- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
95- بَاب مَا جَاءَ فِي الشِّعْرِ
۹۵-باب: شعر کا بیان
5009- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا >.
قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهُ قَالَ: وَجْهُهُ أَنْ يَمْتَلِئَ قَلْبُهُ حَتَّى يَشْغَلَهُ عَنِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ، فَإِذَا كَانَ الْقُرْآنُ وَالْعِلْمُ الْغَالِبَ فَلَيْسَ جَوْفُ هَذَا عِنْدَنَا مُمْتَلِئًا مِنَ الشِّعْرِ، وَ < إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا > قَالَ: [كَأَنَّ] الْمَعْنَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْ بَيَانِهِ أَنْ يَمْدَحَ الإِنْسَانَ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ، ثُمَّ يَذُمَّهُ فَيَصْدُقَ فِيهِ حَتَّى يَصْرِفَ الْقُلُوبَ إِلَى قَوْلِهِ الآخَرِ، فَكَأَنَّهُ سَحَرَ السَّامِعِينَ بِذَلِكَ ۔
* تخريج: خ/الأدب ۹۲ (۶۱۵۵) ، م/الشعر ح ۷ (۲۲۵۷)، ت/الأدب ۷۱ (۲۸۵۱)، ق/الأدب ۱ (۳۷۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۸، ۳۳۱، ۳۵۵، ۳۹۱، ۴۸۰) (صحیح)
۵۰۰۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' تم میں سے کسی کے لئے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابو علی کہتے ہیں : مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل ( شعر سے پیٹ بھر نے کی) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن ، اور اللہ کے ذکر سے غافل کردے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نز دیک شعر سے بھرا ہوانہیں ہے( اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے ، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گو یا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسا ن کی تعریف کرے اور سچی بات( تعریف میں) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑلے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے ، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑدے ،تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کردیا۔
5010- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، عَنْ أُبَيِّ [بْنِ كَعْبٍ]، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَة >۔
* تخريج: خ/الأدب ۹ (۶۱۴۵)، ق/الأدب ۴۱ (۳۷۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۲۵، ۱۲۶)، دي/الاستئذان ۶۸ (۲۷۴۶) (صحیح)
۵۰۱۰- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں''۔
5011- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ ، فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلامٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكَماً >۔
* تخريج: ت/الأدب ۶۹ (۲۸۴۵)، ق/الأدب ۴۱ (۳۷۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۶۹، ۳۰۹، ۳۱۳، ۳۲۷، ۳۳۲) (صحیح)
۵۰۱۱- ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار'حُکْم' ۱؎ (یعنی حکمت) پر مبنی ہوتے ہیں''۔
وضاحت ۱؎ : یہاں 'حُکْم''حِکْمَتْ' کے معنی میں ہے جیسا کہ آیت کریمہ''وآتیناہ الحُکْمَ صبیّاً'' میں ہے۔
5012- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُوتُمَيْلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ النَّحْوِيُّ -عَبْدُاللَّهِ بْنُ ثَابِتٍ- قَالَ: حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلا، وَإِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالا > فَقَالَ صَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ: صَدَقَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ : أَمَّا قَوْلُهُ: < إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا > فَالرَّجُلُ يَكُونُ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَهُوَ أَلْحَنُ بِالْحُجَجِ مِنْ صَاحِبِ الْحَقِّ فَيَسْحَرُ الْقَوْمَ بِبَيَانِهِ فَيَذْهَبُ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: < إِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلا > فَيَتَكَلَّفُ الْعَالِمُ إِلَى عِلْمِهِ مَا لايَعْلَمُ فَيُجَهِّلُهُ ذَلِكَ، وَأَمَّا قَوْلُهُ: < إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حُكْمًا > فَهِيَ هَذِهِ الْمَوَاعِظُ وَالأَمْثَالُ الَّتِي يَتَّعِظُ بِهَا النَّاسُ، وَأَمَّا قَوْلُهُ < إِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالا > فَعَرْضُكَ كَلامَكَ وَحَدِيثَكَ عَلَى مَنْ لَيْسَ مِنْ شَأْنِهِ وَلا يُرِيدُهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۷۹، ۱۸۸۱۷) (ضعیف)
(سند میں عبداللہ بن ثابت ابوجعفرمجہول اورصخربن عبداللہ لین الحدیث ہیں)
۵۰۱۲- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے سنا: ''بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں( یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے)، بعض علم جہالت ہوتے ہیں ، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں ، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں''۔
تو صعصہ بن صوحان بولے: اللہ کے نبی اکرمﷺ نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہو تے ہیں ، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے ، لیکن وہ دلائل ( پیش کرنے) میں صا ب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے ، چنانچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے ۔
اور رہا آپ کا قول ''بعض علم جہل ہوتا ہے''، تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے ، جو اس کے علم میں نہیں چنانچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے ۔
اور رہا آپ کا قول''بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں'' ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں ،جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں ، رہا آپ کا قول کہ'' بعض باتیں بو جھ ہوتی ہیں'' تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔
5013- حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ [قَالَ:] مَرَّ عُمَرُ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَحَظَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: [قَدْ] كُنْتُ أُنْشِدُ [وَ] فِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۶ (۳۲۱۲)، م/فضائل الصحابہ ۳۴ (۲۴۸۵)، ن/المساجد ۲۴ (۷۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۲) (صحیح)
۵۰۱۳- سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گز رے ، وہ مسجد میں شعرپڑھ رہے تھے تو عمر نے انہیں گھور کر دیکھا، تو انہوں نے کہا:میں شعرپڑھتا تھا حالانکہ اس (مسجد ) میں آپ سے بہتر شخص ( نبی اکرم ﷺ ) موجود ہوتے تھے۔
5014- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَخَشِيَ أَنْ يَرْمِيَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَأَجَازَه۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۰۲) (صحیح)
۵۰۱۴- اس سند سے ابو ہریرہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے'' تو وہ(عمر) ڈرے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت کو بطور دلیل پیش نہ کردیں چنانچہ انہوں نے انہیں(مسجد میں شعر پڑھنے کی) اجازت دے دی''۔
5015- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ [لُوَيْنٌ]، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، وَهِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ فَيَقُومُ عَلَيْهِ يَهْجُو مَنْ قَالَ فِي رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَ حَسَّانَ مَا نَافَحَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ >۔
* تخريج: ت/الأدب ۶۹ (۲۸۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۰۲۰، ۱۶۳۵۱)، وقد أخرجہ: م/فضائل الصحابہ ۳۴ (۲۴۸۵)، حم (۶/۷۲) (حسن)
۵۰۱۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حسان رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں منبر رکھتے ، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو (ایک با ر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یقینا روح القدس( جبرئیل ) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کرتے ہیں''۔
5016- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: {وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ} فَنَسَخَ مِنْ ذَلِكَ وَاسْتَثْنَى فَقَالَ: {إِلا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا}۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۶۸) (حسن الإسناد)
۵۰۱۶- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ {وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ} ۱؎ میں سے وہ لوگ مخصوص و مستثنیٰ ہیں جن کو اللہ تعالی نے{إِلا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا} ۲؎ میں بیان کیا ہے۔
وضاحت ۱؎ : شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے ہوں،(الشعراء : ۲۲۴)
وضاحت ۲؎ : سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا،(الشعراء : ۲۲۷)