- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
10- بَاب فِيمَنْ أَعْتَقَ عَبِيدًا لَهُ لَمْ يَبْلُغْهُمُ الثُّلُثُ
۱۰-باب: کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں توکیا حکم ہے؟
3958- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ ، فَقَالَ لَهُ قَوْلا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلاثَةَ أَجْزَائٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً۔
* تخريج: م/الحدود ۱۲ (۱۶۶۸)، ت/الأحکام ۲۷ (۱۳۶۴)، ن/الجنائز ۶۵ (۱۹۶۰)، ق/الأحکام ۲۰ (۲۳۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۲۶، ۴۳۱، ۴۳۸، ۴۴۰) (صحیح)
۳۹۵۸- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کوآزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے اس اُسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے :پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو ( جن کے نا م قرعہ میں نکلے ) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا ۔
3959- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ- حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَلَمْ يَقُلْ: < فَقَالَ لَهُ قَوْلا شَدِيدًا > ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۸۰) (صحیح)
۳۹۵۹- اس سند سے بھی ابو قلا بہ سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مر وی ہے اور اس میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے سخت سست کہا ۔
3960- حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ -هُوَ الطَّحَّانُ- عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ -بِمَعْنَاهُ- وَقَالَ -يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ -: <لَوْ شَهِدْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ لَمْ يُدْفَنْ فِي مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۹۵) (صحیح)
۳۹۶۰- ابو زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصا ری نے... آگے انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اس میں یہ ہے کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اگر میں اس کے دفن کئے جا نے سے پہلے موجود ہو تا تووہ مسلمانوں کے قبرستان میں نہ دفنا یا جاتا''۔
3961- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ وَأَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۳۹۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۳۹) (صحیح)
۳۹۶۱- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ کے چھ غلاموں کوآزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا پھر یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان کے درمیان قرعہ اندا زی کی پھر دو کو آزاد کر دیا اور چا ر کو غلام ہی با قی رکھا۔