• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب مَنْ طَلَّقَ أَمَةً تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ اشْتَرَاهَا
۳۲- باب: دو طلاق دینے کے بعد لونڈی کے خریدنے کا بیان​

2082- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ أُعْتِقَا، يَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ : عَمَّنْ؟ قَالَ: قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ.
قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: لَقَدْ تَحَمَّلَ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا صَخْرَةً عَظِيمَةً عَلَى عُنُقِهِ۔
* تخريج: د/الطلاق ۶ (۲۱۸۷، ۲۱۸۸)، ن/الطلاق ۱۹(۳۴۵۷، ۳۴۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۹، ۳۳۴) (ضعیف)
(عمر بن معتب ضعیف راوی ہیں)
۲۰۸۲- ابو الحسن مو لی بنی نو فل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہو جائیں، کیا وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں، کر سکتا ہے، ان سے پوچھا گیا: یہ فیصلہ کس کا ہے؟ تو وہ بولے: رسول اللہ ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا۔
عبد الرزاق کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مبارک نے کہا: ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کرکے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب عِدَّةِ أُمِّ الْوَلَدِ
۳۳- باب: ام ولد کی عدت کا بیان​

2083- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: لاتُفْسِدُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ، عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔
* تخريج: د/الطلاق ۴۸ (۲۳۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۲۰۳) (صحیح)

۲۰۸۳- عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم پرہمارے نبی محمد ﷺ کی سنت کو نہ بگاڑو، ام ولد ۱؎ کی عدت چار ماہ دس دن ہے ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: ام ولد وہ لونڈی جو اپنے مالک کا بچہ جنے۔
وضاحت۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب ام ولد کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، گویا یہ عدت میں مثل آزاد کے ہے، اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب كَرَاهِيَةِ الزِّينَةِ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
۳۴- باب: بیوہ عورت عدت کے دنوں میں زیب و زینت نہ کرے ۱؎
وضاحت۱؎: زینت سے مراد ہے سر میں تیل ڈالنا، مانگ نکالنا، سرمہ لگانا، ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانا، اور جتنے سنگار عورتیں کرتی ہیں۔

2084- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ وَأُمَّ حَبِيبَةَ تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَةً لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا، فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحَلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ، وَإِنَّمَا هِيَ : أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا >۔
* تخريج: خ/الطلاق ۴۶ (۵۳۳۶)، ۴۷ (۵۳۳۸)، الطب ۱۸ (۵۷۰۶)، م/الطلاق ۹ (۱۴۸۸)، د/الطلاق ۴۳ (۲۲۹۹)، ت/الطلاق ۱۸ (۱۱۹۷)، ن/الطلاق ۵۵ (۳۵۳۰)، ۶۷ (۳۵۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۷۶ و۱۸۲۵۹)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۳۵ (۱۰۱)، حم (۶/۳۲۵، ۳۲۶)، دي/الطلاق ۱۲ (۲۳۳۰) (صحیح)

۲۰۸۴- ام المومنین ام سلمہ اور ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہما ذکر کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی ایک بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی بیٹی کی آنکھ دکھ رہی ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''پہلے (زمانہ جاہلیت میں) تم سال پورا ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ جب عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک خراب اور تنگ کوٹھری میں چلی جاتی، اور برے سے برے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو لگاتی نہ زینت کرتی، کامل ایک سال تک ایسا کرتی، جب سال پورا ہو جاتا تو ایک اونٹنی کی مینگنی لاتی، عورت اس کو پھینک کر عدت سے باہر آتی، رسول اکرم ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جاہلیت کے زمانہ میں تو ایسی سخت تکلیف ایک سال تک سہتی تھیں، اب صرف چار مہینے دس دن تک عدت رہ گئی ہے، اس میں بھی زیب و زینت سے رُکنا مشکل ہے، امام احمد اور اہلحدیث کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ سوگ والی عورت کو سرمہ لگانا کسی طرح جائز نہیں اگرچہ عذر بھی ہو، اور حنفیہ اور مالکیہ کے نزدیک عذر کی وجہ سے جائز ہے، بلا عذر جائز نہیں، اور شافعی نے کہا رات کو لگا لے اور دن کے وقت اس کو صاف کر ڈالے، تمام فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ میں رہے، یعنی زیب و زینت نہ کرے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب هَلْ تُحِدُّ الْمَرْأَةُ عَلَى غَيْرِ زَوْجِهَا ؟
۳۵ - باب: کیا شوہر کے علاوہ عورت دوسرے لوگوں کا سوگ منا سکتی ہے؟​

2085- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ، إِلا عَلَى زَوْجٍ >۔
* تخريج: م/الطلاق ۹ (۱۴۹۱)، ن/الطلاق ۵۸ (۳۵۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۴۱)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۳۵ (۱۰۴)، حم (۶/۳۷، ۱۴۸، ۲۴۹)، دي/الطلاق ۱۲ (۲۳۲۹) (صحیح)

۲۰۸۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے''۔

2086- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ، إِلا عَلَى زَوْجٍ >۔
* تخريج: م/الطلاق ۹ (۱۴۹۰)، ن/الطلاق ۵۵ (۳۵۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۱۷)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۳۵ (۱۰۴)، حم (۶/۱۸۴، ۲۸۶، ۲۸۷) (صحیح)

۲۰۸۶- ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے''۔

2087- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ إِلا امْرَأَةٌ تُحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا،إِلا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلاتَكْتَحِلُ وَلاتَطَيَّبُ إِلا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا، بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ "۔
* تخريج: خ/الحیض ۱۲ (۱۳۱۳، الجنائز ۳۰ (۱۲۷۸)، الطلاق ۴۷ (۵۳۳۹)، ۴۹ (۵۳۴۲)، م/الطلاق ۹ (۹۳۸)، د/الطلاق ۴۶ (۲۳۰۲، ۲۳۰۳)، ن/الطلاق ۶۴(۳۵۶۴)، ۶۵ (۳۵۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۶۵، ۸۵، ۴۰۸)، دي/ الطلاق ۱۳ (۲۳۳۲) (صحیح)

۲۰۸۷- ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منایا جائے البتہ بیوی اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے، رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، ہاں رنگین بنی ہوئی چادر اوڑھ سکتی ہے، سرمہ اور خوشبو نہ لگائے، مگر حیض سے پاکی کے شروع میں تھوڑا سا قسط یا اظفار(خوشبو) لگا لے''۱؎۔
وضاحت۱؎: شرم گاہ کی بدبو دور کرنے کے لئے تھوڑا سا خوشبو استعمال کر سکتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب الرَّجُلِ يَأْمُرُهُ أَبُوهُ بِطَلاقِ امْرَأَتِهِ
۳۶- باب: اگر باپ بیٹے کو کہے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دیدو تو اس کے حکم کا بیان​

2088- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ، وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يُبْغِضُهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَطَلَّقْتُهَا۔
* تخريج: د/الادب ۱۲۹ (۵۱۳۸)، ت/الطلاق ۱۳ (۱۱۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۲، ۵۳، ۱۵۷) (حسن)

۲۰۸۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۱؎۔
وضاحت۱؎: ماں باپ کی اطاعت مباح کاموں میں فرض ہے اور طلاق مباح ہے، اگرچہ عورت کا کوئی قصور نہ ہو جب بھی ماں باپ کے حکم پر اس کو طلاق دے سکتا ہے۔

2089- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ رَجُلا أَمَرَهُ أَبُوهُ أَوْ أُمُّهُ شَكَّ شُعْبَةُ أَنْ يُطَلِّقَ امْرَأَتَهُ، فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِائَةَ مُحَرَّرٍ، فَأَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي الضُّحَى وَيُطِيلُهَا، وَصَلَّى مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ.
وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، فَحَافِظْ عَلَى وَالِدَيْكَ، أَوِ اتْرُكْ >۔
* تخريج: ت/البر و الصلۃ ۳ ( ۱۹۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۹۶، ۱۹۷، ۶/۴۴۵، ۴۴۷، ۴۵۱) (صحیح)

۲۰۸۹- ابوعبد الرحمن سے روایت ہے کہ ایک شخص کو اس کی ماں نے یا باپ نے (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اس نے نذر مان لی کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اسے سو غلام آزاد کرنا ہوں گے، پھر وہ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی صلاۃ ) پڑھ رہے تھے، اور اسے خوب لمبی کر رہے تھے، اور انہوں نے صلاۃ پڑھی ظہر وعصر کے درمیان، بالآخر اس شخص نے ان سے پوچھا، تو ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنی نذر پوری کرو، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو۔
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سناہے: ''باپ جنت میں جانے کا بہترین دروازہ ہے، اب تم اپنے والدین کے حکم کی پابندی کرو، یا اسے نظر انداز کر دو'' ۱؎۔

وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت ایسی عمدہ چیز ہے، جن کی اطاعت سے جنت ملتی ہے، اور ظاہر ہے کہ جنت کی آدمی کو کتنی فکر ہونی چاہئے، پس ویسے ہی ماں باپ کی اطاعت کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔


* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

{ 11- كِتَاب الْكَفَّارَاتِ }
۱۱- کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل


1- بَاب يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الَّتِي كَانَ يَحْلِفُ بِهَا
۱ - باب: رسول اللہ ﷺ کی قسم اور حلف کا بیان​

2090- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ ؛ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺإِذَا حَلَفَ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۳۶۱۲ ، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۵) (صحیح)
(اس سند میں محمد بن مصعب ضعیف راوی ہیں، لیکن یہ شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
۲۰۹۰- رفاعہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قسم کھاتے تو یہ فرماتے: ''وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ'' (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے)۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ قسم کھانی جائز ہے، بشرطیکہ سچ بات پر کھائے، لیکن یہ ضروری ہے کہ سوائے اللہ کے نام یا اس کی صفت کے دوسرے کسی کی قسم نہ کھائے۔

2091- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ،عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ؛ قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الَّتِي يَحْلِفُ بِهَا، أَشْهَدُ عِنْدَاللَّهِ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۱۲ ، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۶) (صحیح)
(سند میں عبد الملک صنعانی ضعیف راوی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے)
۲۰۹۱- رفاعہ بن عرابہ جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی قسم جو آپ کھایا کرتے تھے، یوں ہوتی تھی: ''وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ'' (قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے)۔

2092- حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ ؛ قَالَ: كَانَتْ أَكْثَرُ أَيْمَانِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ " لا، وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ "۔
* تخريج: ن/الأیمان والنذور ۱ (۳۷۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۶۵)، وقد أخرجہ: خ/القدر۱۴ (۶۶۱۷)، الأیمان ۳ (۶۶۲۸)، التوحید ۱۱ (۷۳۹۱)، د/الأیمان والنذور ۱۲ (۳۲۶۳)، ت/الأیمان ۱۲ (۱۵۴۰)، حم (۲/۲۶، ۶۷، ۱۲۷)، دي/الأیمان والنذور ۱۲ (۲۳۹۵) (حسن)

۲۰۹۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی قسم اکثر یوں ہو تی تھی: ''وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ'' (قسم ہے اس ذات کی جو دلوں کو پھیرنے والا ہے)۔

2093- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ،(ح) و حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: " لا،وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ "۔
* تخريج: د/الأیمان والنذور ۱۲ (۳۲۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۸) (ضعیف)
(سند میں محمد بن ہلال اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں، نیزملاحظہ ہو : المشکاۃ : ۳۴۲۳)
۲۰۹۳- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی قسم یوں ہوتی تھی: ''لا،وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ'' (ایسا نہیں ہے، اور میں اللہ تعالی سے استغفار کرتا ہوں)۱؎۔
وضاحت۱؎: لغو وہ قسم ہے جو آدمی کی زبان پر بے قصد و ارادہ جاری ہو جائے، اس سے کوئی کفارہ لازم نہیں آتا، یہ قسمیں آپ کی اسی قبیل سے ہوتیں مگر اس سے بھی آپ ﷺ نے استغفار کیا تاکہ امت کے لوگ اس سے بھی پرہیز کریں، صحیح بخاری میں ہے کہ اکثر آپ ﷺ یوں قسم کھاتے تھے: ''لا ومقلب القلوب'' اور صحیحین میں ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''وأيم الله إن كان لخليقاً للإمارة'' یعنی اللہ کی قسم! زید بن حارثہ امیر ہونے کے لائق تھا، اور جبریل علیہ السلام نے اللہ سے کہا: رب تیری عزت کی قسم، جو کوئی اس کو سن پائے گا، وہ جنت میں جائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب النَّهْيِ أَنْ يُحْلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ
۲- باب: اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت​

2094- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ ابْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَمِعَهُ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ " قَالَ عُمَرُ: فَمَا حَلَفْتُ بِهَا ذَاكِرًا وَلا آثِرًا۔
* تخريج: خ/الأیمان ۴ (۶۶۴۷)، م/الأیمان والنذور۵ (۱۶۴۶)، ن/الأیمان والنذور ۴ (۳۷۹۸)، د/الأیمان والنذور ۵ (۳۲۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۱۸)، وقد أخرجہ: ت/الأیمان ۸ (۱۵۳۳)، حم (۲/۱۱، ۳۴، ۶۹، ۸۷، ۱۲۵، ۱۴۲) (صحیح)

۲۰۹۴- عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: ''اللہ تمہیں باپ دادا کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے،'' اس کے بعد میں نے کبھی باپ دادا کی قسم نہیں کھائی، نہ اپنی طرف سے، اور نہ دوسرے کی نقل کر کے۱؎۔
وضاحت۱؎: امام مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر جو کوئی قسم کھانا چاہے تو اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔

2095- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، عَنْ هِشَامٍ،عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِي، وَلا بِآبَائِكُمْ "۔
* تخريج: م/الایمان ۲ (۱۶۴۸)، ن/الأیمان ۹ (۳۸۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۶۲) (صحیح)

۲۰۹۵- عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''نہ طاغوتوں (بتوں) کی، اور نہ اپنے باپ دادا کی قسم کھاؤ''۔

2096- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ،عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي يَمِينِهِ: بِاللاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ "۔
* تخريج: خ/تفسیر سورۃ النجم ۲ (۴۸۶۰)، الادب ۷۴ (۶۱۰۷)، الاستئذان ۵۲ (۶۳۰۱)، الأیمان ۵ (۶۶۵۰)، م/الأیمان ۲ (۱۶۴۷)، د/الایمان ۴ (۲۳۴۷)، ت/الأیمان ۱۷ (۱۵۴۵)، ن/الأیمان ۱۰ (۳۸۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۷۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۰۹) (صحیح)

۲۰۹۶- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے قسم کھائی، اور اپنی قسم میں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی، تو اسے چا ہیے کہ وہ ''لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ'' کہے (اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں)''۱؎۔
وضاحت۱؎: ''لات'' اور ''عزی'' دو بڑے بت تھے جن کی زمانہ جاہلیت میں عرب عبادت کرتے تھے، واضح رہے اگر بے اختیار عادت کے طور پر ان کا نام نکل جائے اور دل میں ان کی کوئی تعظیم نہ ہو تو آدمی کافر نہ ہو گا، اگر تعظیم کی نیت سے کہا تو وہ کافر و مرتد ہے، اس پر دوبارہ اسلام لانا واجب ہے (لمعات التنقیح)۔

2097- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ، قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ،عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ؛ قَالَ: حَلَفْتُ بِاللاتِ وَالْعُزَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " قُلْ : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، ثُمَّ انْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلاثًا، وَتَعَوَّذْ،وَلا تَعُدْ "۔
* تخريج: ن/الأیمان والنذور ۱۱ (۳۸۰۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۳۹۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۸۳) (ضعیف)
(سند میں ابو اسحاق مختلط و مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: إلارواء: ۸/۱۹۲)
۲۰۹۷- سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا لی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم ''لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ'' کہو (اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں)، پھر اپنے بائیں طرف تین بار تھو تھو کرو، اور اعوذ باللہ کہو (میں شیطا ن سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں) پھر ایسی قسم نہ کھانا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے اور اوپر کی حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر غیر اللہ کی قسم اس کو معظم سمجھ کر کھائے تو آدمی کافر ہو جاتا ہے، لیکن معظم سمجھنے سے کیا مراد ہے؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعضوں نے کہا: ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر اور ہمسر سمجھے، لیکن ایسا تو کفار و مشرکین بھی نہیں سمجھتے تھے، وہ بھی جانتے تھے کہ اللہ سب سے بڑا ہے، اور آسمان اور زمین کا وہی خالق ہے جیسے اس آیت میں ہے: {وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ} [سورة لقمان: ۲۵] اور اس آیت میں {مَا نَعْبُدُهُمْ إِلا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى} [سورة الزمر: ۳] یعنی ہم بتوں کو اس لئے پوجتے ہیں تاکہ وہ ہم کو اللہ کے نزدیک کردیں، اور یہ مسئلہ بڑا نازک ہے اور شرک کا معاملہ بہت بڑا ہے، شرک ایسا گناہ ہے جو کبھی نہیں بخشا جائے گا، پس ہر مسلمان کو اس سے پرہیز کرنا چاہئے، شرک یہ ہے کہ جب اللہ کے علاوہ کسی کو کوئی اس لائق سمجھے کہ وہ بغیر اللہ کی مشیت اور ارادے کے کوئی برائی یا بھلائی کا کام کر سکتا ہے، یا اس کا کچھ زور اللہ تعالیٰ پر ہے، معاذ اللہ، دنیا کے بادشاہوں کی طرح جیسے وہ اپنے نائبوں کا لحاظ رکھتے ہیں، یہ ڈر کر کہ اگر وہ ناراض ہو جائیں گے تو ان کے کارخانہ میں خلل ہو جائے گا۔
یا وہ اللہ کی طرح ہر پکارنے والے کی پکار سن لیتا ہے، یا نزدیک ہو یا دو، یا ہر مشکل کے وقت نزدیک ہو دور کام آسکتا ہے، یا ہربات دیکھتا اور سنتا ہے، تو اس نے شرک کیا، گو وہ اس کو اللہ کے برابر نہ سمجھے، معظم سمجھنے کے یہی معنی ہیں، یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر اللہ کی عظمت بالکل نہ کرے، انبیاء ورسل، فرشتوں اور اولیاء و صلحاء کی تعظیم ہماری شریعت میں ہے، مگر یہ تعظیم یہی ہے کہ ان سے محبت کی جائے، ان کو اللہ کا نیک بندہ سمجھا جائے، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ اللہ کی مشیت کے بغیر کسی کا رتی بھر کام نکال سکتے ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے حکم میں کچھ چوں و چرا کر سکتے ہیں، یا ان کا کچھ زور- معاذ اللہ- اللہ تعالیٰ پر ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو کسی سے رتی برابربھی ڈر و خوف نہیں ہے۔ اور یہ سب اگراللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف متحد ہو جائیں تو وہ ایک لحظہ میں ان سب کو تباہ و برباد کر سکتا ہے، اور ان سب کے خلاف ہو جانے سے اس کا ذرہ برابر بھی کوئی کام متاثر نہیں ہو سکتا، یہ موحدوں کا اعتقاد ہے، پس موحد جب غیر اللہ کی قسم کھائے گا تو یقینا کہا جائے گا کہ اس کی قسم لغو اور عادت کے طور پر ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ موحد غیر اللہ میں سے کسی میں کچھ بالاستقلال قدرت یا اختیار سمجھے۔ جو شرکیہ افعال کیا کرتا ہے لیکن نام کا مسلمان ہے وہ جب غیر اللہ کی قسم کھائے گا تو شرک کا گمان اس کی طرف اور زیادہ قوی ہو گا، اور بہت مسلمان ایسے ہیں کہ اللہ کی قسم کہو تو وہ سو کھا ڈالیں لیکن کیا ممکن ہے کہ اپنے پیر مرشد یا مدار یا سالار یا غوث کی جھوٹی قسم کھائیں، ان کے مشرک ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں ہے، اب یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ جو چیزیں ہماری شریعت میں بالکل لائق تعظیم نہیں ہیں بلکہ ان کی تحقیر اور توڑ ڈالنے کا حکم ہے، جیسے بت، اور تعزیہ والے جھنڈے وغیرہ ان کی تو ذرا سی تعظیم بھی کفر ہے، اس لیے کہ ان کی تعظیم مشرکین کی خاص نشانی ہے مثلاً ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی قبریا کسی ولی یا نبی کی قبر پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو، اور دوسرا شخص کسی بت کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو تو دوسرے شخص کے کفر میں کوئی شبہ نہ رہے گا، لیکن پہلے شخص کی نیت معلوم کی جائے گی، اگر عبادت کی نیت سے اس نے ایسا کیا تو وہ بھی کافرہو جائے گا، اور جو صرف ادب اور تعظیم میں ایسا کیا لیکن عقیدہ اس کا توحید کا ہے، تو وہ کافر نہ ہو گا مگر شرع کے خلاف کرنے پر اس کو اس سے منع کیا جائے گا۔
اکثر علماء محققین نے اس فرق کو مانا ہے، اور بعضوں نے اس باب میں دونوں کا حکم ایک سا رکھا ہے جو فعل ایک کے ساتھ کفر ہے وہ دوسرے کے ساتھ بھی کفر ہے، مثلاً بت کا سجدہ بھی کفر ہے اور قبر کا سجدہ بھی کفر ہے البتہ فرق یہ ہے کہ بت کی اہانت و تذلیل اور اس کے توڑنے کا حکم ہے، اور مومنین صالحین کی قبریں کھودنے کا حکم نہیں ہے اور یہ فرقہ کہتا ہے کہ انبیاء، اولیاء، ملائکہ اور شعائر اللہ کی تعظیم درحقیقت اللہ کی ہی تعظیم ہے کیونکہ اللہ ہی کے حکم سے اللہ کا مقبول بندہ سمجھ کر اس کی تعظیم کرتے ہیں، پس یہ غیر اللہ کی تعظیم نہیں ہوئی بلکہ صلحاء کی تعظیم ہوئی، وہ اس میں مستثنیٰ رہے گی، اس لیے کہ وہ اللہ ہی کی تعظیم ہے۔ اس فائدہ کو یاد رکھنا چاہئے اور ممکنہ حدتک جس کام میں شرک شک و شبہ بھی ہو اسے باز رہنا چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلامِ
۳- باب: اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب میں جانے کی قسم کھانے کا بیان​

2098- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ،عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلامِ كَاذِبًا مُتَعَمِّدًا، فَهُوَ كَمَا قَالَ "۔
* تخريج: خ/الجنائز۸۳ (۱۳۶۳)، الأدب ۴۴ (۶۰۴۷)، ۷۳ (۶۱۰۵)، الأیمان ۷ (۶۶۵۲)، م/الإیمان ۴۷ (۱۱۰)، د/الأیمان ۹ (۳۲۵۷)، ت/الأیمان ۱۵ (۱۵۴۳)، ن/الأیمان ۶ (۳۸۰۱)، ۳۱ (۳۸۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۳، ۳۴) (صحیح)

۲۰۹۸- ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے اسلام کے سوا کسی اور دین میں چلے جانے کی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی، تو وہ ویسے ہی ہوگا جیسا اس نے کہا ''۱؎۔
وضاحت۱؎: مثلاً یوں کہا: اگر میں فلاں کام کروں تو یہودی ہوں، یا نصرانی ہوں، یا اسلام سے یا نبی سے بری ہوں۔ اور اس کی طرح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کافر ہو جائے گا، اور اسلام سے نکل جائے گا، ظاہر حدیث کا یہی مطلب ہے، واضح رہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اتنی سختی سے یہ بات اس لیے فرمائی کہ لوگ ایسا کہنے سے بچیں، ورنہ اگر اس کا عقیدہ اسلام کا ہے تو کافر نہ ہو گا۔

2099- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَرَّرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ؛ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلا يَقُولُ: أَنَا، إِذًا لَيَهُودِيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "وَجَبَتْ"۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۰ ، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۷) (ضعیف جدا)
(سند میں بقیہ بن ولید مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبد اللہ بن محرر منکر الحدیث اور متروک ہے)
۲۰۹۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو کہتے ہو ئے سناکہ اگر میں ایسا کروں تو یہودی ہوں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اس پر یہ قسم واجب ہو گئی''۔

2100- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ ابْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ قَالَ إِنِّي بَرِيئٌ مِنَ الإِسْلامِ، فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ: وَإِنْ كَانَ صَادِقًا لَمْ يَعُدْ إِلَى الإِسْلامِ سَالِمًا "۔
* تخريج: د/الأیمان ۹ (۳۲۵۸)، ن/الأیمان ۷ (۳۸۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۵، ۳۵۶) (صحیح)

۲۱۰۰- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کہے اگر ایسا کروں تو اسلام سے بری ہوں، اگر وہ جھوٹا ہے تو ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا، اور اگر وہ اپنی بات میں سچا ہے تو بھی اسلام کی جانب صحیح سالم سے نہیں لوٹے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ اس نے اسلام کی عظمت تسلیم نہیں کی، اور دین کو ایسا حقیر سمجھا کہ بات بات پر اس سے جدا ہو جانے کی شرط لگاتا ہے، مسلمان کو ہرگز ایسی شرط نہ لگانی چاہئے، گو وہ کتنا ہی بڑا کام ہو، اپنا دین سب سے زیادہ پیارا ہے، اور سب پر مقدم ہے، کوئی کام ہو یا نہ ہو، دین کی شرط لگانے سے کیا فائدہ؟ اور حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جو کوئی ایسی شرط لگائے، پھر اس میں سچا بھی ہو جب بھی گنہگار ہو گا، اور اس کے دین میں خلل آئے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4-بَاب مَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ
۴ - باب: اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو مان لینے کا بیان​

2101- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ،عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلا يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: " لا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ حَلَفَ بِاللَّهِ فَلْيَصْدُقْ،وَمَنْ حُلِفَ لَهُ بِاللَّهِ فَلْيَرْضَ، وَمَنْ لَمْ يَرْضَ بِاللَّهِ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۸۴۳۹، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۸) (صحیح)

۲۱۰۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو باپ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو فرمایا: ''اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھاؤ، جو شخص اللہ کی قسم کھائے تو چاہئے کہ وہ سچ کہے، اور جس سے اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو راضی ہونا چاہئے، اور جو شخص اللہ تعالی کے نام پہ راضی نہ ہو وہ اللہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان نے اللہ کی قسم کھائی، تو اب اس کے بیان کو مان لینا اور اس پر رضا مند ہو جانا چاہئے، اب اس سے یوں نہ کہنا چاہئے کہ تمہاری قسم جھوٹی ہے، یا اللہ کے سوا اب کسی اور شخص کی اس کو قسم نہ کھلانی چاہئے، جیسے جاہلوں کا ہمارے زمانہ میں حال ہے کہ اللہ کی قسم کھانے پر ان کی تسلی نہیں ہوتی، اور اس کے بعد پیر و مرشد یا نبی و رسول یا کعبہ یا ماں باپ کی قسم کھلاتے ہیں، یہ نری حماقت اور سراسر جہالت ہے، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کا درجہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے برابر بھی کوئی نہیں ہے، سب سے زیادہ مومن کو اللہ کے نام کی حرمت و عزت اور عظمت کرنی چاہئے، اور احتیاط رکھنی چاہئے کہ اول تو اللہ کے سوا اور کسی کی قسم ہی نہ کھائے، اور اگر عادت کے طور پر اور کسی کے نام کی قسم نکل جائے اور جھوٹ اور غلط ہو جائے تو فوراً لا إِلَهَ إِلا الله کہے یعنی میں اللہ رب العالمین کے سوا کسی اور کو اس معاملے میں عظمت و احترام کے لائق نہیں جانتا غیر کے الفاظ تو یونہی سہواً یا عادتاً میرے زبان سے نکل گئے تھے، مگر ایک بات یاد رہے کہ اللہ کے نام کی کبھی جھوٹی قسم نہ کھائے، اگر پیر، رسول، نبی، مرشد، ولی، غوث اور قطب وغیرہ کے نام پر لاکھوں قسمیں جھوٹ ہو جائیں تو اتنا ڈر نہیں ہے جتنا اللہ تعالی کے نام کی ایک قسم جھوٹ ہونے سے ہے، یہ حکم مسلمانوں کے لئے ہے کہ جب وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اب زیادہ تکلیف ان کو نہ دی جائے کہ وہ کسی اور کے نام کی بھی قسم کھائیں۔

2102- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ،عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلا يَسْرِقُ، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ؟ فَقَالَ: لا وَالَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ، وَكَذَّبْتُ بَصَرِي "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: (۱۴۸۱۶))، وقد آخرجہ: خ/الأنبیاء ۴۸ (۳۴۴۳ تعلیقاً)، م/الفضائل ۴۰ (۲۳۶۸)، ن/آداب القضاۃ ۳۶ (۵۴۲۹)، حم (۲/۳۱۴، ۳۸۳) (صحیح)

۲۱۰۲- ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عیسی بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ''تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنی آنکھ کو جھٹلا دیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اللہ کی عظمت کے سامنے میری آنکھ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ممکن ہے کہ مجھ کو دھوکا ہوا ہو، آنکھ نے دیکھنے میں غلطی کی ہو، لیکن یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ مسلمان کی قسم کو جھٹلاؤں، ہمیشہ صالح ، نیک اور بزرگ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب مسلمان ان کے سامنے قسم کھا لیتا ہے تو ان کو یقین آجاتا ہے، اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمان کبھی جھوٹی قسم نہیں کھائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب الْيَمِينُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ
۵- باب: قسم کھا نے میں یا قسم توڑنا ہوتی ہے یا شرمندگی ہوتی ہے​

2103- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّمَا الْحَلِفُ حِنْثٌ أَوْ نَدَمٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۷۴۳۴ ، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۹) (ضعیف)
(سند میں بشار بن کدام ضعیف راوی ہے)۔
۲۱۰۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قسم یا تو حنث (قسم توڑنا) ہے یا ندامت (شرمندگی) ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ قسم اکثر ان دونوں باتوں سے خالی نہیں ہوتی، آدمی اکثر غصے میں بے سوچے سمجھے قسم کھا بیٹھتا ہے کہ فلانی چیز نہ کھائیں گے، یا فلانے سے بات نہ کریں گے، پھر ایسی ضرورت پیش آتی ہے کہ قسم توڑنی پڑتی ہے، اور جب توڑے تو کفارہ دینا پڑا، مال بے فائدہ خرچ ہوا، اور ندامت اور شرمندگی بھی ہوئی، اگر نہ توڑا تو بھی ندامت ہوئی کہ قسم کی وجہ سے ایک لذت سے محروم رہے۔
 
Top