- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
3- بَاب فِي كِتَابِ الْعِلْمِ
۳- باب: علم کے لکھنے کا بیان
3646- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ [بْنِ أَبِي مُغِيثٍ]، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ كُلَّ شَيْئٍ أَسْمَعُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أُرِيدُ حِفْظَهُ، فَنَهَتْنِي قُرَيْشٌ، وَقَالُوا: أَتَكْتُبُ كُلَّ شَيْئٍ [تَسْمَعُهُ] وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَشَرٌ يَتَكَلَّمُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، فَأَمْسَكْتُ عَنِ الْكِتَابِ، فَذَكَرْتُ [ذَلِكَ] لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَأَوْمَأَ بِأُصْبُعِهِ إِلَى فِيهِ، فَقَالَ: < اكْتُبْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلا حَقٌّ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۲، ۱۹۲)، دي/المقدمۃ ۴۳ (۵۰۱) (صحیح)
۳۶۴۶- عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں ہر اس حدیث کو جو رسول اللہ ﷺ سے سنتا یا د رکھنے کے لئے لکھ لیتا، تو قریش کے لوگوں نے مجھے لکھنے سے منع کر دیا، اور کہا : کیا تم رسول اللہ ﷺ سے ہر سنی ہوئی بات کو لکھ لیتے ہو ؟ حالاں کہ رسول اللہ ﷺ بشر ہیں، غصے اور خو شی دونوں حالتوں میں باتیں کر تے ہیں،تو میں نے لکھنا چھوڑ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشا رہ کیا اور فرمایا:’’ لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا‘‘۔
3647- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ حَدِيثٍ فَأَمَرَ إِنْسَانًا يَكْتُبُهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَمَرَنَا أَنْ لا نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، فَمَحَاهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۸۲) (ضعیف الإسناد)
(اس کے راواۃ’’کثیر‘‘ اور’’ مطلب ‘‘ متکلم فیہ ہیں )
۳۶۴۷- مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، توانہوں نے ایک شخص کوا س حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ ممانعت پہلے تھی جب احادیث کے قرآن کے ساتھ خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا، بعد میں کتابت حدیث کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ پہلی روایت سے واضح ہے۔
3648- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْو شِهَابٍ، عَنِ الْحَذَّائِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: مَا كُنَّا نَكْتُبُ غَيْرَ التَّشَهُّدِ وَالْقُرْآنِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۵۸) (شاذ)
(اس کے راوی’’ ابو شہاب حَنَّاط ‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں، اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت تو یہ ہے کہ قرآن کے سوا اور کچھ مت لکھو)
۳۶۴۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ہم لوگ تشہد اور قرآن کے علاوہ کچھ نہیں لکھتے تھے۔
3649- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ (ح) وَحَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ- قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ النَّبِيُّ ﷺ ، فَذَكَرَ الْخُطْبَةَ خُطْبَةَ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُوشَاهَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اكْتُبُوا لِي، فَقَالَ: < اكْتُبُوا لأَبِي شَاهَ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۲۰۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۸۳) (صحیح)
۳۶۴۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب مکہ فتح ہوا تونبی اکرم ﷺ کھڑے ہو ئے،پھر انہوں نے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے)نبی اکرم ﷺ کے خطبہ کا ذکر کیا، پھر کہا: کہ ایک یمنی شخص کھڑا ہوا جسے ابو شاہ کہا جا تا تھا، اوراس نے عرض کیا : اللہ کے رسول!میرے لئے(یہ خطبہ ) لکھ دیجئے، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ ابو شاہ کے لئے لکھ دو‘‘۔
3650- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي عَمْرٍو: مَا يَكْتُبُوهُ؟ قَالَ: الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا يَوْمَئِذٍ مِنْهُ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۲۰۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۸۳) (صحیح)
۳۶۵۰- ولید(بن مزید) کہتے ہیں : میں نے ابو عمرو(اوزاعی) سے کہا:’’ وہ لوگ لکھ دیں‘‘ سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: وہ خطبہ جسے آپ سے اس روزابو شاہ نے سنا تھا۔