ سوائے اللہ تعالی کے کسی کو جائز نہیں ہے، اور سجدہ وہ عبادت ہے جو اللہ تعالی کے لئے خاص ہے کیونکہ تعظیمی سجدہ کا وجود ہی ہماری شریعت میں نہیں ہے، البتہ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اگر اس زمانہ میں بھی تعظیم کے طور پر کسی کو سجدہ کر لے تو وہ گنہگار ہو گا، مشرک نہ ہو گا، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ جب شام سے لوٹ کر آئے تھے تو نبی اکرم ﷺ کو سجدہ کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ کیا ہے معاذ۔۔۔'' الخ حدیث، اس میں یہ ہے کہ ایسا مت کرو، بہرحال تعظیمی سجدہ کے حرام ہونے میں کچھ شک نہیں، اور بعض علماء نے اس کو بھی شرک کہا ہے اس خیال سے کہ ہماری شریعت میں سجدہ عبادت کے سوا کوئی سجدہ نہیں ہے، تو گویا اس نے غیر اللہ کی عبادت کی اور یہ کھلا ہوا شرک ہے۔ واللہ اعلم۔

1853- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى؛ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ مِنَ الشَّامِ سَجَدَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: <مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟ > قَالَ: أَتَيْتُ الشَّامَ فَوَافَقْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ، فَوَدِدْتُ فِي نَفْسِي أَنْ نَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < فَلا تَفْعَلُوا، فَإِنِّي لَوْكُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِغَيْرِ اللَّهِ، لأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا، وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ، لَمْ تَمْنَعْهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۵۱۸۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۵۷)، وقد أخرجہ: حم (/۳۸۱۴) (حسن صحیح)

۱۸۵۳- عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب معاذ رضی اللہ عنہ شام سے واپس آئے، تو نبی اکرم ﷺ کو سجدہ (سجدۂ تحیہ) کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ''اے معاذ! یہ کیا ہے؟'' انہوں نے کہا: میں شام گیا تو دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں اور سرداروں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میری دلی تمنا ہوئی کہ ہم بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی کریں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں، ایسا نہ کرنا، اس لیے کہ اگر میں اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ اپنے شوہر کا حق ادانہ کر لے، اورا گر شوہر عورت سے جماع کی خوا ہش کرے، اور وہ کجاوے پر سوار ہو تو بھی وہ شوہر کو منع نہ کرے ''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ نیک اور دیندار عورت دنیاوی عیش و عشرت کاعنوان ہوتی ہے، اس کی صحبت سے آدمی کو خوشی ہوتی ہے، باہر سے کتنے ہی رنج میں آئے جب اپنی پاک سیرت عورت کے پاس بیٹھتا ہے تو سارا رنج و غم بھول جاتا ہے برخلاف اس کے اگر عورت خراب اور بد خلق ہو تو دنیا کی زندگی جہنم بن جاتی ہے، کتنا ہی مال اور دولت ہو سب بیکار اور لغو ہو جاتا ہے، کچھ مزا نہیں آتا، علی رضی اللہ عنہ نے {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً} [سورة البقرة : ۲۰۱] سے دنیا کی نیکی سے نیک اور دیندار عورت اور آخرت کی نیکی سے جنت کی حور، اور آگ کی عذاب سے خراب اور بد زبان عورت مراد لی ہے۔

1854- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أُمِّهِ؛ قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ، دَخَلَتِ الْجَنَّةَ>۔
* تخريج: ت/الرضاع ۱۰ (۱۱۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۹۴) (ضعیف)
(مساور الحمیری اور ان کی ماں دونوں مبہم راوی ہیں)۔
۱۸۵۴- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جو عورت اس حال میں مرے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گی''۔
 
Top