• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ عُثْمَانَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب​

109- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي -عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ-، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ>۔
* تخريج: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۷۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۳) (ضعیف)
(عثمان بن خالد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : ا لضعیفہ: ۲۲۹۱)
۱۰۹- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق (ساتھی) ہے، اور میرے رفیق (ساتھی) اس میں عثمان بن عفان ہیں'' ۔

110- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي -عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ- عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: < يا عُثْمَانُ! هَذَا جِبْرِيلُ أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ، بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ، عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۷۸۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۴) (ضعیف)
(اس کی سند میں بھی عثمان بن خالد ضعیف راوی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ گذشتہ حدیث (۱۰۹) میں گزرا)
۱۱۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے، اور فرمایا: ''عثمان! یہ جبرئیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے (رقیہ کو) رکھتے تھے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم ﷺ کی صاحبزادیاں تھیں، اور پہلے دونوں ابو لہب کے دونوں بیٹے عتبہ اور ربیعہ کے نکاح میں تھیں، دخول سے پہلے ہی ابو لہب نے اپنے دونوں لڑکوں کو کہا کہ محمد ﷺ کی لڑکیوں کو طلاق دے دو، تو انہوں نے طلاق دے دی، اور نبی اکرم ﷺ نے پہلے ایک کی شادی عثمان رضی اللہ عنہ سے کی ، پھر ان کے انتقال کے بعد دوسری کی شادی بھی انہی سے کر دی، اس لئے ان کا لقب ذو النورین ہوا۔

111- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ؛ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "هذا، يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى>، فَوَثَبْتُ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: <هَذَا>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵)، وقد أخرجہ: ت/المنا قب ۱۹ (۳۷۰۴)، حم (۴/ ۲۳۵، ۲۳۶، ۲۴۲، ۲۴۳) (صحیح)
(ابن سیرین اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن مرۃ بن کعب کی ترمذی کی حدیث نمبر (۳۷۰۴) کے شاہد سے یہ صحیح ہے،جس کی تصحیح امام ترمذی نے کی ہے)
۱۱۱- کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا''، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب رخ کرکے کہا: کیا یہی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے)''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والے، اور فتنہ کھڑا کرنے والے حق پر نہ تھے، اور عثمان رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔

112- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <يَا عُثْمَانُ! إِنْ وَلاكَ اللَّهُ هَذَا الأَمْرَ يَوْمًا، فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ، فَلا تَخْلَعْهُ> -يَقُولُ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ-، قَالَ النُّعْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُنْسِيتُهُ۔
* تخريج: تفرد ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۷۵، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶)، وقد أخرجہ: ت/المناقب ۱۹ (۳۷۰۵)، حم (۶/۱۴۹) (صحیح)
(امام ترمذی نے ربیعہ بن یزید اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے درمیان عبد اللہ بن عامر الیحصبی کا ذکر کیا ہے، ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو: ۳/۲۶۴)
۱۱۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اے عثمان! اگر اللہ تعالی کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالی نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا''، آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔
نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں؟ تو وہ بولیں: میں اسے بھلادی گئی تھی۱؎ ۔

وضاحت۱؎: قمیص سے مراد خلافت ہے، ظاہر ہے عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت صحیح تھی، مخالفین ظلم، نفاق اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہ حدیث بمنشا الہٰی بھول گئی تھیں، بعد میں آپ کو رسول اکرم ﷺ کی بات یاد آگئی۔

113- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي مَرَضِهِ: <وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي>، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ: <نَعَمْ>، فَجَائَ، فَخَلا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يُكَلِّمُهُ، وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ.
قَالَ قَيْسٌ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ -مَوْلَى عُثْمَانَ- أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ.
وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ.
قَالَ قَيْسٌ: فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۶۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۷)، وقد أخرجہ: ت/المناقب ۱۹ (۳۷۱۱)، حم (۱/۵۸، ۶۹، ۵/۲۹۰، ۶/ ۲۱۴)، مقتصراً علی ما رواہ قیس عن أبي سہلۃ فقط (صحیح)
(نیز ملاحظہ ہو: تعلیق الشہری علی الحدیث فی مصباح الزجاجۃ: ۴۶)
۱۱۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض الموت میں فرمایا: ''میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا''، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابو بکر کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ خاموش رہے، ہم نے عرض کیا: کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں''، تو وہ آئے، آپ ﷺ ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا۔
قیس کہتے ہیں: مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابو سہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا: بے شک رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں۔
علی بن محمد نے اپنی حدیث میں: ''وَأَنَاْ صَاْبِرٌ عَلَيْهِ'' کہا ہے، یعنی: میں اس پر صبر کرنے والا ہوں ۔
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں: اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا۱؎ ۔

وضاحت۱؎: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے دن کو یوم الدار سے یاد رکھا، ظالموں نے کئی دن محاصرہ کے بعد آپ کو بھوکا پیاسا شہید کیا، نبی اکرم ﷺ نے آپ کواس کی پیش گوئی فرما دی تھی، اور تنہائی کی گفتگو کا حال کسی کو معلوم نہ تھا، آپ کی شہادت کے بعد معلوم ہوا، رضی اللہ عنہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل​

114- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وعَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الأُمِّيُّ ﷺ: أَنَّهُ لا يُحِبُّنِي إِلا مُؤْمِنٌ، وَلا يُبْغِضُنِي إِلا مُنَافِقٌ۔
* تخريج: م/الإیمان ۳۳ (۷۸)، ت/ المنا قب ۲۱ (۳۷۳۶)، ن/الایمان ۱۹ (۵۰۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۴، ۹۵، ۱۲۸) (صحیح)

۱۱۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی امّی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا''۔

115- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ ابْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ: < أَلا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ >۔
* تخريج:خ/المناقب ۹ (۳۷۰۶)، م/فضائل الصحابۃ ۴ (۲۴۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۴۰)، وقد أخرجہ: ت/المناقب ۲۱ (۳۷۳۱)، حم (۱/۱۷۰، ۱۷۷، ۳/۳۲) (صحیح)

۱۱۵- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ''کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے (غزوۂ تبوک کی تفصیلات دیکھئے)، بعض منافقوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بزدلی کا طعنہ دیا تھا کہ رسول اکرم ﷺ تم کو بزدلی کے سبب مدینہ میں چھوڑ گئے، ان کو تکلیف ہوئی، رسول اللہ ﷺ سے شکوہ کیا ، تب آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی، یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی ہے، اور اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: ''إلا أنه لا نبي بعدي'' یعنی اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی جیسے ہارون علیہ السلام نبی تھے، اس حدیث سے نبی اکرم ﷺ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ ہارون علیہ السلام موسیٰ کے بعد موسیٰ کے خلیفہ نہیں تھے بلکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں انتقال کرگئے تھے۔

116- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ؛ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ، فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَمَرَ: الصَّلاةُ جَامِعَةٌ، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- فَقَالَ: <أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟>، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: <أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟>، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: <فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ، اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۷، ومصباح الزجاجۃ: ۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۱) (صحیح)
(لیکن یہ سند ضعیف ہے،اس میں علی بن زیدبن جدعان ضعیف ہیں، اور عدی بن ثابت ثقہ ہیں، لیکن تشیع سے مطعون ہیں، لیکن اصل حدیث شواہد کی وجہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۷۵۰)
۱۱۶- براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا: ''الصَّلاةُ جَاْمِعَةٌ'' یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ''کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟''، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں؟''، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ (علی) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ''۱؎ ۔

وضاحت۱؎: یہ حدیث نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت غدیر خم میں بیان فرمائی، یہ مکہ اور مدینہ کے بیچ جحفہ میں ایک مقام کا نام ہے، اس حدیث سے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا فصل پر استدلال درست نہیں:
۱- کیونکہ اس کے لئے شیعہ مذہب میں حدیث متواتر چاہیے، اور یہ متواتر نہیں ہے،
۲- ولی اور مولیٰ مشترک المعنی لفظ ہیں، اس لئے کوئی خاص معنی متعین ہو یہ ممنوع ہے،
۳- امام معہود و معلوم کے لئے مولیٰ کا اطلاق اہل زبان کے یہاں مسلم نہیں،
۴- خلفاء ثلاثہ (ابو بکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) کی تقدیم اجماعی مسئلہ ہے، اور اس اجماع میں خود علی رضی اللہ عنہ شامل ہیں،
۵- اگر اس سے خلافت بلا فصل مراد ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہرگز اس سے عدول نہ کرتے، وہ اہل زبان اور منشاء نبوی کو ہم سے بہتر جاننے والے تھے،
۶- اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی جائے اور ان کے بغض سے اجتناب کیا جائے، اور یہ اہل سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص امہات المومنین اور آل رسول سے محبت کی جائے، اور ان سے بغض و عداوت کا معاملہ نہ رکھا جائے۔

117- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كَانَ أَبُو لَيْلَى يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ، فَكَانَ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَائِ، وَثِيَابَ الشِّتَائِ فِي الصَّيْفِ، فَقُلْنَا: لَوْ سَأَلْتَهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ، يَوْمَ خَيْبَرَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي، ثُمَّ قَالَ: < اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ >، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلا بَرْدًا بَعْدَ يَوْمِئِذٍ، وَقَالَ: «لأَبْعَثَنَّ رَجُلا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ >، فَتَشَرَّفَ لَهُ النَّاسُ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۱۳، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۹، ۱۳۳) (حسن)
(اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ شدید سيء الحفظ ہیں، لیکن حدیث طبرانی میں موجود شواہد کی بناء پر حسن ہے، بعض ٹکڑے صحیحین میں بھی ہیں، ملاحظہ ہو: الاوسط للطبرانی: ۱/۱۲۷/۱ ، ۲۲۲/۲)
۱۱۷- عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ابو لیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے، ہم نے ابو لیلیٰ سے کہا: کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے (جوابا) کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی، اور (حاضر خدمت ہو کر) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میں مبتلا ہوں، آپ نے میری آنکھ میں تھوک دیا، پھر دعا فرمائی: ''اے اللہ اس سے سردی اورگرمی کو دور رکھ''۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں ایسے آدمی کو (جہاد کا قائد بنا کر) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے''۔
لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے، آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو بلا یا، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا۱؎ ۔

وضاحت۱؎: غزوہ خیبر ۷ ھ میں ہوا، اور خیبر مدینہ سے شمال میں شام کی طرف واقع ہے، یہ حدیث بھی مؤید ہے کہ اوپر والی حدیث میں مولی سے دوستی اور محبت مراد ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے محبت کی تصریح فرمائی ہے۔

118- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا >۔
* تخريج: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۳۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۰) (صحیح)
(اس کی سند میں معلی بن عبدالرحمن ضعیف اور ذاھب الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ ترمذی اور نسائی نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۷۹۷)
۱۱۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں''۔

119- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَلا يُؤَدِّي عَنِّي إِلا عَلِيٌّ>۔
* تخريج: ت/المنا قب ۲۱ (۳۷۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۴، ۱۶۵) (حسن)
(تراجع الالبانی، رقم: ۳۷۸، والصحیحہ: ۱۹۸۰ ، وظلال الجنۃ: ۱۱۸۹ )
۱۱۹- حُبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: رسول اکرم ﷺ نے یہ الفاظ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لئے بطور عذر، اور علی رضی اللہ عنہ کی تکریم کے لئے اس وقت فرمائے جب ابو بکر رضی اللہ عنہ امیر حج تھے، اور سورہ براء ت میں مشرکین سے کئے گئے معاہدہ کے توڑنے کے اعلان کی ضرورت پڑی، چونکہ دستور عرب کے مطابق سردار یا سردار کا قریبی رشتہ دار ہی یہ اعلان کر سکتا تھا، لہذا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی۔

120- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الْعَلائُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا عَبْدُاللَّهِ، وَأَخُو رَسُولِهِ ﷺ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ، لا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلا كَذَّابٌ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ لسَبْعِ سِنِينَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۵۷، ومصباح الزجاجۃ: ۵۱) (باطل)
(سند میں عباد بن عبد اللہ ضعیف اور متروک ر۱وی ہے، اور اس کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا: ''فيه نظر'' اور وہی حدیث کے بطلان کا سبب ہے، امام ذہبی نے فرمایا: یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ ہے، ملاحظہ ہو: الموضوعات لابن الجوزی: ۱/۳۴۱، وتلخیص المستدرک للذہبی، وتنزیہ الشریعۃ: ۱/۳۸۶، وشیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ: ۳۱۰، للدکتور عبد الرحمن الفریوائی)
۱۲۰- عباد بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے صلاۃ پڑھی۔

121- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ -وَهُوَ عَبْدُالرَّحْمَنِ-، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا، فَنَالَ مِنْهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ>، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: <أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلا أَنَّهُ لا نَبِيَّ بَعْدِي>، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: <لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۰۱)، وقد أخرجہ: خ/فضائل الصحابۃ ۹ (۳۷۰۶)، م/فضائل الصحابۃ ۴ (۲۴۰۴)، ت/المناقب ۲۱ (۳۷۲۴)، حم (۱/۸۴، ۱۱۸) (صحیح)

۱۲۱- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں مَیں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''جس کا مولیٰ میں ہوں،علی اس کے مولیٰ ہیں''، اور آپ ﷺ سے میں نے یہ بھی سنا: ''تم (یعنی علی) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں''، نیز میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: ''آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ الزُّبَيْرِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل​

122- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ قُرَيْظَةَ: <مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟>، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا -ثلاثاً- فَقَالَ: < مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ؟ >، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا -ثَلاثًا- فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: <لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ >۔
* تخريج: خ/الجہاد ۴۱ (۲۸۴۶)، م/فضائل الصحابہ ۶ (۲۴۱۵)، ت/المنا قب ۲۵ (۳۸۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۹، ۱۰۲، ۳/۳۰۷) (صحیح)

۱۲۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: ''کون ہے جو میرے پاس قوم (یعنی یہود بنی قریظہ) کی خبر لائے ؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟'' زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ہر نبی کے حواری خاص مدد گار ہوتے ہیں، اور میرے حواری (خاص مددگار) زبیر ہیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ واقعہ غزوۂ احزاب کا ہے جو سنہ ۵ ہجری میں واقع ہوا، جب کفار قریش قبائل عرب اور خیبر کے یہودی سرداروں کے ساتھ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ پر چڑھ آئے، نبی اکرم ﷺ نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق کھدوائی، اس لئے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے، مسلمان بڑی کس مپرسی کے عالم میں تھے، اور یہود بنی قریظہ نے بھی معاہدہ توڑ کر کفار مکہ کا ساتھ دیا، ایک دن بہت سردی تھی، نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام سے یہ چاہا کہ کوئی اس متحدہ فوج کی خبر لائے جن میں بنی قریظہ بھی شریک تھے، لیکن سب خاموش رہے، اور اس مہم پر زبیر رضی اللہ عنہ گئے، اور ان کو سردی بھی نہ لگی، اور خبر لائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حملہ آوروں پر بارش اور ٹھنڈی ہوا بھیج دی ہے جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں، اور لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے۔

123- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ۔
* تخريج:خ/فضائل الصحابۃ ۱۳ (۳۷۲۰)، م/فضائل الصحابۃ ۶ (۲۴۱۶)، ت/المناقب ۲۳ (۳۷۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۶۴، ۱۶۶) (صحیح)

۱۲۳- زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے غزوہ احد۱؎ کے دن میرے لئے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا۲؎ ۔
وضاحت۱؎: تخریج میں مذکورہ مراجع میں یہ ہے کہ واقعہ غزوۂ احزاب ''خندق'' کا ہے، اس لئے ''احد'' کا ذکر یہاں خطا اور وہم کے قبیل سے ہے۔
وضاحت۲؎: یعنی کہا: ''میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں''، یہ زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں بہت بڑا اعزاز ہے، آگے حدیث میں یہ فضیلت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، لیکن وہاں پر علی رضی اللہ عنہ نے اس فضیلت کو صرف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے، اس میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ یہ علی رضی اللہ عنہ کے علم کے مطابق تھا، ورنہ صحیح احادیث میں یہ فضیلت دونوں کو حاصل ہے، واضح رہے کہ ابن ماجہ میں زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ بات غزوہ احد کے موقع پر منقول ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مراجع میں یہ غزوہ احزاب کی مناسبت سے ہے، اور آگے آرہا ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے آپ ﷺ نے یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا تھا۔

124- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِالْوَهَّابِ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ لى عَائِشُةُ: يَا عُرْوَةُ! كَانَ أَبَوَاكَ مِنِ: {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ} أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۳۹)، وقد أخرجہ: خ/المغازي ۱۶ (۴۰۷۷)، م/فضائل الصحابۃ ۶ (۲۴۱۸)، حم (۱/۱۶۴، ۱۶۶) (صحیح)

۱۲۴- عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا (ابو بکر) اور والد (زبیر) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: {الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ} [سورة آل عمران: 172] (جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا)، یعنی ابو بکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
وضاحت۱؎: پوری آیت یوں ہے: {الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَواْ أَجْرٌ عَظِيمٌ} [سورة آل عمران: ۱۷۲]،( یعنی: جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کا کہنا مانا، جو لوگ ان میں نیک و صالح اور پرہیزگار ہوئے ان کو بڑا ثواب ہے)۔
اس آیت کا شان نزول امام بغوی نے یوں ذکر کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور کفار مکہ جنگ احد سے واپس لوٹے، اور مقام روحا میں پہنچے تو اپنے لوٹنے پر نادم وشرمندہ ہوئے اور ملامت کی، اور کہنے لگے کہ ہم نے محمد کو نہ قتل کیا، نہ ان کی عورتوں کو قید کیا، پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ دوبارہ واپس چل کر مسلمانوں کا کام تمام کر دیا جائے، جب یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی، اور ابو سفیان اور کفار مکہ کے تعاقب میں روانہ ہونا چاہا، اور اعلان کر دیا کہ ہمارے ساتھ غزوۂ احد کے شرکاء کے علاوہ اور کوئی نہ نکلے، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی، نبی کریم ﷺ، ابو بکر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبد الرحمن بن عوف، عبد اللہ بن مسعود، حذیفہ بن الیمان، اور ابو عبیدہ بن جراح وغیرہم کی معیت میں ستر آدمیوں کو لے کر روانہ ہوئے، اور حمراء الأسد (مدینہ سے بارہ میل، ۱۹کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مقام) پر پہنچے، اس کے بعد بغوی رحمہ اللہ نے یہی روایت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، غرض وہاں معبد خزاعی نامی ایک آدمی تھا جو نبی کریم ﷺ سے محبت رکھتا تھا، اور وہاں کے بعض لوگ ایمان لا چکے تھے تو معبد نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ہم کو آپ کے اصحاب کے زخمی ہونے کا بہت رنج ہوا، غرض وہ وہاں سے ابو سفیان کے پاس آیا، اور ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شجاعت کی خبر دی، ابو سفیان اور ان کے ساتھی اس خبر کو سن کر ٹھنڈے ہو گئے، اور مکہ واپس لوٹ گئے، غرض اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل فرمائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل​

125- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ الأَوْدِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ طَلْحَةَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: < شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الأَرْضِ >۔
* تخريج: ت/المناقب ۲۲ (۳۷۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۰۳) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۲۶)
۱۲۵- جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں''۔

126- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ؛ قَالَ: نَظَرَ النَّبِيُّ ﷺ إِلَى طَلْحَةَ فَقَالَ: < هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ >۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۳۴ (۳۲۰۲)، المناقب ۲۲ (۳۷۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۴۵) (حسن)

۱۲۶- معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا: ''یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا''۔

127- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ مُوسَى ابْنِ طَلْحَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ >.
* تخريج: انظر ماقبلہ (حسن)

۱۲۷- موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھی تو انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کردکھایا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: پوری آیت یوں ہے: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً} [سورة الأحزاب: ۲۳]: (یعنی: مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچ کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا، اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں، اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی)۔

128- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلاَ، وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ أُحُدٍ۔
* تخريج: خ/ فضائل أصحاب ۱۴ (۳۷۲۴)، المغازي ۱۸ (۴۰۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۶۱) (صحیح)

۱۲۸- قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل (بیکار) ہو گیا تھا، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل​

129- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَلِيٍّ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ- قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: <ارْمِ سَعْدُ! فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي>۔
* تخريج: خ/الجہاد ۸۰ (۲۹۰۵)، الأدب ۱۰۳ (۶۱۸۴)، المغازي ۱۸ (۴۰۵۸ ، ۴۰۵۹)، م/فضائل الصحابۃ ۵ (۲۴۱۱)، ت/المناقب ۲۷ (۳۷۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۲، ۱۲۴، ۱۳۷، ۱۵۸) (صحیح)

۱۲۹- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن (ابی وقاص) مالک رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو، آپ ﷺ نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ''اے سعد! تم تیر چلاؤ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ فضیلت غزوہ احزاب کے موقع پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، اور حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے جو بیان کی وہ ان کے اپنے علم کے مطابق ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۱۲۳)

130- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، (ح) وَحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: < ارْمِ سَعْدُ! فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي >۔
* تخريج: خ/فضائل أصحاب النبي ﷺ ۱۵ (۳۷۲۵)، المغازي ۱۸ (۴۰۵۵ ، ۴۰۵۶ ، ۴۰۵۷)، م/فضائل الصحابۃ ۵ (۲۴۱۱، ۲۴۱۲)، ت/الأدب ۶۱ (۲۸۳۰)، المناقب ۲۷ (۳۷۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۴، ۱۸۰) (صحیح)

۱۳۰- سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: ''اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں'' ۔

131- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَخَالِي يَعْلَى، وَوَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: إِنِّي لأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۔
* تخريج: خ/فضائل الصحابۃ ۱۵ (۳۷۲۸)، الرقاق ۱۷ (۶۴۵۳)، م/الزھد ۱۲ (۲۹۶۶)، ت/الزھد ۳۹ (۲۳۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۴، ۱۸۱، ۱۸۶)، دي/الفرائض ۲ (۲۹۰۲) (صحیح)

۱۳۱- قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: میں پہلا عربی شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔

132- حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولَ: قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنِّي لَثُلُثُ الإِسْلامِ ۔
* تخريج:خ/فضائل الصحابۃ ۱۵(۳۷۲۷)، مناقب الأنصار ۳۱ (۳۸۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۵۹) (صحیح)

۱۳۲- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی نے اسلام نہ قبول کیا تھا، اور میں (ابتدائی عہد میں) سات دن تک مسلمانوں کا تیسرا شخص تھا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی سات دن تک کوئی اور مسلمان نہ ہوا، یعنی میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اسلام لانے میں پہل کی، یہ بات ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضَائِلُ الْعَشَرَةِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ-
عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب​

133- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى - أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ-، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَقَالَ: < أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ >، فَقِيلَ لَهُ: مَنِ التَّاسِعُ ؟ قَالَ: أَنَا۔
* تخريج: د/السنۃ ۹ (۴۶۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۵۵)، وقد أخرجہ: ت/المنا قب ۲۶ (۳۷۴۸)، ۲۸ (۳۷۵۷)، حم (۱/ ۱۸۷) (صحیح)

۱۳۳- سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دسویں شخص تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ابو بکر جنت میں ہیں، عمر جنت میں ہیں، عثمان جنت میں ہیں، علی جنت میں ہیں، طلحہ جنت میں ہیں، زبیر جنت میں ہیں، سعد جنت میں ہیں، عبدالرحمن جنت میں ہیں''، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نواں کون تھا؟ بولے: ''میں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں اور آگے کی حدیث (جس میں مذکور ہے کہ دسویں آدمی ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں) میں کوئی تعارض نہیں، اس لئے کہ یہ دونوں الگ الگ مجلس کی حدیثیں ہیں۔

134- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلالِ ابْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: <اثْبُتْ حِرَاءُ! فَمَا عَلَيْكَ إِلا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ>، وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ»۔
* تخريج: د/السنۃ ۹ (۴۶۴۸)، ت/المناقب ۲۶ (۳۷۴۷)، ۲۸ (۳۷۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۱۸۸، ۱۸۹) (صحیح)

۱۳۴- سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''ٹھہر، اے حرا! ۱؎ (وہ لرزنے لگا تھا) تیرے اوپر سوائے نبی، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے''، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے نام گنوائے: ''ابو بکر،عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، عبد الرحمن بن عوف اور سعید بن زید'' رضی اللہ عنہم۔
وضاحت۱؎: ''حرا'' مکہ میں ایک پہاڑ کا نام ہے، جو نبی اکرم ﷺ کی آمد کی خوشی میں جھومنے لگا تو آپ ﷺ نے یہ فرمایا، اور جو فرمایا وہ ہو کر رہا، سوائے سعد رضی اللہ عنہ کے جن کا انتقال اپنے قصر میں ہوا، یا یہ کہ ان کا انتقال کسی ایسے مرض میں ہوا جس سے وہ شہادت کا درجہ پا گئے، آپ ﷺ نے تغلیباً سب کو شہید کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب وفضائل​

135- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لأَهْلِ نَجْرَانَ: <سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ رَجُلا أَمِينًا، حَقَّ أَمِينٍ>، قَالَ: فَتَشَرَّفَ لَهُ النَّاسُ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ۔
* تخريج: خ/فضائل الصحابۃ ۲۱ (۳۷۴۵)، المغازي ۷۳ (۴۳۸۰)، أخبار الأحاد ۱ (۷۲۵۴)، م/فضائل الصحابۃ ۷ (۲۴۲۰)، ت/المناقب ۳۳ (۳۷۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۱۴، ۴/۹۰، ۵/ ۳۸۵، ۳۹۸، ۴۴۰، ۴۰۱) (صحیح)

۱۳۵- حذ یفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے فرمایا: ''میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو انتہائی درجہ امانت دار ہے''، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ اس امین شخص کی جانب گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے، آپ ﷺ نے ابو عبیدہ بن جراح کو بھیجا۔

136- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ: < هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۱۶)، حم (۱/۱۸، ۴۱۴، ۲/۱۲۵، وانظر ما قبلہ) (صحیح)

۱۳۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا: ''یہ اس امت کے امین ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل​

137- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ، لاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ >۔
* تخريج: ت/المناقب ۳۸ (۳۸۰۸ ، ۳۸۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۷۶، ۹۵، ۱۰۷، ۱۰۸) (ضعیف)
(حارث ضعیف اور متہم بالرفض ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۳۲۷)
۱۳۷- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اکرم ﷺنے فرمایا: ''اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے (عبد اللہ بن مسعود) کو مقرر کرتا''۔

138- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ؛ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَائَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۰۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۷، ۲۶، ۳۸) (صحیح)

۱۳۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے: ''جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے (عبد اللہ بن مسعود) کی قراء ت کے مطابق پڑھے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان کا طرزِ قراءت بھی معلوم ہوا۔

139- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ؛ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ > ۔
* تخريج: م/السلام ۶ (۲۱۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۸، ۳۹۴، ۴۰۴) (صحیح)

۱۳۹- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ، اور یہ کہ میری آواز سن لو، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطاء فرمائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-
عبّاس بن عبد المطّلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل​

140- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قَالَ: كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ؛ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ، فَقَالَ: <مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَإِذَا رَأَوُا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ؟! وَاللَّهِ! لا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۳۷، مصباح الزجاجۃ: ۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۵) (ضعیف)
(اس سند میں اعمش مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، ابو سبرہ نخعی لین الحدیث نیز محمدبن کعب قرظی کی عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کے بارے میں انقطاع و ارسال کی بات بھی کہی گی ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۴۳۰)
۱۴۰- عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش کے (کچھ لوگوں کا حال یہ تھا) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کر دیتے، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہو جاتے ہیں، اللہ کی قسم! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کی محبت ایمان کی نشانی ہے، اور محبت ان کی یہی ہے کہ ایمان و عمل میں ان کی روش پر چلا جائے، اور ان کا طریقہ اختیار کیا جائے، رضی اللہ عنہم۔

141- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ ابْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلاً كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلا، فَمَنْزِلِي وَمَنْزِلُ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُجَاهَيْنِ، وَالْعَبَّاسُ بَيْنَنَا مُؤْمِنٌ بَيْنَ خَلِيلَيْنِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۱۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۵۸، ۲۲۵) (موضوع)
(سند میں مذکور عبد الوہاب بن ضحاک متہم بالوضع راوی ہے، اس لئے یہ حدیث موضوع ہے، لیکن حدیث کا یہ ٹکڑا ''إنَّ اللهَ اتَّخَذَنِي ...'' صحیح ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۹۳) میں مذکور ہے، نیز تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۳۰۳۴)
۱۴۱- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی نے مجھے اپنا خلیل (گہرا دوست) بنایا ہے، جیسا کہ ابراہیم وضاحت کو اپنا خلیل (گہرا دوست) بنایا، چنانچہ میرا اور ابراہیم کا گھر جنت میں قیامت کے دن آمنے سامنے ہو گا، اور عباس ہم دو خلیلوں کے مابین ایک مومن ہوں گے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ-
علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل​

142- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ ابْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أنَّ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ لِلْحَسَنِ: <اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ>، قَالَ: وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ۔
* تخريج:خ/البیوع ۴۹ (۲۱۲۲)، اللباس ۶۰ (۵۸۸۴)، م/فضائل الصحابۃ ۸ (۲۴۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۹، ۳۳۱) (صحیح)

۱۴۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فر مایا: ''اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر، اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے''۱؎ ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ ﷺ نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

وضاحت۱؎: حسن رضی اللہ عنہ سے محبت اور دوستی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک مسلمان نبی اکرم ﷺ کی سنت پر جان دے۔

143- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ ابْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْجَحَّافِ -وَكَانَ مَرْضِيًّا- عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۹۶، ومصباح الزجاجۃ: ۵۴ )، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۸، ۴۴۰، ۵۳۱) (حسن)

۱۴۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: محبت ان حضرات کی یہی ہے کہ ان کے احترام کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلائے جائے۔

144- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ أَبِي رَاشِدٍ أَنَّ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ، فَإِذَا حُسَيْنٌ يَلْعَبُ فِي السِّكَّةِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ ﷺ أَمَامَ الْقَوْمِ، وَبَسَطَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ الْغُلامُ يَفِرُّ هَا هُنَا وَهَا هُنَا، وَيُضَاحِكُهُ النَّبِيُّ ﷺ حَتَّى أَخَذَهُ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ ذَقْنِهِ، وَالأُخْرَى فِي فَأْسِ رَأْسِهِ فَقَبَّلَهُ، وَقَالَ: <حُسَيْنٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الأَسْبَاطِ>.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۱۸۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۵۵)، وقد أخرجہ: ت/المناقب ۳۱ (۳۷۷۵)، حم (۴/۱۷۲) (حسن)
(تراجع الألباني، رقم: ۳۷۵)
۱۴۴- یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے، دیکھا تو حسین (رضی اللہ عنہ) گلی میں کھیل رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ لوگوں سے آگے نکل گئے، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے، حسین (رضی اللہ عنہ) بچے تھے، ادھر ادھر بھاگنے لگے، اور نبی اکرم ﷺان کو ہنسانے لگے، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا، اور فرمایا: ''حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے، اور حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، نیز کھانے کی دعوت میں جانا، چھوٹے بچوں کا گلی میں کھیلنا، نیز چھوٹے بچوں کو پیار میں ہنسانا مسنون و مستحب ہے۔

144/أ- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ مِثْلَهُ۔
۱۴۴ /أ - یہ حدیث علی بن محمد سے وکیع عن سفیان کے واسطے سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

145- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ صُبَيْحٍ، مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ: <أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ، وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ>۔
* تخريج: ت/المناقب ۶۱ (۳۸۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۴۲) (ضعیف)
(اس سند میں علی بن المنذر میں تشیع ہے، اسباط بن نصر صددق لیکن کثیر الخطا ہیں، اور غرائب بیان کرتے ہیں، سدی پر تشیع کا الزام ہے، اور ان کی حدیث میں ضعف ہے، نیز صبیح لین الحدیث ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۶۰۲۸)
۱۴۵- زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا: ''میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی''۔
 
Top