13- بَاب فِي الْقَصَصِ
۱۳- باب: وعظ ونصیحت اورقصہ گوئی کے حکم کا بیان
3665- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَوَّاصُ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِاللَّهِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا يَقُصُّ إِلا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۳، ۲۷، ۲۹) (حسن صحیح)
۳۶۶۵- عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرما تے ہو ئے سنا: ’’وعظ ونصیحت وہی کرتاہے جو امیر ہو یا مامورہو یا فریبی ‘‘۔
3666- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنِ الْعَلائِ بْنِ بَشِيرٍ [الْمُزَنِيِّ]، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَائِ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَكَتَ الْقَارِئُ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: < مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ > قُلْنَا: يَارَسُولَ اللَّهِ! [إِنَّهُ] كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا، فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ > قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَتَحَلَّقُوا، وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَبْشِرُوا يَامَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۷۸)، وقد أخرجہ: ق/ الزہد ۶ (۱۴۲۲)، (قولہ : فقراء المہاجرون یدخلون الجنۃ قبل أغنیاء الناس۔۔۔) حم (۳/۶۳، ۹۶) (ضعیف)
( اس کے راوی ’’ العلاء‘‘ مجہول ہیں، لیکن آخر ی ٹکڑا متابعات کے سبب حسن ہے )
۳۶۶۶- ابو سعید خد ری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں غریب وخستہ حال مہاجرین کی جما عت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لا ئے اور ہمارے درمیان آکر کھڑے ہو گئے، جب آپ ﷺ کھڑے ہو گئے تو قاری خاموش ہو گیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا: ’’تم لوگ کیا کر رہے تھے ؟‘‘، ہم نے عرض کیا : ہما رے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑ ھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سبھی تعریفیں اس اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں‘‘۔
پھر آپ ﷺ ہما رے درمیان میں آکر بیٹھ گئے تا کہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کر لیں،آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اوران سب کا رخ آپ کی طرف ہوگیا۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:تو میرے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کونہیں پہچانا، پھرآپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے فقرائے مہاجرین کی جما عت! تمہارے لئے قیامت کے دن نور کا مل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اوریہ پانچ سو برس ہوگا‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : معلوم ہوا کہ ایسے فقراء ومساکین کا مقام ومرتبہ اغنیاء اور مالداروں سے بڑھ کر ہوگا، اور قیامت کے دن کے طویل ہونے میں جو اختلاف آیات واحادیث میں مذکور ہے تو یہ لوگوں کے اختلاف حال پر محمول ہے، یعنی جس پر جتنی سختی ہوگی اسے قیامت کا دن اتنا ہی لمبا معلوم ہوگا، اور اس پر جس قدر تکلیف کم ہوگی اسے اتنا ہی کم معلوم ہوگا۔
3667- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُالسَّلامِ -يَعْنِي ابْنَ مُطَهَّرٍ (أَبُوظَفَرٍ)- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّىُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَلأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۱) (حسن)
۳۶۶۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجرسے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسما عیل علیہ السلام کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیا د ہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو صلاۃِ عصر سے غروب آفتا ب تک اللہ کے ذکر و اذکا ر میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کر نے سے زیا دہ محبوب ہے‘‘۔
3668- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةَ النِّسَائِ >، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: <إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي>، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْلِهِ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ} الآيَةَ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا عَيْنَاهُ تَهْمِلانِ۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۹ (۴۵۸۲)، فضائل القرآن ۳۲ (۵۰۴۹)، ۳۳ (۵۰۵۰)، ۳۵ (۵۰۵۵)، م/المسافرین ۴۰ (۸۰۰)، ت/تفسیر سورۃ النساء ۵ (۳۰۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۰، ۴۳۲) (صحیح)
۳۶۶۸- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم مجھ پرسورہ نساء پڑھو‘‘، میں نے عرض کیا: کیا میں آپ کو پڑھ کے سنائو ں؟! جب کہ وہ آپ پر اُتاری گئی ہے، آ پ ﷺ نے فرمایا :’’ میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں‘‘،پھر میں نے آپ کو
{فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ} ۱؎ ( اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لا ئیں گے)تک پڑھ کر سنا یا، اور اپنا سر اٹھا یا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جا ری ہے۔
وضاحت ۱؎ : سورة النساء: ( ۴۱ )
* * * * *