• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّلاةِ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ
۱۹-باب: مسجد میں داخل ہونے کے وقت کی صلاۃ (تحیۃ المسجد) کا بیان​


467- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي، قَتَادَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: <إِذَا جَائَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيُصَلِّ سَجْدَتَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَجْلِسَ >۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۶۰ (۴۴۴)، والتھجد ۲۵ (۱۱۶۳)، م/ المسافرین ۱۱ (۷۱۴)، ت/ الصلاۃ ۱۱۹ (۳۱۶)، ن/ المساجد ۳۷ (۷۳۱)، ق/ إقامۃ الصلاۃ ۵۷ (۱۰۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۲۳)، وقد أخرجہ: ط/ قصر الصلاۃ ۱۸(۵۷)، حم (۵/۲۹۵، ۲۹۶، ۳۰۳)، دي/الصلا ۃ ۱۱۴ (۱۴۳۳) (صحیح)

۴۶۷- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اسے چاہئے کہ وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں (تحیۃ المسجد) پڑھ لے‘‘۔

468- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم بِنَحْوِهِ، زَادَ: < ثُمَّ لِيَقْعُدْ بَعْدُ إِنْ شَائَ أَوْ لِيَذْهَبْ لِحَاجَتِهِ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۲۳)(صحیح)

۴۶۸- اس سند سے بھی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مر فوعاً مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر اس کے بعد چاہے تو وہ بیٹھا رہے یا اپنی ضرورت کے لئے چلا جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب فِي فَضْلِ الْقُعُوْدِ فِي الْمَسْجِدِ
۲۰-باب: مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان​


469- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: <الْمَلائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ، أَوْ يَقُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ >۔
* تخريج: خ/الوضوء ۳۴ (۱۷۶)، والصلاۃ ۶۱ (۴۴۵)، ۸۷ (۴۷۷)، والأذان ۳۰ (۶۴۷)، ۳۶ (۶۵۹)، والبیوع ۴۹ (۲۰۱۳)، وبدء الخلق ۷ (۳۲۲۹)، ن/المساجد ۴۰ (۷۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۱۶)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۴۹ (۶۴۹)، ت/الصلاۃ ۱۲۹ (۳۳۰)، ق/المساجد والجماعات ۱۹ (۷۹۹)، ط/ قصر الصلاۃ ۱۸ (۵۱)، حم (۲/۲۶۶، ۲۸۹، ۳۱۲، ۳۹۴، ۴۱۵، ۴۲۱، ۴۸۶، ۵۰۲) (صحیح)

۴۶۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرشتے تم میں سے ہر ایک شخص کے لئے دعائے خیر و استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ میں جہاں اس نے صلاۃ پڑھی ہے بیٹھا رہتا ہے، جب تک کہ وہ وضوء نہ توڑ دے یا اٹھ کر چلا نہ جائے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما‘‘۔

470- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < لا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلاةُ تَحْبِسُهُ: لا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ إِلا الصَّلاةُ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۳۶ (۶۵۹)، م/المساجد ۴۹ (۶۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۰۷) (صحیح)

۴۷۰- اسی سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک شخص برابر صلاۃ ہی میں رہتا ہے جب تک صلاۃ اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے صلاۃ کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے‘‘۔

471- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < لا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلاةَ، تَقُولُ الْمَلائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ >، فَقِيلَ: مَا يُحْدِثُ؟ قَالَ: يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ۔
* تخريج: م/المساجد ۴۹ (۶۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۵۱)، حم (۲/۴۱۵، ۵۲۸) (صحیح)

۴۷۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بندہ برابر صلاۃ ہی میں رہتا ہے، جب تک اپنے مصلی میں بیٹھ کر صلاۃ کا انتظار کرتا رہے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اے اللہ! تو اس پر رحم فرما، جب تک کہ وہ صلاۃ سے فارغ ہو کر گھر نہ لو ٹ جائے، یا حدث نہ کرے‘‘۔
عرض کیا گیا: حدث سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’(حدث یہ ہے کہ وہ) بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے (یعنی وضوء توڑ دے)‘‘۔

472- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الأَزْدِيّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْئٍ فَهُوَ حَظُّهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۷۹)(حسن)

۴۷۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسجد میں جو جس کام کے لئے آئے گا وہی اس کا نصیب ہے ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی جیسی نیت ہو گی اسی کے مطابق اسے اجر و ثواب ملے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- باب فِي كَرَاهِيَةِ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ
۲۱-باب: مسجد میں گم شدہ چیزوں کا اعلان و اشتہار مکروہ ہے​


473- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ -يَعْنِي ابْنَ شُرَيْحٍ- قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الأَسْوَدِ -يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ- يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِاللَّهِ مَوْلَى شَدَّادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: < مَنْ سَمِعَ رَجُلا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا >۔
* تخريج: م/المساجد ۱۸ (۵۶۸)، ق/المساجد والجماعات ۱۱ (۷۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۴۹)، دي/الصلاۃ ۱۱۸ (۱۴۴۱) (صحیح)

۴۷۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ’’جو شخص کسی کو مسجد میں گم شدہ چیز ڈھونڈتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے (اس گمشدہ چیز کو) واپس نہ لوٹائے، کیونکہ مسجدیں اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی ہیں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ
۲۲-باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے​


474- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَشُعْبَةُ وَأَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ >۔
* تخريج: حدیث مسلم بن إبراہیم عن ہشام وأبان تفرد بہ أبو داود، تحفۃ (۱۱۳۷، ۱۳۸۳)، وحدیث مسلم بن إبراہیم عن شعبۃ، خ/الصلاۃ ۳۷ (۴۱۵)، م/المساجد ۱۳ (۵۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۱)، وقد أخرجہ: ت/الجمعۃ ۴۹ (۵۷۲)، ن/المساجد ۳۰ (۷۲۴)، حم (۳/۱۷۳، ۲۳۲، ۲۷۴، ۲۷۷)، دي/الصلاۃ ۱۱۶ (۱۴۳۵) (صحیح)

۴۷۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے( مٹی) میں چھپا دو‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎: جن مسجدوں کا فرش خام اور غیر پختہ ہوتا ہے وہاں تو یہ ممکن ہے کہ تھوک کر اسے مٹی میں دبا دیں، مگر جن مسجدوں کا فرش پختہ ہو وہاں تھوکنا بالکل منع ہے، اگر تھوکنے کی ضرورت آہی پڑے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ دستی یا ٹیشو پیپر میں تھوک کر جیب میں رکھ لے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے اور نہ مسجد گندی ہو۔

475- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا >.
* تخريج: م/المساجد ۳۷ (۵۵۲)، ت/الجمعۃ ۴۹ (۵۷۲)، ن/المساجد ۳۰ (۷۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۸) (صحیح)

۴۷۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس پر مٹی ڈال دو ‘‘۔

476- حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ-، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۰۹، ۲۰۹، ۲۳۴) (صحیح)

۴۷۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسجد میں حلق سے بلغم نکال کر ڈالنا ...‘‘، پھر راوی نے اوپر والی حدیث کے مثل ذکر کیا۔

477- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الأَسْلَمِيِّ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: < مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ فِيهِ أَوْ تَنَخَّمَ فَلْيَحْفِرْ فَلْيَدْفِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۹۵)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۳۴ (۴۰۸ و ۴۰۹)، ۳۵ (۴۱۰ و ۴۱۱)، م/المساجد ۱۳ (۵۴۸)، ن/المساجد ۳۲ (۷۲۶)، ق/المساجد والجماعات ۱۰ (۷۲۴)، حم (۲/۲۶۰، ۳۲۴، ۴۷۱، ۵۳۲)، دي/الصلاۃ ۱۱۶ (۱۴۳۸) (حسن صحیح)
(مؤلف کی سند میں ’’ابن أبی حدرد‘‘ لین الحدیث ہیں جن کی متابعت حمید بن عبدالرحمن نے کی ہے اس لئے یہ حدیث حسن صحیح ہے)
۴۷۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم نکالے تو اسے مٹی کھود کر دفن کر دینا چاہئے، اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے، پھر اسے لے کر نکل جائے‘‘۔

478- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْمُحَارِبِيّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < إِذَا قَامَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلاةِ، أَوْ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلا يَبْزُقْ أَمَامَهُ وَلا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ تِلْقَاءِ يَسَارِهِ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ لِيَقُلْ بِهِ >۔
* تخريج: ت/الجمعۃ ۴۹ (۵۷۱)، ن/المساجد ۳۳ (۷۲۷)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۶۱ (۱۰۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۹۶) (صحیح)

۴۷۸- طارق بن عبد اللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب آدمی صلاۃ کے لئے کھڑا ہو یا جب تم میں سے کوئی صلاۃ پڑھے تو اپنے آگے اور داہنی طرف نہ تھوکے لیکن (اگر تھوکنا ہو اور جگہ خالی ہو) تو بائیں طرف تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے پھر اسے مل دے‘‘۔

479- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ حَكَّهَا، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ، وَقَالَ: < إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى فَلا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ >.
[قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ وَعَبْدُالْوَارِثِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ، وَمَالِكٍ وَعُبَيْدِاللَّهِ وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ إِلا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ]۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۳۳ (۴۰۶)، والأذان ۹۴ (۷۵۳)، والعمل في الصلاۃ ۲ (۱۲۱۳)، والأدب ۷۵ (۶۱۱۱)، م/المساجد ۱۳ (۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۵۱۸)وقد أخرجہ: ن/المساجد ۳۰ (۷۲۴)، ق/المساجد والجماعات ۱۰ (۷۲۴)، ط/القبلہ ۳ (۴)، حم (۲/۳۲، ۶۶، ۸۳، ۹۶) دي/الصلاۃ ۱۱۶ (۱۴۳۷) (صحیح)

۴۷۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ کر صاف کیا۔
راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی صلاۃ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۱؎، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسماعیل اور عبد الوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک، عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے (براہ راست) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے (زعفران کے بجائے) خلوق (ایک قسم کی خوشبو) کا ذکر کیا ہے۔
وضاحت۱؎: یعنی اللہ تعالی کی رحمت مصلی کے سامنے ہوتی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے’’فإن الرحمة تواجهه‘‘۔

480- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ وَلا يَزَالُ فِي يَدِهِ مِنْهَا، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا فَقَالَ: < أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ؟ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلا فِي قِبْلَتِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، فَإِنْ عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا >، وَوَصَفَ لَنَا ابْنُ عَجْلانَ ذَلِكَ: أَنْ يَتْفُلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَرُدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۷۵)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۳۴ (۴۰۸، ۴۰۹)، ۳۵ (۴۱۰، ۴۱۱)، ۳۶ (۴۱۳)، م/المساجد ۱۳ (۵۵۰)، ن/المساجد ۳۲ (۷۲۶)، ق/المساجد ۱۰ (۷۶۱)، حم (۳/۶، ۲۴، ۵۸، ۸۸، ۹۳) (حسن صحیح)

۴۸۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی شاخوں کو پسند کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں ایک شاخ رہتی تھی، (ایک روز) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ کی دیوار میں بلغم لگا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچا پھر غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’کیا تم میں سے کسی کو اپنے منہ پر تھو کنا اچھا لگتا ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص قبلے کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف منہ کر تا ہے اور فرشتے اس کی داہنی طرف ہوتے ہیں، لہٰذا کوئی شخص نہ اپنے داہنی طرف تھوکے اور نہ ہی قبلہ کی طرف، اگر تھوکنے کی حاجت ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے، اگر اسے جلدی ہو تو اس طرح کرے‘‘۔
ابن عجلان نے اسے ہم سے یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کو مل لے۔

481- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلادٍ، قَالَ أَحْمَدُ: مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ رَجُلا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم حِينَ فَرَغَ: < لا يُصَلِّي لَكُمْ > فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ، فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: <نَعَمْ>، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: <إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۵۶) (حسن)

۴۸۱- ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ رہے تھے، جب وہ شخص صلاۃ سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے‘‘، اس کے بعد اس نے صلاۃ پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، (میں نے منع کیا ہے)‘‘، صحابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے‘‘۔

482- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ يُصَلِّي، فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى۔
* تخريج: م/المساجد ۱۳ (۵۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۴۸)، وقد أخرجہ: ن/المساجد ۳۴ (۷۲۸)، حم (۴/۲۵، ۲۶) (صحیح)

۴۸۲- عبد اللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلاۃ پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔

483- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ، عَنْ أَبِيهِ -بِمَعْنَاهُ-، زَادَ: ثُمَّ دَلَكَهُ بِنَعْلِهِ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۴۸) (صحیح)

۴۸۳- اس سند سے ابو العلا ء یزید بن عبداللہ بن الشخیرنے اپنے والد عبد اللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ’’پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جوتے سے مل دیا‘‘۔

484- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ ابْنَ الأَسْقَعِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ بَصَقَ عَلَى الْبُورِيّ، ثُمَّ مَسَحَهُ بِرِجْلِهِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ: لأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَفْعَلُهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۹۰) (ضعیف)

(اس کے راوی’’فَرَج‘‘ ضعیف اور ابو سعید حمیری مجہول ہیں)
۴۸۴- ابو سعید حمیری کہتے ہیں کہ میں نے دمشق کی مسجد میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے بوریے پر تھوکا، پھر اپنے پاؤں سے اسے مل دیا، ان سے پوچھا گیا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: اس لئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

485- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ [الدِّمَشْقِيَّانِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَهَذَا لَفْظُ يَحْيَى بْنِ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيِّ] قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ ابْنِ الصَّامِتِ، أَتَيْنَا جَابِرًا -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِاللَّهِ- وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ قَالَ: <أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ؟>، ثُمَّ قَالَ: <إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ فَلا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا> وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ ثُمَّ دَلَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: <أَرُونِي عَبِيرًا> فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَائَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ۔
* تخريج:تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۲۴) (صحیح)

۴۸۵- عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہما ری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب۱؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: ’’تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟‘‘، پھر فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھو کے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز (بلغم) آجائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے‘‘، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا (اور اس میں تھوکا) پھر اسے مل دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے عبیر ۲؎ لا کر دو‘‘، چنانچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں خلوق ۳؎ لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں خلوق لگایا کرتے ہو۔
وضاحت ۱؎ : ابن طاب ایک قسم کی کھجور کا نام ہے۔
وضاحت ۲؎ : ایک قسم کی خوشبو ہے۔
وضاحت ۳؎ : ایک قسم کی خوشبو ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ
۲۳-باب: مشرک مسجد میں داخل ہو اس کے حکم کا بیان​


486- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ صلی اللہ علیہ وسلم : <قَدْ أَجَبْتُكَ> فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: خ/العلم ۶ (۶۳)، ن/الصیام ۱ (۲۰۹۴)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۹۴ (۱۴۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۷)، وقد أخرجہ: م/الإیمان ۳ (۱۰)، ت/الزکاۃ ۲ (۶۱۹)، حم (۳/۱۴۳، ۱۹۳)، دي/الصلاۃ ۱۴۰ (۱۴۷۰) (صحیح)

۴۸۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، پھر پوچھا: تم میں محمد کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ان (لوگوں) کے بیچ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ہم نے اس سے کہا: یہ گورے شخص ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پھر اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ’’میں نے تمہاری بات سن لی، (کہو کیا کہنا چاہتے ہو)‘‘، تو اس شخص نے کہا: محمد! میں آپ سے پوچھتا ہوں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔
وضاحت۱؎: مسجد میں داخل ہونے والا شخص مشرک تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا۔

487- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ ابْنُ كُهَيْلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ قَالَ: فَقَالَ: أَيُّكُمُ ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم: أَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، قَالَ: يَا ابْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۰، ۲۶۴، ۲۶۵) (حسن)

۴۸۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، وہ آپ کے پاس آئے انہوں نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھایا اور اسے باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوئے، پھر محمد بن عمرو نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے اس نے کہا: تم میں عبد المطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عبد المطلب کا بیٹا میں ہوں‘‘، تو اس نے کہا: اے عبد المطلب کے بیٹے! اور راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی۔

488- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ، وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: الْيَهُودُ أَتَوُا النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا مِنْهُمْ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۷۹)ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیۃ برقم (۳۶۲۴،۳۶۲۵)، وفی الحدود برقم (۴۴۵۰، ۴۴۵۱) (ضعیف)
(رجل مزینہ مجہول ہے)
۴۸۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ مسجد میں اپنے اصحاب میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان یہودیوں نے کہا: اے ابو القاسم! ہم ایک مرد اور ایک عورت کے سلسلے میں جنہوں نے زنا کر لیا ہے ۱؎ آئے ہیں (تو ان کے سلسلہ میں کیا حکم ہے؟)۔
وضاحت ۱؎: باب کی ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر بوقت ضرورت مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لا تَجُوزُ فِيهَا الصَّلاةُ
۲۴-باب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر صلاۃ ناجائز ہے​


489- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ ابْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : <جُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا>۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۴۵، ۱۴۷، ۲۴۸، ۲۵۶) (صحیح)

۴۸۹- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے لئے ساری زمین ذریعۂ طہارت اور مسجد بنائی گئی ہے‘‘ ۱؎۔
وضاحت ۱؎: یعنی ہر پاک زمین تیمم کرنے اور صلاۃ پڑھنے کے لائق بنا دی گئی ہے، یہ صرف امت محمدیہ کی خصوصیت ہے، پہلی امتوں کو اس کے لئے بڑا اہتمام کرنا پڑتا تھا، وہ صرف عبادت خانوں ہی میں صلاۃ پڑھ سکتی تھیں، دوسری جگہوں پر نہیں۔

490- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ أَنَّ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه مَرَّ بِبَابِلَ وَهُوَ يَسِيرُ فَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ، فَلَمَّا بَرَزَ مِنْهَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: إِنَّ حَبِيبِي صلی اللہ علیہ وسلم نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَقْبَرَةِ، وَنَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي أَرْضِ بَابِلَ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۲۸) (ضعیف)

(اس کے راوی’’عمار‘‘ ضعیف ہیں اور ابو صالح الغفاری کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں)
۴۹۰- ابو صالح غفاری کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزر رہے تھے کہ ان کے پاس مؤذن انہیں صلاۃِ عصر کی خبر دینے آیا، تو جب آپ بابل کی سر زمین پار کر گئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے عصر کے لئے تکبیر کہی، جب آپ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان میں اور سر زمین بابل میں صلاۃ پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے ۔
وضاحت ۱؎: یہ روایت اس باب کی صحیح روایت کے معارض ہے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ بفرض صحت اس سے مقصود یہ ہے کہ بابل میں سکونت اختیار نہ کی جائے یا یہ ممانعت خاص علی رضی اللہ عنہ کے لئے تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ یہاں کے لوگوں سے انہیں ضرر پہنچے گا۔

491- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ بِمَعْنَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ قَالَ: < فَلَمَّا خَرَجَ > مَكَانَ: < فَلَمَّا بَرَزَ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۲۸) (ضعیف)
(اس کے رواۃ میں’’الحجاج‘‘ بھی ضعیف ہیں)
۴۹۱- اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ سے سلیمان بن داود کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے، مگر اس میں:’’فلما برز‘‘ کے بجائے ’’فلما خرج‘‘ ہے۔

492- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، وَقَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِهِ فِيمَا يَحْسَبُ عَمْرٌو: أنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < الأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلا الْحَمَّامَ وَالْمَقْبَرَةَ > ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۲۰ (۳۱۷)، ق/المساجد والجماعات ۴ (۷۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۸۳، ۹۶) (صحیح)

۴۹۲- ابو سعید ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اور موسیٰ بن اسماعیل نے اپنی روایت میں کہا: جیسا کہ عمرو کا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ’’ساری زمین صلاۃ پڑھنے کی جگہ ہے، سوائے حمام (غسل خانہ) اور قبرستان کے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب النَّهْيِ عَنِ الصَّلاةِ فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ
۲۵-باب: اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ (باڑ ) میں صلاۃ پڑھنے کی ممانعت​


493- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الصَّلاةِ فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ، فَقَالَ: < لا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الإِبِلِ فَإِنَّهَا مِنَ الشَّيَاطِينِ > وَسُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، فَقَالَ: < صَلُّوا فِيهَا فَإِنَّهَا بَرَكَةٌ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۱۸۴، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۳، ۱۶۸۶) (صحیح)

۴۹۳- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کے باڑوں (بیٹھنے کی جگہوں) میں صلاۃ پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہوں میں صلاۃنہ پڑھو اس لئے کہ وہ شیطانوں میں سے ہیں ۱؎ ‘‘، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑوں میں صلاۃ پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہاں صلاۃ پڑھو، اس لئے کہ یہ باعث برکت ہے‘‘۔
وضاحت ۱؎: یعنی ان میں شیطانی خصلتیں ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلامُ بِالصَّلاةِ
۲۶-باب: بچے کو صلاۃ پڑھنے کا حکم کب دیا جائے؟​


494- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ الطَّبَّاعِ- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم: <مُرُوا الصَّبِيَّ بِالصَّلاةِ إِذَا بَلَغَ سَبْعَ سِنِينَ، وَإِذَا بَلَغَ عَشْرَ سِنِينَ فَاضْرِبُوهُ عَلَيْهَا>۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۸۲ (۴۰۷)، دي/الصلاۃ ۱۴۱ (۱۴۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۰۴) (حسن صحیح)

۴۹۴- سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں صلاۃ پڑھنے کا حکم دو، اور جب دس سال کے ہو جائیں تو اس (کے ترک) پر انہیں مارو‘‘۔

495- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ -يَعْنِي الْيَشْكُرِيَّ-، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ سَوَّارٍ أَبِي حَمْزَةَ -قَالَ أَبودَاود: وَهُوَ سَوَّارُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو حَمْزَةَ الْمُزَنِيُّ الصَّيْرَفِيُّ- عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < مُرُوا أَوْلادَكُمْ بِالصَّلاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ [سِنِينَ] وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ > ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۷) (حسن صحیح)

۴۹۵- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تمہاری اولاد سات سال کی ہو جائے تو تم ان کو صلاۃ پڑھنے کاحکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں اس پر (یعنی صلاۃ نہ پڑھنے پر) مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ کر دو‘‘۔

496- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادَ: < وَإِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ، فَلا يَنْظُرْ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ >.
قَالَ أَبودَاود: وَهِمَ وَكِيعٌ فِي اسْمِهِ، وَرَوَى عَنْهُ ابو داود الطَّيَالِسِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَوَّارٌ الصَّيْرَفِيُّ.
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۱۷) (حسن)

۴۹۶- داود بن سوار مزنی سے اس سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ’’جب کوئی شخص اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس لونڈی کی ناف کے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر نہ دیکھے‘‘ ۔
ابو داود کہتے ہیں: وکیع کو داود بن سوار کے نام میں وہم ہوا ہے ۔
ابو داود طیالسی نے بھی یہ حدیث انہیں سے روایت کی ہے اور اس میں ’’حدثنا أبو حمزة سوار الصيرفي‘‘ ہے (یعنی ان کے نزدیک بھی صحیح سوار بن داود ہے )۔

497- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ الْجُهَنِيُّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ لامْرَأَتِهِ: مَتَى يُصَلِّي الصَّبِيُّ؟ فَقَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ مِنَّا يَذْكُرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِذَا عَرَفَ يَمِينَهُ مِنْ شِمَالِهِ فَمُرُوهُ بِالصَّلاةِ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۱۰) (ضعیف)

(اس میں معاذ کی اہلیہ مبہم اور معاذ کے شیخ مجہول ہیں)
۴۹۷- ہشام بن سعد کا بیان ہے کہ مجھ سے معاذ بن عبدںاللہ بن خبیب جہنی نے بیان کیا، ہشام کہتے ہیں: ہم معاذ کے پاس آئے تو انہوں نے اپنی بیوی سے پوچھا: بچے کب صلاۃ پڑھنا شروع کریں؟ تو انہوں نے کہا: ہم میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہا تھا کہ اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’جب بچہ اپنے داہنے اور بائیں ہاتھ میں تمیز کرنے لگے تو تم اسے صلاۃ کا حکم دو ‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب بَدْءِ الأَذَانِ
۲۷-باب: اذان کی ابتداء کیسے ہوئی؟​


498- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَحَدِيثُ عَبَّادٍ أَتَمُّ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ -قَالَ زِيَادٌ: أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ- عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: اهْتَمَّ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لِلصَّلاةِ، كَيْفَ يَجْمَعُ النَّاسَ لَهَا؟ فَقِيلَ لَهُ: انْصِبْ رَايَةً عِنْدَ حُضُورِ الصَّلاةِ، فَإِذَا رَأَوْهَا آذَنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ الْقُنْعُ -يَعْنِي الشَّبُّورَ-، وَقَالَ زِيَادٌ: شَبُّورُ الْيَهُودِ، فَلَمْ يُعْجِبْهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: < هُوَ مِنْ أَمْرِ الْيَهُودِ >، قَالَ: فَذُكِرَ لَهُ النَّاقُوسُ فَقَالَ: < هُوَ مِنْ أَمْرِ النَّصَارَى > فَانْصَرَفَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدِ [بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ] وَهُوَ مُهْتَمٌّ لِهَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَأُرِيَ الأَذَانَ فِي مَنَامِهِ، قَالَ: فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ [لَهُ ] يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَبَيْنَ نَائِمٍ وَيَقْظَانَ إِذْ أَتَانِي آتٍ فَأَرَانِي الأَذَانَ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ [رَضِي اللَّه عَنْه ] قَدْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَكَتَمَهُ عِشْرِينَ يَوْمًا، قَالَ: ثُمَّ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ لَهُ: < مَا مَنَعَكَ أَنْ تُخْبِرَنِي؟ >، فَقَالَ: سَبَقَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، فَاسْتَحْيَيْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < يَا بِلالُ، قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْهُ >، قَالَ: فَأَذَّنَ بِلالٌ، قَالَ أَبُو بِشْرٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو عُمَيْرٍ أَنَّ الأَنْصَارَ تَزْعُمُ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ زَيْدٍ لَوْلا أَنَّهُ كَانَ يَوْمَئِذٍ مَرِيضًا لَجَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مُؤَذِّنًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۰۴) (حسن)

۴۹۸- ابو عمیر بن انس اپنے ایک انصاری چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فکر مند ہوئے کہ لوگوں کو کس طرح صلاۃ کے لئے اکٹھا کیا جا ئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ صلاۃ کا وقت ہونے پر ایک جھنڈا نصب کر دیجئے، جسے دیکھ کر ایک شخص دوسرے کو باخبر کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رائے پسند نہ آئی۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بگل ۱؎ کا ذکر کیا گیا، زیاد کی روایت میں ہے: یہود کے بگل( کا ذکر کیا گیا) تو یہ تجویز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس میں یہودیوں کی مشابہت ہے‘‘۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ناقوس کا ذکر کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس میں نصرانیوں کی مشابہت ہے‘‘۔
پھر عبد اللہ بن زید بن عبدربہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے لو ٹے، وہ بھی (اس مسئلہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح فکر مند تھے، چنانچہ انہیں خواب میں اذان کا طریقہ بتایا گیا۔
عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ صبح تڑکے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ کو اس خواب کی خبر دی اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول میں کچھ سو رہا تھا اور کچھ جاگ رہا تھاکہ اتنے میں ایک شخص (خواب میں) میرے پاس آیا اور اس نے مجھے اذان سکھائی، راوی کہتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس سے پہلے یہ خواب دیکھ چکے تھے لیکن وہ اسے بیس دن تک چھپائے رہے، پھر انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے ان سے فرمایا: ’’تم کو کس چیز نے اسے بتانے سے روکا؟‘‘، انہوں نے کہا: چونکہ مجھ سے پہلے عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اسے آپ سے بیان کر دیا اس لئے مجھے شرم آرہی تھی ۲؎، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بلال! اٹھو اور جیسے عبد اللہ بن زید تم کو کرنے کو کہیں اسی طرح کرو‘‘، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۳؎۔
ابو بشر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابو عمیر نے بیان کیا کہ انصار سمجھتے تھے کہ اگر عبد اللہ بن زید ان دنوں بیمار نہ ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہی کو مؤذن بناتے۔
وضاحت۱؎ : بخاری کی روایت میں ’’بوقۃ‘‘ کا لفظ ہے اور مسلم اور نسائی کی روایت میں ’’قرن‘‘ کا لفظ آیا ہے، یہ چاروں الفاظ (قنع، شبور، بوقۃ اور قرن) ہم معنی الفاظ ہیں، یعنی بگل اور نرسنگھا جس سے پھونک مارنے پر آواز نکلے۔
وضاحت ۲؎: عمر رضی اللہ عنہ خواب دیکھنے کے بعد بھول بیٹھے تھے، بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سننے پر آپ کو یہ کلمات یاد آئے، اور جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ اپنا خواب بیان کر چکے تھے۔
وضاحت ۳؎: یہ اہتمام ۲ ہجری میں ہوا اس کے پہلے بغیر اذان کے صلاۃ پڑھی جاتی تھی، اور لوگ خود بخود مسجد میں جمع ہو جایا کرتے تھے، مگر اس طرح بہت سے لوگوں کی جماعت چھوٹ جایا کرتی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب كَيْفَ الأَذَانُ؟
۲۸-باب: اذان کس طرح دی جائے؟​


499- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلاةِ طَافَ بِي -وَأَنَا نَائِمٌ- رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَاللَّهِ، أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلاةِ، قَالَ: أَفَلا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ [لَهُ]: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنّي غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلاةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: < إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ، فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ > فَقُمْتُ مَعَ بِلالٍ، فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَائَهُ، وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < فَلِلَّهِ الْحَمْدُ >.
قَالَ أَبودَاود: هَكَذَا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، و قَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، و قَالَ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ فِيهِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَمْ يُثَنِّيَا۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۵ (۱۸۹)، ق/الأذان ۱ (۷۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۰۹)، حم (۴/۴۲)، دي/الصلاۃ ۳ (۱۲۲۴) (صحیح)

۴۹۹- عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس کی تیاری کا حکم دینے کا ارادہ کیا تاکہ لوگوں کو صلاۃ کی خاطر جمع ہونے کے لئے اسے بجایا جا سکے تو ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص۱؎ کے ہاتھ میں ناقوس ہے، میں نے اس سے پوچھا: اللہ کے بندے! کیا اسے فروخت کرو گے؟ اس نے کہا: تم اسے کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعے لوگوں کو صلاۃ کے لئے بلائیں گے، اس شخص نے کہا :کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، تو اس نے کہا: تم اس طرح کہو ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘ (اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کو ئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، صلاۃ کے لئے آ، صلاۃ کے لئے آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں)۔
عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر وہ شخص مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، زیادہ دور نہیں گیا پھر اس نے کہا: جب تم صلاۃ کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح کہو: ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ‘‘۔
پھر جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے دیکھا تھا اسے آپ سے بیان کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ان شاء اللہ یہ خواب سچا ہے‘‘، پھر فرمایا: ’’تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ انہیں بتاتے جاؤ تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے‘‘ ۲؎۔
چنانچہ میں بلال کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، میں انہیں اذان کے کلمات بتاتا جاتا تھا اور وہ اسے پکارتے جاتے تھے۔
وہ کہتے ہیں: تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح عبد اللہ نے دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ’’الحمد للہ‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح زہری کی روایت ہے، جسے انہوں نے سعید بن مسیب سے، اور سعید نے عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ابن اسحاق نے زہری سے یوں نقل کیا ہے: ’’الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر‘‘ (یعنی چار بار) اور معمر اور یونس نے زہری سے صرف ’’الله أكبر، الله أكبر‘‘ کی روایت کی ہے، اسے انہوں نے دہرایا نہیں ہے ۔
وضاحت ۱؎: یہ ایک فرشتہ تھا جو اللہ کی طرف سے اذان سکھانے کے لئے مامور ہوا تھا۔
وضاحت ۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ مؤذن کا بلند آواز ہونا بہتر ہے۔

500- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي سُنَّةَ الأَذَانِ، قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِي، وَقَالَ: < تَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ: تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، فَإِنْ كَانَ صَلاةُ الصُّبْحِ قُلْتَ: الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۳ (۳۷۹)، ت/الصلاۃ ۲۶ (۱۹۱)، ن/الأذان ۳ (۶۳۰)، ۴ (۶۳۱)، ق/الأذان ۲ (۷۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۹)، حم (۳/ ۴۰۸، ۴۰۹)، دي/الصلاۃ ۷ (۱۲۳۲) (صحیح)

۵۰۰- ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے اذان کا طریقہ سکھا دیجئے، تو آپ نے میرے سر کے اگلے حصہ پر (ہاتھ) پھیرا اور فرمایا: ’’کہو: ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ‘‘، تم انہیں بلند آواز سے کہو، پھر کہو: ’’أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ‘‘ انہیں ہلکی آواز سے کہو، پھر انہیں کلمات شہادت ’’أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ‘‘ کو بلند آواز سے کہو۱؎، پھر ’’حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ‘‘ کہو، اور اگر صبح کی اذان ہو تو ’’الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ‘‘ کہو، پھر ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ‘‘ کہو۔
وضاحت۱؎: اس سے ترجیع یعنی شہادتین کو دو دو بار کہنا ثابت ہوا۔

501- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَعَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي وَأُمُّ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، وَفِيهِ: الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الأُولَى مِنَ الصُّبْحِ.
قَالَ أَبودَاود: وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَبْيَنُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ: وَعَلَّمَنِي الإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، و قَالَ عَبْدُالرَّزَّاقِ: وَإِذَا أَقَمْتَ فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، أَسَمِعْتَ؟ قَالَ: فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لا يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلا يَفْرُقُهَا لأَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم مَسَحَ عَلَيْهَا۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۹) (صحیح)

(لیکن ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے اپنی پیشانی۔۔ والی شق صحیح نہیں ہے)
۵۰۱- اس سند سے بھی ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے، اس میں فجر کی پہلی (اذان) میں ’’الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ‘‘ ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: مسدد کی روایت زیادہ واضح ہے، اس میں یہ ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوہری تکبیر سکھائی ’’اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘۔
عبد الرزاق کی روایت میں ہے: اور جب تم تکبیر کہو تو دوبار ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ‘‘ کہو، کیا تم نے سنا؟ ۔
اس میں یہ بھی ہے کہ ابو محذورہ اپنی پیشانی کے بال نہیں کترتے تھے اور نہ ہی اسے جدا کرتے تھے، اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا۔

502- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَسَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ وَحَجَّاجٌ -وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ- قَالُوا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الأَحْوَلُ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَّمَهُ الأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، الأَذَانُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَالإِقَامَةُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، كَذَا فِي كِتَابِهِ فِي حَدِيثِ أَبِي مَحْذُورَةَ۔
* تخريج: انظر حديث رقم: 500، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۹) (حسن صحیح)

۵۰۲- ابن محیریز کا بیان ہے کہ ابو محذورہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات سکھا ئے، اذان کے کلمات یہ ہیں:’’اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘۔
اور اقامت کے کلمات یہ ہیں:’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘ ۔
ہمام بن یحییٰ کی کتاب میں ابو محذورہ کی جو حدیث مذکو رہے، وہ اسی طرح ہے (یعنی اقامت کے سترہ کلما ت مذکو رہیں) ۔

503- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبْدِالْمَلِكِ ابْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ -يَعْنِي عَبْدَالْعَزِيزِ-، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ: أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ فَقَالَ: <قُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، [مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ]، قَالَ: ثُمَّ ارْجِعْ فَمُدَّ [مِنْ] صَوْتِكَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ>۔
* تخريج: انظر حديث رقم: 500، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۹) (صحیح)

۵۰۳- ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خو د مجھے اذان کے کلمات سکھائے اور فرمایا: کہو: "اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ،‘‘۔ دو دو بار۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پھر دہراؤ اور اپنی آواز کھینچ کر یوں کہو: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘۔

504- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي عَبْدَالْمَلِكِ بْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَحْذُورَةَ يَقُولُ: أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم الأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّه، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ فِي الْفَجْرِ: الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ۔
* تخريج: انظر حديث رقم: 500، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۹) (صحیح)

۵۰۴- عبد الملک کا بیان کہ انہوں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان کے کلمات حرفاً حرفاً یوں سکھائے: ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّه، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ‘‘۔
اور فرمایا: فجر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’’الصَّلاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ‘‘ کہتے تھے۔

505- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ -يَعْنِي الْجُمَحِيَّ- عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيِّ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَّمَهُ الأَذَانَ، يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ أَذَانِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِالْمَلِكِ وَمَعْنَاهُ.
قَالَ أَبودَاود: وَفِي حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنْ أَذَانِ أَبِيكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَذَكَرَ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، قَطْ.
* تخريج: انظر حديث رقم: 500، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۹) (صحیح)

چار مرتبہ’’اللہ اکبر‘‘ کہنے کی بات صحیح ہے۔
وَكَذَلِكَ حَدِيثُ جَعْفَرِ ابْنِ سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ عَنْ عَمِّهِ عَنْ جَدِّهِ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ تَرْجِعُ فَتَرْفَعُ صَوْتَكَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ۔ (منکر) (شہادتین میں ترجیع ثابت و محفوظ ہے)
۵۰۵- ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اذان سکھائی، آپ کہتے تھے: ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘۔
پھر روای نے عبدںالعزیز بن عبد الملک سے ابن جریح کی اذان کے ہم مثل وہم معنی حدیث بیان کی۔
ابو داود کہتے ہیں کہ مالک بن دینار کی حدیث میں ہے کہ نافع بن عمر نے کہا: میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے لڑکے سے پوچھا اور کہا: تم مجھ سے اپنے والد ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کی اذان جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، کے متعلق بیان کرو تو انہوں نے ذکر کیا اور کہا: ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ صرف دوبار، اسی طرح جعفر بن سلیمان کی حدیث ہے جو انہوں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے لڑکے سے، انہوں نے اپنے چچا سے انہوں نے ان کے دادا سے روایت کی ہے مگر اس روایت میں یہ ہے کہ پھر ترجیع کرو اور بلند آواز سے ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ کہو۔

506- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى (ح) وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلاةُ ثَلاثَةَ أَحْوَالٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < لَقَدْ أَعْجَبَنِي أَنْ تَكُونَ صَلاةُ الْمُسْلِمِينَ -أَوْ [قَالَ:] الْمُؤْمِنِينَ- وَاحِدَةً، حَتَّى لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبُثَّ رِجَالاً فِي الدُّورِ يُنَادُونَ النَّاسَ بِحِينِ الصَّلاةِ، وَحَتَّى هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رِجَالا يَقُومُونَ عَلَى الآطَامِ يُنَادُونَ الْمُسْلِمِينَ بِحِينِ الصَّلاةِ، حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا أَنْ يَنْقُسُوا >.
قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمَّا رَجَعْتُ لِمَا رَأَيْتُ مِنِ اهْتِمَامِكَ رَأَيْتُ رَجُلا كَأَنَّ عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ أَخْضَرَيْنِ، فَقَامَ عَلَى الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ، ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَهَا إِلا أَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، وَلَوْلا أَنْ يَقُولَ النَّاسُ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: أَنْ تَقُولُوا، لَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ يَقْظَانَ غَيْرَ نَائِمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَقَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: < لَقَدْ أَرَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا > وَلَمْ يَقُلْ عَمْرٌو: < لَقَدْ أَرَاكَ اللَّهُ خَيْرًا >، فَمُرْ بِلالا فَلْيُؤَذِّنْ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ الَّذِي رَأَى، وَلَكِنِّي لَمَّا سُبِقْتُ اسْتَحْيَيْتُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا، قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا جَاءَ يَسْأَلُ فَيُخْبَرُ بِمَا سُبِقَ مِنْ صَلاتِهِ، وَإِنَّهُمْ قَامُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ بَيْنِ قَائِمٍ وَرَاكِعٍ وَقَاعِدٍ وَمُصَلٍّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي بِهَا حُصَيْنٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى حَتَّى جَاءَ مُعَاذٌ قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ حُصَيْنٍ، فَقَالَ: لاأَرَاهُ عَلَى حَالٍ، إِلَى قَوْلِهِ: < كَذَلِكَ فَافْعَلُوا >.
قَالَ أَبودَاود: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ، قَالَ فَجَاءَ مُعَاذٌ فَأَشَارُوا إِلَيْهِ، قَالَ شُعْبَةُ: وَهَذِهِ سَمِعْتُهَا مِنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَقَالَ مُعَاذٌ: لا أَرَاهُ عَلَى حَالٍ إِلا كُنْتُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ مُعَاذًا قَدْ سَنَّ لَكُمْ سُنَّةً، كَذَلِكَ فَافْعَلُوا.
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلاثَةِ [أَيَّامٍ] ثُمَّ أُنْزِلَ رَمَضَانُ، وَكَانُوا قَوْمًا لَمْ يَتَعَوَّدُوا الصِّيَامَ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَلَيْهِمْ شَدِيدًا، فَكَانَ مَنْ لَمْ يَصُمْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} فَكَانَتِ الرُّخْصَةُ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ، فَأُمِرُوا بِالصِّيَامِ.
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَصْحَابُنَا قَالَ: وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَفْطَرَ فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ، لَمْ يَأْكُلْ حَتَّى يُصْبِحَ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ [بْنُ الْخَطَّابِ] فَأَرَادَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ نِمْتُ، فَظَنَّ أَنَّهَا تَعْتَلُّ فَأَتَاهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَرَادَ الطَّعَامَ فَقَالُوا: حَتَّى نُسَخِّنَ لَكَ شَيْئًا، فَنَامَ، فَلَمَّا أَصْبَحُوا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةُ: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ}۔
* تخريج: تفرد به ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۴۴، ۱۵۶۲۷، ۱۸۹۷۲)، حم (۵/۲۳۳، ۲۴۶) (صحیح)

۵۰۶- ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ صلاۃ تین حالتوں سے گزری، ہمارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے یہ بات بھلی معلوم ہوئی کہ سارے مسلمان یا سارے مومن مل کر ایک ساتھ صلاۃ پڑھا کریں، اور ایک جماعت ہوا کرے، یہاں تک کہ میں نے قصد کیا کہ لوگوں کو بھیج دیا کروں کہ وہ صلاۃ کے وقت لوگوں کے گھروں اور محلوں میں جا کر پکار آیا کریں کہ صلاۃ کا وقت ہو چکا ہے۔
پھر میں نے قصد کیا کہ کچھ لوگوں کو حکم دوں کہ وہ ٹیلوں پر کھڑے ہو کر مسلمانوں کو صلاۃ کے وقت سے باخبر کریں، یہاں تک کہ لوگ ناقوس بجانے لگے یا قریب تھا کہ بجانے لگ جائیں‘‘، اتنے میں ایک انصاری (عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ) آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جب میں آپ کے پاس سے گیا تو میں اسی فکر میں تھا، جس میں آپ تھے کہ اچانک میں نے (خواب میں) ایک شخص (فرشتہ) کو دیکھا، گویا وہ سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہو ئے ہے، وہ مسجد پر کھڑا ہوا، اور اذان دی، پھر تھوڑی دیر بیٹھا پھر کھڑا ہوا اور جو کلمات اذان میں کہے تھے، وہی اس نے پھر دہرائے، البتہ: ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ‘‘ کا اس میں اضافہ کیا۔
اگر مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے (اور ابن مثنی کی روایت میں ہے کہ تم (لوگ) جھوٹا کہو گے) تو میں یہ کہتا کہ میں بیدار تھا، سو نہیں رہا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل نے تمہیں بہتر خواب دکھایا ہے‘‘ (یہ ابن مثنی کی روایت میں ہے اور عمرو بن مرزوق کی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہتر خواب دکھایا ہے)، (پھر فرمایا): ’’تم بلال سے کہو کہ وہ اذان دیں‘‘۔
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ (آکر) کہنے لگے: میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے جیسے عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے دیکھا ہے، لیکن چونکہ میں پیچھے رہ گیا، اس لئے شرم سے نہیں کہہ سکا۔
ابن ابی لیلی کہتے ہیں: ہم سے ہمارے صحابۂ کرام نے بیان کیا کہ جب کو ئی شخص (صلاۃ با جماعت ادا کر نے کے لئے مسجد میں آتا اور دیکھتا کہ صلاۃ باجماعت ہو رہی ہے) تو امام کے ساتھ صلاۃ پڑھنے والوں سے پوچھتا کہ کتنی رکعتیں ہو چکی ہیں، وہ مصلی اشارے سے پڑھی ہوئی رکعتیں بتا دیتا اور حال یہ ہوتا کہ لوگ جماعت میں قیام یا رکوع یا قعدے کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھ رہے ہوتے۔
ابن مثنیٰ کہتے ہیں کہ عمرو نے کہا: حصین نے ابن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے مجھ سے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: ’’یہاں تک کہ معاذ رضی اللہ عنہ آئے‘‘۔
شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے بھی یہ حدیث حصین سے سنی ہے اس میں ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حالت میں دیکھوں گا ویسے ہی کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’معاذ نے تمہارے واسطے ایک سنت مقرر کر دی ہے تم ایسے ہی کیا کرو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: پھر میں عمر و بن مرزوق کی حدیث کے سیاق کی طرف پلٹتا ہوں، ابن ابی لیلی کہتے ہیں: معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے ان کو اشارہ سے بتلایا، شعبہ کہتے ہیں: اس جملے کو میں نے حصین سے سنا ہے ، ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: تو معاذ نے کہا: میں جس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں گا وہی کروں گا، وہ کہتے ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’معاذ نے تمہارے لئے ایک سنت جاری کر دی ہے لہذا تم بھی معاذ کی طرح کرو‘‘، (یعنی جتنی صلاۃ امام کے ساتھ پاؤ اسے پڑھ لو، بقیہ بعد میں پوری کر لو)۔
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ہمارے صحابۂ کرام نے ہم سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ نے انہیں (ہر ماہ) تین دن صیام رکھنے کا حکم دیا، پھر رمضان کے صیام نازل کئے گئے، وہ لوگ صیام رکھنے کے عادی نہ تھے، اور صیام رکھنا ان پر گراں گزرتا تھا، چنانچہ جو صیام نہ رکھتا وہ اس کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا، پھر یہ آیت: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} ۱؎ نازل ہوئی تو رخصت عام نہ رہی، بلکہ صرف مریض اور مسافر کے لئے مخصوص ہو گئی، باقی سب لوگوں کو صیام رکھنے کا حکم ہوا۔
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: ہمارے اصحاب نے ہم سے حدیث بیان کی کہ اوائل اسلام میں جب کوئی آدمی صیام افطار کر کے سو جاتا اور کھانا نہ کھاتا تو پھر اگلے دن تک اس کے لئے کھانا درست نہ ہوتا، ایک بار عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے صحبت کا ارادہ کیا تو بیوی نے کہا: میں کھانے سے پہلے سو گئی تھی، عمر سمجھے کہ وہ بہانہ کر رہی ہیں، چنانچہ انہوں نے اپنی بیو ی سے صحبت کر لی، اسی طرح ایک روز ایک انصاری آئے اور انہوں نے کھانا چاہا، ان کے گھر والوں نے کہا: ذرا ٹھہرئیے ہم کھانا گرم کر لیں، اسی دوران وہ سو گئے، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت اتری: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ} ۲ ؎ ۔
وضاحت ۱؎: ’’تو جو تم میں سے یہ مہینہ (رمضان) پائے وہ اس کے صیام رکھے‘‘ (سورۃ البقرۃ:۱۸۵)
وضاحت ۲؎: ’’تمہارے لئے روزوں کی رات میں اپنی عورتوں سے جماع کرنا حلال کر دیا گیا ہے‘‘ (سورۃ البقرۃ:۱۸۷)

507- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ أَبِي دَاوُدَ (ح) وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ هَارُونَ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلاةُ ثَلاثَةَ أَحْوَالٍ، وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلاثَةَ أَحْوَالٍ، وَسَاقَ نَصْرٌ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَاقْتَصَّ ابْنُ الْمُثَنَّى مِنْهُ قِصَّةَ صَلاتِهِمْ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَطْ، قَالَ: الْحَالُ الثَّالِثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَصَلَّى -يَعْنِي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ- ثَلاثَةَ عَشَرَ شَهْرًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} فَوَجَّهَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْكَعْبَةِ، وَتَمَّ حَدِيثُهُ، وَسَمَّى نَصْرٌ صَاحِبَ الرُّؤْيَا قَالَ: فَجَاءَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، وَقَالَ فِيهِ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، ثُمَّ أَمْهَلَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ مِثْلَهَا، إِلا أَنَّهُ قَالَ: زَادَ بَعْدَ مَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < لَقِّنْهَا بِلالاً > فَأَذَّنَ بِهَا بِلالٌ .
وقَالَ فِي الصَّوْمِ: قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَصُومُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَيَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: { كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {طَعَامُ مِسْكِينٍ} فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُفْطِرَ وَيُطْعِمَ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا أَجْزَأَهُ ذَلِكَ وَهَذَا حَوْلٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ} إِلَى: {أَيَّامٍ أُخَرَ} فَثَبَتَ الصِّيَامُ عَلَى مَنْ شَهِدَ الشَّهْرَ، وَعَلَى الْمُسَافِرِ أَنْ يَقْضِيَ، وَثَبَتَ الطَّعَامُ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ اللَّذَيْنِ لايَسْتَطِيعَانِ الصَّوْمَ، وَجَاءَ صِرْمَةُ وَقَدْ عَمِلَ يَوْمَهُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ۔
* تخريج: تفرد به ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۴۴، ۱۵۶۲۷، ۱۸۹۷۲) (صحیح)

۵۰۷- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صلاۃ میں تین تبدیلیاں ہوئیں، اسی طرح روزوں میں بھی تین تبدیلیاں ہوئیں، پھر نصر نے پوری لمبی حدیث بیان کی اور ابن مثنیٰ نے صرف بیت المقدس کی طرف صلاۃ پڑھنے کا واقعہ بیان کیا۔
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تیسری حالت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے، آپ نے بیت المقدس کی طرف (رخ کرکے) تیرہ مہینے تک صلاۃ پڑھی، پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ} ۱؎ تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا۔
ابن مثنیٰ کی حدیث یہاں مکمل ہو گئی اور نصر نے خواب دیکھنے والے کا نام ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: انصار کے ایک شخص عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ آئے۔
اس میں یوں ہے کہ: ’’پھر انہوں نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور کہا: ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ‘‘ دوبار،’’حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ‘‘ دوبار، ’’اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘، یہ کہنے کے بعد تھوڑی دیر تک ٹھہرے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور اسی طرح (تکبیر) کہی، مگر اس میں انہوں نے:’’حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ‘‘ کے بعد ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ‘‘ کا اضافہ کیا‘‘۔
راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’تم بلال کو یہ الفاظ سکھلا دو‘‘، چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ کے ذریعہ اذان دی۔
اور معاذ رضی اللہ عنہ نے صیام کے بارے میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین صیام رکھا کر تے تھے اور عاشوراء (دسویں محرم) کا صیام بھی رکھتے تھے، پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: {يَاْ أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمنوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ ۔۔۔} اللہ تعالیٰ کے قول: {طَعَامُ مِسْكِينٍ} تک ۲؎، تو اب جو چاہتا صیام رکھتا، اور جو چاہتا نہ رکھتا، اور ہر صیام کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا، ایک سال تک یہی حکم رہا، پھر اللہ تعالی نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ۔۔۔} اپنے قول: {أَيَّاْمٍ أُخَر} تک۳؎، پھر صیام ہر اس شخص پر فرض ہو گیا جو ماہ رمضان کو پائے، اور مسافر پر قضا کرنا، اور بوڑھے مرد اور عورت کے لئے جن کو صیام رکھنے کی طاقت نہ ہو فدیہ دینا باقی رہا۔
پھر صرمہ رضی اللہ عنہ آئے، انہوں نے دن بھر کام کیا تھا ... اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
وضاحت۱؎: ’’ہم آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، تو اب ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر رہے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں تو آپ اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں، اور مسلمانو! تم جہاں کہیں بھی رہو صلاۃ کے وقت اپنا رخ اسی کی طرف پھیرے رکھو‘‘ (سورۃ البقرۃ:۱۴۴)
وضاحت ۲؎: ’’اے ایمان والو! تم پر صیام فرض کر دیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو، یہ گنتی کے چند ہی دن ہیں، لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اور دنوں میں گنتی پوری کرے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کا کھانا دیں‘‘ (سورۃ البقرۃ:۱۸۴)
وضاحت۳؎: ’’ماہ رمضان ہی ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے، اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل میں تمیز کی واضح نشانیاں ہیں، لہٰذا جو تم میں سے اس مہینہ کو پائے وہ اس کے صوم رکھے، اور جو کوئی بیمار یا مسافر ہو وہ اور دنوں سے گنتی پوری کرے‘‘، (سورۃ البقرۃ:۱۸۴-۱۸۵)
 
Top