- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
فَضْلُ عُثْمَانَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب
109- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي -عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ-، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ>۔
* تخريج: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۷۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۳) (ضعیف)
(عثمان بن خالد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : ا لضعیفہ: ۲۲۹۱)
۱۰۹- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق (ساتھی) ہے، اور میرے رفیق (ساتھی) اس میں عثمان بن عفان ہیں'' ۔
110- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي -عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ- عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: < يا عُثْمَانُ! هَذَا جِبْرِيلُ أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ، بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ، عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۷۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴) (ضعیف)
(اس کی سند میں بھی عثمان بن خالد ضعیف راوی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ گذشتہ حدیث (۱۰۹) میں گزرا)
۱۱۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: ''عثمان! یہ جبرئیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے (رقیہ کو) رکھتے تھے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیاں تھیں، اور پہلے دونوں ابو لہب کے دونوں بیٹے عتبہ اور ربیعہ کے نکاح میں تھیں، دخول سے پہلے ہی ابو لہب نے اپنے دونوں لڑکوں کو کہا کہ محمد ﷺ کی لڑکیوں کو طلاق دے دو، تو انہوں نے طلاق دے دی، اور نبی اکرم ﷺ نے پہلے ایک کی شادی عثمان رضی اللہ عنہ سے کی ، پھر ان کے انتقال کے بعد دوسری کی شادی بھی انہی سے کر دی، اس لئے ان کا لقب ذو النورین ہوا۔
111- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ؛ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "هذا، يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى>، فَوَثَبْتُ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: <هَذَا>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵)، وقد أخرجہ: ت/المنا قب ۱۹ (۳۷۰۴)، حم (۴/ ۲۳۵، ۲۳۶، ۲۴۲، ۲۴۳) (صحیح)
(ابن سیرین اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن مرۃ بن کعب کی ترمذی کی حدیث نمبر (۳۷۰۴) کے شاہد سے یہ صحیح ہے،جس کی تصحیح امام ترمذی نے کی ہے)
۱۱۱- کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا''، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب رخ کرکے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے)''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والے، اور فتنہ کھڑا کرنے والے حق پر نہ تھے، اور عثمان رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔
112- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <يَا عُثْمَانُ! إِنْ وَلاكَ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ يَوْمًا، فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ، فَلا تَخْلَعْهُ> -يَقُولُ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ-، قَالَ النُّعْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُنْسِيتُهُ۔
* تخريج: تفرد ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۷۵، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶)، وقد أخرجہ: ت/المناقب ۱۹ (۳۷۰۵)، حم (۶/۱۴۹) (صحیح)
(امام ترمذی نے ربیعہ بن یزید اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے درمیان عبد اللہ بن عامر الیحصبی کا ذکر کیا ہے، ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو: ۳/۲۶۴)
۱۱۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اے عثمان! اگر اللہ تعالی کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالی نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا''، آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔
نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلادی گئی تھی۱؎ ۔
وضاحت۱؎: قمیص سے مراد خلافت ہے، ظاہر ہے عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت صحیح تھی، مخالفین ظلم، نفاق اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہ حدیث بمنشا الہٰی بھول گئی تھیں، بعد میں آپ کو رسول اکرم ﷺ کی بات یاد آگئی۔
113- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي مَرَضِهِ: <وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي>، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ: <نَعَمْ>، فَجَائَ، فَخَلا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يُكَلِّمُهُ، وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ.
قَالَ قَيْسٌ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ -مَوْلَى عُثْمَانَ- أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ.
وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ.
قَالَ قَيْسٌ: فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۶۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۷)، وقد أخرجہ: ت/المناقب ۱۹ (۳۷۱۱)، حم (۱/۵۸، ۶۹، ۵/۲۹۰، ۶/ ۲۱۴)، مقتصراً علی ما رواہ قیس عن أبي سہلۃ فقط (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: تعلیق الشہری علی الحدیث فی مصباح الزجاجۃ: ۴۶)
۱۱۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: ''میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا''، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابو بکر کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں''، تو وہ آئے، آپ ﷺ ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔
قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابو سہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔
علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: ''وَأَنَاْ صَاْبِرٌ عَلَيْهِ'' کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں ۔
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے دن کو یوم الدار سے یاد رکھا، ظالموں نے کئی دن محاصرہ کے بعد آپ کو بھوکا پیاسا شہید کیا، نبی اکرم ﷺ نے آپ کواس کی پیش گوئی فرما دی تھی، اور تنہائی کی گفتگو کا حال کسی کو معلوم نہ تھا، آپ کی شہادت کے بعد معلوم ہوا، رضی اللہ عنہ۔