• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
61- بَاب الصَّلاةِ عَلَى الْقَبْرِ
۶۱-باب: قبر پر صلاۃِ جنازہ پڑھنے کا بیان​


3203- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ أَوْ رَجُلا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ ﷺ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ: مَاتَ، فَقَالَ: < أَلا آذَنْتُمُونِي بِهِ؟ > قَالَ: < دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ > فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۷۴ (۴۵۸)، م/الجنائز ۲۳ (۹۵۶)، ق/الجنائز ۳۲ (۱۵۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۳، ۳۸۸، ۴۰۶) (صحیح)
۳۲۰۳- ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کا لی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھا ڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسے موجود نہ پا یا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مرگیا ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:'' تم لوگوں نے مجھے اس کی خبرکیوں نہیں دی؟''، آپ نے فرمایا:''مجھے اس کی قبر بتائو''، لوگوں نے بتائی توآپ ﷺ نے اس کی صلاۃِ جنازہ پڑھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب فِي الصَّلاةِ عَلَى الْمُسْلِمِ يَمُوتُ فِي بِلادِ الشِّرْكِ
۶۲-باب: شرک وکفر کے علاقہ میں مر جانے والے مسلمان کی صلاۃِ جنازہ کا بیان​


3204- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ۔
* تخريج: خ/الجنائز۶۰ (۱۳۳۴)، ومناقب الأنصار ۳۸ (۳۸۸۰)، م/الجنائز ۲۲ (۹۵۱)، ن/الجنائز ۷۲ (۱۹۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۳۲)، وقد أخرجہ: ط/ الجنائز ۵ (۱۴)، حم (۲/۴۳۸، ۴۳۹) (صحیح)
۳۲۰۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (حبشہ کا بادشاہ) نجاشی ۱؎ جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ ﷺ نے ان کی موت کی اطلاع مسلمانوں کو دی، آپ ﷺ مسلمانوں کو لے کر عید گاہ کی طرف نکلے، ان کی صفیں بنائیں اور چار تکبیروں کے ساتھ صلاۃِ (جنازہ) پڑھی ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب ہے، ان کا نام اصحمہ تھا، یہ پہلے نصاری کے دین پر تھے، پھر نبی اکرم ﷺ پر ایمان لائے اور جو صحابہ کرام ہجرت کر کے حبشہ گئے ان کی خوب خدمت کی جب وہ مرے تو نبی اکرم ﷺ نے عیدگاہ جا کر صحابہ کرام کے ساتھ ان کیصلاۃِ جنازہ پڑھی چونکہ ان کا انتقال حبشہ میں ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے مدینہ میں ان کی صلاۃ پڑھی تھی اس سے بعض لوگوں نے صلاۃِ جنازہ غائبانہ کے جواز پر استدلال کیا ہے۔
وضاحت ۲؎ : صلاۃِ جنازہ غائبانہ کے سلسلہ میں مناسب یہ ہے کہ اگر میت کی صلاۃِ جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تب پڑھی جائے اور اگر پڑھی جا چکی ہے تو مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا ہوگیا، الا یہ کہ کوئی محترم اور صالح شخصیت ہو تو پڑھنا بہتر ہے یہی قول ابن تیمیہ، ابن قیم اور امام احمد ابن حنبل رحمہم اللہ کا ہے، عام مسلمانوں کا غائبانہ جنازہ آپ ﷺ سے ثابت نہیں، اور نہ ہی تعامل امت سے ۔


3205- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نَنْطَلِقَ إِلَى أَرْضِ النَّجَاشِيِّ، فَذَكَرَ حَدِيثَهُ، قَالَ النَّجَاشِيُّ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَلَوْلا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لأَتَيْتُهُ حَتَّى أَحْمِلَ نَعْلَيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۱۷) (صحیح الإسناد)
۳۲۰۵- ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (جب کفار نے سخت ایذائیں پہنچائیں تو)ہمیں نجاشی کے ملک میں چلے جانے کا حکم دیا، نجا شی نے کہا: میں گوا ہی دیتا ہوں کہ وہ (محمد ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں اور وہ وہی شخص ہیں جن کے آنے کی بشا رت عیسیٰ بن مر یم نے دی ہے اور اگر میں سلطنت کے انتظام اور اس کی ذمہ داریوں میں پھنسا ہوا نہ ہو تا تو ان کے پاس آتایہاں تک کہ میں ان کی جو تیاں اٹھاتا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
63- بَاب فِي جَمْعِ الْمَوْتَى فِي قَبْرٍ وَالْقَبْرُ يُعَلَّمُ
۶۳-باب: کئی آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرنے اور قبرپر نشان لگانے کا بیان​


3206- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ (ح) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْماَعِيلَ- بِمَعْنَاهُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ﷺ رَجُلا أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ كَثِيرٌ: قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي [ذَلِكَ] عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا، ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ: < أَتَعَلَّمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي، وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۷۲) (حسن)
(متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ صحیح بھی حسن ہے، ورنہ ''کثیر بن زید '' سے روایت میں غلطیاں ہوجایا کرتی تھی)۔
۳۲۰۶- مطّلب کہتے ہیں: جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کا جنازہ لے جایا گیا اور وہ دفن کئے گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو ایک پتھر اٹھا کر لانے کا حکم دیا (تاکہ اسے علامت کے طور پر رکھا جائے) وہ اٹھا نہ سکا تو آپ ﷺ اس کی طرف اٹھ کر گئے اور اپنی دونوں آستینیں چڑھائیں۔
کثیر (راوی) کہتے ہیں: مطّلب نے کہا: جس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث مجھ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: گویا میں آپ ﷺ کے دونوں ہاتھوں کی سفیدی جس وقت کہ آپ نے اسے کھولا دیکھ رہا ہوں، پھر آپ ﷺ نے اس کو اٹھا کر ان کے سر کے قریب رکھا اور فرمایا: ''میں اسے اپنے بھائی کی قبر کی پہچان کے لئے لگا رہا ہوں، میرے خاندان کا جو مرے گا میں اسے انہیں کے آس پاس میں دفن کروں گا'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ نے اپنا بھائی فرمایا کہ وہ آپ کے رضاعی بھائی تھے، انہوں نے ساری عمر کبھی شراب نہیں پی، اور مہاجرین میں سب سے پہلے مدینہ میں انتقال ہوا اور بقیع میں تدفین ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ قبر کی شناخت کے لئے قبر کے پاس کوئی پتھر رکھنا یا کوئی تختی نصب کرنا درست ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
64- بَاب فِي الْحَفَّارِ يَجِدُ الْعَظْمَ هَلْ يَتَنَكَّبُ ذَلِكَ الْمَكَانَ
۶۴-باب: قبر کھو د نے والا ہڈی پائے تو کیا وہاں سے ہٹ کر قبر دوسری جگہ کھو دے ؟​


3207- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدٍ -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا >۔
* تخريج: ق/الجنائز ۶۳ (۱۶۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۵۸، ۱۰۰، ۱۰۵، ۱۶۸، ۲۰۰، ۲۶۴) (صحیح)
۳۲۰۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' مردے کی ہڈی تو ڑنا زندے کی ہڈی توڑنے کی طرح ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : گویا قبر کھودتے وقت اگر پہلے سے کسی میت کی ہڈی موجود ہے تو اسے چھیڑے بغیر دوسری جگہ قبر تیار کی جائے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
65- بَاب فِي اللَّحْدِ
۶۵-باب: لحد(بغلی قبر) بنانے کا بیان​


3208- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِالأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: <اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا >۔
* تخريج: ت/الجنائز ۵۳ (۱۰۴۵)، ن/الجنائز ۸۵ (۲۰۱۱)، ق/الجنائز ۳۹ (۱۵۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۴۲) (صحیح)
۳۲۰۸- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' لحد (بغلی قبر) ہمارے لئے ہے، اور شق (صندوقی قبر) دوسروں کے لئے ۱؎ '' ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی غیر انبیاء کے لئے ہے، یا غیر اہل اسلام کے لئے ہے۔
وضاحت ۲؎ : بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صندوقی جائز ہے بغلی افضل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
66- بَاب كَمْ يَدْخُلُ الْقَبْرَ
۶۶-باب: دفناتے وقت قبر میں کتنے آدمی داخل ہوں؟​


3209- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَلِيٌّ وَالْفَضْلُ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْحَبٌ، أَوْ أَبُومَرْحَبٍ أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ قَالَ: إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۴۶) (صحیح)
(متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ دونوں مرسل روایات صحیح ہیں)
۳۲۰۹- عامر شعبی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو علی، فضل اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا، اور انہیں لوگوں نے آپ ﷺ کو قبرمیں اتارا۔
شعبی کہتے ہیں : مجھ سے مرحب یا ابومر حب نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے سا تھ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کوبھی داخل کر لیا تھا، پھر علی رضی اللہ عنہ نے (دفن سے) فا رغ ہونے کے بعد کہا کہ آدمی (مردے) کے قریب اس کے خاندان والے ہی ہو ا کرتے ہیں۔


3210- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي مَرْحَبٍ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ أَرْبَعَةً۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۴۶) (صحیح)
۳۲۱۰- ابو مرحب سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عو ف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی قبر میں اتر ے تھے وہ کہتے ہیں : مجھے ایسا لگ رہا ہے گو یا کہ میں ان چاروں (علی، فضل بن عباس، اسامہ، اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم ) کو دیکھ رہا ہوں ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب فِي الْمَيِّتِ يُدْخَلُ مِنْ رِجْلَيْهِ
۶۷-باب: میت کو پاؤں کی جانب سے قبر میں داخل کرنے کا بیان​


3211- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: أَوْصَى الْحَارِثُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ الْقَبْرِ، وَقَالَ هَذَا مِنَ السُّنَّةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۷۵) (صحیح)
۳۲۱۱- ابو اسحاق کہتے ہیں کہ حارث نے وصیت کی کہ ان کی صلاۃِ (جنازہ) عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ پڑھائیں، تو انہوں نے ان کی صلاۃ پڑھائی اور انہیں قبر میں پاؤں کی طرف سے داخل کیا اور کہا: یہ مسنون طریقہ ہے ۱ ؎ ۔
وضاحت ۱؎ : جمہور علماء کا یہی قول ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
68- بَاب الْجُلُوسِ عِنْدَ الْقَبْرِ
۶۸-باب: قبر کے پاس کس طرح بیٹھناچاہئے؟​


3212- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمْ يُلْحَدْ بَعْدُ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ ﷺ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَجَلَسْنَا مَعَهُ۔
* تخريج: ن/الجنائز ۸۱ (۲۰۰۳)، ق/الجنائز ۳۷ (۱۵۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۷، ۲۹۵، ۲۹۷، ۲۹۶) ویأتی ہذا الحدیث فی السنۃ (۴۷۵۳، ۴۷۵۴) (صحیح)
۳۲۱۲- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:ہم رسول اللہ ﷺ کے سا تھ ایک انصاری کے جنازے میں نکلے، قبر پر پہنچے تو ابھی قبرکی بغل کھدی ہوئی نہ تھی، تو نبی اکرم ﷺ قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
69- بَاب فِي الدُّعَاءِ لِلْمَيِّتِ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ
۶۹-باب: میت کو قبر میں رکھنے کے وقت کی دعا کا بیان​


3213- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا وَضَعَ الْمَيِّتَ فِي الْقَبْرِ قَالَ: < بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ >، هَذَا لَفْظُ مُسْلِمٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۶۰)، وقد أخرجہ: ت/الجنائز ۵۴ (۱۰۴۶)، ق/الجنائز ۳۸ (۱۵۵۰)، حم (۲/۲۷، ۴۰، ۵۹، ۶۹، ۱۲۷) (صحیح)
۳۲۱۳- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب میت کو قبر میں رکھتے تو : ''بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم'' کہتے تھے،یہ الفا ظ مسلم بن ابرا ہیم کے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
70- بَاب الرَّجُلِ يَمُوتُ لَهُ قَرَابَةٌ مُشْرِكٌ
۷۰-باب: مسلمان کا مشرک رشتہ دار مر جائے تو کیا کرے؟​


3214- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلام قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، قَالَ: <اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ، ثُمَّ لا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَأْتِيَنِي > فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ، فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ، وَدَعَا لِي۔
* تخريج: ن/الجنائز ۸۴ (۲۰۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۷، ۱۳۱) (صحیح)
۳۲۱۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کا بو ڑھا گمرا ہ چچا مر گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:'' جائو اور اپنے با پ کو گاڑ کر آئو، اور میرے پاس واپس آنے تک بیچ میں اور کچھ نہ کرنا''، تو میں گیا، اور انہیں مٹی میں دفنا کر آپ کے پاس آگیا، آپ ﷺ نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا تو میں نے غسل کیا، آپ ﷺ نے میرے لئے دعا فرمائی۔
 
Top