• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

{ 31- أوَّلُ كِتَاب الْمَلاحِمِ }
۳۱-کتاب: لڑائیوں کا بیان


1- بَاب مَا يُذْكَرُ فِي قَرْنِ الْمِائَةِ
۱-باب: صدی پوری ہونے پر مجدد کے پیدا ہونے کا بیان​


4291- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ شَرَاحِيلَ بْنِ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِيمَا أَعْلَمُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا >.
قَالَ أَبو دَاود: [رَوَاهُ] عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ لَمْ يَجُزْ بِهِ شَرَاحِيلَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۵۱) (صحیح)
۴۲۹۱- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اللہ اس امت کے لئے ہر صدی کی ابتداء میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب مَا يُذْكَرُ مِنْ مَلاحِمِ الرُّومِ
۲-باب: رومیوں سے ہونے والی لڑائیوں کا بیان​


4292- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ وَابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، وَمِلْتُ مَعَهُمْ، فَحَدَّثَنَا عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ [عَنِ الْهُدْنَةِ] قَالَ: قَالَ جُبَيْرٌ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ ، فَأَتَيْنَاهُ، فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا، فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ، فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ، ثُمَّ تَرْجِعُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ >۔
* تخريج: انظرحدیث رقم : (۲۷۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۴۷) (صحیح)
۴۲۹۲- حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا:خالد بن معدان کی طرف چلے ، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا :ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چنانچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے :'' عنقریب تم رومیوں سے ایک پر امن صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑوگے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہوگے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہوگا، پھر نصرانیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا: صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو مارے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لئے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے'' ۔


4293- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ [بْنُ مُسْلِمٍ]، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِيهِ: < وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى أَسْلِحَتِهِمْ، فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّهَادَةِ > إِلا أَنَّ الْوَلِيدَ جَعَلَ الْحَدِيثَ عَنْ جُبَيْرٍ عَنْ ذِي مِخْبَرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ .
قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ رَوْحٌ وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ كَمَا قَالَ عِيسَى۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۲۷۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۴۷) (صحیح)
۴۲۹۳- اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے:'' پھر جلدی سے مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھیں گے، اور لڑنے لگیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو شہادت سے نوازے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب فِي أَمَارَاتِ الْمَلاحِمِ
۳-باب: لڑائیوں اور فتنوں کی نشانیوں کا بیان​


4294- حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ، وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ > ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَهُ [أَوْ مَنْكِبِهِ] ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ هَاهُنَا، أَوْ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ، يَعْنِي مُعَاذَ ابْنَ جَبَلٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۶۱)، وقد أخرجہ: ت/الفتن ۵۸ (۲۲۳۹)، حم (۵/۲۳۲، ۲۴۵) (حسن)
۴۲۹۴- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی ویرانی ہوگی، مدینہ کی ویرانی لڑائیوں اور فتنوں کا ظہور ہوگا ، فتنوں کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہوگی، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا ظہور ہوگا''، پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس شخص یعنی معاذ بن جبل کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرمارہے تھے، پھر فرمایا:'' یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب فِي تَوَاتُرِ الْمَلاحِمِ
۴-باب: لڑائی پر لڑائی ہونے کا بیان​


4295- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُتَيْبٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الْمَلْحَمَةُ الْكُبْرَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ >۔
* تخريج: ت/الفتن ۵۸ (۲۲۳۸)، ق/الفتن ۳۵ (۴۰۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۳۴) (ضعیف) (ابوبکربن ابی مریم اورولید بن سفیان ضعیف اوریزید سکونی لین الحدیث ہیں )
۴۲۹۵- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' بڑی جنگ ، قسطنطنیہ کی فتح اوردجال کا نکلنا تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی''۔
4296- حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ، وَيَخْرُجُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ >.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى۔
* تخريج: ق/الفتن ۳۵ (۵۱۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۹۴)، وقد أخرجہ: حم ( ۴/۱۸۹) (ضعیف)
(سند میں بقیہ بن ولید ضعیف اورابن ابی بلال لین الحدیث ہیں )
۴۲۹۶- عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہوگی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہوگا '' ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۔
وضاحت ۱؎ : یہ حدیث اوپر والی حدیث کی معارض ہے، اور دونوں ضعیف ہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ بڑی جنگ کی ابتداء و انتہاء کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہوگا، اوربڑی جنگ کااختتام اور قسطنطنیہ کی فتح اور مسیح دجال کا ظہور یہ تینوں قریب قریب واقع ہوں گے، یعنی سات مہینے کے عرصہ میں واقع ہوجائیں گے ،ایک دوسرا جواب وہ ہے جو ابو داود نے دیا ہے کہ دوسری حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے لہٰذا پہلی حدیث اس کے معارض نہیں ہوسکتی کیونکہ تعارض کے لئے یکساں وجوہ ضروری ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب فِي تَدَاعِي الأُمَمِ عَلَى الإِسْلامِ
۵-باب: مسلمانوں پر دوسری قوموں کی مسلسل یلغارکا بیان​


4297- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِالسَّلامِ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا > فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: < بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَائٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ، وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ >، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ:< حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۹۱)، وقد أخرجہ: حم ( ۵/۲۷۸) (صحیح)
۴۲۹۷- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں''، تو ایک کہنے والے نے کہا:کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:''نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہوگے،لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوگے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں ''وہن'' ڈال دے گا''، تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول ! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:''یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈرہے ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب فِي الْمَعْقِلِ مِنَ الْمَلاحِمِ
۶-باب: معرکوں میں مسلمانوں کے جماؤ کی جگہ کا بیان​


4298- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۶)، وقد أخرجہ: حم ( ۵/۱۹۷) (صحیح)
۴۲۹۸- ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(دجال سے ) جنگ کے روز مسلمانوں کا جماؤ غوطہ میں ہوگا، جو اس شہر کے ایک جانب میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ہے ''۔
ٍ

4299- قَاْلَ أَبُوْ دَاْوُدَ: حُدِّثْتُ عَنْ ابْنِ وَهَبٍ قَاْلَ: حَدَّثَنِيْ جَرِيْرُ بْنُ حَاْزِمٍ، عَنْ عُبَيْدِاللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَاْفِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَاْلَ: قَاْلَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : « يُوْشِكُ المُسْلِمُوْنَ أَنْ يُحَاْصَرُوْا إِلَىْ المَدِيْنَةِ حَتَّىْ يَكُوْنَ أَبْعَدَ مَسَاْلِحِهِمْ سَلاح ».
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۴۲۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۱۸) (صحیح)
۴۲۹۹- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' قریب ہے کہ مسلمان مدینہ میں محصور کردیئے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے''۔


4300- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَاْلِحٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ، عَنْ يُوْنَسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَاْلَ: وَسَلاحٌ قَرِيْبٌ مِنْ خَيْبَرَ.
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۴۲۵۱ (صحیح)
۴۳۰۰- زہری کہتے ہیں :سلاح خیبر کے قریب ( ایک جگہ) ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب ارْتِفَاعِ الْفِتْنَةِ فِي الْمَلاحِمِ
۷-باب: دشمن سے جنگ کے وقت اندرونی فتنہ دبا رہے گا ۱؎​


4301- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ (ح) وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لَنْ يَجْمَعَ اللَّهُ عَلَى هَذِهِ الأُمَّةِ سَيْفَيْنِ سَيْفًا مِنْهَا وَسَيْفًا مِنْ عَدُوِّهَا >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۱۷)، وقد أخرجہ: حم ( ۶/۲۶) (صحیح)
۴۳۰۱- عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں( بلائیں) اکٹھی نہیں کرے گا کہ ایک تلوار تو خود اسی کی ہو، اور ایک تلوار اس کے دشمن کی ہو'' ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : فتنہ سے مراد خود مسلمانوں کی آپس کی جنگ ہے۔
وضاحت ۲ ؎ : یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ ایک ہی وقت میں وہ آپس میں بھی لڑیں، اور اپنے دشمن سے بھی لڑیں، جب دوسری قومیں ان پر حملہ آور ہوں گی تو اللہ ان کی آپسی اختلافات کو ختم کردے گا، اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے سارے مسلمان مل کر اپنے دشمن سے لڑیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب فِي النَّهْيِ عَنْ تَهْيِيجِ التُّرْكِ والْحَبَشَةِ
۸-باب: کافر ترکوں اور حبشیوں سے چھیڑ چھاڑ منع ہے​


4302- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ [مُحَمَّدٍ] الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ رَجُلٌ مِنَ الْمُحَرَّرِينَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: <دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ، وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ >۔
* تخريج: ن/الجہاد ۴۲ (۳۱۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۸۹) (حسن)
۴۳۰۲- ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:'' حبشہ کے کافروں کو اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑچھاڑ نہ کریں، اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہ ایک جنگی تدبیر تھی جو نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو بتلائی کہ یہ کافر اقوام جب تک مسلمانوں کے خلاف اقدام نہ کریں ، مسلمانوں کو بھی ان سے جنگ میں ابتداء نہ کرنی چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب فِي قِتَالِ التُّرْكِ
۹-باب: کافر ترکوں سے لڑنے کا بیان​


4303- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ -يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ- عَنْ سُهَيْلٍ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ، قَوْمًا وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ، يَلْبَسُونَ الشَّعْرَ >۔
* تخريج: م/الفتن ۱۸ (۲۹۱۲)، ن/الجہاد ۴۲ (۳۱۷۹)، ق/الفتن ۳۶ (۴۰۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۷۶۶)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۹۵ (۲۹۲۸)، ۹۶ (۲۹۲۹)، المناقب ۲۵ (۳۵۹۰)، حم ( ۲ /۲۳۹، ۲۷۱، ۳۰۰، ۳۱۹، ۳۳۸، ۴۷۵، ۴۹۳، ۵۳۰) (صحیح)
۴۳۰۳- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں جو ایک ایسی قوم ہوگی جن کے چہرے تہ بہ تہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہونگے، اور وہ بالوں کے لباس پہنتے ہوں گے ''۔


4304- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ السَّرْحِ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الأَعْيُنِ ذُلْفَ الآنُفِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ >۔
* تخريج: خ/ الجہاد ۹۶ (۲۹۲۹)، م/ الإمارۃ ۱۲ (۲۹۱۲)، ت/ الفتن ۴۰ (۲۲۱۵)، ق/ الفتن ۳۶ (۴۰۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۹) (صحیح)
۴۳۰۴- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :'' قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑوگے جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی، اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑوگے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہوں گی، اور ان کے چہرے اس طرح ہوں گے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں''۔


4305- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا خَلادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي حَدِيثِ: < يُقَاتِلُكُمْ قَوْمٌ صِغَارُ الأَعْيُنِ > يَعْنِي التُّرْكَ، قَالَ: < تَسُوقُونَهُمْ ثَلاثَ مِرَارٍ حَتَّى تُلْحِقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، فَأَمَّا فِي السِّيَاقَةِ الأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ، وَأَمَّا فِي الثَّانِيَةِ فَيَنْجُو بَعْضٌ وَيَهْلَكُ بَعْضٌ، وَأَمَّا فِي الثَّالِثَةِ فَيُصْطَلَمُونَ > أَوْ كَمَا قَالَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۹)، وقد أخرجہ: حم ( ۵/۳۴۸) (ضعیف)
۴۳۰۵- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:'' تم سے ایک ایسی قوم لڑے گی جس کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی''، یعنی ترک، پھر فرمایا:'' تم انہیں تین بار پیچھے کھدیڑ دوگے، یہاں تک کہ تم انہیں جزیرہ ٔ عرب سے ملا دو گے، تو پہلی بار میں ان میں سے جو بھاگ گیا وہ نجات پا جائے گا، اور دوسری بار میں کچھ بچ جائیں گے، اور کچھ ہلاک ہو جائیں گے، اور تیسری بار میں ان کا بالکل خاتمہ ہی کردیا جائے گا '' أو کماقال (جیسا آپ ﷺ نے فرمایا) ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہی روایت امام ا حمد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے جس کا سیاق ابو داود کی اس حدیث کے سیاق کے مخالف ہے، اس میں ہے بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھا تھا، میں نے آپ کوکہتے سنا کہ میری امت کو ایک ایسی قوم تین بار کھدیڑے گی جس کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹیں ہوں گی، گویا ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال ہوں گے، یہاں تک کہ وہ انہیں جزیرۂ عرب سے ملادیں گے۔۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھدیڑنے والے ترک ہوں گے، وہ مسلمانوں کو کھدیڑیں گے، اس اختلاف کے ذکر کے بعد صاحب عون لکھتے ہیں: ''وعندي أن الصواب هي رواية أحمد وأما رواية أبي داود فالظاهر أنه وقع الوهم فيه من بعض الرواة''، اور اپنے اس نقطہ نظر کی تائید میں انہوں نے مزید شواہد بھی ذکر کئے ہیں (ملاحظہ ہو عون المعبود،۴؍۱۸۷)، علی کل حال بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ضعیف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب فِي ذِكْرِ الْبَصْرَةِ
۱۰-باب: بصرہ کا بیان​


4306- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < يَنْزِلُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي بِغَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ عِنْدَ نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ دِجْلَةُ يَكُونُ عَلَيْهِ جِسْرٌ يَكْثُرُ أَهْلُهَا وَتَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُهَاجِرِينَ > قَالَ ابْنُ يَحْيَى: قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: < وَتَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ؛ فَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الأَعْيُنِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَطِّ النَّهْرِ، فَيَتَفَرَّقُ أَهْلُهَا ثَلاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَالْبَرِّيَّةِ وَهَلَكُوا، وَفِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ لأَنْفُسِهِمْ وَكَفَرُوا، وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَهُمْ وَهُمُ الشُّهَدَاءُ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۰۴)، وقد أخرجہ: حم ( ۵/۴۰، ۴۵) (حسن)
۴۳۰۶- ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت کے کچھ لوگ دجلہ نامی ایک نہرکے قریب کے ایک نشیبی زمین پر اتریں گے جسے وہ لوگ بصرہ کہتے ہوں گے، اس پر ایک پل ہوگا، وہاں کے لوگ ( تعداد میں ) دیگر شہروں کے بالمقابل زیادہ ہوں گے، اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہوگا (ابومعمر کی روایت میں ہے کہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہوگا)، پھر جب آخری زمانہ ہوگا تو وہاں قنطورہ ۱؎ کی اولاد ( اہل بصرہ کے قتل کے لئے ) آئیگی جن کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی، یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے، پھر تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ تو بیل کی دم، اور صحرا کو اختیار کرکے ہلاک ہوجائے گا، اور ایک گروہ اپنی جانوں کو بچا کر کافر ہوجانے کو قبول کرلے گا، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے چھوڑ کر نکل کھڑا ہوگا، اور ان سے لڑے گا یہی لوگ شہداء ہوں گے'' ۔
وضاحت ۱؎ : ترکوں کے جد اعلیٰ کا نام ہے۔


4307- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْحَنَّاطُ -لا أَعْلَمُهُ إِلا ذَكَرَهُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لَهُ: < يَا أَنَسُ، إِنَّ النَّاسَ يُمَصِّرُونَ أَمْصَارًا، وَإِنَّ مِصْرًا مِنْهَا يُقَالُ لَهُ الْبَصْرَةُ أَوِ الْبُصَيْرَةُ، فَإِنْ أَنْتَ مَرَرْتَ بِهَا، أَوْ دَخَلْتَهَا، فَإِيَّاكَ وَسِبَاخَهَا وَكِلائَهَا وَسُوقَهَا وَبَابَ أُمَرَائِهَا، وَعَلَيْكَ بِضَوَاحِيهَا؛ فَإِنَّهُ يَكُونُ بِهَا خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَرَجْفٌ، وَقَوْمٌ يَبِيتُونَ يُصْبِحُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۶) (صحیح)
۴۳۰۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ شہر بسائیں گے انہیں شہروں میں سے ایک شہرہوگا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہوگا، اگر تم اس سے گزرنا یا اس میں داخل ہونا تو اس کی سب شور زمین اس کی کلاء ۱؎ اس کے بازار اور اس کے امراء کے دروازوں سے اپنے آپ کو بچانا، اور اپنے آپ کو اس کے اطراف ہی میں رکھنا، کیونکہ اس میں خسف (زمینوں کا دھنسنا ) قذف ( پتھر برسنا) اور رجف ( زلزلہ ) ہوگا، اور کچھ لوگ رات صحیح سالم ہوکر گزار یں گے، اور صبح کو بندر اور سور ہوکر اٹھیں گے۔
وضاحت ۱؎ : بصرہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔


4308- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحِ بْنِ دِرْهَمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: انْطَلَقْنَا حَاجِّينَ فَإِذَا رَجُلٌ فَقَالَ لَنَا: إِلَى جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا الأُبُلَّةُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ [لِي] فِي مَسْجِدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا وَيَقُولَ هَذِهِ لأَبِي هُرَيْرَةَ؟ سَمِعْتُ خَلِيلِي رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ لا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ >.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا الْمَسْجِدُ مِمَّا يَلِي النَّهْرَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۰۱) (ضعیف)
۴۳۰۸- صالح بن درہم کہتے ہیں کہ ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا ۱؎ جس نے ہم سے پوچھا: کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو؟ ہم نے کہا :ہاں، ہے، پھر اس نے کہا : تم میں سے کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لئے دو یا چار رکعت صلاۃ پڑھے؟ اور کہے: اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے کیونکہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے سنا ہے :''اللہ قیامت کے دن مسجد عشّار سے ایسے شہداء اٹھائے گا جن کے علاوہ کوئی اور شہداء بدر کے ہم پلہ نہ ہوں گے''۔
ابو داود کہتے ہیں :یہ مسجد نہر ۲؎ کے متصل ہے۔
وضاحت ۱؎ : اس سے مراد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
وضاحت ۲؎ : اس سے مراد نہر فرات ہے۔
 
Top