• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
61- بَاب الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ
۶۱- باب: جُراب پر مسح کرنے کا بیان​


159- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ [هُوَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ ثَرْوَانَ] عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ.
قَالَ أَبودَاود: كَانَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ لايُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، لأَنَّ الْمَعْرُوفَ عَنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ۔
قَالَ أَبودَاود: وَرُوِيَ هَذَا أَيْضًا عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ، وَلَيْسَ بِالْمُتَّصِلِ وَلا بِالْقَوِيِّ.
قَالَ أَبودَاود: وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَالْبَرَاءُ ابْنُ عَازِبٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو أُمَامَةَ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ، وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنِ عَبَّاسٍ۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۷۴ (۹۹)، ن/الطھارۃ ۹۶ (۱۲۳)، ق/الطھارۃ ۸۸ (۵۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۵۲) (صحیح)

۱۵۹- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور دونوں جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا ۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کو عبد الرحمن بن مہدی نہیں بیان کرتے تھے کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے معروف و مشہور روایت یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ابو موسی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے جرابوں پر مسح کیا، مگر اس کی سند نہ متصل ہے اور نہ قوی۔
ابو داود کہتے ہیں: علی بن ابی طالب، ابن مسعود ، براء بن عازب ، انس بن مالک، ابو امامہ، سہل بن سعد اور عمرو بن حریث رضی اللہ عنہم نے جرابوں پر مسح کیا ہے، اور یہ عمر بن خطاب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- باب
۶۲- باب

160- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ عَبَّادٌ: [قَالَ] أَخْبَرَنِي أَوْسُ بْنُ أَبِي أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ، وَقَالَ عَبَّادٌ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَتَى كِظَامَةَ قَوْمٍ -يَعْنِي الْمِيضَأَةَ- وَلَمْ يَذْكُرْ مُسَدَّدٌ الْمِيضَأَةَ وَالْكِظَامَةَ، ثُمَّ اتَّفَقَا: < فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى نَعْلَيْهِ وَقَدَمَيْهِ >۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸) (صحیح)

۱۶۰- اوس بن ابی اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ۔
عباد کی روایت میں ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ،آپ ایک قوم کے کظامہ ۱؎ یعنی وضو کی جگہ پر تشریف لائے۔
مسدد کی روایت میں میضاۃ اور کظامہ کا ذکر نہیں ہے، پھر آگے مسدد اور عباد دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے دونوں جوتوں اور دونوں پاؤں پر مسح کیا ۔
وضاحت ۱؎: کظامہ ان کنوؤں کو کہتے ہیں جو ایک دوسرے کے پاس کھود دیے جائیں اور ہر ایک میں سے پانی جانے کی راہ دوسرے میں چھوڑ دی جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
63-بَاب كَيْفَ الْمَسْحُ؟
۶۳- باب: موزوں پر مسح کیسے کرے؟​


161- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: ذَكَرَهُ أَبِي، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ: عَلَى ظَهْرِ الْخُفَّيْنِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم: ۱۴۹، ت/الطہارۃ ۷۳ (۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۱۲) (حسن صحیح)

۱۶۱ - مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔
اور محمد بن صباح کے علاوہ دوسرے لوگوں سے ’’عَلَى ظَهْرِ الْخُفَّيْنِ‘‘ (موزوں کی پشت پر) مروی ہے۔

162- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ، لَكَانَ أَسْفَلُ الْخُفِّ أَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلاهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِ خُفَّيْهِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۵، دي/ الطھارۃ ۴۳ (۷۴۲) (صحیح)

۱۶۲- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’اگر دین (کا معاملہ) رائے اور قیاس پر ہوتا، تو موزے کے نچلے حصے پر مسح کرنا اوپری حصے پر مسح کرنے سے بہتر ہوتا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے‘‘ ۔

163- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ، عَنِ الأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: مَا كُنْتُ أَرَى بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ إِلا أَحَقَّ بِالْغَسْلِ حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَمْسَحُ عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۰۴) (صحیح)

۱۶۳ - اعمش سے یہی حدیث اس سند سے مروی ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دونوں پیروں کے تلوؤں کو دھونا ہی زیادہ مناسب سمجھتا رہا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔

164- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: لَوْ كَانَ الدِّينُ بِالرَّأْيِ لَكَانَ بَاطِنُ الْقَدَمَيْنِ أَحَقَّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، وَقَدْ مَسَحَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى ظَهْرِ خُفَّيْهِ۔
وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَيْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاهِرِهِمَا، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَمْسَحُ عَلَى ظَاهِرِهِمَا، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي الْخُفَّيْنِ۔
وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ كَمَا رَوَاهُ وَكِيعٌ۔
وَرَوَاهُ أَبُو السَّوْدَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَاهِرَ قَدَمَيْهِ، وَقَالَ: لَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَفْعَلُهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۰۴) (صحیح)

۱۶۴ - اس سند سے بھی اعمش سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر دین (کا معاملہ) قیاس پر ہوتا تو دونوں قدموں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے زیادہ بہتر ہوتا، حالاں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں موزوں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ہے ۔
اور اِسے وکیع نے بھی اعمش سے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں دونوں پیروں کے نچلے حصے کا مسح ان کے اوپری حصے کے مسح سے بہتر جانتا تھا، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا۔
وکیع کا بیان ہے کہ لفظ ’’قدمين‘‘ سے مراد ’’خفين‘‘ ہے، وکیع ہی کی طرح اِسے عیسیٰ بن یونس نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے، نیز اِسے ابو السوداء نے ابن عبد خیر سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے علی کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے دونوں پاؤں کے اوپری حصہ پر مسح کیا ۱؎ اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے نہ دیکھا ہوتا، پھر ابو السوداء نے پوری روایت آخر تک بیان کی۔
وضاحت ۱؎ : ابو السوداء کی روایت میں’’فغسل ظاهر قدميه‘‘ کے الفاظ آئے ہیں، بظاہر یہاں’’غسل‘‘ : ’’مسح‘‘ کے معنی میں ہے، واللہ اعلم۔

165- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ مَحْمُودٌ: أَخْبَرَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَمَسَحَ أَعْلَى الْخُفَّيْنِ وَأَسْفَلَهُمَا، قَالَ أَبو دَاود: وَبَلَغَنِي أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ ثَوْرُ، هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَجَاءِ۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۷۲ (۹۷)، ق/الطھارۃ ۸۵ (۵۵۰)، ط/الطھارۃ ۸ (۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۳۷)، وقد أخرجہ: دي/الطھارۃ ۴۱ (۷۴۰) (ضعیف)

(سند میں انقطاع ہے جس کو مؤلف نے واضح کر دیا ہے، اور دارمی کی روایت میں عموم ہے، اعلی و اسفل کا ذکر نہیں ہے)
۱۶۵- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک میں وضو کرایا، تو آپ نے دونوں موزوں کے اوپر اور ان کے نیچے مسح کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ثور نے یہ حدیث رجاء بن حیوۃ سے نہیں سنی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
64- بَاب فِي الانْتِضَاحِ
۶۴ - باب: وضو کے بعد شرم گاہ (ستر) پر پانی چھڑکنے کا بیان​


166- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ [هُوَ الثَّوْرِيُّ] عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحَكَمِ الثَّقَفِيِّ، أَوِ الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا بَالَ يَتَوَضَّأُ وَيَنْتَضِحُ۔
قَالَ أَبودَاود : وَافَقَ سُفْيَانَ جَمَاعَةٌ عَلَى هَذَا الإِسْنَادِ، وقَالَ بَعْضُهُمُ، الْحَكَمُ أَوِ ابْنُ الْحَكَمِ۔
* تخريج: ن/الطھارۃ ۱۰۲ (۱۳۴)، ق/الطھارۃ ۵۸ (۴۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۷۹) (صحیح)

۱۶۶- سفیان بن حکم ثقفی یا حکم بن سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے، اور (وضو کے بعد) شرم گاہ پر (تھوڑا) پانی چھڑک لیتے۔

167- حَدَّثَنَا إِسْحَا قُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ،عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بَالَ ثُمَّ نَضَحَ فَرْجَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۲۰) (صحیح)

۱۶۷ - ثقیف کے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، ان کے والد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑکا۔

168- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ الْحَكَمِ، أَوِ ابْنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَنَضَحَ فَرْجَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۲۰) (صحیح)

۱۶۸- حکم یا ابن حکم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا، اور اپنی شرم گاہ پر پانی چھڑکا ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : وضو کے بعد تھوڑا سا پانی پاجامہ کی میانی پر چھڑک لے، تاکہ وہاں پیشاب کا قطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہو جائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی عمدہ تدبیر ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سکھلائی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
65-بَاب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَوَضَّأَ
۶۵- باب: وضو کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے ؟​


169- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ -يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ- يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم خُدَّامَ أَنْفُسِنَا: نَتَنَاوَبُ الرِّعَايَةَ، رِعَايَةَ إِبِلِنَا، فَكَانَتْ عَلَيَّ رِعَايَةُ الإِبِلِ، فَرَوَّحْتُهَا بِالْعَشِيِّ، فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: < مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلا قَدْ أَوْجَبَ > فَقُلْتُ بَخٍ بَخٍ، مَا أَجْوَدَ هَذِهِ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ: الَّتِي قَبْلَهَا يَا عُقْبَةُ أَجْوَدُ مِنْهَا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: مَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ؟ قَالَ: إِنَّهُ قَالَ آنِفًا قَبْلَ أَنْ تَجِيئَ: < مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ وُضُوئِهِ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، إِلا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ >۔
قَالَ مُعَاوِيَةُ وَحَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ.
* تخريج: م/الطھارۃ ۶ (۲۳۴)، ن/الطھارۃ ۱۱۱ (۱۵۱)، ت/الطھارۃ ۴۱ (۵۵)، ق/الطھارۃ۶۰ (۴۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۴۶،۱۵۱، ۱۵۳)، دي/الطھارۃ ۴۴ (۷۴۳) (صحیح)

۱۶۹- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا کام خود کرتے تھے، باری باری اپنے اونٹوں کو چراتے تھے، ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی، میں انہیں شام کے وقت لے کر چلا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت صلاۃ پوری توجہ اور حضور قلب (دل جمعی) کے ساتھ ادا کرے تو اس نے (اپنے اوپر جنت) واجب کر لی‘‘، میں نے کہا: واہ واہ یہ کیا ہی اچھی (بشارت) ہے، اس پر میرے سامنے موجود شخص نے عرض کیا: عقبہ! جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے فرمائی، وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، عرض کیا: ابو حفص! وہ کیا تھی؟ آپ نے کہا: تمہارے آنے سے پہلے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے:أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ (میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں) تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو‘‘۔
معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے، انہوں نے ابو ادریس سے اور ابو ادریس نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

170- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِءُ، عَنْ حَيْوَةَ، وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الرِّعَايَةِ، قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ: < فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ > ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۵۰) (ضعیف)

(سند کے ایک راوی ’’ابن عم ابوعقیل‘‘ مبہم ہے)
۱۷۰- اس سند سے بھی عقبہ بن عامرجہنی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ابوعقیل یا ان سے اوپر یا نیچے کے راوی نے اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول:’’فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ‘‘ کے بعد یہ جملہ کہا ہے: ’’پھر اس نے (یعنی وضو کرنے والے نے) اپنی نگاہ آسمان کی طرف آٹھائی اور یہ دعا پڑھی ۱؎ ۔۔۔ پھر ابو عقیل راوی نے معاویہ بن صالح کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
وضاحت۱؎ : اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ ابو عقیل نے اپنی روایت میں اونٹ چرانے کے واقعے کا ذکر نہیں کیا ہے اور حدیث کی روایت ان الفاظ میں کی ہے:’’مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ تَوَضَّأَ فأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ رَفَعَ نَظَرَهُ إِلَىْ السَّمَاءِ فقال: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ... إلى آخر الحديث كما قال معاوية‘‘ واللہ اعلم، رہی آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کی حکمت تو یہ شارع کو معلوم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
66- بَاب الرَّجُلِ يُصَلّيِ الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءِ وَاحِدٍ
۶۶- باب: آدمی ایک ہی وضو سے کئی صلاۃ پڑھ سکتا ہے​


171- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ، قَالَ مُحَمَّدٌ -هُوَ أَبُو أَسَدِ بْنُ عَمْرٍو- قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ وَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءِ وَاحِدٍ۔
* تخريج: خ/الطھارۃ ۵۴ (۲۱۴)، ت/الطھارۃ ۴۴ (۶۰)، ن/الطھارۃ ۱۰۱ (۱۳۱)، ق/الطھارۃ ۷۲ (۵۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۳۲، ۱۹۴، ۲۶۰، دي/الطھارۃ ۴۶ (۷۴۷) (صحیح)

۱۷۱ - عمرو بن عا مر بجلی (محمد بن عیسیٰ کہتے ہیں: عمرو بن عا مر بجلی ابو اسد بن عمرو ہیں) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وضو کے با رے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر صلاۃ کے لئے وضو کرتے تھے، اور ہم لوگ ایک ہی وضو سے کئی صلاتیں پڑھا کرتے تھے۔

172- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ،عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمَ الْفَتْحِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِوُضُوءِ وَاحِدٍ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنِّي رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، قَالَ: < عَمْدًا صَنَعْتُهُ >۔
* تخريج: م/الطھارۃ ۲۵ (۲۷۷)، ت/الطھارۃ ۴۵ (۶۱)، ن/الطھارۃ ۱۰۱ (۱۳۳)، ق/الطھارۃ ۷۲ (۵۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۵۰، ۳۵۱، ۳۵۸)، دي/الطھارۃ ۳ (۶۸۵) (صحیح)

۱۷۲ - بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک ہی وضو سے پانچ صلاتیں ادا کیں، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں نے آج آپ کو وہ کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کبھی نہیں کرتے تھے۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے‘‘۔
وضاحت۱؎ : یعنی ایک ہی وضو سے کئی صلاۃ پڑھنے کا کام۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب تَفْرِيقِ الْوُضُوءِ
۶۷- باب: وضو میں اعضاء کو الگ الگ دھونا (تاکہ کوئی عضو خشک نہ رہ جائے)​


173- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ [بْنُ مَالِكٍ] أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم، وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: <ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَكَ>۔
قَالَ أَبودَاود: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ [عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ] وَلَمْ يَرْوِهِ إِلا ابْنُ وَهْبٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم نَحْوَهُ قَالَ: <ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَكَ >۔
* تخريج: ق/الطھارۃ ۱۳۹ (۶۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۴۶)، وحدیث عمر أخرجہ: مسلم/الطہارۃ ۱۰ (۲۴۳)، ق/الطہارۃ ۱۳۹ (۶۶۶) (صحیح)

۱۷۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کرکے آیا، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ (خشک) چھوڑ دی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ’’تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس جیسی حدیث معقل بن عبید اللہ جزری سے بھی مروی ہے، معقل ابو زبیر سے، ابو زبیر جابر سے، جابر عمر سے، اور عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو‘‘۔

174- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَحُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم بِمَعْنَى قَتَادَةَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۵۱۲، ۱۸۵۶۳) (صحیح)

۱۷۴- اس سند سے حسن ( بصری) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قتادہ (ابن دعامۃ) کی حدیث کے ہم معنی (مرسلا) روایت کی ہے ۔

175- حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بُجَيْرٍ -هُوَ ابْنُ سَعْدٍ- عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم رَأَى رَجُلا يُصَلِّي، وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبواداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳) (صحیح)

۱۷۵- ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو صلاۃ پڑھتے دیکھا، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو، اور صلاۃ دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خشک جگہ دھونے کا حکم نہیں دیا، بلکہ پورا وضو کرنے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کے اعضاء پے درپے مسلسل دھونے چاہئیں، اور ان کے درمیان فاصلہ نہیں ہونا چاہئے، یعنی اعضاء وضو کے دھونے میں فصل جائز نہیں، اس مسئلہ میں دونوں طرح کے اقوال ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اگر زیادہ تاخیر نہ ہوئی ہو تو جائزہے ورنہ نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
68-بَاب إِذَا شَكَّ فِي الْحَدَثِ
۶۸- باب: جب وضو ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا کرے؟​


176- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْئَ فِي الصَّلاةِ حَتَّى يُخَيَّلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: < لا يَنْفَتِلْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا >۔
* تخريج: خ/الوضوء ۴ (۱۳۷)، ۳۴ (۱۷۷)، البیوع ۵ (۲۰۵۶)، م/الطہارۃ ۲۶ (۳۶۱)، ن/الطھارۃ ۱۱۵ (۱۶۰)، ق/الطھارۃ ۷۴ (۵۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹، ۴۰) (صحیح)

۱۷۶ - عباد بن تمیم کے چچا (عبد اللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی صلاۃ میں شبہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے (کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، صلاۃ نہ توڑے‘‘۔

177- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلاةِ فَوَجَدَ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ أَحْدَثَ أَوْ لَمْ يُحْدِثْ فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ فَلا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، تحفۃ (۱۲۶۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۲۹)، وقد أخرجہ: م/الطہارۃ ۲۶ (۳۶۲)، ت/الطھارۃ ۵۶ (۷۵)، ق/الطہارۃ ۷۴ (۵۱۶)، حم (۴/۴۱۴)، دي/الطھارۃ ۴۷ (۷۴۸) (صحیح)

۱۷۷- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی صلاۃ میں ہو پھر وہ اپنی سرین میں کچھ حرکت محسوس کرے، اور اسے شبہ ہو جائے کہ وضو ٹوٹا یا نہیں، تو جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، صلاۃ نہ توڑے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
69- بَاب الْوُضُوءِ مِنَ الْقُبْلَةِ
۶۹ - باب: عورت کا بوسہ لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا​


178- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَعَبْدُالرَّحْمَنِ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَبَّلَهَا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ۔
قَالَ أَبو دَاود: كَذَا رَوَاهُ الْفِرْيَابِيُّ وَغَيْرُهُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَهُوَ مُرْسَلٌ، إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ شَيْئًا.
[قَالَ أَبو دَاود: مَاتَ إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ وَلَمْ يَبْلُغْ أَرْبَعِينَ سَنَةً، وَكَانَ يُكْنَى أَبَا أَسْمَاءَ]۔
* تخريج: ن/الطھارۃ ۱۲۱ (۱۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۱۵)، وقد أخرجہ: ت/الطھارۃ ۶۳ (۸۶)، ق/الطھارۃ ۶۹ (۵۰۲)، حم (۶/۲۱۰) (صحیح)

(اگلی حدیث سے تقویت پا کر صحیح ہے ورنہ خود یہ سند منقطع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے)
۱۷۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بوسہ لیا اور وضو نہیں کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے فریابی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ مرسل ہے، ابراہیم تیمی کا ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: ابراہیم تیمی ابھی چالیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا تھا، ان کی کنیت ابو اسماء تھی۔

179- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
قَالَ عُرْوَةُ: فقلت لها: مَنْ هِيَ إِلا أَنْتِ؟ فَضَحِكَتْ۔
قَالَ أَبودَاود : هَكَذَا رَوَاهُ زَائِدَةُ وَعَبْدُالْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۷۱) (صحیح)

۱۷۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی کا بوسہ لیا، پھر صلاۃ کے لئے نکلے اور (پھر سے) وضو نہیں کیا۔
عروہ کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: وہ بیوی آپ کے علاوہ اور کون ہو سکتی ہیں؟ یہ سن کروہ ہنسنے لگیں۔

180- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَخْلَدٍ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ [يَعْنِي] ابْنَ مَغْرَاءَ، ثَنَا الأَعْمَشُ أَخْبَرَنَا أَصْحَابٌ لَنَا عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ۔
قَالَ أَبودَاود: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ لِرَجُلٍ: احْكِ عَنِّي أَنَّ هَذَيْنِ -يَعْنِي حَدِيثَ الأَعْمَشِ هَذَا عَنْ حَبِيبٍ، وَحَدِيثَهُ بِهَذَا الإِسْنَادِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: < أَنَّهَا تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ >، قَالَ يَحْيَى: احْكِ عَنِّي أَنَّهُمَا شِبْهُ لا شَيْئَ.
قَالَ أَبودَاود: وَرُوِيَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: مَا حَدَّثَنَا حَبِيبٌ إِلا عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ، يَعْنِي لَمْ يُحَدِّثْهُمْ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بِشَيْئٍ.
قَالَ أَبو دَاود: وَقَدْ رَوَى حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثًا صَحِيحًا۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۷۶۸،۱۷۳۷۱ ) (صحیح)

۱۸۰- اس سند سے بھی ام المؤمنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید قطان نے ایک شخص سے کہا: میرے حوالہ سے بیان کرو کہ یہ دونوں حدیثیں یعنی ایک تو یہی اعمش کی حدیث جو حبیب سے مروی ہے، دوسری وہ جو اسی سند سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے کہ وہ ہر صلاۃ کے لئے وضو کرے گی’’لا شيء‘‘ کے مشا بہ ہے (یعنی یہ دونوں حدیثیں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں)۔
ابوداود کہتے ہیں : ثوری سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم سے حبیب نے صرف عر وہ مز نی کے طریق سے بیان کیا، یعنی ان لوگوں سے حبیب نے عروہ بن زبیر کے واسطہ سے کچھ نہیں بیان کیا ہے(یعنی : عروہ بن زبیرسے حبیب کی روایت ثابت نہیں)۔
ابوداود کہتے ہیں :لیکن حمزہ زیات نے حبیب سے، حبیب نے عر وہ بن زبیر سے، عروۃ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک صحیح حدیث روایت کی ہے (یعنی: عروہ بن زبیر سے حبیب کی روایت صحیح ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
70-بَاب الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ
۷۰ - باب: عضو تناسل چھونے سے وضو ٹوٹ جانے کا بیان​


181- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: وَمِنْ مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ >۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۶۱ (۸۲)، ن/الطھارۃ ۱۱۸ (۱۶۳)، الغسل ۳۰ (۴۴۵)، ق/الطھارۃ ۶۳ (۴۷۹)، ط/الطھارۃ ۱۵(۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۰۶، ۴۰۷)، دي/الطھارۃ ۵۰ (۷۵۱) (صحیح)

۱۸۱ - عبد اللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ انہوں نے عروہ کو کہتے سنا: میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو مروان نے کہا: اور عضو تناسل چھونے سے بھی (وضو ہے)، اس پرعروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں، تو مروان نے کہا: مجھے بُسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے‘‘۔
 
Top