• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب كَرَاهِيَةِ الْمُعَصْفَرِ لِلرِّجَالِ
۲۱- باب: مردوں کے لیے پیلے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان​

3601- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْمُفَدَّمِ، قَالَ يَزِيدُ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا الْمُفَدَّمُ ؟ قَالَ: الْمُشْبَعُ بِالْعُصْفُرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۹۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۹) (صحیح)

۳۶۰۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مفدّم سے منع کیا ہے، یزید کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے پوچھا: مفدم کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جو کپڑا کسم میں رنگنے سے خوب پیلا ہو جائے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہلکا سرخ رنگ کسم کا بھی جائز ہے۔

3602- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَلا أَقُولُ: نَهَاكُمْ عَنْ لُبْسِ الْمُعَصْفَرِ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۱ (۴۷۹)، اللباس ۴ (۲۰۷۸)، د/اللباس ۱۱ (۴۰۴۴، ۴۰۴۵)، ت/الصلاۃ ۸۰ (۲۶۴)، اللباس ۵ (۱۷۲۵)، ۱۳ (۱۷۳۷)، ن/التطبیق ۷ (۱۰۴۴، ۱۰۴۵)، ۶۱ (۱۱۱۹)، الزینۃ من المجتبیٰ ۲۳ (۵۱۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۷۹)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۶ (۲۸)، حم (۱/۸۰، ۸۱، ۹۲، ۱۰۴، ۱۰۵، ۱۱۴، ۱۱۹، ۱۲۱، ۱۲۳، ۱۲۶، ۱۲۷، ۱۳۲، ۱۳۳، ۱۳۴، ۱۳۷، ۱۳۸، ۱۴۶) (صحیح)

۳۶۰۲- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پیلے رنگ کے کپڑے پہننے سے روکا، میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع کیا ۱؎۔
وضاحت۱؎ : علی رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے بیان کرنے میں یہ اتنی احتیاط برتی کہ جس طرح رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تھا اسی طرح نقل کیا، لیکن شرعی احکام میں علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، پس دوسروں کو بھی کسم کا رنگ یعنی زعفرانی اور پیلا رنگ منع ہو گا، اور صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے کسم سے رنگے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا تو فرمایا: ''یہ کافروں کے کپڑے ہیں، ان کو مت پہنو'' میں نے پوچھا: ان کو دھو ڈالوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: '' نہیں، ان کو جلا دو'' یہ حکم سختی اور مبالغہ کے طور پر تھا، ورنہ کسم کا رنگ اگر دھو ڈالے، اور کپڑا سفید ہو جائے، تو پھر مرد کو اس کا پہننا جائز ہے، اسی طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرد ایسے کپڑوں کو جو کسم یعنی پیلے رنگ میں رنگے ہوں کسی عورت کو دے دیں۔

3603- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ،فَالْتَفَتَ إِلَيَّ، وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ ؟ " فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ،فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ، فَقَذَفْتُهَا فِيهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ: " يَا عَبْدَاللَّهِ! مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: " أَلاَ كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ! فَإِنَّهُ لابَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ "۔
* تخريج: د/اللباس۲۰ (۴۰۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۴، ۱۹۶) (حسن)

۳۶۰۳- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم اذاخر۱؎ کے موڑ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے، آپ میری طرف متوجہ ہوئے، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: ''یہ کیا ہے''؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا، چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے، میں نے اسے اس میں ڈال دیا، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''عبد اللہ! چادر کیا ہوئی''؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی؟ اس لئے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لئے کوئی مضائقہ نہیں''۔
وضاحت۱؎: اذاخر: مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب الصُّفْرَةِ لِلرِّجَالِ
۲۲- باب: مردوں کے لئے زرد (پیلے) لباس کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: رنگ ورس کا ہو یا زعفران کا یا ہار سنگار کی ڈنڈیوں کا یا اور کسی چیز کا خواہ کپڑا رنگے یا بدن، اسی طرح مہندی کا رنگ بدن میں لگائے یا کپڑے میں عورت اور مرد دونوں کے لئے جائزہے، اور محققین اہل حدیث کا یہی قول ہے کہ کسم کے رنگ کے سوا اور اس رنگ کے جو عورتوں کے لئے خاص ہے جیسے ہاتھ پائوں میں مہندی لگانا باقی سب رنگ مردوں کے لئے جائز ہیں، اور اکثر لوگوں نے زعفرانی رنگ بھی مردوں کے لئے جائز رکھا ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے مردوں کے لئے کسم رنگ اور زعفرانی رنگ سے منع کیا ہے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے کہ وہ اپنی داڑھی کو پیلے رنگ کی رکھتے تھے اور اپنے کپڑے بھی پیلے پہنے تھے ،اور کہتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے، اور آپ کو زرد سے زیادہ اور کوئی رنگ پسند نہ تھا، اور بعضوں نے کہا یہ زردی ورس کی تھی نہ زعفران کی کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ فرشتے اس جنازہ پر نہیں آتے جس پر زعفران لگی ہو، یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اگر کوئی لباس اور کوئی خاص رنگ کسی قوم یا مذہب کی نشانی یا اس کا امتیاز ہو اور خاص اس کے استعمال میں تشبہ کا جذبہ ہو تو اس صورت میں ایسے رنگ جیسے گیروا رنگ جو بعض مخصوص لوگوں کے لئے خاص ہو چکا ہو، کا استعمال ناجائز ہو گا۔

3604- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ؛ قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ ﷺ، فَوَضَعْنَا لَهُ مَائً يَتَبَرَّدُ بِهِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَائَ، فَرَأَيْتُ أَثَرَ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ۔
* تخريج: (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۴۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۹۵) (ضعیف)
(سند میں محمد بن شر حبیل مجہول، اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں)
۳۶۰۴- قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ تشریف لائے، تو ہم نے آپ کے لئے پانی رکھا تاکہ آپ اس سے ٹھنڈے ہوں، آپ نے اس سے غسل فرمایا، پھر میں آپ کے پاس ایک پیلی چادر لے کر آیا، (اس کو آپ نے پہنا) تو میں نے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس ۱؎ کا نشان دیکھا۔
وضاحت۱؎: ایک پیلا، خوشبودار پودا ہے جو یمن میں پایا جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب الْبَسْ مَا شِئْتَ مَا أَخْطَأَكَ سَرَفٌ أَوْ مَخِيلَةٌ
۲۳- باب: جو چاہو پہنو بس اسراف اور تکبر نہ ہو (یعنی فضول خرچی اور گھمنڈ سے ہٹ کر ہر لباس پہنو)​

3605- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا،مَا لَمْ يُخَالِطْهُ إِسْرَافٌ أَوْ مَخِيلَةٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۷۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۵۷)، وقد أخرجہ: خ/اللباس ۱ (تعلیقا) ن/الزکاۃ ۶۶ (۲۵۶۰)، حم (۲/۱۸۱، ۱۸۲) (حسن)

۳۶۰۵- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کھاؤ پیو، صدقہ و خیرات کرو، اور پہنو ہر وہ لباس جس میں اسراف و تکبر (فضول خرچی اور گھمنڈ) کی ملاوٹ نہ ہو'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: ضرورت سے زیادہ مال خرچ کرنے کو اسراف کہتے ہیں، جو حرام ہے، قرآن میں ہے: {وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ}[سورة الأعراف: ۳۱] (اسراف نہ کرو، بیشک اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) دوسری جگہ ہے: {إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُواْ إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا}[سورة الإسراء: ۲۷] ( بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے) اور خلاف شرع کام میں ایک پیسہ بھی صرف کرنا اسراف میں داخل ہے جیسے پتنگ بازی، کبوتر بازی اور آتش بازی وغیرہ وغیرہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب مَنْ لَبِسَ شُهْرَةً مِنَ الثِّيَابِ
۲۴- باب: جو شخص شہرت اور ناموری کے لیے پہنے اس پر وارد وعید کا بیان​

3606- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ الْوَاسِطِيَّانِ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ مُهَاجِرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ ۔
* تخريج: د/اللباس ۵ (۴۰۲۹، ۴۰۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۲، ۱۳۹) (حسن)

۳۶۰۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالی اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا''۔

3607- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُوعَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ فِي الدُّنْيَا، أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ أَلْهَبَ فِيهِ نَارًا "۔
* تخريج: انظر ماقبلہ (حسن)

۳۶۰۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے دنیا میں شہرت کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکائے گا۔

3608- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ مُحْرِزٍ النَّاجِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَهْمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ شُهْرَةٍ،أَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى يَضَعَهُ مَتَى وَضَعَهُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۱۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۵۸) (ضعیف)
(سند میں وکیع بن محرز کے پاس عجیب و غریب احادیث ہیں، اور عباس بن یزید مختلف فیہ راوی ہیں، لیکن سابقہ احادیث میں جیسا گزرا متن حدیث ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۶۵۰)
۳۶۰۸- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے شہرت کی خاطر لباس پہنا، اللہ تعالی اس سے منہ پھیر لے گا یہاں تک کہ اسے اس جگہ رکھے گا جہاں اسے رکھنا ہے'' (یعنی جہنم میں)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب لِبْسِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
۲۵- باب: مردار کا چمڑا رنگنے (دباغت) کے بعد پہننے کا بیان​

3609- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ " ۔
* تخريج: م/الحیض ۲۷ (۳۶۶)، د/اللباس ۴۱ (۴۱۲۳)، ت/اللباس ۷ (۱۷۲۸)، ن/الفرع والعتیرۃ ۳ (۴۲۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۲۲)، وقد أخرجہ: ط/الصید ۶ (۱۷)، حم (۱/۲۱۹، ۲۳۷،۲۷۰، ۲۷۹، ۲۸۰، ۳۴۳، دي/الأضاحي ۲۰ (۲۰۳۱) (صحیح)

۳۶۰۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''ہر وہ کھال جسے دباغت دے دی گئی ہو پاک ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: جو حلال جانور ہیں ان کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔

3610- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ شَاةً لِمَوْلاةِ مَيْمُونَةَ مَرَّ بِهَا، يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ، قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةً، فَقَالَ: " هَلا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ ؟ " فَقَالُوا: يَارَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ، قَالَ: " إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا "۔
* تخريج: م/الحیض ۲۷ (۳۶۳)، ت/اللباس ۷ ( ۱۷۲۷)، د/اللباس۴۱ (۱۴۲۰)، ن/الفرع والعتیرۃ ۳ (۴۲۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۶۶)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۶۱ (۱۴۹۲)، البیوع ۱۰۱ (۲۲۲۱)، ط/الصید ۶ (۱۶)، حم (۶/۳۲۹، ۲۳۶)، دي/الأضاحي ۲۰ (۲۰۳۱) (صحیح)

۳۶۱۰- ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم ﷺ کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے''؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''صرف اس کا کھانا حرام ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مرے ہوئے ماکول اللحم جانور کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کے چمڑے سے دباغت کے بعد ہر طرح کا فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ بیچ کر ہو یا ذاتی استعمال میں لا کر مثلا مصلی وغیرہ بنانا بہرصورت فائدہ اٹھانا جائز ہے۔

3611- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ: عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَلْمَانَ؛ قَالَ: كَانَ لِبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَاةٌ فَمَاتَتْ،فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَيْهَا، فَقَالَ: " مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا؟ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۹۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۵۹) (صحیح)
(سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں ضعیف راوی ہیں)۔
۳۶۱۱- سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امہات المومنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی، رسول اللہ ﷺ کا اس پر گزر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا''۔

3612- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ ۔
* تخريج: د/اللباس ۴۱ (۴۱۲۴)، ن/الفرع والعتیرۃ ۵ (۴۲۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۹۱)، وقد أخرجہ: ط/الصید ۶ (۱۸)، حم (۶/۷۳، ۱۰۴، ۱۴۸، ۱۵۳)، دي/الأضاحي ۲۰ (۲۰۳۰) (صحیح لغیرہ)
(نیز ملاحظہ ہو: صحیح موارد الظمآن: ۱۲۲وغایۃ المرام: ۲۶)
۳۶۱۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا: ''جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب مَنْ قَالَ لا يُنْتَفَعُ مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلا عَصَبٍ
۲۶- باب: مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھانے کے قائلین کی دلیل کا بیان​

3613- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ، (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ: عَنِ الشَّيْبَانِيِّ،(ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَاغُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، كُلُّهُمْ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ؛ قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ ﷺ " أَنْ لاتَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلا عَصَبٍ "۔
* تخريج: د/اللباس ۴۲ (۴۱۲۷، ۴۱۲۸)، ت/اللباس ۷ (۱۷۲۹)، ن/الفرع والعتیرۃ ۴ (۴۲۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۱۰، ۳۱۱) (صحیح)
(تراجع الألبانی: رقم:۴۷۰)
۳۶۱۳- عبد اللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم ﷺ کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث میں ''إِهَاب'' کا لفظ آیا ہے، اور نضر بن شمیل کہتے ہیں کہ ''إِهَاب'' اسی کھال کو کہا جاتا جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جس کی دباغت ہو جائے اسے ''إِهَاب'' نہیں کہتے ، بلکہ اسے ''شن'' یا '' قربہ'' کہا جاتا ہے، لہذا اس حدیث میں ''إِهَاب'' یعنی بغیر دباغت والے چمڑے کا ذکر ہے، اس ''إِهَاب'' یعنی کچے چمڑے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں، لیکن دوسری صحیح حدیثوں میں مشروط طریقے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ یہ کہ حلال مردہ جانوروں کے چمڑے کو پہلے دباغت دے دیں، پھر اس سے فائدہ اٹھائیں لفظ ''إِهَاب'' کی وضاحت کے بعد حدیث میں کسی طرح کا نہ کوئی تعارض ہے اور نہ ہی اشکال۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب صِفَةِ النِّعَالِ
۲۷- باب: نبی اکرم ﷺ کی جوتی کیسی تھی؟​

3614- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ؛ قَالَ: كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ ﷺ قِبَالانِ، مَثْنِيٌّ شِرَاكُهُمَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفۃ الأشراف: ۵۷۸۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۶۰) (صحیح)

۳۶۱۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے۱؎۔
وضاحت۱؎: آپ ﷺ چپل پہنتے تھے اور تسموں سے مراد یہ کہ ہرجوتی میں سامنے دو دو حلقے چمڑے کے تھے ایک میں انگو ٹھا اوربیچ کی انگلی ڈالتے، اور دوسرے میں باقی انگلیاں۔

3615- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ ﷺ قِبَالانِ۔
* تخريج: خ/الخمس ۵ (۱۰۷)، اللباس ۴۱ (۵۸۵۷)، د/اللباس ۴۴ (۴۱۳۴)، ت/اللباس ۳۳ (۱۷۷۲)، الشمائل ۱۰ (۷۱)، ن/الزینۃ من المجتبیٰ ۶۲ (۵۳۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۲۲، ۲۰۳، ۲۴۵، ۲۶۹) (صحیح)

۳۶۱۵- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی جوتیوں کے دو تسمے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب لُبْسِ النِّعَالِ وَخَلْعِهَا
۲۸- باب: جوتے پہننے اور اتارنے کا بیان​

3616- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۴۰۰)، وقد أخرجہ: خ/اللباس ۳۹ (۵۸۵۴)، م/اللباس ۱۹ (۲۰۹۷)، د/اللباس ۴۴ (۴۱۳۹)، ت/اللباس ۳۷ (۱۷۷۹)، ط/اللباس ۷ (۱۵)، حم (۲/۲۴۵، ۲۶۵، ۲۸۳، ۴۳۰) (صحیح)

۳۶۱۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پیر سے شروع کرے، اور اتارے تو پہلے بائیں پیر سے اتارے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب الْمَشْيِ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدِ
۲۹- باب: ایک پاؤں میں جوتا پہن کر چلنے کا بیان​

3617- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ " لا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ، وَلا خُفٍّ وَاحِدٍ، لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيَمْشِ فِيهِمَا جَمِيعًا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۶۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۶۱)، وقد أخرجہ: خ/اللباس۴۰ (۵۸۵۵)، م/اللباس ۱۹ (۲۰۹۷)، د/اللباس ۴۴ (۴۱۳۶)، ت/اللباس ۳۴ (۱۷۷۴)، ط/اللباس ۷ (۱۴)، حم (۲/۲۴۵، ۲۵۳، ۳۱۴، ۴۲۴، ۴۴۳، ۴۷۷) (حسن صحیح)

۳۶۱۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی بھی شخص ایک جوتا اور ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ حکم ادب کے طور پر ہے اگر کوئی عذر ہو مثلا ایک پاؤں میں پھوڑا یا درد ہو تو جوتا اس میں نہ پہنا جائے، تو بہتر یہ ہے کہ دوسرے پاؤں کا جوتا بھی اتار کر چلے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30-بَاب الانْتِعَالِ قَائِمًا
۳۰ باب: کھڑے ہو کر جوتا پہننے کا بیان​

3618- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃالأشراف: ۱۲۵۴۶) (صحیح)

۳۶۱۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ حکم خاص ہے ایسے جوتوں کے لئے جنہیں باندھنے کی ضرورت پڑتی ہے، ایسے جوتے بیٹھ کر پہنے جائیں، کیونکہ کھڑے کھڑے پہننے میں تکلیف ہو گی۔


3619- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۱۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۶۲) (صحیح)

۳۶۱۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے کھڑے جوتا پہننے سے منع فرمایا۔
 
Top