- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
6- بَاب مَا جَاءَ فِي الْجَلاجِلِ
۶-باب: پیروں میں گھونگھرو پہننا کیسا ہے؟
4230- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ قَالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ أَنَّ عَامِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ: ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ مَوْلاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ، فَقَطَعَهَا عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانًا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۸۱) (ضعیف)
۴۲۳۰- عامر بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ان کی ایک لونڈی زبیر کی ایک بچی کو عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر گئی، اس بچی کے پاؤں میں گھنٹیاں تھیں یعنی گھونگھرو تھے تو عمرنے اسے کاٹ دیا ،اور کہنے لگے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ ہر گھنٹی کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔
4231- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ بُنَانَةَ مَوْلاةِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَيْنَمَا هِيَ عِنْدَهَا إِذْ دُخِلَ عَلَيْهَا بِجَارِيَةٍ وَعَلَيْهَا جَلاجِلُ يُصَوِّتْنَ، فَقَالَتْ: لا تُدْخِلْنَهَا عَلَيَّ إِلا أَنْ تَقْطَعُوا جَلاجِلَهَا، وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا تَدْخُلُ الْمَلائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ جَرَسٌ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۴۲، ۲۴۳) (حسن)
۴۲۳۱- عبدالرحمن بن حسّان کی لونڈی بُنانہ کہتی ہیں کہ وہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکی آپ کے پاس آئی ، اس کے پا ئوں میں گھو نگھرو بج رہے تھے تو آپ نے کہا: اسے میرے پاس نہ آنے دو جب تک تم انہیں کاٹ نہ دو، اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے :''فر شتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو''۔