107- بَاب فِي الرَّجُلِ يُصِيبُ مِنْهَا مَا دُونَ الْجِمَاعِ
۱۰۷- باب: حائضہ عورت سے جماع کے سوا آدمی سب کچھ کر سکتا ہے
267- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ نُدْبَةَ مَوْلاةِ مَيْمُونَةَ؛ عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ إِلَى أَنْصَافِ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ تَحْتَجِزُ بِهِ۔
* تخريج: ن/الطھارۃ ۱۸۰ (۲۸۸)، والحیض ۱۳ (۳۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۸۵)، وقد أخرجہ: خ/الحیض ۵ (۲۹۸)، م/الحیض ۱ (۲۹۴)، حم (۶/۳۳۵)، دي/الطھارۃ ۱۰۷ (۱۰۹۷) (صحیح)
۲۶۷- ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں مباشرت (اختلاط و مساس) کرتے تھے جب ان کے اوپر نصف رانوں تک یا دونوں گھٹنوں تک تہبند ہوتا جس سے وہ آڑ کئے ہوتیں۔
268- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُضَاجِعُهَا زَوْجُهَا، وَقَالَ مَرَّةً: يُبَاشِرُهَا۔
* تخريج: خ/الحیض ۵ (۲۹۹)، م/الحیض ۱ (۲۹۳)، ت/الطھارۃ ۹۹ (۱۳۲)، ن/الطھارۃ ۱۸۰ (۲۸۷)، والحیض ۱۲ (۳۷۳)، ق/الطھارۃ ۱۲۱ (۶۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۸۲) (صحیح)
۲۶۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی ازار (تہبند) باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس کا شوہر۱؎ اس کے ساتھ سوتا، ایک بار راوی نے ’’يضاجعها‘‘ کے بجائے ’’يباشرها‘‘ کے الفاظ نقل کئے ہیں۔
وضاحت۱؎ :
’’إحدانا‘‘ کے لفظ سے مراد یا تو ازواج مطہرات ہیں، ایسی صورت میں
’’زوجها‘‘ سے مراد خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، یا
’’إحدانا‘‘ سے عام مسلمان عورتیں مراد ہیں، تو اس صورت میں
’’زوجها‘‘ سے اس مسلمان عورت کا شوہر مراد ہو گا، مؤلف کے سوا اور کسی کے یہاں یہ لفظ نہیں ہے۔
269- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، سَمِعْتُ خِلاسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا تَقُولُ: كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْئٌ غَسَلَ مَكَانَهُ، وَلَمْ يَعْدُهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، وَإِنْ أَصَابَ -تَعْنِي ثَوْبَهُ- مِنْهُ شَيْئٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ۔
* تخريج: ن/الطھارۃ ۱۷۹ (۲۸۵)، والحیض ۱۱ (۳۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۶۷)، حم (۶/۴۴، دي/الطھارۃ ۱۰۴ (۱۰۵۳)، ویأتی عند المؤلف فی النکاح برقم (۲۱۶۶) (صحیح)
۲۶۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رات میں ایک کپڑے میں سوتے اور میں پورے طور سے حائضہ ہوتی، اگر میرے حیض کا کچھ خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے بدن) کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی مقام کو دھو ڈالتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں صلاۃ پڑھتے، اور اگر اس میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو لگ جاتا، تو آپ صرف اسی جگہ کو دھو لیتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں صلاۃ پڑھتے تھے۔
270- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ- عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ- عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ، قَالَ: إِنَّ عَمَّةً لَهُ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلا فِرَاشٌ وَاحِدٌ؟ قَالَتْ: أُخْبِرُكِ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: دَخَلَ فَمَضَى إِلَى مَسْجِدِهِ -[قَالَ أَبو دَاود]: تَعْنِي مَسْجِدَ بَيْتِهِ- فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ فَقَالَ: <ادْنِي مِنِّي > فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: <وَأَنِ اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ> فَكَشَفْتُ فَخِذَيَّ، فَوَضَعَ خَدَّهُ وَصَدْرَهُ عَلَى فَخِذِي، وَحَنَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى دَفِئَ وَنَامَ۔
* تخريج: تفرد به أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۹۳) (ضعیف) (اس کے تین رواۃ ’’ابن غانم، عبدالرحمن افریقی اور عمارہ‘‘ ضعیف ہیں اور عمارہ کی پھوپھی مبہم ہیں)
۲۷۰- عمارہ بن غراب کہتے ہیں: ان کی پھوپھی نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم میں سے ایک عورت کو حیض آتا ہے، اور اس کے اور اس کے شوہر کے پاس صرف ایک ہی بچھونا ہے (ایسی صورت میں وہ حائضہ عورت کیا کرے؟)، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بتاتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور اپنی صلاۃ پڑھنے کی جگہ میں چلے گئے (ابو داود کہتے ہیں: مسجد سے مراد گھر کے اندر صلاۃ کی جگہ ’’مصلی‘‘ ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلاۃ سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے مجھے نیند آ گئی، ادھر آپ کو سردی نے ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میرے قریب آ جاؤ‘‘، تو میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم اپنی ران کھولو‘‘ ، میں نے اپنی رانیں کھول دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخسار اور سینہ میری ران پر رکھ دیا، میں اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی، یہاں تک کہ آپ کو گرمی پہنچ گئی، اور سو گئے۔
271- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِالْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ إِذَا حِضْتُ نَزَلْتُ عَنِ الْمِثَالِ عَلَى الْحَصِيرِ، فَلَمْ نَقْرُبْ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَلَمْ نَدْنُ مِنْهُ حَتَّى نَطْهُرَ۔
* تخريج: تفرد به أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۸۰) (ضعیف) (اس کے اندر’’أم ذرہ‘‘ راویہ لین الحدیث ہیں)
۲۷۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں جب حائضہ ہوتی تو بچھونے سے چٹائی پر چلی آتی، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب نہ ہوتے، جب تک کہ ہم پاک نہ ہو جاتے۔
272- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم: أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ مِنَ الْحَائِضِ شَيْئًا، أَلْقَى عَلَى فَرْجِهَا ثَوْبًا۔
* تخريج: تفرد به أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۷۹) (صحیح)
۲۷۲- عکرمہ بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حائضہ سے جب کچھ کرنا چاہتے تو ان کی شرمگاہ پر ایک کپڑا ڈال دیتے تھے۔
273- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَأْمُرُنَا فِي فَوْحِ حَيْضَتِنَا أَنْ نَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنَا، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَمْلِكُ إِرْبَهُ؟! .
* تخريج: خ/الحیض ۶ (۳۰۲)، م/الحیض ۱ (۲۹۳)، ق/الطہارۃ ۱۲۱ (۶۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۳، ۱۴۳، ۲۳۵) (صحیح)
۲۷۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حیض کی شدت میں ہمیں ازار (تہبند) باندھنے کا حکم فرماتے تھے پھر ہم سے مباشرت کرتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پر قابو پا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی خواہش پر قابو تھا؟ ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو مرد اپنے نفس پر قابو نہ رکھ پاتا ہو اس کا حائضہ سے مباشرت کرنا بہتر نہیں، کیوں کہ خدشہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے اور جماع کر بیٹھے۔