- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
21- بَاب فِي الْعَقِيقَةِ
۲۱-باب: عقیقہ کا بیان
2834- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ >.
قَالَ أَبو دَاود: سَمِعْت أَحْمَدَ قَالَ: مُكَافِئَتَانِ أَيْ مُسْتَوِيَتَانِ أَوْ مُقَارِبَتَانِ۔
* تخريج: ت/الأضاحي ۱۷ (۱۵۱۶)، ن/العقیقۃ ۲ (۴۲۲۱)، ق/الذبائح ۱ (۳۱۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۸۱، ۴۲۲)، دي/الأضاحي ۹ (۲۰۰۹) (صحیح)
۲۸۳۴- ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے: ''(عقیقہ )میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر کی ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے''۔
ابو داود کہتے ہیں:احمد نے ''مُكَاْفِئَتَاْنِ'' کے معنی یہ کئے ہیں کہ دونوں (عمرمیں) برابر ہوں یا قریب قریب ہوں ۔
2835- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: < أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا >، قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: < عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، لايَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا >۔
* تخريج: ن/العقیقۃ ۳ (۴۲۲۳، ۴۲۲۲)، ق/الذبائح ۱ (۳۱۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۴۷)، وقد أخرجہ: دی/ الأضاحی ۹ (۲۰۱۱) (ضعیف)
(یہ حدیث ضعیف ہے ،اس کی سند میں اضطراب ہے، عقیقہ سے متعلق حدیث کے لئے اوپر اور نیچے کی احادیث دیکھئے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود ۸/۱۸۳)
۲۸۳۵- ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو (یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو )''، میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے:'' لڑکے کی طرف سے (عقیقہ میں) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ''۔
2836- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ مِثْلانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ >.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَهْمٌ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۲۸۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۴۷) (صحیح)
۲۸۳۶- ام کر ز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(عقیقے میں) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ''۔
ابو داود کہتے ہیں: یہی دراصل حدیث ہے، اور سفیان کی حدیث (نمبر : ۲۸۳۵) وہم ہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی : عبید اللہ بن ابی یزید کے بعد سند میں ''عن ابیہ '' کا اضافہ سفیان کا وہم ہے، حماد کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ہے اور یہی دیگر لوگوں کی روایتوں میں ہے۔
2837- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < كُلُّ غُلامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ: تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى >، فَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ مِنْهَا صُوفَةً وَاسْتَقْبَلْتَ بِهِ أَوْدَاجَهَا ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَسِيلَ عَلَى رَأْسِهِ مِثْلَ الْخَيْطِ ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُهُ بَعْدُ وَيُحْلَقُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ: < وَيُدَمَّى >.
[قَالَ أَبو دَاود: خُولِفَ هَمَّامٌ فِي هَذَا الْكَلامِ، وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ، وَإِنَّمَا قَالُوا: <يُسَمَّى> فَقَالَ هَمَّامٌ: < يُدَمَّى >.
قَالَ أَبو دَاود: وَلَيْسَ يُؤْخَذُ بِهَذَا]۔
* تخريج: ت/الأضاحي ۲۳ (۱۵۲۲)، ن/العقیقۃ ۴ (۴۲۲۵)، ق/الذبائح ۱ (۳۱۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۱)، وقد أخرجہ: خ/العقیقۃ ۲ (۵۴۷۲)، حم (۵/۷، ۸، ۱۲، ۱۷، ۱۸، ۲۲)، دي/الأضاحي ۹ (۲۰۱۲) (صحیح)
(لیکن ''یدمی '' کی جگہ ''یسمی'' صحیح ہے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے ، ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں ''یسمی '' ہی ہے)
۲۸۳۷- سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے'' ۱؎ ۔
قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خو ن لگایا جائے؟ توکہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھالے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے ۔
ابو داود کہتے ہیں: '' يُدْمَي'' ہمام کا وہم ہے، اصل میں ''ويسمى'' تھا جسے ہمام نے ''يُدمى'' کر دیا، ابوداود کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے ۔
وضاحت ۱؎ : بریدہ رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث نمبر (۲۸۴۳) اس حدیث کے لئے ناسخ ہے ، لہٰذا عقیقہ کا خون بچے کے سر پر نہیں لگایا جائے گا۔
2838- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < كُلُّ غُلامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ: تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ، وَيُحْلَقُ، وَيُسَمَّى >.
قَالَ أَبو دَاود: < وَيُسَمَّى > أَصَحُّ، كَذَا قَالَ سَلامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ عَنْ قَتَادَةَ، وَإِيَاسُ بْنُ دَغْفَلٍ وَأَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ [قَالَ: < وَيُسَمَّى > وَرَوَاهُ أَشْعَثُ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : <وَيُسَمَّى >] ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۱) (صحیح)
۲۸۳۸- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے ''۔
ابو داود کہتے ہیں: لفظ'' يُسَمَّى'' لفظ '' يُدمى'' سے زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے اسی طرح قتادہ، ایاس بن دغفل اور اشعث سے اور ان لوگوں نے حسن سے روایت کی ہے، اس میں ''ويُسمَّى'' کا لفظ ہے، اور اسے اشعث نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں بھی ''ويُسمَّى'' ہی ہے۔
2839- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَعَ الْغُلامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الأَذَى >۔
* تخريج: خ/العقیقۃ ۲ (۵۴۷۱)، ت/الأضاحي ۱۷ (۱۵۱۵)، ن/العقیقۃ ۱ (۴۲۱۹)، ق/الذبائح ۱ (۳۱۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۷، ۱۸، ۲۱۴)، دي/الأضاحي ۹ (۲۰۱۰) (صحیح)
۲۸۳۹- سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :'' لڑکے کی پیدائش کے ساتھ اس کا عقیقہ ہے تو اس کی جانب سے خون بہاؤ ،اور اس سے تکلیف اور نجاست کو دور کرو''( یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو) ۔
2840- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِمَاطَةُ الأَذَى حَلْقُ الرَّأْسِ.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۵۵۶) (صحیح)
۲۸۴۰- حسن سے روایت ہے ، وہ کہتے تھے: تکلیف اور نجاست دور کرنے سے مراد سر مونڈنا ہے۔
2841- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ كَبْشًا كَبْشًا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۱۱)، وقد أخرجہ: ن/العقیقۃ ۳ (۴۲۲۴) (صحیح)
لکن في روایۃ النسائي:''کبشین کبشین''، وھوالأصح ۱؎ ۔
۲۸۴۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین کی طرف سے ایک ایک دنبہ کا عقیقہ کیا۔
وضاحت ۱؎ : سنن نسائی میں ''کبشین کبشین'' یعنی دو دو دنبے کی روایت ہے، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
2842- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ -يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو- عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ أُرَاهُ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: < لا يُحِبُّ اللَّهُ الْعُقُوقَ > كَأَنَّهُ كَرِهَ الاسْمَ، وَقَالَ: <مَنْ وُلِدَ لَهُ [وَلَدٌ] فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ، عَنِ الْغُلامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ >، وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ قَالَ: < وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكُوهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا شُغْزُبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْزَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ وَتَكْفَأَ إِنَائَكَ وَتُولِهُ نَاقَتَكَ >۔
* تخريج: ن/العقیقۃ ۱ (۴۲۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۱۶۹، ۸۷۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۲، ۱۸۳، ۱۹۴) (حسن)
۲۸۴۲- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ''اللہ تعالی عقوق ( ماں باپ کی نافرمانی ) کو پسند نہیں کرتا'' ، گویا آپ ﷺ نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا : ''جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی (عقیقہ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری''، پھر آپ ﷺ سے فرع کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ''فرع حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے، ایک برس کا یا دو برس کا، پھر اس کو بیوائوں محتاجوں کو دے دو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو ( پید ا ہوتے ہی) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو ( یعنی کم ہو ) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو، ( گوشت نہ ہو گا تو پکائو گے کہاں سے) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو''۔
2843- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لأَحَدِنَا غُلامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا، فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۶۴) (حسن صحیح)
۲۸۴۳- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر میں لگاتا، پھر جب اسلام آیا تو ہم بکری ذبح کرتے اور بچے کا سر مونڈ کر زعفران لگاتے تھے (خون لگا نا موقوف ہو گیا) ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ حدیث سمرہ کی حدیث نمبر (۲۸۳۷) کی ناسخ ہے ۔
* * * * *