50- بَاب صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم
۵۰- باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان
106- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلاثًا فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا، ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: < مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه >۔
* تخريج: خ/الوضوء ۲۴ (۱۵۹)، ۲۸ (۱۶۴)، الصوم ۴۷ (۱۹۳۴)، م/الطھارۃ ۳ (۲۲۶)، ن/الطھارۃ ۶۸ (۸۴)، ط/الطھارۃ ۶(۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۹۴)، وقد أخرجہ: ق/الطھارۃ ۶ (۲۸۵)، حم (۱/۷۲)، دي/الطھارۃ ۲۷ (۷۲۰) (صحیح)
۱۰۶- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا، ان کو دھویا، پھر کلی کی، اور ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، اور پھر اسی طرح بایاں ہاتھ، پھر سر پر مسح کیا، پھر اپنا داہنا پاؤں تین بار دھویا، پھر بایاں پاؤں اسی طرح، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعت صلاۃ پڑھے اس میں دنیا کا خیال و وسوسہ اسے نہ آئے تو اللہ تعالی اس شخص کے پچھلے گناہ کو معاف فرما دے گا‘‘۔
107- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَضْمَضَةَ وَالاسْتِنْشَاقَ، وَقَالَ فِيهِ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ هَكَذَا، وَقَالَ: < مَنْ تَوَضَّأَ دُونَ هَذَا كَفَاهُ > وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الصَّلاةِ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۹۹) (حسن صحیح)
(سر کے تین بار مسح کی روایت شاذ ہے، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے)
۱۰۷- حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا، حمران نے کہا: عثمان نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے، اس کے بعد آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اس سے کم وضو کرے گا (یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا) تو بھی کافی ہے‘‘، یہاں پر صلاۃ کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا۔
108- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْوُضُوءِ فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ، فَدَعَا بِمَاءِ، فَأُتِيَ بِمِيضَأَةٍ، فَأَصْغَاهَا عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلاثًا، وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخَذَ مَائً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ فَغَسَلَ بُطُونَهُمَا وَظُهُورَهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُونَ عَنِ الْوُضُوءِ؟ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَوَضَّأُ۔
قَالَ أَبو دَاود: أَحَادِيثُ عُثْمَانَ رَضِي اللَّه عَنْه الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةً، فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلاثًا وَقَالُوا فِيهَا: وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۲۰) (حسن صحیح)
۱۰۸- عثمان بن عبدالرحمن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے پانی منگایا، پانی کا لوٹا لایا گیا، آپ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیلا (اور اس سے اپنا ہاتھ دھویا) پھر ہاتھ کو پانی میں داخل کیا، تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈالا، تین بار منہ دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ تین بار دھویا، تین بار اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر پانی میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور پانی لے کراپنے سرکا اور اپنے دونوں کانوں کے اندر اور باہر کا ایک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر کہا: وضو سے متعلق سوال کرنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے وضو کے باب میں جو صحیح حدیثیں مروی ہیں، وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک ہی بار ہے کیونکہ ناقلین حدیث نے ہر عضو کو تین بار دھونے کا ذکر کیا ہے اور سر کے مسح کا ذکر مطلقاً کیا ہے اس کی کوئی تعداد ذکر نہیں کی جیسا کہ ان لوگوں نے اور چیزوں میں ذکر کی ہے۔
109- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ- عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ أَنَّ عُثْمَانَ دَعَا بِمَاءِ فَتَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَهُمَا إِلَى الْكُوعَيْنِ، قَالَ: ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا، وَذَكَرَ الْوُضُوءَ ثَلاثًا، قَالَ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي تَوَضَّأْتُ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ وَأَتَمَّ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۴۷) (حسن صحیح)
۱۰۹- ابو علقمہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پہلے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہاتھوں کو پہونچوں تک دھویا، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک میں پانی ڈالا، اور اسی طرح وضو کے اندر بقیہ تمام اعضاء کو تین بار دھونے کا ذکر کیا، پھر کہا: اور آپ عثمان نے اپنے سر کا مسح کیا پھر اپنے دونوں پیر دھوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جیسے تم لوگوں نے مجھے وضو کرتے دیکھا، پھر زہری کی حدیث (نمبر۱۰۶) کی طرح اپنی حدیث بیان کی اور ان کی حدیث سے کامل بیان کی۔
110- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقِ بْنِ جَمْرَةَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَعَلَ هَذَا.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ وَكِيعٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ، قَالَ: تَوَضَّأَ ثَلاثًا فَقَطْ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۱۰) (منکر)
(کیونکہ اس کا راوی ’’عامر‘‘ ضعیف ہے، نیز اس نے’’سر کے تین بار مسح‘‘ کے الفاظ میں ثقہ راویوں کی مخالفت کی ہے)
۱۱۰- ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو میں اپنے دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے اور تین بار سر کا مسح کیا پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ۔
ابو داود کہتے ہیں: وکیع (بن جراح) نے اِسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں صرف
’’تَوَضَّأَ ثَلاثًا‘‘ ہے ۔
111- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: أَتَانَا عَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه وَقَدْ صَلَّى، فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقُلْنَا مَا يَصْنَعُ بِالطَّهُورِ وَقَدْ صَلَّى؟ مَا يُرِيدُ إلا لِيُعَلِّمَنَا، فَأُتِيَ بِإِنَاءِ فِيهِ مَائٌ وَطَسْتٍ، فَأَفْرَغَ مِنَ الإِنَاءِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا فَمَضْمَضَ وَنَثَرَ مِنَ الْكَفِّ الَّذِي يَأْخُذُ فِيهِ ۔ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الشِّمَالَ ثَلاثًا ۔ ثُمَّ جَعَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى ثَلاثًا وَرِجْلَهُ الشِّمَالَ ثَلاثًا ۔ ثُمَّ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَعْلَمَ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَهُوَ هَذَا۔
* تخريج: ن/الطھارۃ ۷۴ (۹۱)، ۷۵ (۹۲)، ۷۶ (۹۳)، ۷۷ (۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۰۳)، وقد أخرجہ: ت/الطھارۃ ۳۷ (۴۸)، حم (۱/۱۲۲)، دي/الطھارۃ ۳۱ (۷۲۸) (صحیح)
۱۱۱- عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے آپ صلاۃ پڑھ چکے تھے، پانی منگوایا، ہم لوگوں نے (آپس میں) کہا آپ پانی منگوا کر کیا کریں گے، آپ تو صلاۃ پڑھ چکے ہیں؟ شاید (پانی منگوا کر) آپ ہمیں وضو کا طریقہ ہی سکھانا چاہتے ہوں گے، خیر ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لایا گیا، آپ نے برتن سے اپنے داہنے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو (کلائی تک) تین بار دھویا پھر کلی کی اور تین بار ناک جھاڑی، آپ کلی کرتے پھر اسی چلو سے آدھا پانی ناک میں ڈال کر اسے جھاڑتے، پھر آپ نے اپنا چہرہ تین بار دھویا پھر دایاں اور بایاں ہاتھ تین تین بار دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور (پانی نکال کر) اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اس کے بعد اپنا دایاں پیر پھر بایاں پیر تین تین بار دھویا پھر فرمایا: جو شخص اس بات سے خوش ہو کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا طریقہ معلوم ہو جائے تو (جان لے کہ) وہ یہی ہے ۔
112- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، قَالَ: صَلَّى عَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه الْغَدَاةَ، ثُمَّ دَخَلَ الرَّحْبَةَ، فَدَعَا بِمَاءِ، فَأَتَاهُ الْغُلامُ بِإِنَاءِ فِيهِ مَائٌ وَطَسْتٍ، قَالَ: فَأَخَذَ الإِنَاءَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، وَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ، فَمَضْمَضَ ثَلاثًا، وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا، ثُمَّ سَاقَ قَرِيبًا مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ مُقَدَّمَهُ وَمُؤَخِّرَهُ مَرَّةً، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۰۳) (صحیح)
۱۱۲- عبد خیر کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے صبح کی صلاۃ پڑھی پھر رحبہ (کوفہ میں ایک جگہ کا نام ہے) آئے اور پانی منگوایا تو لڑکا ایک برتن جس میں پانی تھا اور ایک طشت لے کر آپ کے پاس آیا، آپ نے پانی کا برتن اپنے داہنے ہا تھ میں لیا پھر اپنے بائیں ہاتھ پرانڈیلا اور دونوں ہتھیلیوں کو تین باردھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ برتن کے اندر ڈال کر پانی لیا اور تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا۔
پھر راوی نے ابو عوانہ جیسی حدیث بیان کی، اس میں ذکر کیا کہ پھر علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا ایک بار مسح کیا پھر راوی نے پوری حدیث اسی جیسی بیان کی۔
113- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ ابْنَ عُرْفُطَةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ مَعَ الاسْتِنْشَاقِ بِمَاءِ وَاحِدٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۰۳)(صحیح)
۱۱۳- عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا (ان کے پاس) ایک کرسی لائی گئی، وہ اس پر بیٹھے پھر پانی کا ایک کوزہ (برتن) لایا گیا تو (اس سے) آپ نے تین بار اپنا ہاتھ دھویا پھر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
114- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ الْكِنَانِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه وَسُئِلَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى لَمَّا يَقْطُرْ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۹۴) (صحیح)
۱۱۴- زر بن حبیش کہتے ہیں کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تھا، پھر زر بن حبیش نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا: انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا حتی کہ پانی سر سے ٹپکنے کو تھا، پھر اپنے دونوں پیر تین تین بار دھوئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔
115- حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَاحِدَةً، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۲) (صحیح)
۱۱۵- عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے، اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، پھر آپ نے کہا: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ہے۔
116- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو تَوْبَةَ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ (ح) وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه تَوَضَّأَ، فَذَكَرَ وُضُوئَهُ كُلَّهُ ثَلاثًا ثَلاثًا، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِيَكُمْ طُهُورَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: ت /الطہارۃ ۳۷ (۴۸)، ن /الطہارۃ ۷۹ (۹۶)، ۹۳ (۱۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۲۰،۱۲۵، ۱۲۷، ۱۴۲، ۱۴۸) (صحیح)
۱۱۶- ابو حیہ (ابن قیس) کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ابو حیّہ نے آپ کے پورے (اعضاء) وضو کے تین تین بار دھونے کا ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے، پھر کہا: میری خواہش ہوئی کہ میں تم لوگوں کو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلاؤں (کہ آپ کس طرح وضو کر تے تھے)۔
117- حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ــ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ــ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ الْخَوْلانِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ- وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، فَدَعَا بِوَضُوءِ، فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَائٌ، حَتَّى وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ! أَلا أُرِيكَ كَيْفَ كَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَأَصْغَى الإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى الأُخْرَى، [ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ] ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الإِنَاءِ جَمِيعًا، فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَاءِ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ الثَّالِثَةَ، مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفِّهِ الْيُمْنَى قَبْضَةً مِنْ مَاءِ فَصَبَّهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ فَتَرَكَهَا تَسْتَنُّ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاثًا ثَلاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظُهُورَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ جَمِيعًا فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءِ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَفتَلَهَا بِهَا، ثُمَّ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ.
قَالَ أَبودَاود: وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ شَيْبَةَ يُشْبِهُ حَدِيثَ عَلِيٍّ لأَنَّهُ قَالَ فِيهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: فِيهِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، تحفۃ الأشراف (۱۰۱۹۸)، وحدیث ابن جریج عن شیبۃ أخرجہ: ن/الطہارۃ ۷۸ (۹۵)، تحفۃ الأشراف (۱۰۰۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۲) (ضعیف)
(بتصریح امام ترمذی: امام بخاری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے)
۱۱۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجا کرکے میرے پاس آئے، اور وضو کے لئے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا (اور پانی لے کر) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ (ملا کر) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اُسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار (بھی) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے (دائیں) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎ ۔
عبید اللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے (عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔
ابو داود کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لئے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے
’’مسح برأسه مرة واحدة ‘‘ کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے
’’ومسح برأسه ثلاثًا‘‘ روایت کیا ہے ۔
وضاحت ۱؎ : متن حدیث میں
’’ففتلها‘‘ کا لفظ وارد ہوا ہے جس کے معنی’’بہت تھوڑی چیز کے ہیں‘‘، یعنی ’’بہت ہلکا دھویا‘‘ شیعہ اس حدیث سے ننگے اور کھلے پاؤں پر مسح کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ ایک نسخہ میں
’’ففتلها‘‘کی جگہ
’’فغسلها‘‘وارد ہوا ہے، نیز یہ حدیث بتصریح امام بخاری ’’ضعيف‘‘ ہے اس میں کوئی علت خفیہ ہے، بفرض صحت امام خطابی اور ابن القیم نے چند تاویلات کی ہیں۔
118- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِاللَّهِ بْنِ زَيْدِ [بْنِ عَاصِمٍ] -وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ- هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ: نَعَمْ، فَدَعَا بِوَضُوءِ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ،ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ۔
* تخريج: خ/الوضوء ۳۸ (۱۸۵)، ۳۹ (۱۸۶)، ۴۱ (۱۹۱)، ۴۲ (۱۹۲)، ۴۵ (۱۹۷)، م/الطھارۃ ۷ (۲۳۵)، ت/الطھارۃ ۲۲ (۲۸)، ۲۴ (۳۲)، ۳۶ (۴۷)، ن/الطھارۃ ۸۰ (۹۷)، ۸۱ (۹۸)، ۸۲ (۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۰۸)، وقد أخرجہ: ط/الطھارۃ ۱ (۱)، حم (۴/۳۸ ، ۳۹، دي/الطھارۃ ۲۸ (۷۲۱) (صحیح)
۱۱۸- یحییٰ مازنی کہتے ہیں کہ انہوں نے عبد اللہ بن زید بن عاصم (جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے نانا ہیں) سے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرماتے تھے؟ تو عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس آپ نے وضو کے لئے پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان دونوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے اس طرح کہ اس کی ابتداء اپنے سر کے اگلے حصے سے کی، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے پھر انہیں اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔
119- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ،عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ بِهَذَاالْحَدِيثِ قَالَ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۰۸) (صحیح)
۱۱۹- اس سند سے بھی عبد اللہ بن زیدبن عاصم رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ انہوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار ایسا ہی کیا، پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔
120- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ حَبَّانَ ابْنَ وَاسِعٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَاللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيَّ يَذْكُرُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَذَكَرَ وُضُوئَهُ، وَقَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءِ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ حَتَّى أَنْقَاهُمَا۔
* تخريج: م /الطہارۃ ۷(۲۳۶)، ت/الطہارۃ ۲۷ (۳۵) مختصراً (تحفۃ الأشراف: ۵۳۰۷) (صحیح)
۱۲۰- عبد اللہ بن زید بن عاصم ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (وضو کرتے ہوئے) دیکھا، پھر آپ کے وضو کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا ۔
121- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ ابْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ، سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ: فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا، [ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلاثًا] وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود: (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۷۳)، وقد أخرجہ: ق/الطھارۃ ۵۲ (۴۴۲) (صحیح)
۱۲۱- عبد الرحمن بن میسرہ حضرمی کہتے ہیں کہ میں نے مقدام بن معد یکرب کندی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا، اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، پھر کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ (کہنیوں تک) تین تین بار دھوئے، پھر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا۔
122- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الأَنْطَاكِيُّ لَفْظُهُ قَالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ، فَلَمَّا بَلَغَ مَسْحَ رَأْسِهِ وَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ، فَأَمَرَّهُمَا حَتَّى بَلَغَ الْقَفَا، ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، قَالَ مَحْمُودٌ: [قَالَ:] أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ۔
* تخريج: ق/الطہارۃ ۵۲ (۴۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۷۲) (صحیح)
۱۲۲- مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا ۔
123- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ وَهِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: وَمَسَحَ بِأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، زَادَ هِشَامٌ: وَأَدْخَلَ أَصَابِعَهُ فِي صِمَاخِ أُذُنَيْهِ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۷۲) (صحیح)
۱۲۳- اس طریق سے بھی ولید (بن مسلم) سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کی پشت اور ان کے اندرونی حصے کا مسح کیا، اور ہشام نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو اپنے دونوں کان کے سوراخ میں داخل کیا۔
124- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ الْمُغِيرَةُ بْنُ فَرْوَةَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ تَوَضَّأَ لِلنَّاسِ كَمَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَوَضَّأُ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَهُ غَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءِ فَتَلَقَّاهَا بِشِمَالِهِ حَتَّى وَضَعَهَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ حَتَّى قَطَرَ الْمَاءُ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ، ثُمَّ مَسَحَ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۴۲) (صحیح)
۱۲۴- عبد اللہ بن علاء کہتے ہیں کہ ابو الازہر مغیرہ بن فروہ اور یزید بن ابی مالک نے ہم سے بیان کیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دکھانے کے لئے اسی طرح وضو کیا جس طرح انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، جب وہ اپنے سر (کے مسح) تک پہنچے تو بائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے بیچ سر پر ڈالا یہاں تک کہ پانی ٹپکنے لگا یا ٹپکنے کے قریب ہوا، پھر اپنے (سر کے) اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اور پچھلے حصہ سے اگلے حصہ تک مسح کیا ۔
125- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بِهَذَا الإِسْنَادِ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ ثَلاثًا ثَلاثًا وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ بِغَيْرِ عَدَدٍ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۴۳) (صحیح)
۱۲۵ - محمود بن خالد کہتے ہیں کہ ہم سے ولید نے اسی سند سے بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ انہوں معاویہ رضی اللہ عنہ نے تین تین بار وضو کیا اور اپنے پاؤں دھوئے اِس میں عدد کا ذکر نہیں ہے۔
126- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَأْتِينَا، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّهُ قَالَ: <اسْكُبِي لِي وَضُوئًا »، فَذَكَرَتْ وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ فِيهِ: فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا، وَوَضَّأَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّةً، وَوَضَّأَ يَدَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّتَيْنِ، بِمُؤَخَّرِ رَأْسِهِ ثُمَّ بِمُقَدَّمِهِ، وَبِأُذُنَيْهِ كِلْتَيْهِمَا ظُهُورِهِمَا وَبُطُونِهِمَا، وَوَضَّأَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا۔
قَالَ أَبو دَاود : وَهَذَا مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۳۳ (۴۳) (بقولہ في الباب)، ق/الطھارۃ ۳۹ (۳۹۰)، ۵۲ (۴۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۶۰) (حسن)
۱۲۶ - ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (اکثر) تشریف لایا کرتے تھے تو ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے لئے وضو کا پانی لاؤ‘‘، پھر ربیع نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا ذکر کیا اور کہا کہ (پہلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پہونچے تین بار دھوئے، اور چہرہ کو تین بار دھویا، کلی کی، ایک بار ناک میں پا نی ڈالا اور دونوں ہاتھ تین تین بار دھوئے، دو بار سر کا مسح کیا، پہلے سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا، پھراگلے حصہ سے، پھر اپنے دونوں کانوں کی پشت اور ان کے اندرونی حصہ کا مسح کیا اور دونوں پیر تین تین بار دھوئے۔
ابو داود کہتے ہیں: مسدد کی حدیث کے یہی معنی ہیں ۔
127- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ يُغَيِّرُ بَعْضَ مَعَانِي بِشْرٍ، قَالَ فِيهِ: وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۳۷) (شاذ)
(سفیان کی اس روایت میں تین بار ناک جھاڑ نے کا ٹکڑا شاذ ہے)
۱۲۷- ابن عقیل سے بھی یہی حدیث اسی سند سے مر وی ہے، اس میں (سفیان نے) بشر کی حدیث کے بعض مفاہیم کو بدل دیا ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور تین مرتبہ ناک جھاڑی۔
128- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ بْنِ عَفْرَاءَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ عِنْدَهَا فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ قَرْنِ الشَّعْرِ كُلِّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ، لا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۵۹، ۳۶۰) (حسن)
۱۲۸ - ربیع بنت معو ذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، تو پورے سر کا مسح کیا، اوپر سے سر کا مسح شروع کرتے تھے اور ہر کونے میں نیچے تک بالوں کی روش پر ان کی اصل ہیئت کو حرکت دیے بغیر لے جاتے تھے۔
129- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ -يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ- عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ أَنَّ رُبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ بْنِ عَفْرَاءَ أَخْبَرَتْهُ؛ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَوَضَّأُ، قَالَتْ: فَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَمَسَحَ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَصُدْغَيْهِ، وَأُذُنَيْهِ مَرَّةً وَاحِدَةً۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۲۶ (۳۴) (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۵۹) (حسن)
۱۲۹ - ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ،آپ نے اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصے کا اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔
130- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم مَسَحَ بِرَأْسِهِ مِنْ فَضْلِ مَاءِ كَانَ فِي يَدِهِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۱۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۴۱) (حسن)
۱۳۰ - ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔
131- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ [ابْنِ عَفْرَاءَ] أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي حُجْرَيْ أُذُنَيْهِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۱۲۶) وراجع: ت/ الطہارۃ ۵۲ (۳۳)، ق/الطہارۃ ۵۲ (۴۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۳۹) (حسن)
۱۳۱ - ربیع بنت معوذ (بن عفراء) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا توآپ نے اپنی دونوں انگلیاں (مسح کے لئے ) اپنے دونوں کانوں کے سوراخ میں داخل کیں۔
132- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى وَمُسَدَّدٌ قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَمْسَحُ رَأْسَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً حَتَّى بَلَغَ الْقَذَالَ -وَهُوَ أَوَّلُ الْقَفَا-.
وَقَالَ مُسَدَّدٌ: مَسَحَ رَأْسَهُ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ حَتَّى أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ أُذُنَيْهِ۔
قَالَ مُسَدَّدٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ يَحْيَى فَأَنْكَرَهُ.
قَالَ أَبو دَاود: وَسَمِعْت أَحْمَدَ يَقُولُ: إِنَّ ابْنَ عُيَيْنَةَ زَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُهُ وَيَقُولُ: إِيشْ هَذَا طَلْحَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ؟.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۸۱) (ضعیف)
(اس کا راوی ’’مصرف‘‘ مجہول ہے اور لیث بن أبی سلیم ضعیف ہے)
۱۳۲ - طلحہ کے دادا کعب بن عمرو یامی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کا ایک بار مسح کرتے دیکھا یہاں تک کہ یہ قذال (گردن کے سرے) تک پہنچا۔
مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اپنے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا۔
مسدد کہتے ہیں: تو میں نے اِسے یحییٰ (بن سعید القطان) سے بیان کیا تو آپ نے اسے منکر کہا۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے احمد (بن حنبل) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ (سفیان) ابن عیینہ (بھی) اس حدیث کو منکر گردانتے تھے اور کہتے تھے کہ
’’طلحة عن أبيه عن جده‘‘ کیا چیز ہے؟
133- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَوَضَّأُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، كُلَّهُ ثَلاثًا ثَلاثًا، قَالَ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ مَسْحَةً وَاحِدَةً۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود (تحفۃ الأشراف: ۵۵۷۹)، وقد أخرجہ: ت/الطھارۃ ۲۸ (۳۶)، ۳۲ (۴۲)، ن/الطھارۃ ۸۴ (۱۰۱)، ق/الطھارۃ ۴۳ (۴۰۴)، ۵۲ (۴۳۹) (ضعیف جداً)
(اس کا ایک راوی’’عباد‘‘ اخیرعمرمیں مختلط ہو گیا تھا)
۱۳۳ - عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور (اعضاء وضو کو) تین تین بار دھونے کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر اور دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔
134- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَقُتَيْبَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَذَكَرَ وُضُوءَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَمْسَحُ الْمَأْقَيْنِ، قَالَ: وَقَالَ: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: يَقُولُهَا أَبُو أُمَامَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ حَمَّادٌ: لا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَوْ [مِنْ] أَبِي أُمَامَةَ -يَعْنِي قِصَّةَ الأُذُنَيْنِ- قَالَ قُتَيْبَةُ: عَنْ سِنَانٍ أَبِي رَبِيعَةَ [قَالَ أَبو دَاود وَهُوَ ابْنُ رَبِيعَةَ كُنْيَتُهُ أَبُو رَبِيعَةَ]۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۲۹ (۳۷)، ق/الطھارۃ ۵۳ (۴۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۸۷)، وقد أخرجہ:حم (۵/۲۵۸، ۲۶۴) (ضعیف)
(اس کے دو راوی ’’سنان‘‘ اور ’’شہر‘‘ ضعیف ہیں، البتہ اس کا ایک ٹکڑا
’’الأذنان من الرأس‘‘دیگراحادیث سے ثابت ہے)
۱۳۴ - ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو (کی کیفیت) کا ذکر کیا اور فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناک کے قریب دونوں آنکھوں کے کناروں کا مسح فرماتے تھے، أبو امامہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دونوں کان سر میں داخل ہیں‘‘۔
سلیمان بن حرب کہتے ہیں: ابو امامہ بھی یہ کہا کرتے تھے (کہ دونوں کان سر میں داخل ہیں)۔
قتیبہ کہتے ہیں کہ حماد نے کہا: میں نہیں جانتا کہ یہ قول یعنی دونوں کانوں کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، یا ابو امامہ کا۔